سعودی عرب پاکستان کی خاطر بھارت سے تعلقات خراب نہیں کرے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسئلہ کشمیراوآئی سی کے حالیہ اجلاس کے ایجنڈے پرنہیں آسکا۔ اس پرکچھ لوگوں کوحیرت ہوئی۔ کچھ نے افسوس کا اظہارکیا۔ مجھے ان لوگوں کے اس حیرت وافسوس پرحیرت ہوئی۔

کون ذی شعورآدمی نہیں جانتا تھا کہ مسئلہ کشمیر او آئی سی کے ایجنڈے پر نہیں آسکے گا؟ اور اگرآبھی گیا تو پاکستان و بھارت کو ایک بار پھرتنازعہ کشمیرباہمی گفت وشنید سے حل کرنے کا مشورہ دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔ مگرجانے کیوں کچھ لوگ اپنے سر ریت میں دبائے رکھنے، اور خواہشات کے میلے سجائے رکھنے پربضد ہیں۔

ہمارے ارد گرد کی دنیا بدل چکی۔ مگر ہمیں اس کا ادراک نہیں۔ یا اس پریقین کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ کیونکہ یہ عمل ہمیں حقائق کی دنیا میں لے آئے گا۔ ہمارے بے بنیاد دعووں اور بے سود امیدوں پر پانی پھیر دے گا۔ سعودی عرب اور بھارت کے درمیان تعلقات کا جو نیا باب کھلا ہے، اس کو غیر جذباتی اندازمیں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری اور تجارتی تعلقات کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ قدیم ہندوستان اور قدیم عرب کے درمیان یہ تعلق تقریبا تین صدی قبل مسیح سے چلا آتا ہے۔

ایک ہزارسال قبل مسیح تک جنوبی ہندوستان اور عرب کے درمیان تجارت عرب کی معشیت کا ایک اہم اور ناگزیرحصہ بن چکا تھا۔ دونوں تہذیبوں کے درمیان یہ تجارت غالبا مصالحہ جات سے شروع ہوئی۔ طویل عرصہ تک ہندوستان اور یورپ کے درمیان مصالحہ جات کی تجارت پرعرب تاجروں کی اجارہ داری رہی۔ یہ اجارہ داری پرتگیزیوں، فرانسیسیوں اور انگریزوں کے بر صغیرمیں آنے تک قائم رہی۔

انگریزوں کے دور میں عرب اور ہندوستان کے درمیان تجارتی و سیاسی تعلق برٹش انڈیا کے ذریعے کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہا۔ آزادی کے فورا بعد بھارت اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی و ثقافتی تعلقات کا براہ راست آغاز ہو گیا تھا۔ مگرسعودی عرب کے بادشاہ شاہ سعود نے سن انیس سو پچپن میں ہندوستان کا دورہ کیا۔ اسی سال پنڈت جواہرلال نہرو نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا۔

یہ دورے ایک ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں سخت کشیدگی تھی، اور مسئلہ کشمیرسمیت کئی دوسرے مسائل اپنے عروج پر تھے۔ اس وقت اقوام متحدہ سمیت دوسرے عالمی سفارتی حلقے عملی طور پراس مئسلے کے حل کے لیے سرگرم تھے۔

شاہ سعود نے دلی میں جواہرلال نہرو کے ساتھ طویل ملاقاتوں کے بعد پرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پراتفاق کیا۔ پرامن بقائے باہمی کے ان پانچ اصولوں کا مسئلہ کشمیر سے کیا تعلق تھا؟ اس سوال کے جواب کے لیے پرامن بقائے باہمی کے ان پانچ اصولوں کے پس منظر میں جھانکنا ضروری ہے۔ سنسکرت زبان میں پنجشیل کے نام سے مشہور ہونے والے ان پانچ اصولوں کو ان دنوں پنڈت نہرو بڑے جوش و خروش سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد قرار دیتے تھے۔ نہروہرملک کے ساتھ اور ہرفورم پران اصولوں کو دنیا میں امن و دوستی کی ضمانت بتاتے تھے۔ وہ دعوے سے کہتے تھے کہ اگر یہ اصول تسلیم کر لیے جائیں تو دنیا سے جنگ کے امکانات ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں، اور ان اصولوں کی روشنی میں تمام مالک اپنے باہمی تنازعات پر امن طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔

پنجشیل کے ان پانچ اصولوں میں پہلا اصول ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس وقت جن ممالک کا جو جو تاریخ وجغرافیہ ہے اسے من وعن تسلیم کیا جائے، جس کے پاس زمین کا جو ٹکڑا آچکا، اس کے پاس ہی رہنے دیا جائے۔ دوسرا اصول ایک دوسرے کے خلاف جارحیت نہ کرنا، تیسرا اصول ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، چوتھا اصول باہمی مساوات و منعفت، اور پانچواں اور بڑا اصول پرامن بقائے باہمی شامل تھے۔

کچھ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ پانچ اصول بنیادی طورپرانڈونیشیا کے قوم پرست رہنما سکارنو نے ترتیب دیے تھے، جن کو بعد میں انڈونیشیا کی آزاد ریاست کے رہنما اصول بنانے کی کوشش کی گئی۔ اور آگے چل کر یہی پانچ اصول سن انسی سو اکسٹھ میں یوگوسلاویہ کے شہر بلغراد میں غیرجانب دارتحریک کی بنیاد بنے، جس میں پنڈت نہرو اور صدرسکارنو پیش پیش تھے۔

چین بھی شروع میں ان پانچ اصولوں کا پرجوش پرچارک رہا ہے۔ چنانچہ اپریل انیس سو چون میں ان اصولوں کی بنیاد پرچین اور بھارت کے درمیان جو معاہدہ ہوا وہ ان اصولوں کی روشنی میں کیا گیا۔ اس معاہدے میں دومتنازعہ علاقے یعنی اقصائی چن اور اروناچل پردیش شامل تھے۔ اقصائی چن بنیادی طور پرمتنازعہ ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھا۔ بھارت اس وقت کسی بھی دوسری طاقت سے تعلقات ان پانچ اصولوں کی بنیاد پرقائم کرنے پرزوردیتاتھا، جس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ کشمیرجیسے مسائل کو بھارت کا اندرونی معاملہ تسلیم کر کہ اس میں مداخلت نہ کی جائے۔

مگرزمین پرموجود تلخ حقائق کے سامنے پنجشیل کے یہ اصول مات کھا گئے۔ ان اصولوں کی بنیاد پرچین سے معاہدے کے باوجود محض چند سال بعد چین بھارت جنگ ہوگئی۔ جہاں تک سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا سوال تھا تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات بھی دنیا میں اٹھتی ہوئی سرد جنگ کی لہر کا شکار ہوئے۔

ستر اور اسی کی دہائیوں میں اس خطے میں جو واقعات رونما ہوئے ان کی وجہ سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہراعسکری اور معاشی تعلق اور تعاون شروع ہوا۔ اکہتر کی جنگ، افغانستان اور کشمیر کے مئسلے پرسعودی عرب اور پاکستان کے درمیان عملی تعاون اور مشترکہ طورپرسویت مخالف محازکا حصہ بننے کی وجہ سے صورت حال بدل گئی۔

بھارت سویت بلاک کے بہت قریب تھا۔ چنانچہ نئی صف بندیوں کے نتیجے میں بھارت اور سعودی عرب کے درمیان تعلق کم ہو کر محض تیل کی خریدداری اور افرادی قوت کی فراہمی تک محدود ہوگئے۔ مگرنوے کی دہائی کے بعد آہستہ آہستہ صورت حال بدلنا شروع ہوئی۔ نئی صدی کے آغاز تک دنیا میں نئی صف بندیاں ہو چکی تھِیں۔ ان بدلے ہوئے حالات میں دوہزارچھ میں سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ یہ پچاس سال بعد کسی سعودی بادشاہ کا دورہ بھارت تھا۔ اس دورے سے سعودی عرب اور بھارت کے درمیان ایک نئے سفارتی اور معاشی تعلق کا آغاز ہوا، جو آگے چل کر دو ہزاردس کی من موہن سنگھ اور دوہزارسولہ کے نیریندرمودی کے دوروں پر منتج ہوا۔ ان دوروں کے دوران سعودی عرب میں بھارتی رہنماؤں کے استقبال کے لیے روایتی سبزقالین کے بجائے سرخ قالین بچھائے گئے۔ دونوں کی ایک دوسرے کے بارے میں موجود رویوں میں بھی بنیادی تبدیلی آئی۔ یہ دورے اس حقیقت کا اظہار تھے کہ مشرق وسطی کے بارے میں نئی دلی کی پالیسی اور بھارت بارے سعودی پالیسی میں ایک بنیادی اور انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ اس نئی پالیسی کے پیچھے جولازم اور مجبور کردینے والے عناصرہیں ان میں ایک یہ ہے سال دوہزارچوبیس تک بھارت تیل کی طلب وضرورت میں چین کوپیچھے چھوڑدے گا۔ بھارت کی تیل کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے دورہ بھارت کے دوران یہ اعلان کیا کہ وہ اگلے دو برسوں میں بھارت میں سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع دیکھتے ہیں۔

تجارتی اور سفارتی پالیسی کے ساتھ ساتھ انڈیا کی عرب ریاستوں کے ساتھ فوجی تعاون کی پالیسی میں بھی بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ اس نے یمن کے ساتھ نیوی پورٹ کے استعمال کا معاہدہ کیا ہے۔ سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ انٹلیجس معلومات کے تبادلے کا وعدہ کیا ہے، اور یہ سب ایسے وقت ہوا، جب پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی عروج پر ہے۔ کشمیر میں بھارت کی طرف سے پانچ اگست کی کارروائی فورا بعد سعودی عرب نے ایک بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ بھارت کی ریلائنس انڈسٹرینے اپنی تیل اور کیمکل کے کاروبار کا بیس فیصد سعودی کمپنی آرمکو کو فروخت کیا، جس کی ویلویو ستر بلین سے زیادہ ہے۔ یہ بھارت میں ایک بڑی بیرونی سرمایہ کاری ہے۔ عراق کے بعد اس وقت سعودی عرب بھارت کوتیل فروخت کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ تقریبا اٹھائیس بلین ڈالر کی تجارت کے ساتھ سعودی عرب اس وقت بھارت کا چوتھا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے توانائی، پیٹروکیمکل، انفراسٹریکچر اور زراعت میں ایک سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پائپ لائین میں ہے۔ کرناٹک میں تیل ریفائنری سمیت دے گر کئی بڑے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔

ان معاشی وزمینی حقائق کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ سعودی عرب کے مفادات پاکستان کی نسبت کئی گنا زیادہ بھارت سے جڑ چکے ہیں۔ ان حالات میں سعودی عرب سے یہ توقع رکھنا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو لے کر بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کرے گا، ایک معصوم خواہش ہے، جس کے پیچھے حقائق سے لاعلمی کارفرما ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *