وہ کون سے راستے ہیں جن پر عورت آج بھی ”محرم“ کے بنا قدم نہیں دھر سکتی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا جسم، میری مرضی۔ اس پر بہت بحث ہو چکی۔ بہت سے سوال اٹھائے گئے۔ بہت سے جواز تراشے گئے۔ حق میں بھی، مخالفت میں بھی۔

کیا ہم نے یہ سوچا کہ یہ سوال اٹھانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ یہ فیصلہ کہ عورت نے کس طرح جینا ہے، اس معاشرے میں کون کرتا ہے؟ اور کیوں کرتا ہے؟ کیا ہم عورت کو واقعی ایک بالغ عالی وجود تسلیم کرتے ہیں۔ وہ کون سے راستے ہیں جن پر عورت آج بھی ”محرم“ کے بنا قدم نہیں دھر سکتی۔ کیا ہم ان رویوں کو لے کر اس قابل ہیں کہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔

کیا مرد عورت کا قوام ہے، نگران ہے، اس کے فیصلوں کا مجاز ہے۔ ہے تو کیونکر اور نہیں تو وہ کیوں اس پر مصر ہے۔ ایسے ہی کچھ چبھتے ہوئے سوالوں کے جواب کھوجنے کی اس ویڈیو میں کوشش کی گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 156 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *