گورنمنٹ کالج لاہور کا “گزٹ” گم ہو گیا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ہزار چار کے آخری مہینوں کی کوئی سرد سی صبح تھی۔ دو کلاسز کے درمیانی وقفے میں گورنمنٹ کالج کے گزٹ آفس کے سامنے سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ باہر لگے نوٹس بورڈ پر اردو کا ایک شعر کسی نے ایک صفحے پر ہاتھ سے ہی لکھ کر چسپاں کیا ہوا تھا۔ ساتھ انگریزی کا ایک نوٹس تھا جس کے مطابق گزٹ کا تازہ شمارہ آ چکا تھا۔ گزٹ آفس کے اندر زرد بلب کی روشنی تلے چند سینیرز براجمان تھے اور ارد گرد سے بالکل بے خبر کسی سنجیدہ نوعیت کی بحث میں مصروف تھے۔ دروازے پر کھڑے میری ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی کہ اجازت کا طلب گار ہوتا اور گزٹ کے تازہ شمارے کا تقاضا کرتا۔ وہ تو بھلا ہو انہی بحث میں مصروف لوگوں میں سے ایک خاتون کی نظر مجھ پر پڑ گئی اور انہوں نے اشادے سے ہی مدعا پوچھا، میں نے منمناتے ہوئے ضرور کچھ کہا ہو گا۔ انہوں نے ہاتھ میں پکڑی پنسل کے اشارے سے رہنمائی کی جس کا مطلب تھا ادھر سے گزٹ کی کاپی اٹھا لو۔

وہ گزٹ کے ساتھ پہلا تعارف تھا۔ لیکن اس دن کے بعد جتنا عرصہ جی سی میں رہا یہ تعارف ہمراہ رہا۔ اس پہلے تعارف کے بعد یہ کھوج لگائی کہ اس دفتر میں ان کرسیوں پر بیٹھنے کا حق کن کو ملتا ہے۔ ایک کلاس فیلو جو گزٹ کی ٹیم کا حصہ تھے ان نے ڈرایا کہ پہلے تحریری امتحان ہوتا ہے پھر انٹرویو ہو گا، مشکل کام ہے۔ لیکن جیسے تیسے یہ مشکل کام بھی ہو گیا۔

پہلے برس گزٹ کی مجلس ادارت میں بطور نامہ نگار تقرر ہوا۔ مدیر ہمارے سید اقرارالحسن تھے۔ پھر تو اس دفتر کی نسبت سے کون کون اور کیا کیا کچھ نہیں ملا اس کا حساب ہی نہیں۔ زندگی جیسے دوست عدنان، فاطمہ،عثمان یہیں سے زندگی میں آئے۔ اسی گزٹ کی نسبت سے مرشد و محترم استاد خالد سنجرانی صاحب کا قرب ملا جب کہ تب ہم ابھی اردو کے باقاعدہ طالب علم بھی نہیں تھے۔ گزٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے ہی ہم سب نے مل کر پھر کبھی جی سی کی ایک سو چالیس سالہ تقریبات کو کور کیا اور کبھی سالانہ ڈرامہ بغیر پاسز کے دیکھ لیا کہ جس پر ڈاکٹر فرحان عبادت جزبز تو بیت ہوتے مگر اجازت بھی دے دیتے۔

اردو کانفرنس کےمندوبین سے انٹرویو کرنے جاتے تو وہ پہلے تو اس بات پر حیران ہوتے کہ ہم میں سے جب کوئی بھی اردو کا طالبعلم نہیں ہے تو اردو سے ایسا لگاؤ کیسے پیدا ہو گیا اور پھر اس کے بعد ہم مبتدیوں کو اردو زبان و ادب کی راہ پر ڈالنے کے لیے اپنا ہاتھ پکڑا دیتے۔ گزٹ کا دفتر جی سی میں کئی حوالوں سے ہماری جائے پناہ ریا، وہ کبھی رات بھر جاگ کر یونیورسٹی جا کر سونے کی شکل میں ہو، چاہے رمضان میں روزہ خوری کے لیے، یہ دفتر کام آتا رہا۔ اور ادھر کام بھی بہت ہوا۔ عدنان محسن مدیر بنا تو اس نے ٹارگٹ رکھا کہ ہم نے اقرار بھائی سے زیادہ شمارے نکالنے ہیں اور جب میری ادارت کی باری آئی تو میرے سامنے عدنان کا ریکارڈ تھا۔

اقرار الحسن اور شعیب منصور نے پروف پڑھنا سکھایا۔ سنجرانی صاحب نے ہمیں رپورتاژ نگاری سکھائی۔ ہماری طرف سے فائنل ہوا پروف جب دو دن بعد ان کی طرف سے واپس بھجوایا جاتا تو وہ ستر فی صد سرخ ہو چکا ہوتا تھا۔ یہاں علمی ادبی بحثیں بھی ہوتی تھیں، چند رنجشیں بھی ہوئیں، نوک جھونک بھی رہی۔ انگریزی کی ٹیم کے ساتھ فائنل کاپی تیار کرنے کا مقابلہ ہو یا کمپوزر سے اپنا کام پہلے کروانے کے ترلے، اردو بازار کے چکر ہوں یا صدیق اعوان صاحب کے کمرے کے، دفتر کی صفائی کروانے کے لیے خاکروب کو چائے کا لالچ دینا ہو یا رپورٹرز کو دھمکانا، نوٹس بورڈ پر روزانہ کی بنیاد پر لگائی جانے والی نظم کا انتخاب ہو یا گزٹ میں لگائے جانے والے فلرز کی تلاش، پارلیمانی تقاریر کے ملک گیر مقابلوں کے دوران اسی دفتر کو ایک طرح سے مجلس مباحث کا کیمپ آفس بنا دیا جاتا کہ ابتدائی راؤنڈز کے مقابلے میں بلڈنگ کی بالائی منزل پر ہو رہے ہوتے تھے۔۔۔ سب ایک لمحے میں نظر کے سامنے سے گزر گیا ہے۔ آیا تو میں ریڈنگ روم میں اردو کانفرنس کے چلتے سیشن سے باہر ایک فون کال سننے تھا لیکن یادوں کی بازگشت ایسی ہے کہ اور کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔

اب جو دیکھا ہے تو نوٹس بورڈ پر ڈینگی سے بچاؤ کا ایک نہایت بدشکل سا پرانا اشتہار لگا ہے، انگریزی کا ایک نوٹس کوئی چار ماہ پہلے کا ہے۔ دفتر کی تختی ٹیڑھی ہو چکی ہے، نوٹس بورڈ اور دروازے کے شیشے نہ جانے کب سے صاف نہیں ہوئے۔ دروازہ جو ہمیشہ ہی کھلا ہوتا تھا اس پر بڑا سا تالا ہے۔ اندر جھانکیں تو کرسیوں پر پڑی دھول بتاتی ہے کہ یہاں بیٹھنے کی خواہش کرنے والے شاید کم رہ گئے ہیں یا مصروف زیادہ ہو گئے ہیں۔ اگر یہ آج بھی دو ہزار چار کی اس سرد سی دوپہر کی طرح کھلا ہوتا تو آج کی کانفرنس کے منتظمین اندر ریڈنگ روم میں چلتے سیشن “ادب کے فروغ میں جامعات کا کردار” میں اس مندوب کی تقریر کا جواب ضرور دے دیتے جو جامعات میں اردو کے لیے ماحول سازگار نہ ہونے کا شکوہ کر رہے تھے، کہ ہم نے اسی گزٹ کے عہدیداران میں سے جو اردو کی کسی ڈگری کے طالب علم بھی نہیں تھے اردو ادب پڑھنے کا قرینہ پایا تھا۔ صدیق اعوان انگریزی کے استاد تھے، محمد علی سید فلسفے کے، اقرار الحسن سیاسیات کے، شعیب منصور اور ثمن اعجاز معاشیات کے طالب علم تھے۔ ان کی لکھی تحریروں، ان کی گفتگو نے ہی ہمارے اردو کی طرف رجحان میں اضافہ کیا تھا۔ آج اس بند دروازے کے پیچھے گورنمنٹ کالج کا گزٹ کہیں گم ہو گیا ہے۔ کہاں گم ہو گیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *