ہماری منزل تو ہمارے دل کے اندر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تلاش کا سفر بھی کیسا سفر ہے خواب، آرزو اور آدرش کو پانے کی خواہش کا سفر‘ جو ہمیں زندگی کے پُر پیچ راستوں پر دوڑائے پھرتی ہے اور شانتی کی تتلی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہماری سانس پھولنے لگتی ہے اور ہمارے پائوں شل ہو جاتے ہیں‘ تب اچانک ایک دل کشا لمحہ ہم پر حیرتوں کا در کھول دیتا ہے کہ ہماری منزل تو ہمارے دل کے اندر ہے۔ جرمن ناول نگار ہرمن ہیس کے ناول ”سدارتھ‘‘ (Sidartha) میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ دراصل مہاتما بدھ کی کہانی ہے۔
ناول کا مرکزی کردار سچائی کی تلاش میں نکلتا ہے۔ زندگی اس کا طرح طرح سے امتحان لیتی ہے۔ اس سفر میں تنہائی ہے، کٹھنائیاں ہیں مگر آگے بڑھنے کی لگن بھی ہے‘ جو تلاش کے سفر کو جاری رکھتی ہے۔ آخرکار تھکاوٹ اور مایوسی مسافر کو توڑنے لگتی ہے تو وہ اچانک ایک ندی کے پانی میں اپنا عکس دیکھتا ہے اور تب وہ لمحہ اس پر وارد ہوتا ہے جب حیرتوں کے در کھلتے ہیں اور اپنے عکس میں اسے وہ سب کچھ دکھائی دیتا ہے جس کی تلاش میں وہ عمر بھٹکتا رہا تھا۔
پھر مجھے پالو کوہیلو کا ناول دی ایلکیمسٹ (The Alchemist) یاد آ جاتا ہے‘ جس کی کہانی بھی تلاش کی کہانی ہے‘ جس میں ایک چرواہا لڑکا جس خزانے کی تلاش میں ایک عرصہ شہر در شہر بھٹکتا پھرتا ہے وہ اس کی جھونپڑی کے فرش میں دفن ہوتا ہے۔ ہمارے لوک شعرا کی شاعری بھی تلاش کی آخری منزل دل کے اندر دریافت کرتی ہے۔
آج بھنبھور شہر کے کھنڈرات میں بیٹھے بیٹھے مجھے تلاش کا ایک اور سفر یاد آ گیا۔ سب سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ بھنبھور مجھے کس کی کشش کھینچ لائی۔ اس کی کہانی بھی عجیب ہے۔ مجھے موسیقی سے شغف ہے۔ لوک گیتوں سے مجھے خاص دلچسپی ہے۔ ایک روز میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آواز نے مجھے اپنے سحر میں لے لیا۔ گیت نیا نہیں تھا۔ میں نے پہلے بھی یہ گیت دوسرے گلوکاروں کی آواز میں سنا تھا‘ لیکن یہ آواز ایک جادو بھری آواز تھی۔ ایک سوز تھا کہ جسم و جاں جس میں بھیگ گئے تھے۔ ایک کُوک تھی جو دل میں ترازو ہو گئی تھی۔
یہ منصور ملنگی کی آواز تھی، بہت ہی مختلف، بہت ہی منفرد۔ موسیقی سے دلچسپی رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ جھنگ کے ایک چھوٹے سے گائوں میں پیدا ہونے والے اس بچے نے کس طرح لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام پیدا کیا اور پھر اسے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ لیکن اس کا اصل انعام عام لوگوں کی محبت ہے ایک بے پایاں محبت۔ وہ جو بھی گیت گاتا تھا اس کا آہنگ گیت کے معنی کو دوآتشہ کر دیتا تھا۔ اس روز بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ منصور ملنگی اپنے آہنگ میں معروف لوک گیت ”ککڑا دھمی دیا‘‘ گا رہا تھا۔ یہ سسی اور پنوں کی محبت کی داستان تھی جس کا مرکز بھنبھور تھا۔ آواز کیا تھی جیسے محبت، وارفتگی، فراق، بے تابی، بے قراری کو مجسم کر دیا گیا ہو۔
یہ گیت میں نے کئی بار سنا اس کے بعد میرے دل میں دو خواہشیں پیدا ہوئیں‘ منصور ملنگی سے ملنے کی خواہش اور سسی اور پنوں کی داستان کے مرکزی کردار بھنبھور شہر دیکھنے کی خواہش۔ لیکن مجھے اس وقت شدید دھچکا لگا جب یہ پتہ چلا کہ منصور ملنگی سے میں کبھی نہ مل سکوں گا اس لیے کہ وہ 2014ء میں ہمیشہ کی نیند سو چکا تھا۔ منصور ملنگی سے نہ ملنے کا افسوس مجھے ہمیشہ رہے گا۔ پھر میں نے سوچا‘ بھنبھور شہر تو یہیں ہے‘ کیوں نہ بھنبھور جایا جائے‘ وہاں بیٹھ کر اس گیت کو سننے کا مزا ہی کچھ اور ہو گا۔
اگر آپ بھنبھور نہیں گئے تو یہ جان لیں کہ یہ ایک تاریخی شہر ہے۔ یہیں پر دیبل کی بندرگاہ ہے جہاں سے محمد بن قاسم نے راجہ داہر کے قلعے پر حملہ کیا تھا۔ بھنبھور کا تاریخی شہر پہلی صدی عیسوی میں آباد ہوا اور پھر اس شہر نے کئی حکمرانوں کا عروج و زوال دیکھا۔ بھنبھور کراچی سے تقریباً 65 کلومیٹر دور ہے۔ ٹھٹھہ سے ایک خاموش اور ویران سڑک پر سفر کرتے آپ بھنبھور پہنچ جاتے ہیں۔ اس طرح کی تاریخی جگہوں پر جانے کیلئے میں انعام شیخ صاحب سے درخواست کرتا ہوں۔ وہ تاریخ اور کلچر کا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔
سہ پہر کا وقت تھا جب ہم بھنبھور کے کھنڈرات میں داخل ہوئے۔ گرمیوں کا آخر آخر تھا لیکن ہوا میں حدت تھی۔ گیٹ سے داخل ہوں تو میوزیم کی عمارت ہے اور پھر کچھ گیسٹ رومز بنے ہیں۔ باہر اس منجنیق کا ماڈل ہے جسے محمد بن قاسم کی فوج نے استعمال کیا تھا۔ میوزیم میں بھنبھور کے مختلف ادوار کی کہانی وہاں کے لوگوں کی معاشرت کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ گیسٹ روم میں چائے پی کر ہم اپنے سامنے دور دور تک پھیلے ہوئے راجہ داہر کے قلعے کے کھنڈرات کی طرف چل پڑے۔
یہیں پر ہمیں ایک قدیم مسجد کے آثار نظر آئے۔ بلندی پر پہنچیں تو بہت دور دریا کے آثار نظر آتے ہیں۔ بلندی پر چلتے چلتے اب تھکن کا احساس ہو رہا تھا۔ ہم وہیں پتھروں پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ بھنبھور کی سرزمین ہے۔ یہیں سسی کا گائوں تھا۔ سندھی میں بھنبھور کے معنی لال رنگ کے ہیں۔ کہتے ہیں‘ یہاں کا پانی سرخ رنگ کا تھا۔ اس میں جو چیز ڈبو کر نکالیں اس کا رنگ بھی سرخ ہو جاتا تھا۔ اسی لیے اس جگہ کا نام بھنبھور پڑ گیا۔ یہاں ایک ہندو راجہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ اکثر سوچتا‘ اس کی حکمرانی کو تسلسل کیسے ملے گا۔ بہت منتوں مرادوں کے بعد ان کے گھر ایک بیٹی پیدا ہوئی تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔
زمانے کے رواج کے مطابق جوتشی کو بلایا گیا‘ جس نے زائچہ تیار کیا اور راجہ کو یہ خبر سنائی کہ یہ لڑکی خاندان کے لیے پریشانی اور نحوست کا باعث ہو گی۔ فوری طور پر فیصلہ کیا گیا کہ لڑکی سے چُھٹکارا حاصل کیا جائے۔ صندوق کو دریائے سندھ کے حوالے کر دیا گیا۔ علی الصبح کا چلا ہوا صندوق دریائے سندھ کی لہروں پر تیرتا ہوا سہ پہر کے وقت ایک گھاٹ پر پہنچا‘ جہاں اس پر عطا نامی دھوبی کی نظر پڑی۔ اس نے صندوق کھولا تو اس میں ایک خوبصورت بچی تھی۔ سندھی میں چاند کو سسی کہتے ہیں۔ بچی واقعی چاند جیسی تھی۔
دونوں میاں بیوی نے لاڈ پیار سے سسی کی پرورش کی۔ جب وہ جوان ہوئی تو اس کی خوبصورتی کے قصے دور و نزدیک پھیل گئے۔ پنوں مکران کے علاقے کا شہزادہ تھا۔ سسی کی کشش اسے بھنبھور لے آئی۔ دونوں کی ملاقات ہوئی تو یوں لگا وہ جنموں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ پنوں کی درخواست پر عطا اور اس کی بیوی نے سسی کی شادی پنوں سے کر دی۔ ادھر مکران میں پنوں کے بھائیوں کو اس شادی کی خبر ہوئی تو وہ فوراً بھنبھور پہنچے‘ مشروب میں بے ہوشی کی دوا ملائی اور پنوں کے بے ہوش ہونے پر اسے اونٹوں پر لاد کر مکران لے گئے۔ ادھر جب سسی کی آنکھ کھلی تو قافلہ رخصت ہو چکا تھا۔
یہیں سے منصور ملنگی کا گیت ”ککڑا دھمی دیا‘‘ کا آغاز ہوتا ہے۔ سسی ننگے پائوں دیوانہ وار مکران کی طرف بھاگنے لگی۔ راستے میں پہاڑ تھے، گھاٹیاں تھیں اور کڑکتی دھوپ تھی۔ اس کے ہونٹ پیاس کی شدت سے خشک ہو چکے تھے‘ لیکن زبان پر بدستور پنوں کا نام تھا۔ اس کہانی کا انجام سسی اور پنوں دونوں کی موت پر ہوتا ہے۔ لسبیلہ کے قریب سسی اور پنوں کے مزار آج بھی موجود ہیں‘ جہاں اب بھی لوگ محبت کے ان کرداروں کی یاد تازہ کرنے کے لیے آتے ہیں‘ لیکن محبت کی اس کہانی کو شاہ لطیف بھٹائی نے ایک نیا رخ دیا۔ وہ اسے مالک حقیقی کی تلاش کا سفر قرار دیتے ہیں۔
تصوف کی روایت میں تلاش پر نکلنے والا کردار نسوانی ہوتا ہے۔ سسی بھی ایک ایسا ہی کردار ہے جو محبوب کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ شاہ لطیف سسی کی دیوانہ وار تلاش دیکھ کر سسی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ پنوں کو پہاڑیوں میں، گھاٹیوں میں اور جنگلوں میں مت تلاش کرو اس لیے کہ پنوں باہر کی دنیا میں نہیں بلکہ تمھارے اندر ہے اور وصل کا راستہ فنا کے مقام سے ہو کر گزرتا ہے۔
رنگ بکھیرتی شام میں بھنبھور کے کھنڈرات پر بیٹھا میں سوچتا ہوں کہ تلاش کا سفر بھی کیسا سفر ہے‘ خواب، آرزو، اور آدرش کو پانے کی خواہش کا سفر‘ جو ہمیں زندگی کے پُر پیچ راستوں پر دوڑائے پھرتی ہے۔ شانتی کی تتلی کے پیچھے بھاگتے بھا گتے ہماری سانس پھولنے لگتی ہے اور ہمارے پائوں شل ہو جاتے ہیں۔ تب اچانک ایک دل کشا لمحہ ہم پر حیرتوں کا در کھول دیتا ہے کہ ہماری منزل تو ہمارے دل کے اندر ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 171 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *