قومی رویے اب بدلنے چاہئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اور تو ہم نے کسی سے کچھ سیکھا نہیں، اپنے کشکول سے ہی سیکھ لیں۔ چھ بلین ڈالر کا قرض لینے کیلئے ہم نے اپنے آپ کو آئی ایم ایف کے سامنے بچھا دیا اور اُس ادارے کی شرائط مان کر معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا۔ یہ ہماری اصلی حالت ہے۔ آج کی دنیا میں چھ بلین ڈالر چھوٹی سی رقم ہے لیکن اِسے بھی حاصل کرنے کیلئے ہمیں کیا کیا جتن کرنے پڑے۔
انسان اپنی چادر دیکھ کے پیر پھیلاتا ہے۔ ہم ہیں کہ چادر محدود ہے لیکن پیر پتا نہیں کہاں تک پھیلائے ہوئے ہیں۔ اخراجات کم کرنے کی بات بعد میں آتی ہے، پہلی ضرورت فضول کے خیالات کو کسی حقیقی دائرے میں لانے کی ہے۔ اس حوالے سے وقت آن پہنچا ہے کہ قومی سوچ تھوڑی حقیقت پسندی کی طرف مائل ہو اور خواہ مخواہ کی فضول باتوں سے اب اجتناب کیا جائے۔
ایک بات اچھی ہو گئی کہ نام نہاد جہادی سوچ سے ریاستِ پاکستان کافی حد تک آزاد ہو چکی ہے۔ کشمیر کی صورتحال گمبھیر ہے لیکن ماضی کی وہ آوازیں بہت حد تک دَب چکی ہیں کہ بذریعہ جنگجو تنظیموں کے مقبوضہ کشمیر میں شورش برپا کی جا سکتی ہے۔ ماضی میں جب اِس روش کو ہم نے تقویت دی تو اُس کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ فائدہ ہمیں کچھ نہ ہوا‘ نقصان بہت اُٹھانا پڑا۔ اب جو تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اِس کا سبب مجبوری ہے۔ حالات ہی ہمارے ایسے کٹھن ہو چکے ہیں کہ پرانی ڈگر پہ چلنا محال ہو گیا ہے۔
پہلے وقتوں میں حافظ محمد سعید عارضی طور پہ نظر بند ہوتے تھے اور کچھ دیر بعد اُن کی رہائی عمل میں آجاتی تھی۔ اِس بار انہیں باقاعدہ سزا سنائی گئی ہے۔ یہ نئی بات ہے اور نئی مجبوریوں کی طرف اشارہ دیتی ہے۔ جس جہادی سوچ کی وجہ سے ایسی تنظیموں نے زور پکڑا وہ اب ختم ہونی چاہیے۔ ریاستِ پاکستان کی سوچ میں اَب نام نہاد جہادی سوچ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ دیر آید درست آید۔
افغانستان میں جس انداز سے بھی ممکنہ امن معاہدے کیلئے ہم مددگار ثابت ہو رہے ہوں، ہمارے ذہنوں سے یہ بات اب خارج ہونی چاہیے کہ کابل میں کس قسم کی حکومت ہو۔ وہ افغانستان کا اپنا مسئلہ ہے کہ ممکنہ امن معاہدے کے بعد وہاں کیسی حکومت تشکیل پاتی ہے۔ ہم رائے دے سکتے ہیں، نصیحت بھی کر سکتے ہیں لیکن حکومت کیسی ہو وہ افغانوں کا اندرونی مسئلہ ہے۔ ماضی میں ہم نے بہت کوشش کی کہ کابل میں پاکستان دوست حکومتیں بنیں لیکن اِس سوچ سے ہمیں ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں پہنچا۔
ہمارا مفاد اِس میں ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو، کابل میں ہندوستان کا کتنا اثر ہے اُس سے ہمیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ جغرافیے کی بدولت ہمارا کچھ نہ کچھ اثرورسوخ کابل میں رہے گا‘ لیکن اوروں کا بھی وہاں عمل دخل رہے تو اس امر کو سر پہ بوجھ نہیں بنانا چاہیے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایک زمانے میں کابل میں پاکستان مخالف حکومتیں ہوا کرتی تھیں‘ لیکن اُن حکومتوں نے ہمارا کیا بگاڑا؟ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں اُن پاکستان مخالف حکومتوں نے ہمارے خلاف کوئی اقدام نہ کیا۔ مخالفت کے باوجود وہ نیوٹرل رہے۔ یہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے۔
کشمیر کا فوری حل کوئی نہیں ہے۔ کوئی ایسا فارمولا موجود نہیں جس سے کشمیر کا مسئلہ فوری طور پہ حل ہو سکے۔ 1947ء سے یہ مسئلہ چلا آ رہا ہے اور معلوم نہیں کب تک رہے گا۔ اس لیے بے صبری کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں، ہر موقع پہ کشمیریوں کیلئے ہمیں آواز اُٹھانی چاہیے، جہاں ممکن ہو ہندوستان کی پالیسیوں کو نشانۂ تنقید بنانا چاہیے۔ عالمی ضمیر ایک محاورہ ہے، اس میں کچھ حقیقت بھی ہے تو یہ ضمیر زیادہ تر سویا ہی رہتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو ہمیں اِس سے جھنجھوڑتے رہنا چاہیے لیکن یہ مفروضہ ہمیں ذہنوں سے نکال دینا چاہیے کہ کشمیر بزورِ بازو آزاد کرایا جا سکتا ہے۔
اِس ضمن میں کچھ سبق ہم اپنے دیرینہ دوست چین سے سیکھ لیں۔ اُن کے لیے زندگی موت کا مسئلہ تائیوان کا ہے‘ لیکن وہ کبھی یہ نہیں کہتے کہ اُس کا فوری حل ہو جائے گا‘ یا ہو سکتا ہے۔ ایک لائن انہوں نے البتہ کھینچی ہوئی ہے کہ تائیوان اگر اپنی آزادی کا اعلان کرتا ہے تو چین تائیوان پہ حملہ کر دے گا۔ امریکا کو بھی پتہ ہے کہ یہ محض ہوائی دھمکی نہیں، اس کے پیچھے چین کا مصمم ارادہ ہے۔ تائیوان بھی اس حقیقت سے آشنا ہے، اسی لیے تائیوان کبھی اعلانِ آزادی کی حماقت کی طرف نہیں گیا۔ ہمیں کشمیریوں کے ساتھ اخلاقی طور پہ کھڑا ہونا چاہیے لیکن کشمیر کا کوئی جنگی حل نہیں ہے۔ ہم نے ایک سے زیادہ بار کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ ہندوستان بڑھکیں مارے یا ایسا نہ کرے ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
ایک بات البتہ ضروری ہے‘ جس کے بارے میں ہم نے اب تک غفلت بَرتی۔ پانی کے مسئلے کو ہمیں زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ سندھ طاس معاہدے کو جتنا باریکی سے ہمیں پڑھنا چاہیے تھا‘ ہم نے نہ کیا۔ دریائے جہلم اور چناب کے پانیوں کے حوالے سے ہم بہت کچھ پہلے کر سکتے تھے۔ ہماری لاپروائی کا ہندوستان نے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ جہاں ہم نے عسکری سازوسامان اور عسکری تیاریوں پہ بہت توجہ دی وہاں پانی کے مسئلے پہ بھی ہمیں توجہ دینی چاہیے تھی۔ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ہمارے پاس ایک دو نہیں بلکہ پوری کھیپ ماہرین کی ہونی چاہیے‘ جو ہر وقت دیکھے کہ کون سی خلاف ورزیاں ہندوستان کر رہا ہے اور کون سے اقدامات ہمیں کرنے چاہئیں۔ غفلت کے مرتکب ہونے کے بعد ہم عالمی عدالت بھی گئے لیکن جب نقصان ہو چکا تھا۔
ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں ہمارا رویہ سنجیدہ اور ذمہ دارانہ ہونا چاہیے۔ ہم نے ایٹم بم بنا لیا، ایٹمی ہتھیاروں کا ہمارے پاس ذخیرہ ہے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے لیکن اِس سے جو نتیجہ اخذ کرنا چاہیے وہ کسی نامعلوم وجہ سے ہم کر نہیں پاتے۔ ہمارا ایٹمی دفاع یا جسے انگریزی میں deterrent کہتے ہیں وہ ہر لحاظ سے کافی ہے۔
ہندوستان ہم پہ حملہ کرنے والا نہیں ہے‘ نہ کر سکتا ہے۔ ایسی سوچ ہم اپنے ذہنوں میں کیوں لاتے ہیں؟ بعض اوقات ہمارے ماہرین بہت ہی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اُن کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ جب تک ہم ہندوستان کے ساتھ ایک ایٹمی دوڑ میں نہ پڑے رہیں‘ ہمارے دفاع میں کچھ کمی رہے گی۔ ہندوستان اور پاکستان‘ دونوں کے پاس اتنے ایٹمی ہتھیار ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو ایک بار نہیں پانچ دس بار مکمل تباہی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ پھر ڈر کس چیز کا ہے؟ ایٹمی دوڑ میں پاکستان کو نہیں پڑنا چاہیے۔ یہ وسائل کا ضیاع ہو گا۔ ایٹمی محاذ سے ہمیں جو حاصل کرنا چاہیے تھا وہ کامیابی سے ہم کر چکے۔
پاکستان چھوٹا ملک نہیں ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ہمارا شمار بڑے ملکوں میں ہوتا ہے۔ دفاعی سازوسامان اور تیاری کے لحاظ سے ہم بہت ملکوں سے آگے ہیں۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ ہم کسی عدم تحفظ کا شکار رہیں۔ ہم نے ہندوستان کے خلاف کوئی جارحیت نہیں کرنی لیکن یہ سوچ ہمارے ذہنوں میں کیوں پیوست رہتی ہے کہ ہندوستان ہم پہ چڑھ دوڑے گا اور ہماری بقا کو خطرے میں ڈال دے گا؟ ہر ہندوستانی بھبکی یا بڑھک کا ہمیں نوٹس لینے کی ضرورت نہیں۔ خارجہ پالیسی سے لے کر دفاعی پالیسی تک ہر چیز کو ہندوستان کے زاویے سے دیکھنے کی روش اب تبدیل ہونی چاہیے۔
ہمارا ایک اپنا وجود ہے جس کا انحصار کسی حوالے سے بھی ہندوستان پر نہیں۔ اُن کا اپنا راستہ ہے اور ہمارا اپنا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ پاکستانی ریاست تو بن گئی پاکستانی قوم نہیں بنی، یہ سراسر غلط ہے۔ اب پاکستانی قوم معرضِ وجود میں آ چکی ہے۔ آپس میں ہمارے جھگڑے ہوں گے، کئی امور پہ اتفاقِ رائے نہ ہو گا‘ لیکن جہاں رائے کی آزادی ہو وہاں ایسے جھگڑے کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔
مشکلات کی کندن سے نکلتے ہوئے ہم ایک قوم بن چکے ہیں۔ اب اپنے بارے میں ہمیں اعتماد ہونا چاہیے۔ اپنے مسائل اور معاملات کو خالصتاً پاکستانی زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ یہ ہر بات پہ ہندوستان ہندوستان کہنا اچھا نہیں لگتا۔ اِس سے اَب اپنے آپ کو آزادکرنا چاہیے۔
1947ء میں ہم ایک آزاد ملک بنے۔ آزادی ملی لیکن ہندوستان فوبیا سروں پہ رہا۔ اب اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *