یارِ من ترکی…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ جو پرانی کہاوت ہے: دوست وہ جو مشکل میں کام آئے۔ اس کے ساتھ سیانے یہ بھی کہتے ہیں کہ دوستوں کو آزمائش میں ڈالنے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔ دوستی کا بھرم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دوستوں کی مجبوریوں کا بھی خیال رکھا جائے اور ایسی غیر حقیقی توقعات وابستہ نہ کی جائیں جن کی تکمیل ممکن نہ ہو۔ غالباً حسن نثار کا شعر ہے ؎
بہت زیادہ محبت اجاڑ دیتی ہے
توقع سارے تعلق بگاڑ دیتی ہے
دسمبر (2019) کی کوالالمپور سمٹ میں وزیر اعظم پاکستان کی عدم شرکت پر ترکی کے جناب طیب اردوان اور ملائیشیا کے مہاتیرمحمد نے اسی فیاضانہ رویے کا مظاہرہ کیا۔ حالانکہ اس سمٹ کے انعقاد کے آئیڈیا میں جناب عمران خان بھی شریک تھے (جب ستمبر میں یو این جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں تینوں کی ملاقات ہوئی) لیکن ”گلف کارڈ‘‘ وزیر اعظم پاکستان کی راہ میں حائل ہو گیا۔ کوالالمپور سمٹ سے قبل عمران خان کی ریاض جا کر ولی عہد محمد بن سلمان (اور سلمان بن عبدالعزیز) سے ملاقات بھی بے سود رہی۔
تب ایک رائے یہ بھی تھی کہ سعودی (اور اماراتی) دوستوں کی ”خواہش عدولی‘‘ ممکن نہ تھی تو وزیر اعظم، اپنی جگہ وزیر خارجہ کو کوالالمپور بھیج دیتے کہ ان کی بھی دل جوئی ہو جاتی۔ انڈونیشیا کے صدر نے بھی تو اپنے نائب کو بھیج دیا تھا۔ (پاکستان فارن آفس کے ذمہ داران کا (آف دی ریکارڈ) کہنا تھا کہ اس معاملے میں ان سے مشاورت کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی) کوالالمپور سمٹ سے پاکستان کی لاتعلقی کے باوجود وہاں کشمیر پر زوردار قرارداد منظور کی گئی۔
پاکستان کی عدم شرکت صدر اردوان اور وزیر اعظم مہاتیر محمد کے لیے ملال کا باعث تو تھی‘ لیکن انہوں نے اسے دل سے نہیں لگایا، ایک سوال پر ملائیشین لیڈر اس توقع کا اظہار کر رہے تھے کہ وزیر اعظم پاکستان آئندہ کانفرنس میں ضرور شریک ہوں گے، جبکہ اردوان ”دل کی بات‘‘ زبان پر لے آئے، ان کے بقول سعودی عرب نے پاکستان کو چالیس لاکھ پاکستانیوں کے خروج اور سٹیٹ بینک میں رکھوائے گئے اربوں ڈالر نکالوا لینے کی دھمکی دی تھی۔ (جس پر ریاض اور اسلام آباد کا کہنا تھا کہ باہم عزت، وقار اور احترام پر مبنی تعلقات کسی دھمکی اور دبائو سے ماورا ہیں)۔
کوالالمپور سمٹ میں عدم شرکت سے اگر کوئی ڈیمیج ہوا بھی تھا تو وہ کنٹرول ہوگیا۔ وزیر اعظم پاکستان، سرکاری دعوت پر ماہِ رواں کے اوائل میں کوالالمپور تشریف لے گئے جہاں دونوں طرف ایک دوسرے کے صدقے واری جانے کی کیفیت نظر آئی۔ وزیر اعظم پاکستان نے میزبان لیڈر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں، کوالالمپور سمٹ میںعدم شرکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ ظاہر ہے، یہ اظہار رضاکارانہ تھا، میزبانوں نے تو اس کی خواہش نہیں کی ہوگی۔ وزیر اعظم نے اپنی عدم شرکت کی وجہ بیان کرنا بھی ضروری سمجھا، یہ کہ بعض دوستوں کے خیال میں کوالالمپور سمٹ مسلم اُمہ میں نئی گروہ بندی کا باعث بن سکتی تھی (اور یہ ان کی غلط فہمی تھی) وزیر اعظم نے ایک سوال کے جواب میں اعلان کیا کہ وہ آئندہ کوالالمپور سمٹ میں ضرور شریک ہوں گے۔
اس ہفتے ترک صدر جناب طیب اردوان کی پاکستان تشریف آوری تاریخ میں گہری جڑیں رکھنے والے تعلقات اور اٹوٹ رشتوں کا ایک اور اظہار تھا (ہمارے وزیر اعظم صاحب کے بقول تو، ترکوں نے 600 سال ہندوستان پر حکمرانی کی تھی) ”نئے پاکستان‘‘ میں معزز مہمان کو ایئرپورٹ سے خود گاڑی ڈرائیو کرکے لانے کی نئی روایت بھی قائم ہوئی ہے (اس کا آغاز سعودی اور اماراتی شہزادوں کے خیرمقدم سے ہوا) اب بزرگ ترک لیڈر کو بھی یہ اعزاز بخشا گیا۔
عظیم ترک لیڈر اور پاکستان کے سچے دوست کی یہ چوتھی آمد تھی (اور چاروں بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا اعزاز بھی، دو بار، زرداری صاحب کے دور میں (26 اکتوبر 2009 اور 21 مئی 2012) اور ایک بار میاں نواز شریف کی (تیسری) وزارتِ عظمیٰ کے دوران (تب پی ٹی آئی نے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا) وفاق میں زرداری/ گیلانی اور پنجاب میں شہباز شریف حکومت کے دوران جنوبی پنجاب بطور خاص بدترین سیلاب کی زد میں آیا تھا۔
تب اردوان وزیر اعظم تھے، سیلاب زدہ علاقوں کے دورے میں ترک خاتونِ اوّل نے اپنا نیکلس، متاثرین سیلاب کے لئے خصوصی عطیات کی نذر کیا۔ انہیں یاد تھا کہ پہلی جنگ عظیم (اور پھر تحریکِ خلافت) کے دوران متحدہ ہندوستان کی مسلمان خواتین نے اپنے زیور تک ترک بھائی بہنوں کے لیے چندے میں دے دیئے تھے۔ (بعد میں اس نیکلس پر کیا بیتی؟ کہاں سے برآمد ہوا؟ یہ ایک الگ کہانی ہے) جناب اردوان نے پارلیمنٹ سے خطاب میں برصغیر کے مسلمانوں کے اس ایثار و قربانی کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔ (مظفر گڑھ کا جدید ترین اردوان ہسپتال ترکوں کے جوابی جذبہ خیر سگالی کا ایک اور اظہار ہے)۔
حکمران خاندانوں کی ”ذاتی دوستیاں‘‘ اپنی جگہ لیکن ملکوں اور قوموں کے تعلقات اور مفادات اہم تر اور بالاتر ہوتے ہیں، اگرچہ ان میں ”ذاتی دوستیوں‘‘ سے مزید فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ماضی میں سعودی حکمرانوں سے شریف خاندان کے ذاتی تعلقات کا پاکستان کو بھی فائدہ پہنچا۔ ایک مثال، ڈیڑھ ارب ڈالر کا وہ (بن مانگے) عطیہ، جو سعودیوں نے میاں صاحب کی تیسری وزارتِ عظمیٰ کے آغاز ہی میں نذر کیا۔ لیبیا کے کرنل قذافی سے بھٹو صاحب کے ذاتی تعلقات بھی اس کی ایک مثال ہیں۔جناب طیب اردوان، عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ کے 18ویں مہینے تشریف لائے۔ اس دوران مختلف افواہیں بھی گردش کرتی رہیں مثلاً یہ کہ ترک صدر کے دورہ پاکستان میں تاخیر کا ایک سبب، نواز شریف سے ملاقات کی خواہش بھی ہے (جب میاں صاحب ضمانت پر جاتی امرا میں تھے) جناب اردوان نے اپنی صاحبزادی کی شادی میں وزیر اعظم نواز شریف کو بطور خاص مدعو کیا تھا۔ نکاح نامے پر گواہوں میں ان کا نام بھی تھا۔
ہمیں ترک بھائیوں کی پاکستان (اور پاکستانیوں) کے لیے خصوصی محبت اور الفت سے لطف اندوز ہونے کا دو بار موقع ملا۔ پہلی بار جون 1997 میں جب استنبول میں وزیر اعظم نجم الدین اربکان کی دعوت پر، مسلم امہ کے 8 ڈویلپنگ ملکوں (پاکستان، ترکی، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا اور نائیجریا) کی (D-8) سمٹ منعقد ہوئی۔ وزیر اعظم نوازشریف کی پریس پارٹی میں ہم بھی شامل تھے۔ ”یورپ کا مردِ بیمار‘‘ صحت یابی کی جانب سفر کا آغاز کر چکا تھا لیکن ٹرکش ”لیرا‘‘ کی حالت ابھی بہت پتلی تھی۔
اسلام آباد سے حامد میر اور لاہور سے پرویز بشیر بھی اس پریس پارٹی میںتھے۔ ہم تینوں استنبول کے تاریخی مقامات کی سیر کو نکلتے، ہوٹل کے استقبالیہ پر یو ایس ڈالر کو ٹرکش لیرا میں تبدیل کرواتے ہی ”لکھ پتی‘‘ہو جاتے۔ وزیر اعظم پاکستان D-8 کانفرنس کے شرکا اور مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا خصوصی مرکز تھے۔ دو تہائی اکثریت کا حامل پاکستانی وزیر اعظم، عدلیہ کے بحران میں سرخرو رہا تھا (جس کا نتیجہ صدر فاروق لغاری اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے استعفے کی صورت میں نکلا تھا) ترکی میں یہ نجم الدین اربکان کی وزارتِ عظمیٰ کے آخری ایام تھے (تب ترک فوج امور مملکت میں پارلیمنٹ اور منتخب حکومت پر بالا دستی کا آئینی اختیار رکھتی تھی) نواز شریف نے کانفرنس سے خطاب میں معیشت کے جدید تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی استحکام اور منتخب اداروں کی بالا دستی پر زور دیا۔
ہمیں دوسری بار مارچ 2010 میں استنبول جانے کا اتفاق ہوا۔ فتح اللہ کی گولن تحریک، وزیر اعظم اردوان کی کولیشن پارٹنر تھی۔ اس کی رومی فائونڈیشن ہماری میزبان تھی۔ ہمیں جناب مجیب الرحمن شامی، عطاالحق قاسمی، عبدالرئوف اور عامر خاکوانی کی ہمسفری کا شرف حاصل تھا۔ 1997 کی نسبت اب ایک مختلف استنبول تھا۔ ترک معیشت ٹرن ارائونڈ کر چکی تھی۔ ترکی ایک بار پھر عالم اسلام کے لیڈر کے طور پر ابھر رہا تھا۔ کبھی یہ اعزاز پاکستان کو حاصل تھا۔ جنوبی ایشیا میں ہمارا دیرینہ حریف ہندوستان بہت پیچھے تھا۔ اس کی دو، اڑھائی فیصد شرح ترقی کو ”ہندوگروتھ ریٹ‘‘ کا عنوان دیا جاتا اور یہ ”بھوکوں اور بھوتوں کا ملک‘‘ کہلاتا۔ وزیر اعظم نرسمہارائو دور میں من موہن سنگھ کی وزارتِ خزانہ پاکستان کی لبرلائزیشن، پرائیویٹائزیشن اور ڈی نیشنلائزیشن کی نقل کررہی تھی۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *