اے ربِّ جہاں پنجتن ِ پاک کا صدقہ : یہ کلام کس کا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عموماً جب یہ جملہ استعمال کیا جاتا ہے کہ ”یہ کلام کس کا ہے“ تو سننے والوں کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ شاید کسی سو یا دو سو سال پرانے کلام کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ جس طرح انیسؔ و دبیرؔ کے کلام ان کے خاندان یا شاگردوں کی کتابوں میں چھپ گئے یا پھر وہ قلمی نسخے جو صفحہ شہود پر نہ آ سکے مگر مصرع مشہور ہو گئے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ آج جس کلام پر بات کی جا رہی ہے وہ مشہورِ زمانہ کلام ہے اور تقریباً ہر شیعہ گھرانے میں پڑھا جاتا ہے۔ یعنی

”اے ربِّ جہاں پنجتن ِ پاک کا صدقہ / کے خالق“

ہم میں سے بہت سوں نے یہ کلام سنا ہو گا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ 2017 میں حلقہ اربابِ ذوق کراچی کے سرگرم کارکن کاشف رضا صاحب کا پہلی یا دوسری محرم کا فون آیا کہ انہوں نے خاکسار کی کتاب ”تحت اللفظ خوانی کا ایک فنّی مطالعہ“ کا مطالعہ کیا اور ان کی خواہش ہے کہ حلقہ کے اگلے ہونے والے اجلاس میں جو کہ پانچ محرم بروز منگل کو منعقد ہو گا اس میں خاکسار انیسؔ و دبیرؔ و جوشؔ کے منتخب بند پیش کرے۔ میں منگل کی شام اجلاس میں حاضر ہوا اور کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔

احباب سے ملاقات ہوئی، موبائل نمبرز کا تبادلہ ہوا۔ دوستوں نے تحت اللفظ خوانی پسند فرمائی، تقریب کامیاب ہوئی۔ عاشورہ کے روز، روزنامہ جنگ میں راقم التحریر کا مضمون ”رثائی ادب کے مشہور مصرعے“ شائع ہوا تو گیارہ محرم کو ایس ایم ایس اور واٹس ایپ پر مبارکبادوں کے پیغامات موصول ہوئے۔ اس پوری تمہید کو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ حلقہ کا اگلا اجلاس 21 محرم کو ہوا جس میں رثائی ادب کے سر کا تاج، خاندانِ میر انیسؔ کی یادگار میر احمد نوید تشریف لائے۔

ان کے کلام کے تعریف سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے۔ برس ہا برس سے کراچی کے نوحہ خواں ان کا کلام پڑھ کر نمود و شہرت سمیٹ رہے ہیں۔ اجلاس بہت کامیاب ہوا مگر اگلے دن کچھ دوستوں کے ٹیلی فون آئے کہ اجلاس میں یہ ذکر ہوا کہ مشہورِ زمانہ کلام ”اے ربِّ جہاں پنجتن ِ پاک کا صدقہ“ احمد نوید صاحب کا ہے جو کہ محسن نقوی کے نام سے مشہور ہے۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے گھر میں ان کے مقطع ”محسن کی دعا ختم ہے اب اس کو اثر دے“ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ چونکہ میرا مضمون دو روز قبل ہی شائع ہوا تھا اور احباب واقف ہیں کہ تحت اللفظ مرثیہ خوانی کا سبب اور خاندان علماء و ذاکرین سے تعلق کا شرف اس بات کا متقاضی تھا کہ یہ سوال مجھ طالب علم سے کیا جائے۔

میرے لئے بھی یہ بات اتنی ہی حیرت کا سبب تھی جتنی کہ دوستوں کے لئے کیونکہ جب سے ہوش سنبھالا ہے یہ دو کلام
جب عزا خانہ سج رہا ہو تو۔ ”نشانِ فوجِ پیمبرؐ سجایا جاتا ہے“ از علامہ نجم آفندی

اور عزا خانہ بڑھایا جا رہا ہو تو ”اے ربِّ جہاں پنجتن ِ پاک کا صدقہ“ دعا کے طور پرمحسن نقوی کے نام سے ہی سنا اور پڑھا تھا۔ بحیثیت تحقیق کے طالب علم کے لازمی تھا کہ اس بات کی تحقیق کی جائے کیونکہ دونوں شعراء عظیم ہیں۔ اور اس ایک دُعا کے شامل ہونے یا نہ ہونے سے دونوں کے علمی و ادبی قد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ہم ایک ایک کر کے اس تحقیقی مطالعے کے عوامل کا مشاہدہ کرتے ہیں :

محسن نقوی
کتاب کا نام: فراتِ فکر
سنِ اشاعت: 1996
عنوانِ کلام: التماسِ دعا
کُل اشعار: بیس ( 20 )
مقطع: شامل ہے
سر پر ہو سدا پرچم_ عبّاس کا سایہ
محسن کی دعآ ختم ہے اب اسکو اثر دے

میرؔ احمد نوید

کتاب کا نام: جاری ہے کربلا
سنِ اشاعت: 2005
عنوانِ کلام: التجائے نوید
کُل اشعار: نو ( 9 )
مقطع: شامل نہیں ہے

دو تین بنیادی سوالات یہاں کیے جا سکتے ہیں کہ ایک کتاب 1996 ء میں شائع ہوئی ہے اور محسن نقوی کوئی غیر معروف شاعر و خطیب نہیں ہیں نہ ہی ان کی کتابیں غیر دستیاب ہیں تو اس بات کی نفی پچھلے پندرہ بیس برسوں میں کہیں ہوتی نظر نہیں آئی۔

دوسرا یہ کہ مقطع کیسے اتنا مشہور ہو گیا، بغیر کسی مبالغے کے میں خود پچھلے بیس تیس سال پہلے سے مقطع کے ساتھ سُن رہا ہوں اور جس سے بھی ذکر کیا ہے سب کا یہی رسپانس ہے کہ ہم طویل عرصے سے یہ کلام اسی مقطع کے ساتھ سُن رہے ہیں۔ تیسرا یہ کہ بعد میں لکھا جانے والا کلام (یعنی دعویٰ کے مطابق) 20 اشعار رکھتا ہو جس میں مقطع شامل ہو اور اَصل کلام (دعویٰ کے مطابق) صرف انیس اشعار موجود ہوں اور مقطع بھی نہ ہو۔ یہ تو وہ سوال ہیں جو شائع ہوئے کتابی حقائق کے ذیل میں ہیں۔

راقم الحروف نے رثائی ادب کے صف ِ اوّل کے شعراء اور علماء سے دریافت کیا جس سے مندرجہ ذیل معلومات حاصل ہوئیں۔

1۔ ایک روایت کے مطابق، محسن نقوی نے یہ کلام بابا صدا حسین کو ہدیہ کر دیا تھا لیکن اس کلام کی شہرت کے پیشِ نظر اسے اپنی کتاب میں شامل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔
2۔ پنجاب میں کچھ علاقوں میں یہ بابا صدا حسین، عدیم ہاشمی کے ناموں سے بھی مشہور ہے۔

3۔ محسن نقوی پر ایک خاتون نے ڈاکٹریٹ کیا ہوا ہے جو کہ نیو رضویہ اسکیم 33۔ میں رہتی ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اپنے مقالہ کے دوران انہوں نے جتنے انٹرویوز کیے یا گفتگو کی گئی تو ”اے ربِّ جہاں پنجتن ِ پاک کا صدقہ“ کا ذکر بار بار محسن نقوی کے حوالے سے ہوتا رہا۔

4۔ یہ کلام محسن نقوی کی زبان سے متعدد مجالس میں سنا جا چکا ہے۔
5۔ مختلف جنتریوں میں یہ کلام محسن نقوی کے نام سے برس ہا برس سے چھپ رہا ہے۔

6۔ ڈاکٹر اسد اریب اپنی کتاب ”مرثیے کے نئے صنعت گر“ میں صفحہ نمبر 931 میں رقم طراز ہیں ”محسن نقوی نے اوّل اوّل پہلا مصرع یوں لکھا تھا ’اے ربِّ جہاں پنجتن ِ پاک کے خالق‘ مگر بعدہ اس میں ترمیم کر دی تھی۔ بالیقین یہ کلام محسن نقوی کا ہے۔“ فراتِ فکر کے صفحاتِ آخر پر مقطع سمیت درج ہیں۔

میں یہ پوری بحث تقریباً بھول چکا تھا کہ احباب سے اس موضوع پر لکھے گئے ایک مضمون کی طرف متوجہ کیا تو مناسب لگا کہ اوپر معروضات بھی ضبط تحریر ہونے چاہئیں۔ ان تمام باتوں سے یہ بھی ثابت کرنا مشکل ہے کہ یہ کلام حتمی طور پر کس کا ہے، کیونکہ ایک شخصیت حیات ہے اور دعویدار ہے۔ عدل یہ ہے کہ یہ کلام جس کا ہے اسے اس کا حق ملنا چاہیے اور اس علمی و ادبی بحث کو جاری رہنا چاہیے تا کہ معاملہ کا فیصلہ ہو۔ ہمارے لئے دونوں شعراء باعث ِ فخر ہیں اور سر کا تاج ہیں۔

اسی بارے میں
محسن نقوی کے نام سے منسوب مشہور دعا ”اس قوم کا دامن غمِ شبیر سے بھر دے“ میر احمد نوید کی ہے

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فرحان رضا، کراچی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *