یہاں عورت کا بولنا منع ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پھر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں ڈی چوک اسلام آباد میں میں ایک عورت ٹریفک وارڈن سے الجھ رہی ہے کہ اگر مجھے روکنا ہی مقصود تھا یا میں موبائل استعمال کر رہی تھی تو آپ مجھ سے صحیح لہجے میں بھی بات کر سکتے تھے۔ اس میں عورت مرد کی بات نہیں ہے یہاں ہر آدمی کو اگر تھوڑی سی اتھارٹی مل جاتی ہے تو اس کے لہجے میں جو غرور اور حقارت در آتی ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ بہرحال اسی دوران ایک نام نہاد رپورٹر دور سے دوڑتے ہوئے ریکارڈنگ کرتے آ رہے ہیں اور سراسر جانبداری کا مظاہرہ کر تے عورت کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور ٹریفک وارڈن کی حمایت میں بات کر رہے ہیں۔

اب یہ ویڈیو مختلف عنوانات کے ساتھ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہو رہی ہے جس میں صرف اور صرف اس عورت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اس نے پنجابی زبان کے استعمال پر غصہ کیا یا روکنے پر اور پھر ان عنوانات کی روشنی میں اس سارے واقعہ کو دیکھا جا رہا ہے اور ریمارکس میں اس عورت کو مختلف گالیوں سے نوازا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کے بقول وہ عورت کارڈ کا استعمال کر رہی ہے اور کچھ کے بقول وہ انگریزی زبان کا رعب جھاڑ رہی ہے اور کچھ کے بقول شریف عورتیں ایسے نہیں بولتی ہیں بلکہ بولتی ہی نہیں ہیں۔ حالانکہ وہ عورت صرف یہ بات کر رہی ہے کہ ٹریفک وارڈن نے پنجابی میں کچھ غلط بولا ہے جوکہ وہ عورت شاید دہرانا بھی نہیں چاہ رہی مزید وہ اس کے حقارت آمیز رویہ کی بات کر رہی ہے۔

لیکن بات یہ ہے کہ آپ کو یہاں ہر گلی ہر محلے ہر چوک میں مرد گالم گلوچ کرتے، ماں بہن کی گالیاں نکالتے، دست و گریباں ہوتے نظر آتے ہیں کیا ان کی بھی ایسے ہی ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کی جاتی ہیں؟ کیا وہ بھی ایسے ہی وائرل ہوتی ہیں اور جن کے نام پر مردوں کی سب گالیاں مرکوز ہیں ( ماں بہن کی گالیاں )؟ اگر وہی عورت کبھی احتجاج کرتی ہے تو سوسائٹی کے سب مرد اس کے خلاف ایک ہو جاتے ہیں۔ اگر اس عورت کی جگہ ایک مرد ہوتا تو کیا اب تک وہ اسی ٹریفک وارڈن کو ایک گھونسہ یا لات نہ مار چکا ہوتا یا پھر ماں باپ کی گالیاں نہ دے چکا ہوتا اور اگر گرفتار ہو بھی جاتا تو شام تک ضمانت کروا کر گھر بیٹھا ہوتا اور کوئی ویڈیو بھی وائرل نہ ہوئی ہوتی۔

آپ ان عورتوں سے پوچھیے جو گاڑی خود ڈرائیو کرتی ہیں کہ کیسے غلطی خواہ مرد کی ہو گاڑی چلاتی عورت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ غلطی اسی کی ہو گی کیونکہ یہ عورت ہے اور اس کو گاڑی چلانا نہیں آتی ہوگی۔ کوئی آپ کی گاڑی ٹھوک کر چلا جاتا ہے تو آپ کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے اور دس آدمی اکٹھے ہو جاتے ہیں کہ باجی آپ عورت ہیں آپ گھر جائیں۔ اگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے تو دس میں سے اگر ایک خاتون ہے تو ٹریفک وارڈن کی کوشش ہوتی ہے کہ خاتون کو روکا جائے۔ مثال کے طور پر سیٹ بیلٹ باندھنے کی بات ہے یہ حد رفتار اگر 70 ہے اور ایک خاتون جو 75 کی رفتار پر گاڑی چلا رہی ہے تو اسے تو روک لیا جائے گا مگر 120 کی رفتار پر گاڑی چلانے والا مرد گزر جائے گا۔

مزید براں اس نام نہاد کرائم رپورٹر کو کس نے حق دیا ہے ریکارڈنگ کرنے کا اور پھر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کا؟ اگر ضروری ہے تو قانون نافذ کرنے والوں کی طرف سے ایسے مقامات پر سکیورٹی کیمرے انسٹال ہونے چاہیں جو کہ یقیناً ہوں گے بھی اور ان کیمروں کا مقصد صرف اور صرف امن و امان کا انتظام بہتر بنانا ہوتا ہے نہ کہ کسی کی بے عزتی کرنا اور معاشرے میں اس کا جینا حرام کرنا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
منزہ شاہین کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *