ہر معاملے میں جوتے تلاش کرنے کا عمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکھنؤ کی اُس دعوت میں ایک سکھ مہمان بھی تھا۔میزبان نے ملازم کو بلایا۔ رقم دی اور حکم دیا کہ جا کر بازار سے دہی لے آئو۔ ملازم جیسے ہی کمرے سے نکلا‘ میزبان نے کمنٹری شروع کر دی! کہ اب میرا ملازم کمرے سے باہر نکل کر جوتے پہن رہا ہے۔ اب حویلی سے باہر نکلا ہے۔ اب سامنے والی دکان سے دہی خرید رہا ہے۔ اب واپس آ رہا ہے۔ اب حویلی میں داخل ہوا۔ اب صدر دروازے سے ہمارے اس کمرے کی طرف آ رہا ہے۔ اب اس نے جوتے اتارے۔ اور یہ لیجیے ‘ آ گیا۔ عین اسی لمحے ملازم کمرے میں داخل ہوا۔ اور دہی کا برتن مالک کی خدمت میں پیش کر دیا۔
سکھ مہمان‘ واپس پنجاب پہنچا تو اس نے بھی احباب کو دعوت پر بلایا۔ لکھنؤ کے نواب کی نقل میں اس نے بھی ملازم کو بلا کر دہی لانے کا حکم دیا۔ اس کے باہر نکلتے ہی اس نے کمنٹری بھی اسی انداز میں شروع کی کہ اب باہر نکلا۔ اب جوتے پہن رہا ہے۔ اب بازار پہنچا ہے۔ اب دہی خرید رہا ہے۔ اب واپس آ رہا ہے۔ اب جوتے اتار رہا ہے۔ یہ لیجیے ‘ آ گیا۔
مگر ملازم کمرے میں نہ داخل ہوا۔ چند لمحے اور گزر گئے۔ سکھ نے غصّے میں بلند آواز سے پوچھا… اوئے کدھر مر گئے ہو؟ نوکر نے کمرے کے باہر سے جواب دیا… حضور! ابھی تو گیا ہی نہیں! ابھی تو جوتے تلاش کر رہا ہوں!
یہ پرانا لطیفہ آج یوں یاد آیا کہ جیسے ہی ایران میں موجود کورونا وائرس کے مریضوں کی خبر پھیلی‘ سعودی عرب نے اپنے شہریوں اور اپنے ملک میں مقیم غیر ملکیوں کے ایران جانے پر پابندی عائد کر دی! ہم نے کیا کیا؟ ہم نے ”ایمرجنسی ڈکلیئر کر دی! آج تک کسی کو معلوم نہ ہوا کہ ایمرجنسی ڈکلیئر کرنے سے مراد کیا ہے؟
جوتے تلاش کرنے کا عمل ہر شعبے میں جاری ہے۔ فیصلہ سازی (Decision making) کا وجود ہی کوئی نہیں! یہی طے نہیں ہو رہا کہ چین میں موجود طلبہ کو واپس لانا ہے یا وہیں رہنے دینا ہے۔مسئلہ کابینہ‘ عدالتوں اور میڈیا کے درمیان گیند کی طرح لڑھک رہا ہے۔
چین نے چھ دنوں میں ہزار بیڈ کا ہسپتال بنا دیا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ اسلام آباد کا نیا ایئر پورٹ کتنے عرصہ میں بنا؟ 2007ء میں اس کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ دو سال پہلے مکمل ہوا۔ وہ بھی کئی مسائل ہنوز حل ہونے ہیں۔ یعنی گیارہ برس لگے!
2005ء میں زلزلہ آیا۔ بالاکوٹ شہر تباہ ہو گیا۔ ایک منصوبہ ”نیو بالا کوٹ سٹی‘‘ شروع کیا گیا۔ اُس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے سنگ بنیاد بھی رکھا۔ پندرہ سال ہو گئے۔ ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس مجرمانہ تاخیر کا الزام وفاقی حکومت صوبے پر دھر رہی ہے۔ صوبہ وفاق کو مجرم گردانتا ہے۔ دوسرے ملکوں نے کروڑوں کی امداد دی تھی۔ کہاں گئی؟ کسی کو معلوم نہیں۔ ایک سابق چیف جسٹس نے یہاں کا دورہ کیا۔ کمیٹی بنائی۔ وفاق کو حکم دیا کہ فنڈز دے۔ نہ جانے کتنے برس‘ کتنے عشرے اور گزر جائیں گے! ایک مردہ‘ بے حس قوم کی ساری علامات پوری پوری ہم میں موجود ہیں! یہ الگ بات کہ ہم مانتے نہیں اور اپنے آپ کو ایک سپیرئیر قوم قرار دیتے ہیں!
صوبوں کا مسئلہ لے لیجیے! موجودہ حکومت نے اپنی انتخابی مہم میں اسے ایک بڑا ایشو قرار دیا تھا۔ ہارس ٹریڈنگ بھی اس لالچ میں ہوئی۔ اب پیش منظر پر کچھ بھی نہیں! ستر برس گزرے‘ وہی صوبے ہیں جو تھے! ٹانک‘ ڈی آئی خان‘ بنوں کے لوگ پشاور جاتے ہیں‘ بہاولپور کے لاہور! کوہستان اور مانسہرہ کے پشاور! بجائے اس کے کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنا کر عوام کو سہولت مہیا کی جاتی‘ مسئلے کو سیاسی‘ لسانی اور نسلی الجھنوں میں ڈال کر ایسا بکھیڑا کھڑا کر دیا گیا ہے کہ ہشت پہلو بن گیا ہے! طعن و تشنیع‘ دشمنیاں‘ مخالفتیں‘ سب کچھ ہو رہا ہے‘ سوائے اُس اصل کام کے جو کرنے کا ہے! یوں لگتا ہے آئندہ سو برس اسی طرح گزر جائیں گے اور نئے صوبوں کا ایشو‘ کالا باغ ڈیم کی طرح عزت اور غیرت کا مسئلہ بنا رہے گا!
جیسی روح ویسے فرشتے! عوام بھی وہی ہیں جو حکومت ہے۔ حکومت بھی وہی ہے جو عوام کی فطرت ہے! فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ساتھ ہی وہی پرانا مسئلہ… شناختی کارڈ اور سیلز ٹیکس والا! ستر برس میں ان تاجروں سے یہی طے نہ ہو سکا کہ ہفتہ وار تعطیل جمعہ کے دن کرنی ہے یا اتوار کے دن! کسی بازار‘ کسی مارکیٹ کا کچھ طے نہیں! جمعہ کو کون سے بازار کھلے ہیں‘ کون سے بند ہیں؟ کسی کو نہیں معلوم! حکومت جس دن کا کہے گی‘ اس کے خلاف ہڑتال کر دی جائے گی! خود بھی طے نہیں کرنا! زندہ قوموں کی یہی نشانی ہے؟
آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے مسئلے کو کس طرح ہم نے جگ ہنسائی کا سبب بنایا۔ حکومتی عمائدین نے نا اہلی کی انتہا کر دی۔ یہاں تک کہ عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑی! ٹاپ بیوروکریسی نے گائودی پن کا ثبوت دیا۔ نالائقی کا لفظ اس ناکامی کا کلی طور پر احاطہ ہی نہیں کر سکتا۔
جوتے تلاش کرنے کا عمل ہر طرف جاری ہے۔ کسی شعبے میں بھی فیصلہ سازی نہیں دکھائی دیتی۔ قومی ایئر لائن پر غور کر لیجیے۔ کلنک کے ٹیکے کی طرح ہمارے ماتھے پر سجی ہے! جو حکومت آتی ہے‘ اعلانات کرتی ہے۔ وعدے ہوتے ہیں۔ عزمِ صمیم دکھایا جاتا ہے۔ ایک نیا ایم ڈی یا چیئر مین لایا جاتا ہے۔ پھر اسے نکال دیا جاتا ہے۔
ہر سال اربوں کا خسارہ ہو رہا ہے۔ ملکوں کے ملک‘ شہروں کے شہر قومی ایئر لائن کے دائرۂ پرواز سے نکل رہے ہیں۔ اندازہ لگائیے‘ بھارتی ائیر لائن کا ایک جہاز ہر روز آسٹریلیا سے براہ راست بھارت کی طرف پرواز کرتا ہے اور ایک بھارت سے آسٹریلیا کی سمت! اور اگر یہ کالم نگار بھول نہیں رہا تو ایک پرواز سڈنی سے اور ایک میلبورن سے روزانہ آ جا رہی ہے۔ دوسری طرف ہماری پرواز جو صرف بنکاک تک جاتی تھی‘ وہ بھی کئی برسوں سے معطل ہو چکی ہے! کوئی فیصلہ ساز قوم ہوتی‘ چین کی طرح‘ سعودی عرب یا یو اے ای کی طرح‘ سنگاپور یا ملائیشیا کی طرح… تو ایک دن میں ہی یہ بیمار‘ اپاہج‘ بے دست و پا ائیر لائن‘ نجی شعبے کے سپرد کر دیتی! یہاں یونینوں کے ڈر سے‘ فیصلہ سازی کی ہمت ہی نہیں!
سٹیل مل پر غور کیجیے۔ کیسے کیسے سکینڈل بنے۔ کئی چیئر مین جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجے گئے۔ کئی سیاسی جماعتوں نے اس بھنے ہوئے گوشت کی قاب سے نوالے تر کیے اور کھائے مگر مل کو نفع نہ نصیب ہوا۔ ایسے ایسے سربراہ آئے جنہوں نے چارج لے کر بیلنس شیٹ منگانے کے بجائے صرف یہ پوچھا کہ سربراہ کو مراعات کیا کیا ملیں گی اور گاڑیاں اُسے اور اس کے اہل خانہ کو کتنی دی جائیں گی؟ یہی مل نجی شعبے کی تحویل میں دی جاتی تو نفع آور ہوتی! المیے کا ایک عبرت ناک پہلو یہ بھی ملاحظہ کیجیے کہ ایسا وزیراعظم اس ملک پر حکومت کرتا رہا جس کی اپنی سٹیل ملیں منافع کماتی رہیں اور قومی سٹیل مل نقصان اٹھاتی رہی۔ پھر ایک ایسا وزیراعظم بھی ملا جس کی ذاتی ائیر لائن وارے نیارے کر رہی تھی اور اسی کے عہدِ زریں میں قومی ائیر لائن خسارے میں تھی! کیا کیا لطیفے اس ملک کے ساتھ نہ ہوئے۔ کیا کیا کھیل نہ کھیلے گئے!
منطق پوچھتی ہے یہ کیسے ممکن ہے؟ کورونا وائرس پاکستان میں نہیں پھیل رہا؟ پروازیں ہر روز آ رہی ہیں۔ جا رہی ہیں۔ ایران متاثر ہو چکا۔ کئی ممالک اور! خدا نہ کرے ایسا ہو مگر دل نہیں مانتا! حکومتی اطلاعات پر کسی کو اعتماد ہے نہ اعتبار! ہر حقیقت پر ہر حکومت پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے! انکار کیا جاتا ہے۔ پھر تاویل! ایسی ایسی تاویلیں کہ ہنسی آتی ہے!
یہاں ایک اور سوال در آتا ہے! سول اور ملٹری تو ایک صفحے پر ہیں! کیا باقی ادارے بھی ایک صفحے پر ہیں؟ کراچی سرکلر ریلوے کی طرح‘ چین میں مقیم طلبہ کا ایشو بھی عدالتوں تک جا پہنچا ہے۔ اس نازک موڑ پر ہم آہنگی کی ضرورت ہے! دوسری طرف حکومت میڈیا کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑی ہے!؎
زار رونا چشم کا کب دیکھتے
دیکھیں ہیں لیکن خدا جو کچھ دکھائے
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *