بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت بھی نٹ کھٹ بچے کی طرح ہوتا ہے۔ جہاں سے چیز اٹھاتا ہے وہاں واپس نہیں رکھتا۔ اب میں پیچھے مڑ کر دیکھوں تو ان منظروں کی یاد آتی ہے جو کبھی روشن تھے پھر دھندلے ہوتے ہوتے، آنکھوں سے اوجھل ہو گئے اور اب یوں لگتا ہے جیسے وہ زمانہ کوئی خواب تھا جسے میں نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا۔ تب گاؤں کے شب و روز مختلف ہوتے تھے۔ دن کا آغاز منہ اندھیرے ہو جاتا تھا اور سرِ شام گاؤں کے گھروں میں تندوریوں سے شرار اٹھتے، روشنی کے دیے اور لالٹینوں سے کام لیا جاتا تھا۔

ٹیکنالوجی اس وقت تک گاؤں کی معصومیت پر اثرانداز نہیں ہوئی تھی۔ پوٹھوہار کے بارانی علاقوں میں کسانوں کا مکمل انحصار بارش پر ہوتا ہے۔ کبھی وہ بارش ہونے کی دعا مانگتے تھے اور کبھی بارش نہ ہونے کی التجائیں کرتے تھے۔ گاؤں کی زندگی میں عیدوں کے علاوہ سب سے بڑا تہوار گاؤں کا میلہ ہوتا جس کا سب کو انتظار رہتا۔ ہمارے گاؤں میں یہ میلہ چیتر (چیت) کے مہینے میں ہوتا۔ میلے کی آمد سے پہلے گاؤں کا سب سے بڑا ایونٹ فصلوں کی کٹائی اور گاہ گاہنے کا ہوتا۔

کسانوں کے لیے یہ دن بہت اہم ہوتے۔ یہ ان کی سال بھر کی محنت کا صلہ ملنے کا وقت ہوتا۔ ہمارے گاؤں میں فصلوں کی کٹائی مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں ہوتی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب گاؤں کے وہ اکا دکا لوگ جو شہر میں ملازمت کرتے تھے فصلوں کی کٹائی کے موقع پر چھٹیاں لے کر گاؤں آ جاتے۔ اس موقع پر سارے گاؤں میں ایک جوش اور مسرت کی کیفیت ہوتی۔

فصلوں کی کٹائی کا منظر مجھے ابھی تک یاد ہے۔ گاؤں سے رضاکاروں کی ایک پوری ٹیم اپنی خدمات پیش کرتی۔ ان رضاکاروں کو گاؤں میں ”لیترے“ کہتے تھے۔ یہ گاؤں کا مؤثر نظامِ اشتراک تھا ’جس میں سب ایک دوسرے کی فصل کی کٹائی میں شریک ہوتے تھے۔ وہ بھی کیا منظر ہوتا تھا۔ علی الصبح مشترکہ دعا ہوتی۔ مسجد میں دعا کرائی جاتی۔ گاؤں کے مرد اور عورتیں اپنے چہروں پر منڈاسا مارے ہوئے (چہروں کو ڈھانپے ہوئے ) بڑی تیزی سے درانتیوں سے فصل کی کٹائی میں مصروف ہو جاتے۔

بعض اوقات ایک ہی کھیت میں دو مختلف اطراف سے کٹائی شروع ہوتی اور مقابلہ ہوتا کہ سب سے پہلے کھیت کے نصف میں لگائی گئی لائن تک کون پہنچے گا۔ فصل کاٹنے والوں کو جوش دلانے کے لیے ڈھول بج رہے ہوتے تھے اور کناروں پر کھڑے تماشائی شور مچا رہے ہوتے۔ یہ سارا عمل تپتی دھوپ میں ہو رہا ہوتا لیکن سب کے چہروں پر خوشی ہوتی کہ ان کی سال بھر کی محنت کا صلہ سمیٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ کٹائی کے دوران کٹی ہوئی فصل کی چھوٹی چھوٹی گڈیاں بنائی جاتیں‘ جنہیں گاؤں کی زبان میں ”پھڑیاں“ کہتے تھے۔ ہر پھڑی کو باندھا جاتا۔ باندھنے کے لیے بینڈ (Band) بھی انہیں پودوں سے بنایا جاتا ’جنہیں بل دے کر ایک رسی کی شکل دی جاتی جسے گاؤں میں ”سمبی“ کہتے تھے۔

ان پھڑیوں کو ایک ترتیب سے اوپر نیچے رکھا جاتا۔ یوں یہ عمل ایک روز میں مکمل ہوتا۔ فصل کی کٹائی کے بعد دوسرا اہم مرحلہ شروع ہوتا جسے ہم ”گاہ گاہنا“ کہتے تھے۔ اس مرحلے کا بنیادی مقصد گندم کے دانوں کو سٹوِں سے علیحدہ کرنا ہوتا۔ فصلوں کی کٹائی کی طرح گاہ گاہنے کے عمل میں بھی گاؤں کے سب لوگ شریک ہوتے۔ اس کا آغاز ”کھلاڑے“ کی تیاری سے ہوتا۔ ”کھلاڑا ’ایک گول میدان ہوتا تھا جس کی تیاری پوری محنت سے کی جاتی جس طرح آج کل کرکٹ میچوں کے لیے پچ تیار کی جاتی ہے۔

 کھلاڑے کی زمین پر مشک سے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا پھر اس پر بکریاں اور بھیڑیں چلائی جاتیں۔ یہ عمل کئی بار دہرایا جاتا حتیٰ کہ کھلاڑے کی زمین کی سطح سخت ہو جاتی۔ اس وقت میرا ننھا سا ذہن کھلاڑے کی تیاری کی منطق کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اب مجھے وہ سارا منظر یاد آتا ہے تو سوچتا ہوں‘ کھلاڑے کی زمین کو اس قدر سخت اس لیے کیا جاتا تھا کہ اگر زمین بھربھری اور نرم ہو گی تو گندم کے دانے وزن سے زمین کی سطح سے نیچے چلے جائیں گے۔ اس کی دوسری وجہ شاید یہ تھی کہ زمین نرم ہونے کی صورت میں دانوں میں مٹی شامل ہو سکتی تھی۔

جب کھلاڑا تیار ہو جاتا تو وہ ایک مقدس جگہ بن جاتی۔ وہاں چارپائیاں بچھائی جاتیں اور شام گئے تک محفل ہوتی۔ رات کو بھی کچھ لوگ وہیں سوتے یوں کھلاڑا ایک کیمپ بن جاتا جہاں پر گپ شپ چلتی رہتی۔ اب سب سے اہم مرحلہ آتا جسے ہم گاہ کھولنا کہتے۔ گاہ کھولنے سے پہلے خصوصی دعائیں کرائی جاتیں۔ اس عمل میں گاؤں کے رضاکار مردوخواتین ’جنہیں گاؤں میں ”لیترے“ کہتے تھے‘ شریک ہوتے۔

سب سے پہلے ترتیب میں اوپر نیچے رکھی ”پھلیوں“ کے بینڈ درانتیوں سے کھولے جاتے اور انہیں پورے کھلاڑے میں زمین پر بچھا دیا جاتا اس کے بعد بیلوں کے پیچھے رسوں کی مدد سے ”پھلا“ باندھا جاتا۔ پھلا لکڑی کا ایک تختہ سا ہوتا۔ اس کے اوپر نڑ (سٹے کے علاوہ پودے کا حصہ) رکھ دیے جاتے تاکہ اس کے اوپر بیٹھا بھی جا سکے۔ پھلے پر بعض اوقات ہم بچوں کو بھی بیٹھنے کا موقع ملتا۔ ایک کھلاڑے میں بعض اوقات چار پانچ پھلے چل رہے ہوتے تھے۔

اس دوران زمین پر پڑے سٹوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا جاتا کہ سٹوں سے گندم کے دانے علیحدہ ہوئے ہیں یا نہیں۔ اس پھلے پر لکڑی کا لمبا ڈنڈا استعمال کیا جاتا جس کے آخری سرے پر تین شاخیں ہوتی اس ڈنڈے کو ”ترینگل“ کہتے تھے اور یہ گاؤں کے ہر گھر کا ایک لازمی جزو ہوتا تھا۔ جب اچھی طرح سے اطمینان ہو جاتا کہ سٹوں سے دانے جدا ہو چکے ہیں تو پھر ان سب کو ایک ترتیب سے کھلاڑے میں اکٹھا کر دیا جاتا۔ اس کو گاؤں کی زبان میں ”دھڑ“ کہتے تھے۔

اس سے اگلا مرحلہ دانوں کو بھوسے سے علیحدہ کرنا تھا۔ اس کے لیے دیکھا جاتا کہ ہوا چل رہی ہے یا نہیں اور اگر چل رہی ہے تو اس کا رخ کیا ہے۔ اس کے بعد ترینگل کی مدد سے دانوں اور بھوسے کے آمیزے کو ہوا میں اچھالا جاتا۔ بھوسا ہلکا ہونے کی وجہ سے ہوا کی مدد سے دور چلا جاتا اور دانے وزنی ہونے کی وجہ سے نیچے گر جاتے۔ یوں پوری دھڑ اڑانے کے بعد دانوں اور بھوسے کے علیحدہ علیحدہ ڈھیر بن جاتے۔ اب ان دانوں کو گدھوں پر لاد کر گھر پہنچایا جاتا۔

 گدھے کے دونوں طرف بوریاں ہوتیں جنہیں ”چھٹ“ کہا جاتا تھا۔ چھٹ کو جانوروں کے بالوں سے تیار کیا جاتا تھا۔ بھوسے کے ڈھیر کو اکٹھا کیا جاتا اور اس کے اردگرد چارپائیاں لگائی جاتیں۔ اس ڈھیر پر بچے چڑھ کر کودتے تھے۔ یوں اس میں مزید بھوسہ بھرنے کی گنجائش ہو جاتی۔ آخر میں اس ڈھیر کی چھت کو مٹی سے لیپ کر چھتری نما بنایا جاتا اور چارپائیاں ہٹا دی جاتیں۔ اسے ہم ”پھواڑہ“ کہتے تھے۔ کسانوں کے یہ پھواڑے سارا سال جانوروں کے کھانے کے کام آتے تھے۔

 دانوں کو چھٹوں (بوریوں ) میں بھر کر گھر لایا جاتا تو دیکھا جاتا کہ کتنی گندم ہوئی ہے۔ اس روز گاؤں کے نائی، کمہار، موچی، لوہار، دھبے (دیگیں پکانے والے ) پہنچ جاتے اور ان کا حصہ ان کو دیا جاتا کیونکہ سارا سال وہ بلا معاوضہ کام کرتے تھے اور یہی ان کے معاوضے کا دن ہوتا۔ گندم ذخیرہ کرنے کے لئے مٹی کا بڑا سٹور ہوتا جسے گاؤں میں ”کلہوٹا“ کہتے تھے۔ اس کے زیریں حصے میں ایک بڑا سا سوراخ ہوتا۔ عام دنوں میں اسے کپڑے سے بند رکھا جاتا۔

ضرورت کے وقت کپڑا ہٹا کر اس سوراخ سے دانے نکالے جاتے اور پھر سے بند کر دیا جاتا۔ گندم کا یہ ذخیرہ سارے سال کے لیے کافی ہوتا۔ کٹائی اور گاہ کے دوران اور آخر میں کھانے کا اہتمام ہوتا۔ کھانے کے مینیو میں حلوہ، چنے کی دال، دیسی گھی، گوشت شامل ہوتا۔ سب لوگ زمین پر دری بچھا کر کھانا کھاتے۔ سب کی آنکھوں میں مسرت کی چمک ہوتی کہ ان کی سال بھر کی محنت ٹھکانے لگی ’اور پھر ساری محنت اور مشقت کو میلے کی شکل میں Celebrate کیا جاتا۔

اب سوچتا ہوں‘ کیسی سادہ زندگی تھی، کیسی سچی محبتیں تھیں۔ کیسے معصوم لوگ تھے۔ کیسے ست رنگے خواب تھے۔ خواب جو وقت کے گرداب میں کہیں کھو گئے۔ لوگ جو خاک کی چادر اوڑھ کرہمیشہ کی نیند سو گئے۔ لگتا ہے دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بدل گیا۔ وقت واقعی نٹ کھٹ بچے کی طرح ہوتا ہے ’جہاں سے چیز اٹھاتا ہے وہاں واپس نہیں رکھتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 170 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *