ثقافت ایک طاقت یا تفریق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ معاملہ شروع ہوتا ہے جب ایک نامور صحافی نے اس وقت کے صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری پہ افغانستان دورے کے دوران سندھی ثقافتی ٹوپی پہننے پر بے جا تنقید کرتے ہوئے ان پہ لفظوں کے تیر برسائے اور یہ تک کہا کہ جناب آصف علی زرداری صاحب یہ بتائیں کہ وہ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے صدر ہیں یا سندھ کے؟ جس کے نتیجہ میں سندھی ٹوپی پہننے والے اور کلچر کو پروموٹ کرنے والے افراد نے خوب احتجاج کیا، جن کا یہ ماننا تھا کہ ثقافتی ٹوپی کو مسئلہ بنا کرصدر پاکستان پہ تنقید کرنا ایک فضول بحث ہے کیوں کہ کلچر کسی بھی خطہ کی شناخت ہوتا ہے۔

آج کل کے گلوبل ٹیررزم اور مذہبی انتہاپسندی کے اس ماحول میں فقط ثقافتی رنگ ہی ہیں جو محبت اور بھائی چارے کوفروغ دے سکتے ہیں۔ اور ایسے میں ثقافت کو ترک کرنا یا سیاست کی نظر کردینا ایک احمقانہ تجربہ ثابت ہو سکتاھے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پہ گردش کرتا وفاقی حکومت کا ایک سرکلر ہے جس کے ذریعے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ یونیورسٹیز اور کالجز میں ثقافتی تقریبات پہ پابندی لگا دی جائے کیوں کہ اس سے مخصوص قوم کو فروغ دیا جا رہا اور لسانی رنگ پھیلنے کا خطرہ ہے۔

جب کہ پاکستان کا آئین اس بات کا حق دیتا ہے کہ ثقافت، زبان اور تہذیب کو پروموٹ کیا جائے اور ملک میں رہنے والے کسی بھی زبان کے لوگوں کو ان کی زبان اور ثقافت کو آزادانہ حق ہے کہ وہ اس کو استعمال کریں اور اپنی ثقافت کو پروموٹ کریں۔ دنیا بھر میں تمام قومیں اپنی ثقافت پہ اربوں ڈالرز خرچ کر کے دنیا کو اپنی ثقافتی رنگوں میں شامل ہونے کی دعوت دیتی ہیں اور اپنی اپنی ثقافتوں پہ فخر کرتی ہیں اور اس خطہ کی ثقافت جس کو انڈس ویلی سویلائیزیشن کے نام سے جانا جاتا ہے اتنی تو رچ سویلائیزشن ہے کہ پوری دنیا سے آرکیولاجسٹ اور سیاح پاکستان آنے میں مسرت محسوس کرتے ہیں۔

حکومت پاکستان ایک طرف تو دعوی کرتی ہے کہ پاکستان ٹیررزم سے نکل کر ٹورزم ک طرف اپنے سفر پہ گامزن ہو چکا ہے اور دوسری طرف وفاقی حکومت ملک بھرمیں ثقافتی سرگرمیوں پہ پابندی لگانا چاھتی ہے۔ ہماری ثقافت کے وارث بابا بلے شاہ، داتا گنج بخش، حق باھو، شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سر مست، بیدل بیکس اور علامہ اقبال جیسی لاتعداد شخصیات ہیں جن کی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ہمیں عالمی امن، بھائی چارہ اور محبت کا درس دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شہزاد حسن کورائی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *