خدا خیر کرے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی پاکستانی کے گھر میں چلے جائیے، چھوٹا ہے یا بڑا، غریب کا ہے یا امیر کا، کوٹھی ہے یا دو کمروں کا مکان، ہر طرف اسلامی جذبہ کارفرما ملے گا۔ ایک دیوار پر خانہ کعبہ کی تصویر آویزاں ہوگی۔ دوسری پر سورہ یاسین کا فریم نظر آئے گا۔ شیشے کے ایک چوکٹھے میں اسمائے الٰہی دکھائی دیں گے۔ نبیٔ اکرمﷺ کا نامِ نامی اسم گرامی خوبصورت خطاطی میں جلوہ افروز ہوگا۔ پنجتن پاک کے مقدس نام لگے ہوں گے۔ دکان میں چلے جائیے، دیوار پر درود شریف آویزاں ہوگا۔ گاڑی میں سوار ہوں، شیشے کے ساتھ تسیبح اور دعا لٹکی ہوئی ہوگی۔
اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہوکہ ہمارے گھروں کی دیواریں، ہماری بیٹھکیں، ہماری خوابگاہیں، ہماری دکانیں، ہماری گاڑیاں ہمارے دلوں کی آئینہ دار ہیں۔ اس لیے کہ ہمارے دلوں کی دیواریں سیاہ ہیں۔ قرآنی آیات، کلمہ، سورہ یٰسین، پنج سورہ، مقدس ہستیوں کے اسمائے گرامی کا کوئی اثر ہمارے نہاں خانۂ روح تک نہیں پہنچتا۔
جیسے ہی کورونا وائرس کا ہنگامہ شروع ہوا، ہم نے اپنی اصلیت دکھانا شروع کر دی۔ ہفتوں، مہینوں میں نہیں، دنوں میں ماسک کی قیمتیں آسمان تک پہنچ گئیں۔ ذخیرہ اندوزی شروع ہو گئی۔ راولپنڈی میں پولیس نے بیس ہزار ماسک پکڑے جو بارہ روپے فی ماسک کے بجائے پچاس روپے فی ماسک کے حساب سے فروخت کیے جا رہے تھے۔
دوسری طرف طوائف الملوکی دیکھیے‘ دوا فروشوں کی انجمن (PYPA) نے الزام لگایا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (DRAP) کی ملی بھگت سے دو کروڑ ماسک ملک سے باہر بھیج دیئے گئے ہیں۔ انجمن کے جنرل سیکرٹری فرقان ابراہیم نے اس ایشو پر چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں عرضداشت ارسال کی ہے۔ الزام کی تفصیل یہ ہے کہ ماسک برآمد کرنے کے لیے چھ پرمٹ جاری کیے گئے ہیں۔ اس قضیے میں، فرقان ابراہیم کے دعویٰ کے مطابق، وفاقی وزیر صحت کا نام بھی آتا ہے۔ برآمد کی اجازت اس وقت دی جا رہی ہے جب کورونا وائرس کا خطرہ پاکستان کے سر پر پوری شدت سے منڈلا رہا ہے!
کورونا وائرس کے حوالے سے پہلی خبر آتے ہی ہر شخص کو یقین ہو گیا کہ ماسک کی قیمتیں چڑھ جائیں گی۔ ذخیرہ اندوزی ہوگی اور بلیک میں فروخت ہوں گے۔ تاجروں کا یہ رویہ اس قدر آزمودہ اور پختہ ہو چکا ہے کہ معاملہ شرم و حیا سے آگے بڑھ گیا ہے۔ ہر رمضان اور ہر عید پر اس سنگدلی کا مظاہرہ دیکھنے میں آتا ہے۔ شرم تب بھی نہیں آتی جب سنتے ہیں کہ کرسمس پر ”کفار‘‘ کے ملکوں میں اشیا ارزاں ہو جاتی ہیں۔ اب تو مغربی ممالک رمضان اور عید پر مسلمانوں کے استعمال کی اشیا بھی سستی کر دیتے ہیں۔
مگر کیا صرف تاجر برادری سیاہ دل ہے؟ تاجر کون ہیں؟ آسمان سے ٹپکے ہیں نہ زمین سے راتوں رات اُگے ہیں۔ ہمارے ہی بہن بھائی، والد، چچا، ماموں، بیٹے بھتیجے ہیں۔ ایک گھر میں ایک بھائی تاجر ہے، دوسرا عالم دین ہے، تیسرا پولیس میں ہے۔ ایک ہی والد کے بیٹے مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ صرف تاجر برادری کو مطعون کرنا قرینِ انصاف ہے نہ منطق کی رُو سے درست!
ایثار کا فقدان ہے۔ مکمل فقدان! خود غرضی کی چادر چاروں طرف تنی ہے۔ کچھ عرصہ قبل جاپان میں سونامی نے ہلاکت کے شہپر کھولے تو ایثار کے ایسے ایسے مناظر دیکھنے میں آئے کہ عقل دنگ رہ گئی۔ دیانت، امانت داری، قربانی، بے غرضی ان اقوام میں بے مثال ہے۔
ہم سر تا پا مذہب میں لپٹے ہوئے ہیں مگر سب کچھ باہر باہر سے ہے۔ دل مکمل طور پر مذہب سے خالی ہیں۔ عقیدہ سینوں سے نکلا اور مسجدوں کی پیشانیوں پر، گاڑیوں کے عقبی شیشوں پر اور دکانوں کے سائن بورڈوں پر آ گیا۔
دلوں میں ڈالے جانے والے سٹنٹ جعلی ہیں۔ جو صحت مند ہیں، انہیں بھی ڈالے جا رہے ہیں۔ سرکاری ہسپتال قتل گاہوں سے کم نہیں۔ نجی شعبے کے ہسپتال لوٹ مار کے مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایک بڑے شہر کا معروف ہسپتال ایسا بھی ہے جس کی تعمیر کیلئے تارکین وطن سے عطیات لیے جاتے رہے اور کوئی مریض لاکھوں روپے جمع کرانے سے پہلے بستر نہیں پا سکتا۔ ادویات جعلی ہیں یا غیر معیاری! نئے نئے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کا خوب استحصال کیا جاتا ہے‘ یہاں تک کہ ان کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ انصاف، قانون، رحم اور خدا ترسی کے بجائے کامیابی صرف سفاکی میں ہے اور دولت کے انبار اکٹھے کرنے میں!
کورونا وائرس ایک وبا ہے۔ وبائیں آتی ہیں گزر جاتی ہیں۔ دنیا میں طاعون آئے، بستیوں کی بستیاں، شہروں کے شہر نگل گئے۔ ملیریا، ہیضہ، ٹی بی، چیچک سے کروڑوں ہلاک ہوئے۔ امیر المومنین عمر فاروقؓ کے عہدِ مبارک میں طاعون پھیلا۔ بڑے بڑے جیّد صحابہ اس کی نذر ہو گئے۔ دنیا جوں جوں بوڑھی ہوتی جا رہی ہے، وبائوں سے نمٹنے میں طاق ہوتی جا رہی ہے۔ طاعون اور چیچک کو مار مٹایا گیا۔ کورونا وائرس کا تریاق بھی، آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں، دریافت کر لیا جائے گا۔
مگر اس کورونا وائرس کا کیا ہوگا جس میں ہم ستر برسوں سے مبتلا ہیں۔ کوئی ویکسی نیشن، کوئی پرہیز، کوئی علاج، کوئی تعویذ کوئی ٹُونا، کوئی ٹوٹکا کارگر نہیں ہو رہا۔ یہ کورونا وائرس منافقت کا ہے جو ہمیں اندر سے مار رہا ہے۔ ہم زندہ لاشیں ہیں۔ محلات میں رہتے ہیں۔ گوشت اور پھل کھاتے ہیں، لباس ہائے فاخرہ پہنتے ہیں۔ جو غریب ہیں وہ بھی اپنی بساط کے مطابق، بلکہ بساط سے بڑھ کر زندگی سے حظ اٹھا رہے ہیں۔ مگر اندر سے ہم، اس وائرس کے سبب، مرے ہوئے ہیں! وہ جو غیبت کر رہے تھے انہیں مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم مردہ بھائی کا گوشت کھا رہے ہو، جا کر کلّی کرو۔ انہوں نے کُلّی کی اور گوشت کے ٹکڑے منّہ سے نکلے۔
ہم تو ان سے بھی بدتر ہیں۔ ہم زندہ بھائیوں کا گوشت کھا رہے ہیں۔ کاٹ کاٹ کر کانچ کی قیمتی پلیٹوں میں رکھ کر چُھری کانٹے سے تناول فرما رہے ہیں۔ معصوم بچوں کے دودھ میں ملاوٹ کرکے ان بچوں کے جسموں سے گوشت کاٹ رہے ہیں۔
ماسک ہیں یا سٹنٹ ادویات ہیں یا آلاتِ جراحی، مہنگے بیچ کر مریضوں کا جسم کاٹ کاٹ کر کھا رہے ہیں۔ ناروا منافع کما کر گاہکوں کو بھنبھوڑ رہے ہیں۔ دفتروں میں کرسیوں پر بیٹھ کر سائلوں کو نوچ رہے ہیں۔ مسجدیں نمازیوں سے چھلک رہی ہیں۔ ہر گلی میں نئی مسجد زیرِ تعمیر ہے۔ مدارس بے شمار ہیں۔ گدیاں اور خانقاہیں بے حساب ہیں۔ یوٹیوب جس دن سے ایجاد ہوئی ہے، ہمارے علما، واعظین، پیرانِ عظام، اس ایجاد کا کھڑکی توڑ استعمال فرما رہے ہیں۔ مگر اصلیت ہماری یہ ہے کہ کورونا وائرس کا اُدھر نام پھیلا، اِدھر ہماری شیطنت نے انگڑائی لی اور بیدار ہو کر خونخوار چڑیلوں کی طرح رقص کرنے لگی۔
ایک گھر ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے۔ ہم کوئی گھر نہیں چھوڑتے۔ کوئی ایک موقع بھی ہماری تاریخ میں ایسا نہیں جب ہم نے ایثار کا مظاہرہ کیا ہو! ایثار کس بات کا؟ اگر ماسک بارہ روپے میں فروخت ہو تو یہ نارمل قیمتِ فروخت ہے! اس میں منافع شامل ہے۔ ایثار تب ہو جب ہم مفت تقسیم کریں! رمضان اور عید پر قیمتیں کئی گنا زیادہ نہ کی جائیں تب بھی گھاٹا نہیں، نفع ہی ہو، مگر ہم دوسروں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کیلئے بائولے ہو جاتے ہیں! آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ ہم پر پاگل پن سوار ہو جاتا ہے۔ انصاف یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے شکم میں سات ٹیکے لگنے چاہئیں مگر ظلم یہ ہے کہ یہ سلوک ہم صرف سگ گزیدہ سے کرتے ہیں!
کوئی ہے جو اس وائرس کا علاج کرے؟ تمام طریقہ ہائے علاج ناکام ہو چکے۔ ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی، یونانی، آئیورویدک، پیر فقیر، اوراد، وظائف، نجومی، دست شناس، سب عاجز آ چکے۔ ہمارے لاعلاج ہونے کی خبر، اُوپر، فرشتوں تک پہنچ چکی! ثمود اور عاد کو ان فرشتوں نے ہیبت ناک چیخ اور سخت آندھی سے ہلاک کیا تھا مگر وہ تو کھلم کھلا پیغمبروں کا انکار کرتے تھے۔ ہم پر یہ فرشتے حیران ہیں اس لیے کہ ہم رات دن خدا اور اس کے رسول کا نام لیتے ہیں!
ہماری بیماری عجیب ہے۔ علاج بھی بے مثال ہی ہوگا۔ خدا خیر کرے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *