طالبان امریکہ معاہدہ: چیلنجز اور پاکستان پر اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ دن قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان 19 سال بعد ایک امن معاہدہ طے پا گیا جس کے مطابق امریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں گے اور افغانستان کی حق حاکمیت افغانوں کو دے دی جائے گی۔

ایک طرف اگر ساری دنیا اس امن معاہدے کا خیرمقدم کررہے ہیں تو دوسری طرف اسلامی دنیا کی خوشی بھی دیدنی ہے۔

معاہدہ دو ایسے فریقین کے درمیان ہوا ہے جس میں ایک طرف ٹرمپ جیسا احمق اور غیرذمہ دار فریق ہے جبکہ دوسری طرف فرقوں اور گروپوں بٹی ہوئی طالبان ہیں۔

اللہ کریں کہ یہ معاہدہ کامیاب ہو۔ معاہدے کی کامیابی کا سارا بوجھ طالبان کے سر ڈال دیاگیا ہے کیونکہ تمام تر دہشت گرد کارروائیاں روکنے کی ذمہ داری طالبان کی لگائی گئی ہیں جس میں داعش اور دیگر اسلام اور امریکہ مخالف ممالک کی دہشت گرد کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ کیونکہ بعض ممالک نہیں چاہتے کہ امریکہ اس دلدل سے نکلے جبکہ انڈیا اور اسرائیل سمیت بعض ممالک یہ نہیں چاہتے کہ طالبان کو بین الاقوامی سطح پر امن کے پیامبر کے طور پر پیش کرکے اس پر لگی اسلامی دہشت گردی کے لیبل کو ہٹادیا جائے کیونکہ اس سے کشمیر اور فلسطین کے ایشو پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

مذاکرات کے دوران ایک مثبت بات یہ ہوئی کہ معاہدے کے با الکل قریب پہنچ کر ٹرمپ نے انکار کیا جس سے طالبان قیادت کو یہ موقع ملا کہ وہ امریکہ مخالف قوتوں کو اعتماد میں لیں اور طالبان نے اس وقفہ سے بہتر فائدہ اٹھاکر تمام ہمسایہ ممالک خصوصاً روس چین اور پاکستان کے دورے کر کے ان ممالک کی قیادت کو اپنی موقف پر ہمنوا بنالیا جو سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اب دوسرے مرحلے پر سب سے پیچیدہ اور نازک مرحلے پر عملدرامد ہونا ہے جس میں طالبان اور دیگر افغان سیاسی اور متحارب گروپوں کے درمیان مذاکرات ہونے ہیں۔ امریکہ سے مذاکرات اس لئے نسبتاً اسان تھے کہ امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا تھا اور طالبان نکالنا چاہتے تھے بس کچھ شرائط اور ذمہ داریاں طے ہونی تھی جو ہوگئی جبکہ اس کے برعکس بین الافغان گروپوں کے مقاصد متصادم ہیں ہر کوئی افغانستان پر اپنی حکومت اور اختیار چاہتا ہیں جو کہ دوسرا فریق تسلیم نہیں کر رہا۔

روس کے نکلنے کے بعد جب افغان جہادی دھڑے اپس میں برسروپیکار تھے تو اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور سعودی عرب نے تمام متحارب دھڑوں کو مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف کے اندر بٹھا کر معاہدہ کروایا لیکن وہ بھی کامیاب نہ ہوسکا اور کچھ عرصہ بعد تمام متحارب فریق اپس میں دوبارہ مرنے مارنے پر لگ گئے جو کہ دس سال تک یہ کشت و خون کا سلسلہ جاری رہا۔

اب امید ہے اور اللہ تعالی سے دعا بھی ہے کہ اس بار وہ حالات نہ بنے اور تمام فریقین ایک صاف اور شفاف انتخابات پر متفق ہوجائے اور اس کے بعد اسی پارلیمنٹ سے متفقہ قانون سازی پر بھی متفق ہوجائے۔

اس معاہدے کے گہرے اثرات انڈیا ایران چین اور پاکستان پر پڑیں گے۔ اب ہم پاکستان پر اس کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔

اگر افغانستان میں طالبان ایک مضبوط اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت بنالیتے ہیں تو انڈیا نے جو افغانستان میں جاسوسی کے حوالے سے یا پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کے حوالے سے جتنی سرمایہ کاری کی ہیں وہ سب بیکار رہ جائے گی جبکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہت بہتری ائے گی اور افغانستان کے اندر امریکہ اور انڈیا نے جو پاکستان فوبیا پیدا کیا ہے اس میں کافی حد تک کمی ائے گی۔ اس موقع پر حکومت پاکستان کو بھی اپنی سابقہ پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے اور افغانوں کو ایک معزز پڑوسی اور حقیقی دوست ملک کا پروٹوکول اور مقام دینا چاہیے خصوصاً ویزہ پالیسی بہت ہی نرم اور اسان کرنا چاہیے پاک افغان بارڈر پر افغان شہریوں کی تذلیل روکنا چاہیے کیونکہ افغانی بھی اتنی ہی عزت نفس رکھتے ہیں جتنا کوئی اور معزز شہری رکھتا ہو۔

طالبان حکومت کے قیام سے پاکستان میں پشتون کارڈ کو نقصان پہنچے گا کیونکہ طالبان پشتون کارڈ پر یقین نہیں رکھتے اور نہ ہی پاکستانی قوم پرست طالبان کو پشتون تسلیم کرتے ہیں اور نہ طالبان کی بیس سالہ جدوجہدکو ازادی کی جدوجہد تسلیم کرتے ہیں بلکہ امریکہ کے زیرسایہ کٹھ پتلی حکومت کو حقیقی افغان اور پشتون نمائندہ تسلیم کرتے ہیں۔

پاکستان کے اندر پشتون حقوق تحریک بھی ٹھنڈا پڑ سکتی اور دہشت گرد کارروائیاں ختم ہوں گی کیونکہ پاکستان کے اندر جتنے بھی دہشت گرد گروپ اپریٹ کررہے ہیں سوائے بلوچستان کے ان تمام کی کچھ حد تک جڑیں طالبان تحریک یا افغانستان میں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صادق برکزئی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *