امریکہ اب خود نہیں چاہتا کہ افغانستان میں رہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ نے بالاخر دوحہ (قطر) میں طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر ہی لیے، ہر دو جانب سے اس کے خوب ڈھنڈورے پیٹے گئے اور ہنوز پیٹے جا رہے ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طویل عرصے سے جاری اس انسانیت کش جنگ میں شامل تینوں فریقین کو آخر ملا ہی کیا؟ اس جنگ میں ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر او دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، اس جنگ سے نا صرف افغانستان دہائیوں پیچھے چلا گیا ہے، بلکہ اس جنگ نے افغانستان میں ایسے نظریات اور افراطی عقائد کو جنم دیا ہے کہ کسی بھی معمولی اختلاف پر کوئی بھی کسی کی جان لے سکتا ہے۔

سٹاک ہوم سنڈروم کے طرح عوام تین بڑے فریقین کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اب جیسا بھی ہے امن معاہدہ ایک خوش آئند اقدام ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس جنگ کے تین بڑے فریقین امریکہ، طالبان اور افغان حکومت نے افغان عوام کو آخر دیا ہی کیا؟ افعان عوام نے کیا کھویا کیا پایا؟ یا بطور پاکستانی ہم کیوں طالبان کی حمایت کرتے ہیں یا طالبان کی جیت کا جشن منا رہے ہیں؟ سنگین حقائق زاروں میں یہ وہ سلگتا ہوا سوال ہے جس کا جواب شاید ہی ہمارے بڑے بڑے بزرجمہروں کے پاس ہو۔

ہم بہت زیادہ کانفرنسی تھیوری کا شکار ہیں، ہم سجھتے ہیں کہ امریکہ ہار کر طالبان سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے حالانکہ بات ہر گز ایسی نہیں ہے، اگر امریکہ چاہے تو طالبان کو پانچ دن کے اندر افغانستان سے صاف کرسکتے ہیں مگر امریکہ یہ سب اس لیے نہیں کر رہا کہ اس میں ہزاروں عام افغان عوام کے ساتھ ساتھ امریکہ کو اپنے فوجی بھی کھونے پڑیں گے، لہذا وہ کیوں کسی افغانی کے لئے اپنے فوجی قربان کرے؟

اپنے کچھ پاکستانی ”بہلول دانوں“ کا یہ بھی کہنا ہے امریکہ افغانستان سے یورینیم چوری کرنے آیا ہے، حالانکہ امریکہ میں خود بہت زیادہ یورنیم موجود ہے۔ امریکہ ناصرف کئی دہائیوں سے یورینیم تولید کر رہا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک امریکی ریاست ٹیکساس میں یورینیم کی موجودگی اور تولید افغانستان بھر سے کہیں زیادہ ہے۔

اپنے کچھ پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان سے ممنوعہ مواد سپلائی کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں افغانستان کا ممنوعہ مواد پانچ ملین ڈالر کمائی بھی نہیں کرتا جبکہ امریکہ ہر سال اپنے ملک میں ایک سو ملین ڈالر ممنوعہ مواد کی روک تھام کے لئے استعمال کرتا ہے۔

امریکہ خود نہیں چاہتا کہ افغانستان میں مزید رہے، امریکہ ہر صورت افغانستان سے اپنی فوج نکالنا چاہتا ہے کیوں کہ افغانستان میں فوج کی قیام پر امریکی عوام اپنی حکومت کو شروع سے تنقید کا نشانہ بنائے چلے آ رہی ہے۔

سمجھ نہیں آرہی کہ طالبان کے ساتھ ہماری اتنی ہمدردی اپنے ملک میں کیوں موجود ہے؟ اس کے اسباب ومحرکات کیا ہیں؟ کجا کہ ہم حکیم اللہ محسود یا مولانا فضل اللہ جیسے طالبان لیڈروں کو برداشت نہیں کر رہے تھے اور آج افغانستان کے لئے قاتلوں کا انتخاب بخوبی کر رہے ہیں یعنی بقول شاعر ”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے“

ویسے ہمیں کتنا برا لگتا تھا کہ جب طالبان پاکستان کے کسی شہر، مسجد، ہسپتال میں دھماکے کرتے تھے، ٹھیک ایسا ہی افغانستان میں طالبان کرتے آ رہے ہیں ایسے پانچ ہزار طالبان آج افغان حکومت کی قید میں ہیں جن کی رہائی کا طالبان نے مطالبہ کر رکھا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کا کون سا قانون کون سی اخلاقیات ہے جو اس کی اجازت دے گی۔ یہ وہ وحشی قاتل ہیں جنھوں نے افغانستان کے بہترین بیٹوں کو، اس کے جواہرِ قابل کو، اس کے عام انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے۔ آج طالبان کس منہ سے ان کی غیر مشروط رہائی کی بات کر رہے ہیں اور امریکا کیونکر اس کا مجاز ٹھہر سکتا ہے کہ ان قاتلوں کو ایک بار پھر دندنانے کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے؟

کابل میں آج بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اپنی تعلیم کی وجہ سے اپنے آبائی گاؤں نہیں جاسکتے ہیں کیونکہ یہی تعلیم ان کے گلے کا پھندا بن گئی ہے۔ کتنے ہے ڈاکٹر، انجئنیر، وکیل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو محض ان کی تعلیم اور مہارت کے باعث قتل کیا جا چکا ہے۔

امریکہ یا یورپ میں اگر کوئی افغانی اپنے شہر کابل یا جلال آباد واپس جانا چاہے تو ان کو مجبورا پہلے عمرے پر جانا پڑتا ہے تاکہ وہاں تصویروں نکال لیں۔ محض اس لیے کے ان کے گاؤں میں کسی خطرے کے وقت کام آسکیں۔ یعنی ان تصاویر کو اپنے راسخ العقیدہ مسلمان کے ثبوت کے طور پر پیش کر کے اپنے گردن بچائی جا سکے۔

اس تیس سالہ انجنئیر کی تصویر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہی ہے جو کابل سے انجنئیرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میدان وردگ چلاگیا اور ان کو وہاں طالبان نے تین لکڑیوں پر مشتمل سولی پر لٹکا کر پھانسی دی۔ اس کا جرم صرف اس کی تعلیم تھی جو طالبان کے لیے ناقابل برداشت تھی۔

اسکول کے کلاس اول سے لے کر ماسٹر تک ایک ایک کلاس پاس کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے، پھر جب آپ امریکہ میں ڈبل ماسٹر کر کے اپنے وطن لوٹے اور طالبان آپ کو گولی مار کر قتل کریں اس وقت آپ کا احساس کیا ہوگا؟ ٹھیک ایسا ہی نقیب خپلواک نامی ایک جوان کے ساتھ ہوا۔

بہرکیف طالبان کے گناہوں کی، انسانیت کے خلاف لرزہ خیز جرائم کی فہرست بہت طویل ہے، مجھے بی بی سی اردو کی خبر کی اس ہیڈلائن کی سمجھ ہی نہیں آ رہی جس کے بموجب ”سر پر پگڑیاں اور کاندھوں پر چادریں اوڑھے طالبان رہنما امن معاہدے کی تقریب میں مرکزِ نگاہ“ ہیں۔

طالبان اکثر یہی کہتے آئے ہیں کہ ہم افغانستان میں شرعی نظام کے قیام کے لئے، اور امریکی افواج کے انخلا کے لئے جہاد کر رہے ہیں، اور حملوں میں صرف امریکن فوجیوں کو مار رہے ہیں لیکن ایک فوجی کو مارنے کے لئے یہ بازار میں پانچ سو تک عام افعانوں کو بموں سے اڑا دیتے ہیں۔

دوہزار پندرہ کی بات ہے مجھے نام نہ بتانے کے شرط پر ایک افغان فوجی بتا رہا تھا کہ کندوز سے آگے تاجکستان کے بارڈر کے قریب طالبان سے آمنے سامنے لڑائی ہو رہی تھی، طالبان تقریبا ہارنے والے تھے کیونکہ ان کے پاس اسلحہ ختم ہوگیا تھا، ہم نے دیکھا کے تاجکستان بارڈر کی طرف سے کچھ ہیلی کاپٹر آئے اور ان کی جانب اسلحہ پھینکا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ طالبان کو بیرونی ممالک امداد فراہم کر رہے تھے۔

اسی جنگ میں اگر ایک طرف طالبان اور امریکی فوجیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون چل رہا تھا اس کا نتیجہ عوام کے ساتھ ساتھ افغان حکومت کو بھی جھیلنا پڑ رہا تھا، حکومت اگر کسی گاؤں کی سڑک، برج، اسکول یاوہاں ہسپتال تعمیر کرتی تھی تو طالبان اگلے دن اس کو بموں سے اڑا دیتے، یا اس سڑک کو بلڈوزر سے خراب کرتے، اگر کوئی انجنیئر کسی سروے کے لئے اندرونی علاقوں میں جاتا تو اغوا کر لیا جاتا، اور طالبان ان کو صرف اس بنیاد پر قتل کرتے کہ وہ ایک جمہوری سسٹم میں کام کیوں کرتا ہے۔ چونکہ طالبان کے مطابق جمہوریت تو کافروں کا نظام ہے اور یو اس کو قتل کر دیا جاتالیکن عجیب بات یہ ہے کہ طالبان اگر کسی امریکن یا یورپین کواغوا کرتے تو اس کو اپنے پاس مہمان کے طور پررکھتے مگر اپنے ہی مسلمان افغان کو اغوا کرنے کے بعد یہی طالبان اسے زندہ نہیں چھوڑتے۔

طالبان کو مذاکرات کے میز پر لانا خوش آئند قدم ہے، مگر طالبان بھی اپنے شرعی نظام نافذ کرنے کے وعدے سے بھاگ گئے لہذا اب کوئی منطق ہی نہیں بنتی کہ طالبان کی حمایت کی جائے۔ پھر بھی اگر ہم افغانوں کے لئے طالبان کا نظام مانتے ہیں تو کیا ہم اپنے لئے بھی اس نظام کو مان سکتے ہیں؟ ۔ اس کا جواب شاید ہمارے کسی بزرجمہر، کسی لال بجھکڑ اور کسی بہلوال دانا کے پاس نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *