طالبان، امریکہ کے درمیان افغان امن معاہدے کی ’سادگی‘ کیا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے؟

حمیرا کنول - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، آسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طالبان

EPA

دنیا بھر میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر میں ہونے والے امن معاہدے کو ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا تاہم اس معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی اس کی شرائط کے بارے میں افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے جس قسم کی بیان بازی دیکھنے کو مل رہی ہے اس سے معاہدے کی پائیداری اور مستقبل پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔

افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے معاہدے تو پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور تاریخ کا ایک بڑا معاہدہ 1988 میں جنیوا میں بھی ہوا تھا جس کے تحت روسی فوج کی واپسی ہوئی تھی۔

اُس معاہدے کی بھی ایک بڑی خامی یہ تھی کہ اس میں افغانستان سے روسی فوج کے انخلا کے بعد نظام حکومت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’اگر قیدی نہ چھوڑے گئے تو افغان مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے‘

امریکہ طالبان مذاکرات: ’اہم پیشرفت‘ کا دعویٰ

وہ افغان عورت جس نے طالبان سے مذاکرات کیے

سنیچر کو امریکہ اور افغان طالبان نے کئی ماہ تک جاری امن مذاکرات کے بعد ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت افغانستان میں گذشتہ 18 برس سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہو پائے گا۔

معاہدے میں تو بظاہر بہت سادہ طریقہ کار طے کیا گیا ہے یعنی فوجوں کا انخلا، قیدیوں کی رہائی، پابندیوں کی فہرست سے ناموں کا اخراج، افغان سرزمین پر غیر ملکی مداخلت نہ ہونا اور نہ ہی اس کا کسی کے لیے استعمال ہونا وغیرہ وغیرہ لیکن اس سادہ طریقۂ کار پر عمل درآمد اتنا سادہ بھی نہیں۔

اشرف غنی

Reuters
صدر غنی کا کہنا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کیا

معاہدے کے چند دن بعد ہی افغان صدر کی جانب سے طالبان کی قیدیوں کے رہائی کی شق پر عملدرآمد کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق رکھنے اور افغان طالبان کے افغان فوج پر حملے جاری رکھنے اور اپنے قیدیوں کی رہائی تک بین الافغان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کے اعلانات سامنے آئے ہیں۔

اس صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے افغان امور کے ماہر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ معاہدے کی کامیابی کے امکانات تو ہیں لیکن چیلنجز بھی کم نہیں۔

’یہ ایک مشروط معاہدہ ہے۔ سادہ ہے کیونکہ اس میں ایک فریق افغان حکومت موجود ہی نہیں لیکن پیچیدہ اس لیے ہے کہ اس میں لکھا گیا ہے کہ دس مارچ تک قیدیوں کا تبادلہ ہو گا اور دس مارچ کو ہی افغان فریق بات چیت کا آغاز بھی کریں گے۔ ۔‘

وہ کہتے ہیں کہ افغان سرزمین پر موجود افغان حکومت معاہدے کا حصہ تو نہیں لیکن اس کے اقدامات معاہدے پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’آپ نے دیکھا کہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر افغان صدر نے قیدیوں کو رہا نہ کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن دو بڑے فریق افغان طالبان اور امریکہ اس پر عمل کرنے کے لیے یکسو ہیں۔

’اگر افغان حکومت رکاوٹ ڈالتی بھی ہے تو میرے خیال میں امریکہ رکاوٹ دور کر دے گا۔ قیدیوں کا تبادلہ ہو جائے گا۔ لیکن اگر قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہوتا تو پھر دس مارچ کو بین الافغان مذاکرات نہیں ہو سکیں گے۔ اگر طالبان معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے تو پھر ساڑھے چار مہینوں میں امریکی واپس نہیں جائیں گے۔‘

’عملدرآمد کی ذمہ داری امریکہ کی‘

ادھر افغانستان کی سابق رکن پارلیمان ایلا ارشاد کہتی ہیں کہ یہ معاہدہ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پایا ہے اس لیے عملدرآمد کی پہلی ذمہ داری امریکہ پر ہی عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کا کردار بین الافغان مذاکرات کے آغاز پر شروع ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ’افغان صدر اور ان کے نائب پریشان اور ناخوش ہیں کیونکہ یہ معاہدہ ان کی پوزیشن کو کمزور کرتا ہے۔ مثلاً اس میں طالبان کو پاسپورٹ دیے جانے کے بارے میں کہا جانا ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ انھیں بالواسطہ اختیار دے رہا ہے۔‘

رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ افغان صدر کے قیدیوں کے بارے میں بیان سے منفی اثر تو پڑا ہے لیکن یہ دیکھیے کہ افغان حکومت کو مذاکرات سے باہر رکھا گیا، اس لیے وہ ذرا غصے میں ہے اور وہ اپنی اہمیت بھی دکھانا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’افغان حکومت طالبان سے اپنی شرائط منوانا چاہتی ہے۔ ایک تو یہ کہ مکمل جنگ بندی ہو جائے، دوسرے یہ کہ طالبان افغان حکومت کوایک نمائندہ حکومت تسلیم کر لیں اور اس سے براہ راست مذاکرات کریں۔

قیدیوں

AFP
‘صدر ٹرمپ نے تو پہلے مذاکرات ہی ختم کر دیے تھے اور جب مذاکرات ہوتے ہیں تو پھر مفاہمت بھی ہوتی ہے۔ 2018 میں عید کے موقع پر تین دن کی فائر بندی ہوئی تھی اب ایک ہفتے کی جنگ بندی ہوئی ہے۔’

’اب طالبان یہ نہیں مان رہے کیونکہ افغان حکومت کمزور ہے اور اں کے آپس میں اندرونی اختلافات بھی ہیں۔‘

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’40 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا افغانستان میں جنگ ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں بہت سے سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ لیکن یہ کوشش ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ ہر رکاوٹ کو دور کرنا پڑے گا۔

’صدر ٹرمپ نے تو پہلے مذاکرات ہی ختم کر دیے تھے اور جب مذاکرات ہوتے ہیں تو پھر مفاہمت بھی ہوتی ہے۔ 2018 میں عید کے موقع پر تین دن کی فائر بندی ہوئی تھی اب ایک ہفتے کی جنگ بندی ہوئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات کے ذریعے طے ہو گا کہ طالبان کا کردار کیا ہو گا اور موجودہ حکومت کا کیا مستقبل ہو گا۔

https://www.youtube.com/watch?v=VFzuXrOrbas&t

’حکومتی طریقہ کار کیا ہو گا، انتخابات ہوں گے، آئین میں ترامیم ہوں گی۔ جب معاہدے پر عملدرآمد ہو گا تو ایک نئی حکومت بنے گی یہ اشرف غنی کو بھی پتا ہے اور وہ اس کی مخالفت کریں گے۔‘

معاہدہ تو ہو گیا، عملدرآمد کس حد تک ہو گا یہ اپنی جگہ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ معاہدے میں لکھی پوسٹ سیٹلمنٹ افغان اسلامک گورنمنٹ عام شہریوں کے لیے کیسی ہو گی۔

اس سوال کے جواب میں رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ ’اس کا ذائقہ کھانے میں ہے اور کھانا چکھنا ابھی باقی ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ تو جب آئیں گے پھر دیکھیں گے کہ کیا تبدیلی آئی ہے۔ وہ کہہ تو رہے ہیں کہ تبدیلی آئی ہے۔

’ان کے ہاں بھی ایک نئی نسل آ گئی ہے، پڑھے لکھے لوگ آ گئے ہیں، ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ انھیں پتہ ہے افغانستان میں جمہوری حکومت ہے، پارلیمنٹ طاقتور ہے، سول سوسائٹی ہے، میڈیا آزاد ہے۔ بہتر تو یہ ہو گا کہ وہ بھی ایک مسلح گروہ سے ایک سیاسی جماعت بن جائیں۔‘

دوسری جانب ایلا ارشاد کا خیال ہے کہ افغان طالبان کی سوچ کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ ڈیڑھ سال بعد ہونے والے افغان میں منتخب اور جمہوری حکومت قائم ہو سکے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14101 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp