پنگولن: بقا کے خطرے سے دو چار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنگولن جسے سالٹ رینج کی مقامی زبان یعنی پوٹھوہار میں (سلی) salah کہا جاتا ہے دُنیا کا سب سے زیادہ سمگل کیا جانے والا جانورہے

پینگولن انسان کے لئے ہرگز خطرناک نہیں اور نا ہی یہ قبریں کھودتا ہے جیسا کہ عوام میں مشہور ہے یا بعض علاقوں خصوصاً شہروں کے نواح میں اسے پر اسرار شکل اور آگاہی نا ہونے کے سبب خطر ناک بلا سمجھ کر بھی ہلاک کر دیا جاتا ہے

پینگولن رات کو بل سے باہر نکلتا ہے اوراپنے مخصوص طریقے سے مختلف حشرات الارض کیڑے مکوڑے خصوصًا چیونٹیوں دیمک اور فصلوں کو نقصان پہنچانے والے دیگر کیڑوں کا شکار کرتا ہے اس کی شکل مگر مچھ چھپ کلی اور ڈائنو سار کی کچھ اقسام سے مشابہ ہوتی ہے پنگوﻟﻦ ﮐﻮ ”ﭼﯿﻮﻧﭩﯽﺧﻮﺭﺍ“ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻨﮕﯿﻠﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ یہ (ﻓﻮﻟﯽ ﮈﻭﭨﺎ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﻤﺎﻟﯿﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮨﮯ۔ جس ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ”ﻣﺎﻧﯽ ﮈﺍﺋﯽ“ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺟﺲ کی ﺁﭨﮫ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﻧﺴﻠﯿﮟﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﺌﯽ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﺮہ ﺍﺭﺽ ﺳﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ یا معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں ﭘﯿﻨﮕﻮﻟﻦ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺑﮍﮮﺑﮍﮮ ﺳﺨﺖ سیپ یا ﭼﮭﻠﮑﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧﺍﺱ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ سیپ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻭﺍﺣﺪ ﻣﻤﺎﻟﯿﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮨﮯ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺧﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺩﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭﺳﮯ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺷﺎﮨﮑﺎﺭ ﮨﮯ

پینگولن کا تقریباً تمام جسم سوائے منہ ناک اور آنکھوں کے سیپ یا چھلکوں سے ڈھکا ہوتا ہے یہ سیپ سخت مادے کریٹن سے بنے ہوتے ہیں جس سے انسانی ناخن بھی بنے ہوتے ہیں جو اسے موسم کی سختیوں اور دیگر دشمنوں کے حملے سے حد درجہ محفوظ رکھتے ہیں

پینگولن کے پنجوں یعنی پاؤں پر سخت نوکیلے ناخن ہوتے ہیں جن کی مدد سے یہ اپنی رہائش کے لیے اور شکار کے لئے کیڑے مکوڑوں کے بل کھودتا ہے اور اپنی لمبی زبان باہر نکال کر مزے سے لیٹ جاتا ہے یہاں تک کہ کیڑے مکوڑوں کی بڑی تعداد اس کی زبان سے لپٹ جاتی ہے تب یہ کمال مہارت سے اپنی زبان کو ان تمام کیڑے مکوڑوں سمیت اندر کھینچ کر انہیں اپنا شکار بنا لیتا ہے۔ پینگولن کے جسم پر موجود سیپ جہاں اسے دوسرے جانوروں سے منفرد بناتے ہیں اور اس کے لیے کئی قسم کی آسانیوں کا باعث ہیں وہیں یہی سیپ در اصل اس کی زندگی کے سب سے بڑے دشمن بھی شمار ہوتے ہیں کیونکہ شکاریوں کے نزدیک پنگولن کی سب سے قیمتی چیز یہی سیپ ہیں جن کے حصول کے لیے وہ پنگولن کا شکار کرتے ہیں۔

پینگولن کے سِپ اتارنے کے لئے اسے زندہ ابلتے پانی میں ڈالا جاتا ہے۔ چند پیسوں کی خاطر انسان کس طرح درندہ بن جاتا ہے! یہ منظر میں نے چند سال قبل اپنے علاقے میں پنگولن کے شکار کی غرض سے وارد ہونے والے خانہ بدوشوں کی جھونپڑی کے سامنے دیکھا ان دنوں میں سیکنڈ ائیر کا طالب علم تھا ایک سہ پہر میں نے گاؤں کی ایک پگڈنڈی پر سے گزرتے ہوئے اچانک کرب کی شدت سے کراہتے بلکہ چنگاڑتے کسی جانور کی آواز سں نی اور تجسس کے مارے آواز کی سمت چلتا ہوا مذکورہ جگہ جا پہنچا جہاں ایک ہولناک منظر میرا منتظر تھا جس نے نا صرف اس وقت میرے اوسان خطا کر دیے بلکہ جس کے یاد آنے پر آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ایک سالم پنگولن ابلتے ہوئے پانی کے کڑاہے میں تڑپ رہا تھا اور اس کے تقریباً تمام سیپ جسم سے الگ ہو چکے تھے جبکہ اس کے اندر زندگی کی ہلکی سی رمک ابھی تک باقی تھی جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی تھی میں نے اپنے تئیں ان لوگوں کو نصیحت اور ملامت کی لیکن ان پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا نتیجتاً میں نے شام تک والد صاحب سے بات کرکے انہیں اپنی زمین سے روانہ ہونے کا حکم سنا دیا جس پر وہ صبح سویرے ہی کسی اور طرف روانہ ہوگئے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کوئی ایک گروہ نہیں تھا بلکہ ایک پوری کھیپ تھی جس نے چکوال میانوالی جہلم اٹک کی سالٹ رینج کو پنگولن کی تلاش میں چھان مارا۔ نا صرف یہ بلکہ ان کی دیکھا دیکھی مقامی لوگوں نے بھی جن کے پاس اور کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا پھاؤڑے اور کدال لے کر جنگلوں اور پہاڑوں کی خاک چھاننی شروع کر دی۔

اس جاہلانہ اور بیہمانہ شکار کانتیجہ ہے کہ پاکستان میں پنگولن ناپیدگی کے انتہائی خطرات سے دوچار ہو چکا ہے۔

پینگولن کی افزائش میں اضافہ نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی مصنوعی بریڈنگ کا تجربہ کامیاب نہیں ہوسکا ہے یہ صرف قدرتی جنگلی ماحول میں ہی افزائش پاتی ہے۔ پاکستان میں پینگولن انتہائی خطرے سے دوچار ہے اور اس کی تقریباً 70 سے 80 فیصد آبادی ختم ہوچکی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے اعداد و شمار کے مطابق 2011 سے 2014 کے دوران 10 ہزار پینگولن سمگل کیے گئے۔ پینگولن تقریبا پورے ملک میں پایا جاتا ہے مگر اس کی بڑی آماجگاہیں چکوال، میانوالی جہلم اٹک پوٹھوہارریجن، سالٹ رینج، پنجاب کے علاقوں، جبکہ آزاد کشمیر، صوبہ خیبر پختون خوا، بلوچستان، سندھ، اور گلگت بلستان میں ہیں

وائلڈ لائف ماہرین کے مطابق پینگولن سے نکلنے والے اسکیل یا سیپ کے علاوہ دیگر اعضا کو چین کی مقامی ادوایات میں بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، پینگولن کے اعضا سے تیار کی گئی ادویات عورتوں، بچوں کے امراض کے علاوہ جنسی اعصابی امراض کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہیں جب کہ چین اور ویت نام میں اس کا گوشت مرغوب غذا ہے۔ پینگولن کی کھال سے کئی اقسام کے ملبوسات، لیڈیزبیگ اور جوتے تیار کیے جاتے ہیں جن کی پوری دنیامیں مانگ ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان سے پکڑے جانے والے پینگولن چین سمگل کیے جاتے ہیں یا پھر جنسی ادویات کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں

وائلڈلائف کی جانب سے گزشتہ ایک سال کے دوران پینگولن سمیت مختلف جانوروں اور پرندوں کا شکار کھیلنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمے درج کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے اب سالٹ رینج یعنی چکوال اور پوٹھوہارمیں کئی ایک مقامات پر انڈین پینگولن دیکھے گئے ہیں۔ پاکستان میں پہلی بارپینگولن پر ڈاکومنٹری بھی بنائی گئی ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد سمیت آزادکشمیر اور خیبرپختونخوا کے چندعلاقوں میں بھی انڈین پینگولن دیکھے گئے ہیں بلکہ کئی شہریوں نے ان کے ساتھ اپنی سیلیفیاں بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔ پینگولن کو بچانے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے جرمانے اور سزائیں بڑھانے کے ساتھ ساتھ دیانت دار عملے کی تعیناتی اور رشوت ستانی کے انسداد کی ضرورت ہے

ایسا نا ہو کہ پنگولن نا رہے اور یہ کیڑے مکوڑے ہمیں نوچ کھائیں۔

پینگولن سمیت تمام جنگلی حیات کی حفاظت اور انہیں پکڑنے والوں کی حوصلہ شکنی ہمارا قومی فریضہ ہے۔ ان کی اطلاع لوکل وائلڈ لائف والوں کو کیجیے یا پھر اپنی زمین پر خود یہ فریضہ سر انجام دیں۔ آئین و قانون آپ کو اس کا حق دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ملک اسماعیل خیرال کی دیگر تحریریں

Leave a Reply