عورت کا جسم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت کا جسم، ایک انسان کا وجود ہے یا صفحۂ قرطاس، جس پر انسانی تاریخ رقم کرنے کا سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آ رہا؟
ایک دور تھا جب تاریخ نگاری کا یہ کام براہ راست جسم پر ہوتا تھا۔ اس کے لیے بازار لگتے تھے۔ آج عورت کا جسم ایک نعرے میں ڈھلا ہے تو یہ نعرہ جسم کا متبادل بن گیا ہے۔ پیسے کی حرص میں لتھڑے ہوئے اس سماج نے ڈرامہ نویس کو تاریخ نگاری کا منصب سونپ دیا ہے۔ ڈرامہ نویس قلم کے ساتھ زبان کا استعمال بھی کر رہا ہے۔ اطوار اور اوزار بدل گئے ہیں اور مگر سوچ نہیں بدلی۔ عورت کے جسم سے دھیان کسی اور طرف جاتا ہی نہیں۔ پدرسرانہ سوچ ہمارے رگ و پے میں اتر گئی ہے۔
اہلِ قلم، میڈیا، اہلِ مذہب، اہلِ سیاست، میں حیران ہوں کہ قوم کی راہنمائی کن ہاتھوں میں ہے؟ دنیا میں علم و تحقیق کے موضوعات کیا ہیں اور ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ شناخت کے بحران میں مبتلا یہ معاشرہ تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہا ہے۔ کوئی ویلنٹائن ڈے منا رہا ہے کہ نقالی کا خوگر ہے۔ کسی کو خطرہ ہے کہ اس کی تہذیب، یہ دن منانے سے منہدم ہو جائے گی۔ وہ یومِ حیا کا علم لے کر نکل پڑتا ہے۔ کوئی ‘عورت مارچ‘ کر رہا ہے اور کوئی اس کو روکنے کا اعلان کر رہا ہے۔ معاملہ یہاں آ پہنچا کہ ٹی وی سکرین میدانِ جنگ میں بدل گئی ہے۔
لوگ آخر مکالمہ کیوں نہیں کرتے؟ اگر عورت کے حقوق کا معاملہ ہے اور دونوں فریق اس کی تائید میں کھڑے ہیں تو یہ تقسیم کیوں ہے؟ اختلاف بھی فطری ہے لیکن ہمارے ہاں ہر اختلاف تصادم میں کیوں بدل جاتا ہے؟ ہمیں ایک دوسرے سے شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ اس شکایت پر آخر بات کیوں نہیں ہوتی؟ ہم ایک دوسرے کے درپے کیوں ہو جاتے ہیں؟
کم و بیش پندرہ برس پہلے، لاہور میں اس موضوع پر ایک مکالمہ ہوا تھا۔ اس کا اہتمام میں نے کیا تھا۔ استادِ گرامی جاوید احمد غامدی، ڈاکٹر محمد فاروق خان شہید، مولانا زاہد الراشدی کے ساتھ عورت فاؤنڈیشن اور بعض دوسری غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے شریک تھے۔ اہلِ مذہب سے پوچھا گیا کہ اگر وہ عورت کے حقوق کے حامی ہیں تو پھر انہیں ایسی تنظیموں سے کیا شکایت ہے جو اسے موضوع بناتی ہیں؟ حقوقِ نسواں کے علم برداروں سے سوال کیا گیا کہ انہیں علما اور مذہبی لوگوں سے کیا شکایت ہے؟
یہ ایک دلچسپ مکالمہ تھا۔ علما کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں تحریکِ نسواں کی اس تحریک کا ہدف مسلمانوں کا خاندانی نظام ہے۔ عورت کی آزادی کے نام پر ایک ایسی معاشرت پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس کا مقصد عورت کو اس کے تہذیبی و مذہبی احاطے سے نکال کر سرِ بازار لا کھڑا کرنا ہے۔ اس کے نتیجے میں، وہ ایک جنسِ بازار بن جائے گی۔ اہلِ مذہب عورت کے حقوق کے نہیں، اس سوچ کے خلاف ہیں جو پس منظر میں کارفرما ہے۔
عورت کے حقوق کے علم برداروں کا موقف یہ تھا کہ معاشرے میں جب بھی خواتین کے حقوق کی بات ہوتی ہے، اہلِ مذہب ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں جو عورت کا استحصال کرتے ہیں۔ حقوق کے غاصب اس دینی تعبیر کو اپنا ہتھیار بنا لیتے ہیں‘ جو ایک پدرسرانہ سماج کی عطا ہے۔ علما ان کو یہ ہتھیار فراہم کرتے ہیں۔ وہ عورت کی انفرادیت کو قبول نہیں کرتے۔ اسے مرد، کے تابع ایک مخلوق سمجھتے ہیں۔
اس مکالمے میں دونوں اطراف نے اعتراضات کو محض افترا قرار دیا۔ علما کا کہنا تھا کہ وہ عورت کو تمام حقوق دینا چاہتے ہیں جو دین نے ان کو عطا کر رکھے ہیں۔ خواتین نے بھی اس بات کی سختی سے تردید کی کہ وہ خاندان کے نظام کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان نظام کے اندر رہتے ہوئے، اپنے حقوق کی بات کر رہی ہیں۔
جاوید صاحب نے اس بحث کو سمیٹا۔ انہوں نے اس معاشرے کی تہذیبی حساسیت کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ اسلامی تہذیب تین اساسات پر کھڑی ہے: حفظِ فروج، حفظِ مراتب اور تیسرا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ نکاح کا ادارہ حفظِ فروج کا ضامن ہے۔ سماجی سطح پر اس سے باہر کوئی جنسی تعلق قابلِ قبول نہیں۔ حفظِ مراتب سے تعلقات اور رشتے وجود میں آتے ہیں۔ تمام مرد اور عورتیں برابر ہیں لیکن جیسے ہی وہ رشتے میں بندھ جاتے ہیں، وہ اس سے وابستہ حقوق و فرائض کے پابند ہو جاتے ہیں‘ جیسے اولاد اور والدین۔
خاوند اور بیوی۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے معنی یہ ہیں کہ معاشرہ خیر و شر کے مسلمات سے لا تعلق نہیں رہے گا۔
جاوید صاحب نے بعد میں اس پر قدرے تفصیل سے ایک مضمون لکھا جو ان کی کتاب ”مقامات‘‘ میں ‘اسلامی تہذیب‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بحث اتنی سادہ نہیں۔ اسلام میں عورت کے حقوق کا دائرہ ہر کسی کے فہم کے تابع ہے۔ کسی کے نزدیک عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے اور کسی کے خیال میں پردہ کی اصطلاح ہی اسلام میں اجنبی ہے۔ اسلام اختلاطِ مردوزن کے آداب بتاتا ہے جو سورہ نور میں بیان ہو گئے۔ اس سے بڑھ کر کوئی پابندی مقامی کلچر تو ہو سکتی ہے، دینی مطالبہ نہیں۔
آج مکالمہ نہیں ہو رہا۔ لوگ گروہوں میں منقسم ہیں۔ انہیں اپنی گروہی شناخت عزیز ہے، عورت کے حقوق نہیں۔ اگر دونوں فریق ہمدردانہ طور پر ایک دوسرے کے موقف کو جانیں تو اختلاف کا دائرہ سمٹ جائے۔ مثال کے طور پر ‘میرا جسم، میری مرضی‘ سے مراد کیا ہے؟ میرا خیال یہ ہے کہ یہ عورت کی انفرادی شخصیت پر اصرار ہے۔ وہ مرد کی طرح اپنے اعمال میں آزاد ہے، اس لیے اپنی ذات کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے میں بھی آزاد ہے۔
میرے نزدیک دینی نقطہ نظر سے اس پر کوئی ا عتراض نہیں ہو سکتا۔ یہ مرد ہو یا عورت، سب اپنی انفرادی حیثیت میں خدا کو جواب دہ ہیں؛ تاہم جب وہ کسی معاہدے کا حصہ بنتے ہیں تو ان شرائط کے پابند ہو جاتے ہیں جن کے تحت معاہدہ وجود میں آتا ہے۔ یوں خاوند مطلق آزاد ہو سکتا ہے نہ بیوی۔ اس میں کوئی بات عورت کے لیے خاص نہیں۔ مرد بھی اپنے جسم پر اپنی مرضی نہیں رکھتا۔ اللہ کے دین میں مرد ہو یا عورت، بدکاری کی سزا ایک جیسی ہے۔ اس آزادی میں کوئی صنفی امتیاز نہیں۔
جو لوگ اس نعرے کے ناقد ہیں، ان کا موقف بھی قابلِ فہم ہے۔ وہ اسے مطلق آزادی کا مطالبہ سمجھتے ہیں اور اسے یہاں کی مذہبی و تہذیبی اقدار سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مرد ہو یا عورت، کوئی معاشرہ اسے شترِ بے مہار کی طرح کھلا نہیں چھوڑ سکتا۔ جس طرح ایک ریاست کا شہری بننے کے لیے شہریت کی بنیادی شرائط قبول کرنا پڑتی ہیں، اسی طرح ایک سماج کا حصہ بننے کے لیے مشترکہ تہذیبی اقدار کی پابندی بھی لازم ہو جاتی ہے۔
میرا خیال ہے کہ اس اصولی موقف سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ فروعات یا تفصیل میں ہو سکتا ہے اور اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ اگر سماج میں آزادانہ مکالمہ ہو اور لوگ ایک دوسرے کی بات سننے کے روادار ہوں تو کوئی اختلاف سماجی استحکام میں مانع نہیں ہو گا۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا ہر معاملے کو جنسِ بازار کے طور پر دیکھتا ہے اور پھر اس کی تجارت شروع کر دیتا ہے۔
ایک ڈرامہ نگارکا ایک ڈرامہ کیا مقبول ہوا، اب وہ ایک نقطہ نظر کے ترجمان بنا دیے گئے۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایک خاتون کے بارے میں جو زبان استعمال کی، وہ بتا رہی ہے کہ وہ عورتوں کی کتنی عزت کرتے ہیں۔ کیا گفتگو میں ٹوک دینا اتنا بڑا جرم ہے کہ ایک آدمی آپے سے باہر ہو جائے؟ ایسے مواقع ہی ہماری اخلاقی حس کا امتحان ہوتے ہیں۔
ہمیں مکالمہ کرنا ہو گا، تجارت نہیں۔
مغرب و مشرق میں عورت کا جسم تختہ مشق ہے۔ کہیں آزادی کے نام پر اور کہیں روایت کے عنوان سے۔ ایک صفحۂ قرطاس جس پر ہر کوئی اپنی مرضی کی تحریر لکھ رہا ہے۔ مغرب میں عورت کے جسم کی نمائش ہو رہی ہے، مرد کی تسکین کے لیے۔ مشرق میں اسے لباس پر لباس پہنایا جا رہا ہے، مرد کی عصمت کی حفاظت کے لیے۔ عورت کا جسم کہیں آزاد نہیں ہے۔ آج اسی پر مکالمے کی ضرورت ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *