مرد جو خواتین کے خلاف تشدد روکنے کے لیے رہنمائی کر رہے ہیں

ایلن مرفی - بی بی سی فیوچر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

18 سالہ اومکار اکثر اپنا غصہ اپنی چھوٹی بہن ریتو پر نکالتے تھے۔ لیکن اب اس کی والدہ کانتا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بہن سے صبر و تحمل کے ساتھ بات کرتے ہیں ہیں اور اسے مناسب احترام دیتے ہیں۔

اوم کار اب گھریلو کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ کانتا کا کہنا ہے کہ ‘جب کوئی گھر میں آتا ہے تو اوم کار چائے بناتے ہیں۔ وہ گھر کے دوسرے کام جیسے صاف صفائی بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنے محلے کے باقی لڑکوں سے بہت مختلف برتاؤ کرتے ہیں۔ ان کا سلوک بہت اچھا ہے۔’

اوم کار پُونے کے اُن پانچ ہزار سے زیادہ لڑکوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے ایکشن فار ایکوئلیٹی (اے ایف ای) یعنی مساوات پر عمل کے پروگرام میں شرکت کی ہے۔ اس پروگرام کا آغاز سنہ 2011 میں ایک فلاحی تنظیم ایکوئل کمیونٹی فاؤنڈیشن (ای سی ایف) نے کیا تھا۔

اس پروگرام کا مقصد نوجوان لڑکوں کی جانب سے خواتین پر ہونے والے تشدد کو روکنا ہے۔

ای سی ایف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کرسٹینا فرٹاڈو کا کہنا ہے کہ ‘صنفی مساوات کے لیے لڑنا دریا کے تیز بہاؤ سے مقابلہ کرنے کے مترادف ہے۔ ہم ایک طویل عرصے سے خواتین کو بتاتے آرہے ہیں کہ ان کا اپنے حقوق کے لیے لڑنا بے حد ضروری ہے۔ ہم نے بہت سی خواتین کو تشدد اور ذلت کے موذی چکر سے نکالنے میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی عورتیں جنھوں نے شراب پر پابندی لگوائی

’ہمیشہ سے شراب پی رہے ہیں، مرے نہیں‘

لیکن کرسٹینا یہ بھی کہتی ہیں کہ ‘جب آپ صرف خواتین پر توجہ مرکوز کرکے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے معاشرے کی وسیع تیز بہاؤ والی سوچ پر فرق نہیں پڑتا کیونکہ بالآخر تعلیم یافتہ اور بااختیار خواتین بھی انہی مردوں کے ساتھ رہیں گی جو تشدد اور ذلت آمیز سلوک کرتے ہیں۔’

لیکن اے ایف ای کے تحت 13 سے 17 سال کی عمر کے لڑکے 43 ہفتوں کے ایک کورس میں شریک ہوتے ہیں۔ جس میں انھیں خواتین کے ساتھ مار پیٹ اور تشدد نہ کرنا اور صنف کی بنیاد پر تعصب نہ برتنا سکھایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے آس پاس کی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ یکساں اور اچھا سلوک کریں۔

مظاہرے

Getty Images

خواتین کے خلاف تشدد کے اعدادو شمار کیا بتاتے ہیں؟

اقوام متحدہ کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد پوری دنیا میں ایک خوفناک مرض ہے۔ بہت سے تجربات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کی 70 فیصد خواتین کو اپنے قریبی ساتھیوں کے ہاتھوں پرتشدد سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے، اب چاہے وہ جسمانی ہو یا جنسی۔

دنیا بھر میں روزانہ 137 خواتین اپنے قریبی ساتھی یا کنبہ کے فرد کے ہاتھوں ہلاک ہوتی ہیں۔

انڈیا میں خواتین پر تشدد کی سب سے بڑی مثال دسمبر سنہ 2012 میں دہلی میں دیکھی گئی تھی جب چلتی بس میں ایک 23 سالہ نوجوان لڑکی کو اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد خواتین پر تشدد کے خلاف وسیع پیمانے پر تحریک چل پڑی تھی۔

ایسے واقعات کے پیش نظر ایکشن فار ایکوئلیٹی جیسے پروگراموں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پونے جیسے قدامت پسند شہر میں صنفی مساوات پر اس زمینی سطح کا پروگرام شروع کرنا ندی کے خلاف تیرنے کے مترادف ہے جبکہ اس میں لڑکوں کو اس طرح کے پروگراموں کا مرکز بنانا اور بھی مشکل امر ہے۔

جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش

اومکار جیس کم آمدنی والے روایتی برادریوں میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں پرانے رسم و رواج کے پابند ہیں جہاں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ گھریلو کام خواتین کا فرض ہے۔

انھیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ مرد خواتین کو زبانی، جسمانی یا جنسی استحصال کرنے کے لیے آزاد ہیں ہیں کسی قسم کا خمیازہ برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔

تاہم اے ایف ای پروگرام چلانے والے وہ افراد ہیں جو نوعمروں کے لیے مثالی ہوتے ہیں جن کے نقش قدم پر یہ نوجوان چلتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو عمر کے دو عشرے کو عبور کرچکے ہیں۔

ای سی ایف کے اس پروگرام میں شامل ہونے کی شرط یہ ہے کہ ہر نوجوان کو 60 فیصد کلاسز میں شرکت کرنی ہوتی ہے اور ایک کمیونٹی پروگرام ‘ایکشن پروجیکٹ’ میں شامل ہونا ہوتا ہے۔ ایسے پروگرام میں حصہ لینے والے 80 فیصد نوجوان پاس ہوتے ہیں۔

سنہ 2014 میں 18 سالہ اکشے نے بطور رضا کار اے ایف ای پروگرام میں شمولیت اختیار کی لیکن بعد میں وہ خود اس میں تعلیم حاصل کرنے لگے۔ بعد میں اس نے اپنے دو بھائیوں کو بھی اس پروگرام کا ایک حصہ بنایا۔ جب سے اس نے اس پروگرام میں تعلیم مکمل کی ہے وہ اپنے پڑوس کے لڑکوں کے لیے ایک ماڈل بن گیا ہے۔

اومکار کی ماں کی طرح اکشے کی والدہ سوجاتا کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے میں ہونے والی تبدیلی کو واضح طور پر محسوس کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ‘انھوں نے گھر کی ذمہ داریوں کو بانٹنا شروع کردیا ہے۔ ان کے بھائی بھی سمجھدار ہوگئے ہیں۔ گذشتہ ماہ میں انھوں نے گھر کے تمام کام انجام دیے۔ مجھے کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا۔’

اکشے اور اومکار کے پڑوس میں بہت سارے نوعمر لڑکے 14-15 سال کی عمر میں شراب نوشی شروع کردیتے ہیں۔ جب وہ بالغ ہوجائیں تب تک وہ شراب کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے غریب طبقات میں شراب نوشی ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔ جو لوگ باقاعدگی سے شراب پیتے ہیں وہ اکثر اپنی بیویوں یا دوسری لڑکیوں کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہیں۔

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا خواتین اور لڑکیوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ شرابی نوجوانوں اور لڑکوں کے فحش تبصروں کی وجہ سے لڑکیاں گھر سے باہر نکل کر کھیل کود نہیں سکتی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف گھریلو خواتین اکثر ان بد سلوکیوں کے بارے میں نہ تو پولیس کو شکایت کرتی ہیں اور نہ ہی وہ خود اس کا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ کیونکہ انھیں خوف ہے کہ یا تو افسران ان کی باتوں پر یقین نہیں کریں گے یا وہ صرف ان پر الزام لگائیں گے۔

لیکن اومکار اور اکشے اس پروگرام کی وجہ سے خواتین پر جنسی تشدد یا خواتین کے ساتھ بد سلوکی کے بارے میں بہت بیدار ہیں۔ جب بھی وہ کسی عورت یا لڑکی کو اپنے آس پاس برا سلوک کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ علاقے کے سربراہوں یا پولیس سے شکایت کرتے ہیں۔

اومکار نے محسوس کیا ہے کہ اب نوعمر لڑکیوں کو ان پر بھروسہ ہے۔ ای سی ایف کے تجربے کی وجہ سے وہ جانتے ہیں کہ اومکار ان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور وہ انھیں غیر محفوظ محسوس نہیں ہونے دیتے۔

معاشرے کو بدلنے کی کوشش

اکشے اپنے ارد گرد اگر خواتین کے ساتھ برا سلوک ہوتے دیکھتے ہیں تو وہ اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکشے نے ہمیں ایک واقعہ سنایا کہ کس طرح ایک شخص نے نشے میں اپنی بیوی سے جھگڑا کیا پھر اس کی پٹائی کرنا شروع کردی۔

اکشے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس شخص کے گھر گیا اور اسے وہاں سے کھینچ کر باہر لایا۔ پھر اس نے خاتون سے پولیس کو مطلع کرنے کو کہا۔ اکشے کی مداخلت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شخص شراب کے نشے سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک مرکز گیا۔

اس نے اپنے پینے کو واضح طور پر کم کیا ہے اور اس کے پرتشدد رویے میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

اکشے نے کہا: ‘میں سوچتا تھا کہ لڑکیاں کمزور ہیں، شاید اسی وجہ سے وہ گھر سے نکلنے سے خوفزدہ ہیں۔ لیکن اب میں سمجھ گیا ہوں کہ وہ مردوں کے برے سلوک سے بچنے کے لیے گھر سے نہیں نکلتی ہیں۔ اس کے بعد سے میں نے ان کا احترام کرنا شروع کر دیا۔

اومکار اپنے تجربے کو علاقے کے دوسرے لڑکوں کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ وہ دوسرے ساتھی کی مدد سے 10 لڑکوں کو صنفی مساوات اور خواتین کے لیے احترام کرنے کی تربیت دے رہے ہیں۔ اومکار کا کہنا ہے کہ لڑکیوں فقرے نہیں کسنا چاہیے، گھریلو کاموں میں ان کی مدد کریں اور اگر وہ کسی کو عورت کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہوئے دیکھیں تو اس کے بارے میں شکایت کریں۔

خواتین

Reuters

کیا خواتین کا ذہن مردوں سے مختلف ہے؟

ای سی ایف کی پروگرام کی ایسوسی ایٹ سہاسنی مکھرجی کا کہنا ہے کہ ‘ہم لڑکوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں۔ ہم ان کی ہر طرح سے مدد کریں گے۔’

تاہم کئی بار لڑکے اس طرح کے اسباق کو اتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ وہ اپنی بہنوں کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ انھیں لباس کس طرح پہننا ہے اور لباس کس طرح نہیں۔ جبکہ انھیں اسی پریشانی پر قابو پانے کی تربیت دی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ای سی ایف پروگرام کے آغاز میں لڑکوں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ صرف اس وقت مدد کریں جب تک لڑکیاں مدد مانگیں یا وہ واقعی کسی مشکل صورتحال میں ہوں۔ لڑکوں کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ہر کام خود کرنے کی بجائے انھیں حکام کو رپورٹ کرنے کا متبادل زیادہ آزمائیں۔

اکشے نے ایسا ہی ایک واقعہ سنایا۔ جب ان کا ایک پڑوسی بہت کم عمر لڑکی سے شادی کرنے کا ارادہ کر رہا تھا تو انھوں نے خود مداخلت کرنے کے بجائے قانونی حکام کو آگاہ کیا جو آئے اور پڑوسی کو کم عمر لڑکی سے شادی کرنے سے روکا۔

اگر ای سی ایف مقامی سطح پر صنفی مساوات کے لیے کام کر رہا ہے تو برازیل کا پرومونڈو نامی ایک تنظیم پوری دنیا میں ایسے پروگرام چلا رہی ہے۔

ہومینس یا ہومبریس

پرومونڈو کی بنیاد سنہ 1997 میں برازیل میں رکھی گئی تھی۔ اب اس کا صدر دفتر امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ہے۔

پروموڈو کے پروگرام کا نام پروگرام-ایچ ہے۔ اور ایچ کا مطلب پرتگالی ہومینس یا ہسپانوی زبان میں ہومبریس یعنی مرد ہوتا ہے۔ اس کا مقصد شہری بستیوں میں خواتین کے خلاف بد سلوکی کو روکنا ہے۔ اس پروگرام میں دس سے 24 سال کی عمر کے لڑکوں کو صنفی مساوات اور خواتین سے اچھے سلوک کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔

افریقہ

Getty Images

پروگرام سے وابستہ افراد چار ماہ تک ہر ہفتے ملتے ہیں۔ اس میں صرف 12 افراد کے چھوٹے چھوٹے گروپ رکھے گئے ہیں۔ ای سی ایف کی طرح یہاں بھی نوجوان کو صنفی مساوات کا سبق سکھاتے ہیں۔ پروگرام میں شامل افراد کو خواتین کے خلاف تشدد، ان کی جنسی آزادی اور جنسی مساوات کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ انھیں گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

ایک جائزے کے مطابق خواتین ایسی سرگرمیوں میں مردوں کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ وقت گزارتی ہیں جس سے انھیں کوئی آمدنی نہیں ہوتی ہے۔ ان میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھنا، گھریلو کم کرنا شامل ہے۔

پرومونڈو کی ایک رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کو کھیلنے کے مواقع کم ہیں۔ کیونکہ ان کا 40 فیصد وقت ایسے کاموں میں جاتا ہے جن کے پیسے بھی انھیں نہیں ملتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ انھیں کھیلنے، آرام کرنے یا مطالعے کا شاذ و نادر ہی وقت مل پاتا ہے۔

خواتین اور مردوں کے فرق کو ماپنے کے لیے پروموڈو نے ایک پیمانہ تیار کیا جس کا نام ہے جینڈر ایکوئلیٹی مین جس کے تحت محفوظ جنسی تعلقات، گھریلو تشدد، خاندانی منصوبہ بندی اور خواتین کے بارے میں رویوں کی پیمائش کی جاتی ہے۔

ایتھوپیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پرومونڈو کے اس پروگرام میں شامل ہونے کے بعد سے مردوں سے خواتین پر تشدد کے واقعات میں 20 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

خواتین

Getty Images

تاہم زمین سطح پر ان پروگراموں کو کافی چیلنجز درپیش ہیں کیوں کہ عورتوں کو مساوی طور پر نہ دیکھنے کا خیال ہمارے معاشرے میں گہرا پیوست ہے۔

افریقی ملک کانگو جمہوریہ میں پرمونڈو کے پروگرام میں شریک مردوں نے گھریلو کام کرنا شروع کیا۔ لیکن وہ اس چیز کو اپنے ساتھیوں سے چھپاتے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مذاق اڑایا جائے گا۔

پرومونڈو اور ای سی ایف کے پروگرام کے دوران یہ دیکھا گیا کہ لڑکوں کے رویے کو بہتر بنانا آسان ہے۔ لیکن معاشرے میں اس کا نفاذ بہت مشکل ہے۔ کیونکہ خواتین کے بارے میں سوچ تبدیل کرنے کی سخت مخالفت ہے۔

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پرومونڈو اور ای سی ایف دونوں اپنے پروگراموں میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ جہاں کلاس روم میں لڑکوں کو پڑھانے کے بعد معاشرتی سطح پر بھی اس پروگرام کو نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پرومونڈو سکولوں اور ہسپتالوں کے ذریعے صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

‘سرفروشی کی تمنا’ کا نعرہ لگانے والی لڑکیاں ہی تبدیلی لائیں گی۔

پرومونڈو کے نائب صدر جیوانا لورو نے کہا: ‘اگرچہ ہم نوجوانوں کی سوچ اور طرز عمل کو تبدیل بھی کردیں تو بھی انھیں اسی معاشرے میں رہنا ہے جہاں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔’

لیکن ایسے پروگراموں میں شامل ہونے کے بعد لڑکے خود بھی اپنے ارد گرد تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ وہ معاشرتی سطح پر خواتین کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک سے نمٹنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے پروگراموں میں معاشرے کی ضرورت کے مطابق تبدیلیاں لا کر اسے وسیع تر بنایا جاسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15975 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp