کراچی میں کثیر المنزلہ رہائشی عمارتیں زمین بوس: ’میرے بچے، بیوی، بھائی، امی سمیت خاندان کے نو افراد اس حادثے میں چلے گئے‘

دانش حسین - بی بی سی اردو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

42 سالہ حنا عبدالحق کے شوہر عبدالحق غوری سنہ 2005 میں صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں مبینہ طور پر غلط سمت سے آنے والے ایک ٹرالر کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے تھے۔

عبدالحق غوری کے بڑے بھائی عبداللہ غوری نے حنا کی مدعیت میں ٹرالر کمپنی کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا اور گذشتہ 15 برسوں کے دوران دو مختلف عدالتوں نے سوا دو کروڑ روپے ہرجانہ ادائیگی کے کیس میں فیصلہ حنا کے حق میں سنایا۔

تاہم ذیلی عدالتوں کی جانب سے دیے گئے فیصلوں کو کمپنی نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور اب یہ کیس ہائی کورٹ کے ایک دو رکنی بینچ میں زیرِ سماعت ہے۔

تاہم گذشتہ 15 برس سے انصاف کی منتظر حنا عبدالحق پانچ مارچ کو اپنے خاندان کے نو دیگر افراد کے ہمراہ کراچی کے علاقے گل بہار نمبر دو 400 کوارٹر میں کثیر المنزلہ رہائشی عمارتوں کے زمین بوس ہونے کے واقعے میں ہلاک ہو چکی ہیں۔

اس واقعے میں حنا عبدالحق کی 16 سالہ بیٹی مریم عبدالحق، ان کی والدہ، ایک بھائی، دو بھائیوں کی بیویاں اور تین نو عمر بھتیجے اور بھتیجیاں ہلاک ہوئے ہیں۔ حنا کے 14 سالہ بیٹے اس حادثے میں شدید زخمی ہوئے ہیں اور مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پرانے کراچی کی مخدوش عمارتیں

’حکمرانوں کی مفاد پرستی نے کراچی کا کیا حشر کر دیا‘

سستی ہاؤسنگ کے نام پر زمین کروڑوں کی کیسے بنی؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حنا غوری کے جیٹھ عبداللہ غوری نے بتایا کہ اپنے شوہر کی سٹرک حادثے میں ہلاکت کے بعد حنا اپنے والد کے گھر گل بہار شفٹ ہو گئی تھیں اور لگ بھگ ان کا پورا خاندان اس تین منزلہ بلڈنگ میں رہائش پذیر تھا جو سب سے پہلے زمین بوس ہونے والی چھ منزلہ عمارت کے ساتھ واقع تھی۔

عبداللہ غوری نے بتایا کہ ’سب سے پہلے گرنے والی عمارت کا زیادہ تر ملبہ اس تین منزلہ عمارت پر گرا، جہاں حنا اور ان کا خاندان رہائش پذیر تھا، جس کے باعث اس عمارت کی تین میں سے دو منزلیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں۔‘

حنا عبدالحق کے ایک بھائی افضال احمد بھی اسی علاقے میں کچھ فاصلے پر رہتے ہیں اور حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد وہ جائے حادثہ پر پہنچے اور ریسکیو اہلکاروں اور محلہ داروں کے ساتھ مل کر لاشیں اور بچ جانے والوں کو نکالا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے افضال نے بتایا کہ ’میں نے اپنے ایک بھائی کو چھ گھنٹے تک ملبے تلے دبے دیکھا ہے مگر میں کچھ زیادہ نہیں کر سکتا تھا۔ میری بھابی اور ان کے چھوٹے بچے ملبے تلے تھے۔ پانچ سال کی میری ایک بھتیجی مجھے ملبے کے نیچے سے ہاتھ ہلا رہی تھی۔ یہ سب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔‘

افضال کا کہنا تھا کہ ’بڑے لوگوں کو تو اتوار کے روز عدالت لگا کر بھی انصاف دے دیا جاتا ہے غریب کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ ہم بے گھر ہو چکے ہیں حکومت نہ تو سر چھپانے کی جگہ دے رہی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔‘

افضال کے بھائی پرنس خرم احمد تین منزلہ عمارت کے بالائی فلور پر موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ’مجھ پر بھی کچھ ملبہ گرا مگر تھوڑی دیر کی کوشش کے بعد میں خود ہی وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔ میرے دو بچے، بیوی، بھائی، امی اور باقی سب اس حادثے میں چلے گئے ہیں۔‘

اس حادثے میں خرم کے کندھے اور کمر پر چوٹیں آئیں تاہم عباسی شہید ہسپتال میں چند گھنٹوں کی طبی امداد کے بعد انھیں ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا۔

’یہاں کوئی حکومتی ذمہ دار نہیں آیا، وسیم اختر آئے تھے، کچھ دیر رکے اور وہ بھی چلے گئے۔ میرے گھر والے چلے گئے، میرا گاڑیوں کا کاروبار تھا اور بہت سی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ ہمیں کون دیکھے گا، کوئی بھی نہیں آیا۔ ہمارے گھر والے تو چلے گئے مگر تمام ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے اور سزا دی جائے۔‘

عمارت

EPA
شہری زمین بوس ہونے والی ایک عمارت میں پھنسی خاتون کو باہر نکال رہے ہیں

عمارت کی اضافی منزلوں کے بارہا خلاف شکایات کی گئی تھی

عبداللہ غوری نے بتایا کہ وہ اس علاقے میں بہت عرصے سے رہائش پذیر ہیں اور گرنے والے عمارتوں کے سامنے ان کا انڈوں کا گودام بھی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سب سے پہلے گرنے والی چھ منزلہ عمارت آج سے 30، 35 برس قبل تعمیر ہوئی تھی اور ابتدا میں اس کی صرف ایک منزل تھی۔

’یہ مجموعی طور پر 72 گز کا چھوٹا سے پلاٹ تھا۔ سنہ 2007 میں اس پر اضافی منزلوں کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ جب یہ مکان تین منزلوں تک پہنچا تو پڑوس میں رہنے والے حنا کے بھائی نے اس تعمیر کے خلاف درخواست بھی دی تھی۔‘

عبداللہ غوری کا دعویٰ ہے کہ اس وقت بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی والے آئے اور بالائی زیر تعمیر فلور توڑ کر چلے گئے، مگر ایک ماہ بعد ہی تعمیر کا کام دوبارہ شروع ہو گیا اور مزید دو فلور اور تعمیر کر دیے گئے جس سے یہ عمارت پانچ منزلہ ہو گئی۔

’آج سے ڈیڑھ برس قبل اس عمارت میں چھٹا فلور بھی تعمیر کیا گیا۔ یہ عمارت پہلے ہی ہلکی سے ٹیڑھی تھی۔ عمارت گرنے سے تین روز قبل یہ ایک جانب سے تھوڑی سے بیٹھ گئی تھی۔ اور اس موقع پر حنا کے بھائیوں اور اس عمارت کے مالکان میں اچھا خاصا جھگڑا بھی ہوا تھا۔ جس روز یہ بلڈنگ گری اس روز اس کے پلرز پر کام شروع ہوا تھا کیونکہ پلرز میں ریخیں بن گئی تھیں۔ اس تعمیراتی کام کے دوران ہی یہ عمارت ساتھ والی عمارت پر گر گئی اور اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔‘

انکوائری جاری ہے

وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی ویر جی کوہلی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں اب تک 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 35 زخمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملبہ اٹھانے کا کام جاری ہے مگر اب ملبے تک مزید کسی شخص کے موجود نہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ نے اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ذمہ داران کا تعین کرے گی اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ انکوائری جاری ہے اور ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اتنے چھوٹے پلاٹ پر کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر کی اجازت بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے دی یا مالکان نے خود سے یہ غیر قانونی کام کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 13548 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp