InternationalWomenDay2020: ہالی وڈ میں سیکس مناظر کو محفوظ بنانے والی خواتین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیکس کریوگرافی

HBO
انٹیمیسی کوآرڈینیٹرز تربیت یافتہ سہولت کاروں کی حیثیت سے اداکاروں اور پروڈکشن سے وابسطہ افراد کو گلے لگانے، چومنے اور عریانیت والے حساس جنسی مناظر فلمانے میں مدد فراہم کرتی ہیں

ایلیسیا روڈیز ایک مقصد کے ساتھ نیویارک میں بنے ایک سیٹ پر آئیں اور وہ مقصد ایک بڑے امریکی نیٹ ورک کے لیے بنائی جانے والی ٹی وی سیریز میں ایک انتہائی پیچیدہ اور نڈر گروپ کے جنسی منظر کی شوٹنگ کی نگرانی ہے۔

وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے یہاں موجود ہیں کہ ہدایت کار اس منظر میں حصہ لینے والے 30 اداکاروں میں سے ہر ایک کی طرف سے مقرر کردہ جنسی قربت کی حدود کا مشاہدہ کرے۔ وہ ایک بڑی سپریڈ شیٹ پر ان کی رضا مندی کا جائزہ لیتی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا ج اسکے کہ جب کیمرا رول ہو تو ہر شخص مطمئن نظر آئے۔

شہر کے کسی اور حصے میں بنے تھیٹر میں، چیلیسا پیس ایک جوڑے کے قربت کے لمحے کی کوریوگرافی کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’یہاں کوئی آپ کے جسم کو ٹٹولتا نہیں ہے۔ سٹیج کی سمتوں کی ترجمانی کے لیے غیر جنسی زبان استعمال کرتے ہوئے جب یہ دونوں اداکار حرکات کے ایک عمل کو دہراتے ہیں تو وہ اپنے ساتھی کے جسم کے سامنے والے پٹھوں کی سطح پر اس سے رابطہ کرتے ہیں۔`

یہ بھی پڑھیے

کیا فحش فلمیں صحت کے لیے مضر ہیں

ایسے تصورات جو روایات بدلیں گے

100 ویمن: کیا خواتین ایک ہفتے میں دنیا بدل سکتی ہیں؟

انٹیمیسی کوآرڈینیٹرز: جنسی مناظر کی محفوظ عکس بندی میں معاونت کرنے والی خواتین سے ملیے

چند سال پہلے تک یہ خواتین ایسا کوئی کام نہیں کر رہیں تھیں لیکن اب وہ انٹرٹینمنٹ کی صنعت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے پیشوں میں سے ایک کا حصہ ہیں۔

سیکس کوریوگرافی

Dahlia Katz
</figure><p>&#1578;&#1585;&#1576;&#1740;&#1578; &#1740;&#1575;&#1601;&#1578;&#1729; &#1587;&#1729;&#1608;&#1604;&#1578; &#1705;&#1575;&#1585;&#1608;&#1722; &#1705;&#1740; &#1581;&#1740;&#1579;&#1740;&#1578; &#1587;&#1746; &#1575;&#1583;&#1575;&#1705;&#1575;&#1585;&#1608;&#1722; &#1575;&#1608;&#1585; &#1662;&#1585;&#1608;&#1672;&#1705;&#1588;&#1606; &#1587;&#1746; &#1608;&#1575;&#1576;&#1587;&#1591;&#1729; &#1575;&#1601;&#1585;&#1575;&#1583; &#1705;&#1608; &#1711;&#1604;&#1746; &#1604;&#1711;&#1575;&#1606;&#1746;&#1548; &#1670;&#1608;&#1605;&#1606;&#1746; &#1575;&#1608;&#1585; &#1593;&#1585;&#1740;&#1575;&#1606;&#1740;&#1578; &#1608;&#1575;&#1604;&#1746; &#1581;&#1587;&#1575;&#1587; &#1580;&#1606;&#1587;&#1740; &#1605;&#1606;&#1575;&#1592;&#1585; &#1601;&#1604;&#1605;&#1575;&#1606;&#1746; &#1605;&#1740;&#1722; &#1608;&#1729; &#1605;&#1583;&#1583; &#1601;&#1585;&#1575;&#1729;&#1605; &#1705;&#1585;&#1578;&#1740; &#1729;&#1740;&#1722;&#1748;

چند ہفتے قبل نامور امریکی اداکاراؤں کی یونین ایس اے جی۔ایف اے ایف ٹی آر اے نے ایک اہم دستاویز جاری کی جس میں ان ماہرین کی خدمات کے ذریعے جنسی مناظر کو باقاعدہ حیثیت دی گئی۔ انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں جنسی بدسلوکی کو روکنے کے لیے یہ ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔

ایس اے جی۔ایف اے ایف ٹی آر اے کی صدر گیبریلیا کارٹریس کا کہنا ہے کہ ’ایسا ہمارے اراکین کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔ اداکاروں اور خاص طور پر خواتین نے اپنی کہانیاں شیئر کیں۔ صرف وائن سٹائن کے بارے میں ہی نہیں، بلکہ بہت سے دوسروں کے بارے میں بھی۔‘

ہالی وڈ کے سابق فلم ساز ہاروی وائن سٹائن کو گذشتہ ماہ ایک امریکی عدالت نے جنسی جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔

ان کے خلاف الزامات نے می ٹو اور ’ٹائمز اپ‘ جیسی تحریکوں کو بڑھانے میں مدد کی۔ اس کے بعد کے دو برسوں میں ہالی وڈ میں انٹیمیسی کوآرڈینیٹرز کی مانگ بڑھ گئی ہے۔

ہاروی وائن سٹائن

EPA
ہاروی وائن سٹائن

پہلی بار فائٹ کوریوگرافر کی تربیت حاصل کرنے والی ایلیسیا روڈیز کا کہنا ہے ’ہمارے پاس اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر ہیں اور ہم کوریوگرافی، فائٹ اور جسمانی تشدد والے مناظر میں لوگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔‘

’لیکن جب قربت اور عریانی کی بات کی جائے جو ایک انتہائی خطرے والی صورتحال ہے تو اس پر ذرا بھی غور نہیں کیا گیا۔ یہ چونکا دینے والی بات ہے۔‘

روڈیز اب فل ٹائم انٹیمیسی کوآرڈینیٹر اور انٹیمیسی ڈائریکٹرز انٹرنیشنل کے شریک بانیوں میں شامل ہیں۔

اس صنعت سے وابستہ ماہرین کا اندازہ ہے کہ تقریباً 50 انٹیمیسی سپیشلسٹ اس وقت مختلف قسم کی پروڈکشنز کو معاونت فراہم کر رہے ہیں جن میں زیادہ تر امریکہ، برطانیہ میں ہیں اور ان میں گذشتہ برسوں کے دوران دس گنا اضافہ ہوا ہے۔

بوسہ

Getty Images
قربت کے مناظر کی عکس بندی

طاقت کا عدم توازن

ہدایت کاروں کی ہدایات کے پیشِ نظر قربت والے مناظر میں تبدیلی کرنا ایک عام سی بات تھی، اس طرح اداکار مناظر کے پیشِ نظر اپنی حدود خود متعین کرتے رہتے تھے۔

پیس، جنھوں نے سنہ 2017 میں تحقیقاتی گروپ تھیٹریکل انٹیمیسی ایجوکیشن شروع کیا تھا وہ کہتی ہیں: ’ہم اداکاروں کی حقیقی زندگی کے تجربات پر بھروسہ کرتے تھے، ہمیں بس یہ چاہتے تھے کہ ایک اداکار کا ’شوق سے قربت کے لمحات میں بوس و کنار وغیرہ‘ کا نظریہ، ہدایت کار کے نظریے سے مماثلت رکھتا ہو۔‘

ایمیلیا کلارک

HBO
ایمیلیا کلارک

انڈسٹری میں طاقت کے توازن کا کھیل، اداکاروں کے لیے صورتحال کو مشکل بنا دیتا ہے۔۔ خاص طور پرخواتین کے لیے۔۔۔ اگر وہ خوش نہیں ہیں اور آواز اٹھانا چاہتی ہیں تو بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

پیس کا کہنا ہے کہ ’خود کو بچانے کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ پوچھے جانے والے ہر کام کا جواب ’ہاں‘ میں دیتے ہیں۔ یہ اداکاروں کی تربیت میں شامل ہے۔‘

اکتوبر 2017 میں ہاروی وائن سٹائن سکینڈل سامنے آنے سے بہت پہلے سے اس معاملہ پر بحث چل رہی ہے۔

سنہ 1972 میں برنارڈو برٹوولوکی کی فلم ’لاسٹ ٹینگو ان پیرس‘ کی فلم بندی کے عشروں بعد ماریہ سنائیڈر نے کہا کہ انھیں اس وقت ’ذلت آمیز رویے‘ اور ’کچھ حد تک عصمت دری‘ کا سامنا کرنا پڑا جب ڈائریکٹر نے اچانک غیر دستاویزی جنسی مناظر شامل کر لیے۔ اس وقت وہ 19 سال کی تھیں۔

ابھی حال ہی میں امیلیا کلارک نے گیم آف تھرونز پر کچھ جنسی مناظر فلمانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان مناظر کو ’خوفناک‘ قرار دیا تھا۔

ایک انٹرویو کے دوران امیلیا کا کہنا تھا ’میں فلم سیٹ پر سب لوگوں کے سامنے مکمل طور پر برہنہ ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کیا کرنا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ مجھ سے کیا توقع کی جا رہی ہے اور میں نہیں جانتی ہوں کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔ اور میں نہیں جانتی میں کیا چاہتی ہوں۔‘

لیکن ہالی ووڈ میں می ٹو مہم کے بعد سے چیزیں تبدیل ہونا شروع ہوئی ہیں۔

اس سب صورتحال نے ایک اہم رخ ایچ بی او سیریز ’ڈیوس‘ کے سیٹ پر لیا۔ یہ سیریز سنہ 1970 کی دہائی میں نیو یارک میں پھیلی ہوئی پورن انڈسٹری کے بارے میں ہے۔ ایملی میڈ نے اس سیریز میں ایک جنسی کارکن اور پورن سٹار کا کردار ادا کیا ہے، جب انھیں اپنے عریاں مناظر میں کچھ تبدیلی نظر آئی تو انھوں نے باسز سے اس بارے میں بات کی۔

ایک ایچ بی او انٹرویو کے دوران میڈ کا کہنا تھا ’میں ایک ایسی شخصیت ہوں جس نے اپنے پورے کریئر میں بے شمار جنسی کردار ادا کیے ہیں۔ میں نے اپنا پہلا جنسی منظر 16 سال کی عمر میں فلم بند کروایا تھا۔۔۔ اور کئی بار مجھے اچھا محسوس نہیں ہوا۔۔۔ چاہے اس بات کا ادراک مجھے اسی لمحے میں ہوا ہو یا پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجھے ایسا محسوس ہوا ہو۔‘

پہلی مرتبہ مرکزی دھارے میں شامل کسی ٹی وی نیٹ ورک نے جنسی مناظر کی عکس بندی میں مددگار کے طور پر ایلیسیا روڈیز کی خدمات حاصل کیں۔

ایلیسیا روڈیز

Paul Schiraldi / HBO
ایلیسیا روڈیز فلم ’ڈیوس‘ کے سیٹ پر

’میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ صفحے پر کیا لکھا ہے، نا صرف اس بارے میں بلکہ جو نہیں لکھا، اس بارے میں بھی بات کریں تاکہ جب ہم سیٹ پر پہنچیں تو ہمیں کوئی سرپرائزز نہ ملے۔‘

’میں ڈائریکٹر کے نظریے کو ہی لے کر چلتی ہوں لیکن ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ اداکاری کرتے ہوئے سب اپنی حدود میں رہیں۔‘

بعد میں ایچ بی او نے اعلان کیا کہ نیٹ ورک ہر اس شو کے لیے انٹیمیسی کوآرڈینیٹر سے معاہدہ کرے گا جس میں عریانی کے ساتھ ساتھ دیگر کمپنیاں جیسے کہ نیٹ فلکس، ایمیزون اور ایپل پلس وغیرہ شامل ہوں۔

وینڈل پیئرس اور شیرون ڈی کلارک فلم دیتھ آف اے سیلز مین کے سیٹ پر

Getty / SOPA Images
وینڈل پیئرس اور شیرون ڈی کلارک فلم دیتھ آف اے سیلز مین کے سیٹ پر

اب اکثر تھیٹر کی بڑی پروڈکشنز میں بھی انٹیمیسی کوآرڈینیٹر نظر آتی ہیں۔

یریت ڈور، جنھیں لنڈنز ویسٹ انیڈ کے لیے پہلے انٹیمیسی ڈائریکٹر کا اعزاز دیا گیا ہے، کہتی ہیں ’آپ ایک سپورٹ سسٹم ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی آپ یہ جاننے کے لیے ایک تخلیقی عمل کا بھی حصہ ہیں کہ کہانی میں، انٹیمیسی ایک کہانی سنانے کے آلے کی طرح کتنی فٹ بیٹھتی ہے۔‘

تھیٹر کا موازنہ ٹی وی اور فلم کے ساتھ کرتے ہوئے ڈور کہتی ہیں ’تھیئٹر میں یہ عمل چار ہفتوں پر مشتمل ہے۔ ٹی وی اور فلم میں اس میں بہت زیادہ تیزی لانا ہو گی تاکہ آپ سیٹ پر جانے سے پہلے اداکاروں کے ساتھ مل کر اچھے طریقے سے کام کر سکیں۔‘

اداکاروں کے ساتھ ریہرسل کرتے ہوئے بائیں جانب چیلسیا پیس کو دیکھا جا سکتا ہے

Molly Prunty
اداکاروں کے ساتھ ریہرسل کرتے ہوئے بائیں جانب چیلسیا پیس کو دیکھا جا سکتا ہے

نئی زبان

شو ٹائمز کی سب سے زیادہ جنسی مناظر والی سیریز ’دا افیئر‘ کی لاس انجیلس میں مقیم انٹیمیسی ایڈوائزر امانڈا بلومینٹل کا کہنا ہے کہ اس کام میں ’ثالثی، کونسلنگ اور کوریوگرافی‘ سب شامل ہے۔

انٹیمیسی پروفیشنلز ایسوسی ایشن چلانے والی بلومینتھل کا کہنا ہے ’اگر ایک ادارکار نے پہلے جنسی مناظر فلم بند کیے ہیں تو شو یہ فرض کر لیتا ہے کہ اس اداکار کو عریانی کے مناظر فلماتے ہوئے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔‘

’یہ ایک بہت مشکل صورتحال ہے۔ میں نے خود کو سیٹ پر اداکاروں کی حدود کے نفاذ میں ان کی مدد کرتے ہوئے پایا ہے۔‘

گذشتہ چند برسوں کے دوران انٹیمیسی ایکسپرٹس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کمیونٹی نے سکرپٹ کا جائزہ لینے اور مصنفین کو مشورہ دینے سے لے کر، سیکس مناظر فلمانے کے تکنیکی پہلوؤں پر گفتگو کرنے کے لیے تکنیکیں اور پروٹوکول تیار کیے ہیں۔

ایس اے جی۔ایف اے ایف ٹی آر اے کی نئی رہنما ہدایات پروڈکشن سے پہلے مرحلے کا احاطہ کرتی ہیں جس میں انٹیمیسی کوآرڈینیٹر ریہرسل سے قبل پرفارم کرنے والوں سے الگ الگ ملاقات کرتی ہیں اور اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ کسٹیوم ڈیپارٹمنٹ سلیکون پیڈنگ یا سخت کپڑے سے بنے ایسے مصنوعی لباس فراہم کرے جن میں پوشیدہ اعضا کو ڈھکنے کے ساتھ رکاوٹوں کا بھی بندوبست ہو۔

ایک جنسی منظر کی فلم بندی کے دوران کوآرڈینیٹر کا کام اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سیٹ بند ہے اور عملے کی تعداد کم سے کم رکھی گئی ہے۔ اور وہ جنسی عمل کو کوریوگراف کرنے میں مدد کریں گے۔

بلومینٹل کا کہنا ہے ’ہمارے کام کا ایک بڑا حصہ یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام مناظر کی شوٹنگ کے دوران مستقل رضا مندی موجود ہے۔‘

امانڈا بلومینتھل ایک سیٹ پر

AMANDA BLUMENTHAL
امانڈا بلومینتھل ایک سیٹ پر

برطانیہ میں ڈائریکٹرز یوکے نے انٹیمیسی کوآرڈینیٹرز کے کردار کے لیے کافی کام کیا ہے اور بی بی سی کی پہلی انٹیمیسی ڈائریکٹر اور نیٹ فلکس کی سیکس ایجوکیشن مشیر، ایٹا او برائن نے رہنما اصولوں کا ہدایت نامہ تیار کیا ہے۔

او برائن کا کہنا ہے کہ حدود قائم کرنے کی ضرورت ہے ’جہاں ضروری ہو وہاں کارروائی روکنے کے لیے متفقہ حکمت عملی بھی شامل ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مناظر کی اتنی ہی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جتنی گاڑی کا پیچھا کرنے یا کوئی اور سٹنٹ کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔

روڈیز وضاحت کرتی ہیں ’اگر منظر میں چومنا شامل ہے، زور سے ہاتھ لگنا شامل ہے تو ہمیں اپنی چھاتی کے چھونے سے کوئی مسئلہ تو نہیں؟ کمر، یا کندھے اور نیچلا حصہ چھوئے جانے سے؟ ہم یہ یقینی بناتے ہیں کہ پوشیدہ اعضا آپس میں نہیں مل رہے یا اگر اداکار منظر کے اس حصے کے لیے اپنے اعضا کے ساتھ ملنے پر راضی ہیں تو ان کے درمیان کوئی رکاوٹ موجود ہے۔‘

اس سے پہلے اداکاروں کی دیکھ بھال کرنے کی ذمہ داری اکثر ملبوسات اور میک اپ کرنے والے فنکاروں کی ہوتی تھی جو شاٹس کے درمیان مانیٹر پر نگاہ ڈالتے ہوئے انھیں چغے پکڑا دیتے تھے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ جتنے پر اتفاق ہوا ہے، کیمرا اس سے زیادہ نہ دکھا سکے۔

ایلیسیا روڈیز ایک منظر کی کوریوگرافی کرتے ہوئے

Andy Difee
ایلیسیا روڈیز ایک منظر کی کوریوگرافی کرتے ہوئے

اب انٹیمیسی کوآرڈینیٹر سٹیج پر جنسی مناظر کی عکس بندی کے لیے ’ڈی سیکچولائزڈ‘ زبان کا ایک نیا عنصر لا رہے ہیں۔

پیس کا کہنا ہے ’یہ ایسا نہیں ہے کہ ایک اداکار دوسرے اداکار کو پکڑ رہا ہے: ’یہ ایک کردار ہے جس نے ایک اور کردار کو پکڑ رکھا ہے اور یہ اداکار ایک دوسرے سے پٹھوں کی سطح پر جسمانی رابطہ کرتے ہیں۔‘

پیس کا کہنا ہے کہ وہ ’اپنے ساتھی سے پیار کریں‘ کے بجائے ایک اداکار کو ’آپ کے ساتھی کے چہرے کے ساتھ جلد سے رابطہ کرنے‘ کی ہدایت کریں گی۔

فار ایور ٹو نائٹ فلم کا ایک منظر

Forever Tonight / Swetha Regunathan
فار ایور ٹو نائٹ فلم کا ایک منظر

انٹیمیسی کوآرڈینیٹر کے اس نئے کردار کو انڈسٹری کی جانب سے کچھ ہچکچاہٹ کا سامنا رہا ہے۔

سب سے پہلے ایس اے جی کے کارٹرس کا کہنا ہے کہ ہدایت کاروں اور پروڈیوسروں کو خدشہ ہے کہ شاید شوٹنگ کا عمل سست پڑ جائے۔

مالی تشویش بھی ہے، کیوںکہ کسی ماہر کی خدمات حاصل کرنا چھوٹی پروڈکشن کے لیے بجٹ بڑھا سکتا ہے۔

پیس کا کہنا ہے ’ہم جنسی پولیس نہیں ہیں۔ بعض اوقات ڈائریکٹر یہ سوچتے ہیں کہ ہم وہاں موجود ہیں تاکہ انھیں قربت کے کسی بھی ایسے لمحے سے روک سکیں جو وہ اپنے سین میں چاہ رہے تھے۔۔۔ لیکن ہم ایسا نہیں کرتے۔‘

یریت ڈور کہتی ہیں ’ایک بار جب وہ انٹیمیسی کوآرڈینیٹر کے ساتھ کام کرتے ہیں تو بہت سارے ہدایت کار ایسا محسوس کرتے ہیں کہ اس اضافی شخص کی موجودگی نے ان کی ذمہ داریاں کم کر دی ہیں۔ یہ ایک حفاظتی اقدام ہے۔‘

اس کے بعد بھی بنیاد پرست صنعت کے اس ’ہاں والے کلچر‘ جو اداکاروں، خاص طور پر خواتین کو اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونے سے روکتا ہے، میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

پیس کا کہنا ہے ’یہ سیٹ پر طاقت کے توازن سے متعلق ہے۔ ہمیں ایسے ہدایت کاروں کی ضرورت ہے جو اداکاروں کی بات سن سکیں، اور اداکاروں کو اپنی ضرورت بیان کرنا آنا چاہیے۔‘

شی لائک گرلز کا ایک منظر

Marlayna Demond
نئ نسل کے اداکاروں میں انٹیمیسی سے واقفیت بھی اس صنعت کو تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں

تربیت یافتہ انٹیمیسی کوریوگرافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ نئ نسل کے اداکاروں میں انٹیمیسی سے واقفیت بھی اس صنعت کو تبدیل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ سال انٹیمیسی ڈائریکٹرز انٹرنیشنل نے اپنے سرٹیفیکیشن کورس میں 10 مقامات کے لیے 70 سے زیادہ درخواستیں دی تھیں۔

کارٹریس کہتی ہیں ’سچ یہ ہے کہ ابھی انٹیمیسی کوآرڈینیٹر کافی تعداد میں نہیں ہیں اور ان کی مانگ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔‘

اداکاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ متنوع کوآرڈینیٹرز کی ضرورت ہے۔

’ابھی زیادہ تر خواتین ہیں لیکن ہمیں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے۔‘

’بعض اوقات ایک سفید فام انٹیمیسی کوآرڈینیٹر مناسب نہیں کیونکہ انھیں معلوم نہیں ہو گا کہ دوسرے رنگ و نسل کے افراد کے لیے سیٹ کو کیسے محفوظ بنایا جائے۔ اور ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔‘


100 women BBC season logo

BBC
</figure><p><strong>100 </strong><strong>&#1608;&#1740;&#1605;&#1606; &#1705;&#1740;&#1575; &#1729;&#1746;&#1567;</strong>

بی بی سی 100 ویمن کے تحت ہر سال پوری دنیا سے 100 بااثر اور متاثرکن خواتین کے نام شائع کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17962 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp