فردوس۔ پاکستانی فلمی دنیا کی ایک منفرد اداکارہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پر اعتماد۔ ملنسار بہت پیاری اداکارہ فردوس کو لوگ اب بھول گئے ہیں۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں وہ لاکھوں لوگوں کے دل کی دھڑکن تھی۔ اس نے لاہور کی ہیرا منڈی میں آنکھ کھولی۔ اس کا گھریلو نام کوثر رکھا گیا۔ اس زمانے میں فلمی دنیا میں داخل ہونے والی زیادہ تر لڑکیوں کا تعلق اسی ہیرامنڈی سے ہوتا تھا۔ اس وقت کی بہت سی مشہور ترین ہیروئینوں کا تعلق اسی علاقہ سے تھا۔ شان اور آن والی مضبوط فردوس نے انیس سو تریسٹھ میں فلم فانوس سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔

اس فلم کے ہدایت کار نخشب جارچوی تھے۔ جن کی یہ پاکستان میں پہلی فلم تھی۔ فردوس نے اس فلم میں ہیرو سلمان پیرزادہ اور کومل کے ساتھ ایک ثانوی کردار ادا کیا تھا۔ نخشب کی بھاری سرمایہ کاری کے باوجود یہ فلم باکس آفس پر فلاپ ہو گئی۔ اپنی بھولی بھالی شکل وصورت اور ڈیل ڈھال کے لحاظ سے دیہاتی لڑکی کے رول کے لئے فردوس ایک بہترین انتخاب تھی۔ ابتدا میں اسے نغمہ اور شیریں کی موجودگی میں فلم انڈسٹری میں اپنا مقام بنانا بہت مشکل نظر آ یا لیکن مسلسل محنت اور جیت کی لگن نے اسے آخرکار ایک کامیاب ہیروئین بنا دیا۔

فردوس کی دوسری فلم شباب پروڈکشنز کی فلم ً ملنگی ً 1965 میں ریلیز ہوئی جو فلاپ ثابت ہوئی۔ فردوس۔ اکمل اورشیریں کی تکون کے ساتھ مظہر شاہ اس فلم کے ولن تھے۔ ہدایتکار جعفر شاہ بخاری کی فلم ً ً ہیر سیال میں اکمل اور فردوس لیڈ رول میں تھے لیکن یہ فلم بھی فلاپ ہو گئی۔ بدقسمتی سے فردوس کی پہلی تینوں فلمیں ناکامی کا شکار ہوئیں۔ گو کہ فردوس کو اپنے فلمی سفر کے شروع میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن اس نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

اس کے بعد آنے والی ہدایتکار ریاض راجو کی فلم غدار میں سلونی ہیروئین تھی جبکہ فردوس کا کردار ثانوی نوعیت کا تھا۔ اشفاق ملک کی فلم لائی لگ میں فردوس، علاؤالدین کے مقابل ہیروئین تھی جبکہ سلیم اشرف کی فلم جھانجھر میں فردوس اور حبیب لیڈ رول میں تھے یہ تینوں بھی اوسط درجے کی فلمیں ٹھہریں۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور اچھے دنوں کی آس میں یہ برے دن اچھی طرح گزار دیے۔

ہدایتکار حیدر چوہدری کی فلم ناچے ناگن باجے بین میں رانی اور سلونی ہیروئنیں تھیں اور فردوس کا کردارپھر ثانوی تھا۔ اس فلم کی کامیابی سے اسے کچھ سکون حاصل ہوا۔ پاکستان میں اس وقت عموماً فلموں کی کہانیوں کا تانا بانا پاکستانی معاشرے کی اچھائیوں اور برائیوں سے بنا جاتا تھا اور یہی ہمارے فلمی مصنفین کا خاصہ رہا ہے۔

ہدایتکار ایم۔ جے۔ رانا کی ً من موجی ً ایک کامیاب فلم تھی۔ جس میں فردوس نے سپورٹنگ رول ادا کیا تھا جبکہ شیریں فلم کی ہیروئین تھی۔ ایم۔ جے۔ رانا کی بہترین نقاشی کے باعث اس فلم نے فردوس کو ایک مستند اداکارہ بنا دیا جس نے ایک لمبے عرصہ تک پاکستان فلم نگری میں راج کیا۔ اس کے کچھ ہفتوں بعد رشیداختر کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم ملنگی ایک سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس میں نور جہاں کا گایا ہوا اور اس پر فلمایا ہوا گیت۔

ماہی وے سانوں بھل نہ جاویں۔ اب تک کانوں میں رس گھولتا ہے اور یہی اس فلم کی کامیابی کا سبب بھی بنا۔ اس کی اداکاری میں مزید نکھار آتا گیا۔ آنے والی تینوں فلموں میں اس نے بہت جاندار اداکاری کے جوہر دکھائے۔ جن میں محمد علی کے مقابل۔ وطن کے سپاہی اداکار اعجاز کے ساتھ سپر ہٹ فلم مرزاجٹ اور اکمل کے ساتھ ہدایتکار وحید ڈار کی فلم چاچاجی شامل ہیں۔ اس کے بعد اکمل کے ساتھ اس کی جوڑی نے ایک کے بعد ایک کامیاب جوبلی ہٹ فلمیں دیں۔ جن میں اکبرا۔ چاچا جی اور دوسری کئی فلمیں شامل ہیں۔

کھلے بالوں کے ساتھ اس کی فلم دلاں دے سودے میں دھمال ً لال میری پت رکھیو بلا جھولے لالن ً نے فلم بینوں پز ایک جادوطاری کر دیا تھا۔ اپنے عروج کے دنوں وہ اس وقت کے مقبول اداکار اکمل کے بہت نزدیک ہو گئی تھی اور بعض روایات کے مطابق دونوں نے شادی بھی کر لی تھی۔ لیکن وہ بہت جلد اکمل سے اکتا گئی اور اس سے طلاق لے کر فلمساز شیخ نذر حسین سے شادی کر لی۔

یہ شادی بھی دیرپا ثابت نہیں ہوئی۔ اکمل فردوس سے علیحدگی برداشت نہ کر سکا اور اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ بعض نے اس کی موت کا ذمہ دار فردوس کے بھائیوں کو ٹھہرایا کہ انھوں نے اسے زہر دیا تھا۔ کچھ کے مطابق اس کی موت زیادہ شراب نوشی سے ہوئی۔ اکمل کی موت کے بعد اس نے اپنافلمی سفر جاری رکھا اور سدھیر۔ حبیب۔ یوسف خان کے مقابل اداکاری جاری رکھی لیکن اس کی سب سے کامیاب جوڑی اعجاز کے ساتھ بنی۔ اس مقبول ترین کامیاب جوڑی نے جوانی مستانی ً دلاں دے سودے ً شیراں دی جوڑی اور عشق نہ پوچھے ذات جیسی کامیاب فلمیں دیں۔

انہوں نے پنجاب کی مشہور رومانوی لوک داستانوں پر مبنی فلموں ً مرزا جٹ۔ ہیررانجھا اور مراد بلوچ میں مرکزی کردار ادا کیے۔ 1967 میں ریلیز ہونے والی فلموں میں اکمل کے ساتھ ً روٹی ً حبیب کے ساتھ ًجنٹرمینً اور اعجاز کے ساتھً دلاں دے سودے ً نے اسے شہرت کی مزید بلندیوں پر پنچا دیا۔ ہدایتکار مسعود پرویز نے 1970 میں جب ہیررانجھا کے لئے فردوس سے ہیر کے کردار کے لئے پوچھا تو اس نے فوراً ہاں کر دی۔ مسعود پرویز جیسے منجھے ہوئے ہدایتکار کے لئے یہ ایک بہترین چناؤ تھا۔

کیونکہ فردوس میں پنجاب کی ماجھے دی جٹی کی تمام خوبیاں موجود تھیں۔ گورا رنگ۔ بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں اور متناسب جسم۔ ہیر کے اس کردار کو فردوس نے اس خوبی سے نبھایا کہ امر کر دیا۔ ہیر رانجھا میں اس پر فلمائے گئے نغموں ً سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے ً اور چن ماہیا تیری راہ پئی تکنی آں ً نے اسے لاکھوں فلم بینوں کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔ جب آپ فلم ہیر رانجھا دیکھتے ہیں اس کے مد مقابل باقی ساری فلمیں آپ کو پھیکی پھیکی دکھائی دیتی ہیں۔

اس فلم کو فردوس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دے سکتے ہیں۔ اسی سال آنے والی اس کی ً ماں پترً بھی ایک پلاٹینم جوبلی فلم تھی۔ ً دنیا مطلب دی ً بھی اس سال کی ایک کامیاب ترین فلم تھی۔ فردوس کی درخشاں اداکاری نے اس کو ایک نہ بھولنے والی اور دلوں پر راج کرنے والی اداکارہ بنا دیا تھا۔ فردوس نے پاکستان فلم انڈسٹری میں فلموں میں بہت خوشگوار اور صحت مند کرداروں سے فلم بینوں کر سینما تک لانے میں لازوال کردار ادا کیا۔ اس کی فنکارانہ صلاحیتوں کی ایک بہترین مثال 1971 میں بننے والی فلم ً آنسو ً تھی۔ جس میں اس نے بھرپور جوانی میں کریکٹر ایکٹر کا رول بہت ہی خوبی سے نبھایا۔ ضدی اور بنارسی ٹھگ بھی اس کی کامیاب ترین فلمیں تھی جن میں اعجاز اس کے ساتھ ہیرو تھے۔

فلم ہیر رانجھا کی فلمبندی کے دوران وہ اداکار اعجاز کے بہت قریب آ گئی۔ جب اس بات کا پتہ اعجاز کی بیوی معروف گلوکارہ نور جہاں کو چلا تو اس نے فردوس پر فلمائے جانے والے گانے گانے سے انکار کر دیا۔ اس وجہ سے اسے متعدد فلموں سے کٹ کر دیا گیا۔ حتی کہ اسے فلم آنسو میں کریکٹر رول ادا کرنا پڑا۔ جس میں اس نے اداکار شاہد کی ماں کا کردار ادا کیا۔ حالات سے بددل فردوس نے نشے میں پناہ ڈھونڈی اور اس دور کے سارے نشے آزما ڈالے۔

فلم آنسو کی فلمبندی کے دوران شاہد سے قربت بڑھی تو ایک دن وہ میانی صاحب کے قبرستان میں نشے میں دھت پائے گئے۔ اداکار شاہدکے ساتھ اس سکینڈل نے دونوں کے فلمی سفراور ذاتی کردار پر بہت برا اثر ڈالا۔ ممتاز۔ آسیہ اور انجمن جیسے تازہ چہرے آنے پر اس کی ڈیمانڈ میں کمی آئی تو اس نے 1976 میں فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ 1967 سے لے کر 1973 کا زمانہ اس کے فلمی سفر کے عروج کادور تھا۔ فردوس نے اپنے فلمی کیرئیر میں ایک سو پچھتر سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔

اپنے عروج کے دور میں اس نے لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں ایک شاپنگ مال ً فردوس ماکیٹ ً کے نام سے بنایا۔ ایک وقت میں اس مارکیٹ پر انکم ٹیکس والوں نے چھاپا مار کر فردوس پر ٹیکس نادہندہ ہونے کے الزام میں قبضہ کر لیا تھا جس کا بھی ایک بڑا سکینڈل بنا تھا۔ لیکن پھر انہوں نے وہ مارکیٹ ٹیکس والوں سے واگزار کروا لی۔ ایک اطلاع کے مطابق فردوس نے فلمی کیرئیر کے آخر میں مایوس ہو کر اداکار اعجاز کے سیکریٹری تاج سے شادی کر لی تھی۔ اب وہ اپنے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ گلبرگ میں ایک خاموش اور فلمی دنیا سے الگ تھلگ زندگی گزار رہی ہیں۔ اب بھی وہ اربوں کی قیمت والی فردوس مارکیٹ کی مالک ہیں۔ ان کے ایک بیٹے کی شادی اداکارہ نشو کی بیٹی سے چند سال قبل انجام پائی تھی۔

نورجہاں کے مقبول ترین نغمات ان پر فلمائے گئے جو آج بھی لوگوں یاد ہیں۔

ماہی وے سانوں بھل نہ جاویں فلم مرزا جٹ

ًًً ً سانوں نور والے پل تے بلا کے ماہی کتھے رہ گیا۔ فلم۔ دکھ سجناں دے

ً لال میری پت رکھیو بلا جھولے لا لن۔ سندھڑی دا فلم۔ دلاں دے سودے

ً چن ماہیا تیری راہ پئی تکنی آں فلم ہیر رانجھا

ً سن ونجلی دی مٹھڑی تان وے فلم ہیر رانجھا

ً سنج دل والے بوہے اج میں نیوں ٹوئے فلم مرزا جٹ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *