کالم نگاری کا جواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”میری وفات“ جناب اظہارالحق کے کالموں کا نیامجموعہ ہے جو ان کے ایک کالم کا عنوان بھی ہے۔ میں قندِ مکرر کا مزہ لے چکا تو خیال ہوا کہ آپ کو بھی اپنے تاثر میں شریک کروں۔

اظہارالحق قادرالکلام شاعر ہیں۔ جاندار شاعری کے دولوازم ہیں :افتادِ طبع اورسازگارماحول۔ رحجان تو ساتھ لے کرآئے۔ فطرت نے مشاطگی کایوں اہتمام کیا کہ ایک علم دوست گھرانے میں ورود ہوا۔ گزشتہ دو نسلوں کو تو میں خود جانتا ہوں۔ ان کے دادا میرے والدِ گرامی کے گہرے دوست تھے کہ اصلاً علم دوست تھے۔ ابا جان کے ورثے میں اُن کا ذکرِ خیراور کچھ خطوط بھی شامل ہیں۔ یوں زمانی بُعد کے باوصف میں ان کو جانتا ہوں۔

اظہار صاحب کے والدبھی عالم تھے اور صاحبِ دیوان شاعر۔ جہاں سے ایک بار دریا گزر جائے، زمین تادیر نم رہتی ہے۔ یہاں معلوم ہوتا ہے کہ دریا کی روانی میں کمی نہیں آئی۔ اس پر مستزاد ان کا علم و فضل اورمطالعہ۔ فطرت اسی طرح لالے کی حنا بندی کرتی ہے۔

اچھا شاعر ہونا لیکن اچھا کالم نگار ہونے کی سند نہیں۔ بہت سے شاعروں نے اس میدان میں قدم رکھا مگرلغت نے ساتھ دیا نہ خامہ وخیال نے۔ وہ نادر خیالات اور الفاظ جو شاعری کی دنیا میں ان کے غلام بن جاتے ہیں، کالم نگاری میں قدم رکھتے ہی اعلانِ بغاوت کر دیتے ہیں۔ کوشش کے باوجود گرفت میں نہیں آتے۔ منیر نیازی جیسا بے بدل شاعر بھی، اس میدان میں اترا تو انہیں مہار نہ ڈال سکا۔ انہیں تو خیرز ندگی ہی میں اندازہ ہوگیا کہ یہ ایک دوسری دنیاہے۔ بہت سے تو تادمِ مرگ اس پا افتادہ حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے۔ ان کے کالموں پر عوامی ردِ عمل، ا نشا اللہ ان کی مغفرت کا باعث بنے گا۔

یہ ایک عمومی بات ہے ورنہ استثنا کہاں نہیں ہوتا۔ جیسے پروین شاکر۔ ان کے کالموں میں شگفتہ نگاری کے کیا اچھے نمونے پائے جاتے تھے۔ اگر آج بھی کتابی صورت میں شائع ہوں توقندرِمکرر کا مزہ دیں۔ تاہم ایسے شاعرکالم نگاروں کی صف بہت طویل نہیں۔ ایک ہاتھ کی انگلیوں پر شمار ہوسکتے ہیں۔ اظہارصاحب یقیناً ان ’پنج تن‘ میں شامل ہیں۔

ایک اچھاشاعر بالعموم ایک اچھا کالم نگار کیوں نہیں بن سکتا؟ مشفق خواجہ زندہ ہوتے تو میں جواب کے لیے اُن سے درخواست کرتا۔ اب سوال کو، اس پیغام کے ساتھ کہ ’صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے‘ ، میں خود کو اظہار الحق صاحب کی کالم نگاری تک محدود رکھنا چاہتاہوں کہ ایک کالم ایک موضوع ہی کا متحمل ہو سکتا ہے۔ کثرت موضوعات کی ہو یا ازدواج کی، اس کے تقاضے نبھانا آسان نہیں۔

جناب اظہارالحق نے جب بھی انسانی رشتوں پر لکھا ہے، قلم توڑدیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایسے کالم وہی لکھ سکتا ہے جس نے ان ذائقوں کو چکھا ہو۔ رشتے اتفاق سے قائم ہوتے اورانفاق سے زندہ رہتے ہیں۔ جب انسان کسی کے لیے دل کادروازہ اور وسائل کا منہ کھول دیتا ہے تویہ شہادت ہے کہ وہ رشتوں کی قدرو قیمت سے واقف ہے۔ وہ اس باب میں حق الیقین کے درجے پر فائز ہو چکاکہ انسانی رشتے دنیاوی وسائل سے کہیں قیمتی متاع ہیں۔ جو آسودگی فطرت نے انسانی رشتوں میں سمو دی ہے، اس کا لذت آشنا وہی ہو سکتا ہے جس نے ان کی گود میں پرورش پائی ہویا انہیں اپنی گود میں پروان چڑھایا ہو۔ اظہار صاحب نے ان رشتوں کے فطری جمال کواس طرح لفظوں کا لبادہ پہنایاہے کہ پڑھتے وقت، ہم انہیں دیکھ بھی سکتے ہیں۔

انسانوں کے ساتھ رشتوں کا یہ حسن وجمال روایت میں ڈھلتاہے توایک خوب صورت معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ وہ معاشرہ جو ہمارے لیے ایک یاد بنتا جارہا ہے۔ صنعتی انقلاب نے ان رشتوں کو نگلنا شروع کیا تو اقبال نے نوحہ لکھا اور عہدِ حاضر ’کو ملک الموت قرار دیا۔ اظہار الحق کے کالم اس دور کے‘ عزرائیل ’سے ہمیں خبردار کرتے اور اس زیاں کا احساس دلاتے ہیں جو روز افزوں ہے۔

انسان کا ایک رشتہ اپنے پروردگار کے ساتھ بھی ہے۔ میرا احساس ہے کہ انسانی رشتوں کو بھی وہی نباہ سکتا ہے جو اِس رشتے کی گہرائی اورلطافت سے واقف ہو۔ جو خدا کے ساتھ رشتے کو پہچان گئے، وہ انسانوں کے لیے رحمت بن گئے۔ جو جتنا اس تعلق کو نبہاتا گیا، اپنے سماج کے لیے اتنی بڑی رحمت بنتا گیا۔ جس نے سب سے زیادہ اس تعلق کو پہچانا، لازم تھا کہ اسی کے سر پہ رحمت للعالمین کا تاج ہوتا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ کالم اس دعوے کی دلیل ہیں۔

اظہار الحق صاحب نے حرمین شریفین کے اسفار اور احوال پربھی لکھا ہے۔ وہ کالم اگرچہ اس مجموعے میں شامل نہیں لیکن ان کا ذکر کیے بغیر یہ مضمون مکمل نہیں ہو تا۔ یہ کالم خدا اور بندے کے تعلق کا بہت دل کش بیان ہیں۔ احساس کو الفاظ کی گرفت میں لانا آسان نہیں ہوتا۔ اکثر اظہار کے اسالیب پیچھے رہ جاتے ہیں اور آدمی آگے نکل جا تا ہے۔ انسانی سماج کی تفہیم میں، یہ سوال اہم ہے کہ تعلق باللہ کے نخیل پرانسانی رشتوں کے جو گلاب کھلتے ہیں، ان کی مہک، دیگر تہذیبوں کی فضا میں پروان چڑھنے والے رشتوں کی خوشبو سے کیسے مختلف ہوتی ہے۔ اظہار صاحب کے کالم اس باب میں راہنما بن سکتے ہیں۔

کالم زیادہ سنجیدہ ہو گیا، اس لیے سیاست کی طرف رخ کرتے ہیں جو اظہار صاحب کے موضوعات میں شامل ہے۔ اس باب میں، میں خود کو برادرِ عزیز یاسر پیرزادہ سے پوری طرح متفق پاتا ہوں۔ قدرت کا منشا یہی معلوم ہوتا ہے کہ اظہار صاحب کا قلم سیاست سے آلودہ نہ ہو۔ اسی میں سب کی بہتری ہے، ان کی بھی اور عامتہ الناس کی بھی۔ ( بہت سے لوگوں کا میرے بارے میں بھی یہی خیال ہے۔ جس طرح میں ان خواتین و حضرات کی رائے کو در خور اعتنا نہیں سمجھتا، مجھے یقین ہے کہ اظہار صاحب بھی، میری اس رائے کے ساتھ یہی سلوک کریں گے۔ اس خدشے کے باوجود، کوئی حرج نہیں اگر میں یہاں اپنی بات کہہ دوں۔ آخر ہم بہت سے کام سعی لاحاصل سمجھ کر بھی کرتے ہیں ) ۔

خیال ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کے تذکیہ نفس کے لیے قدرت نے تکوینی طور پر یہ اہتمام کر رکھا ہے کہ انہیں لہو ولعب اور دنیاوی آلائشوں سے پاک رکھا جائے۔ جیسے بہت سے صالح لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ کبھی وزن میں شعر نہیں پڑھ سکتے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ پوری زندگی، ان کی صالحیت کی یہی ایک نشانی عوام پر ظاہر ہوتی ہے۔ شاید اس برہانِ قاطع کے بعد، قدرت نے بھی کسی اور دلیل کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

اظہار صاحب چونکہ خود شاعر ہیں، اس لیے قدرت نے ان کی تطہیر کا یوں اہتمام کیا کہ سیاست کی آلودگیوں، حتیٰ کہ اس کے فہم سے بھی دور رکھا۔ یوں ’معصوم‘ نہ سہی، وہ ’محفوظ‘ تو ہوگئے۔ جب وہ سیاسی موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ مولانا طارق جمیل غالب کے کسی شعر کی شرح کرر ہے ہیں۔ (اظہار صاحب کی کالم نگاری زیر بحث ہے، اس لیے اسی مثال پر اکتفا کیجیے۔ اگر ان کی جگہ یاسر پیرزادہ ہوتے تو قلم کو مہار ڈالنا مشکل ہوتا۔ )

میرا خیال ہے سیاست پر لکھنے کا عذر اظہارصاحب کے پاس بھی وہی ہے جو میں اپنے سیاسی کالموں کے حق میں پیش کرتا ہوں۔ اخبار کے کالم نگار کے لیے اس سے مفر نہیں۔ اگر وہ اس سے آزاد ہو سکتے تو شاید سیاست سے گریز ہی کرتے کہ طبعاً اس دنیا کے آدمی نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہو پاتا تو یقیناً ان کا ہر کالم مستحق ہوتا کہ اس سے قندِ مکرر کا مزہ لیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم سب ایک محدود دنیا ہی میں سفر کر سکتے ہیں کہ محدودزندگی کا تقاضا یہی ہے۔

اظہار صاحب کا یہی خدمت ان کے احترام کے لیے بہت ہے کہ انہوں نے کالم نگاری میں اردر زبان کے بانکپن کو زندہ رکھا۔ یہ خدمت کچھ اور لوگ بھی سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب ہماری تحسین کے مستحق ہیں۔ کسی کالم میں، اگر دو میں سے ایک خوبی پائی جاتی ہوتو وہ اس کی اشاعت کا جواز بن جاتی ہے۔ ایک اسلوب کا حسن اور دوسرا نفسِ مضمون۔ اظہار صاحب کے کالموں میں دونوں خوبیاں موجود ہیں۔ یوں یہ مجموعہ ہر طرح سے اپنی اشاعت کا جواز رکھتاہے اور پذیرائی کا بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *