مُلاّ ضعیف ‘بن لادن اور مہربان امریکی خاتون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغان طالبان پر دو کالموں کے بعد‘ ”حالاتِ حاضرہ‘‘ کی طرف لوٹ آنے کا ارادہ تھا کہ اس حوالے سے لکھنے کو کئی موضوعات ہیں۔ پنجاب حکومت کا نوازشریف کی ضمانت میں توسیع سے انکار اور فارن آفس کا ”سزا یافتہ قیدی‘‘کی واپسی کے لیے برطانیہ کو خط ‘ قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی مسلسل ”غیر حاضری‘‘ پر فواد چودھری کی بے چینی وبے تابی‘ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے کراچی میں وسیع ترسیاسی رابطے ‘ مولانا کو بڑے چودھری صاحب کا فون‘”امانت علی‘ سلامت علی‘‘ پر خاموش رہنے اور نئے ”کٹے‘‘ نہ کھولنے کا مشورہ اور اس پر مولانا کا جواب کہ”امانت علی‘‘،”سلامت علی ‘‘ پر ضروربات ہوگی”خیانت … پر نہیں‘‘ ۔گزشتہ روز کامتنازع عورت مارچ بھی ایک گرما گرم موضوع تھا۔
اتوار کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں‘ فراغت کے کچھ لمحوں میں پرانے کاغذات کی چھان پھٹک کے دوران‘ ملا عبدالسلام ضعیف کی یاد داشتوں پر نظر پڑی ۔ ملا ضعیف پاکستان میں طالبان کی امارات ِ اسلامی افغانستان کے سفیر تھے‘ جب نائن الیون کے بعد امریکیوں نے افغانستان پرچڑھائی کی۔ ”دہشت گردی کی (امریکی )جنگ ‘‘میں صدر مشرف امریکہ کے ”نان نیٹو‘‘ اتحادی بن گئے تھے‘تب یہاں سے جو لوگ امریکیوں کے سپرد کئے گئے‘ ان میں ملا ضعیف بھی تھے۔
وہ تین سال دس ماہ امریکیوں کی حراست میں رہے‘گوانتا نامو سے رہائی کے بعدپشتو میں ان شب وروز کی داستان قلم بند کردی ۔ تب میں جدّہ میں ایک اخباری ادارے سے منسلک تھا ۔ ملا ضعیف کی اس آپ بیتی کے کچھ حصوں کاایک ”پشتو دان‘‘ سے ترجمہ کروایا اور شائع کردیا۔ 29فروری کو دوحہ امن معاہدے کے موقع پر ملا ضعیف بھی نظر آئے۔ سوچا آج کا کالم کیوں نہ ملا ضعیف کی نذر کردیا جائے‘ اس روداد سے کچھ اقتبا سات :۔
یہ2جنوری2002ء کی صبح تھی‘ جب تین سرکاری اہل کار ملا ضعیف کے ہاں پہنچے۔ ایک نے بات کا آغاز کیا”Your Excellency, You are no more Excellency‘‘،”آپ جانتے ہیں‘ امریکہ بہت بڑی طاقت ہے کوئی اس کے مقابلے کی ہمت کرسکتا ہے‘ نہ اس کا حکم ماننے سے انکار کی جرأت۔ امریکہ کو کچھ پوچھ گچھ کے لیے آپ کی ضرورت ہے ۔ہم آپ کو امریکہ کے حوالے کرنے آئے ہیں تاکہ اس کا مقصد بھی پورا ہو اور پاکستان کو بھی بڑے خطرے سے بچا لیا جائے‘‘۔
اور پھر ملا ضعیف کو پشاور پہنچا دیا گیا۔انہیں قیدیوں کے لیے مخصوص کمرے میں لے جایا گیا۔ ملا ضعیف لکھتے ہیں ”اس دوران حکام آتے جاتے رہے۔ وہ مجھے دیکھتے اور اشک بھری آنکھوں کے ساتھ لوٹ جاتے۔ایک شخص تو روتے روتے بے ہوش ہوگیا۔ تیسری شب کمرے سے نکال کر (پہلی بار) ہتھکڑیاں لگائی گئیں‘ آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھی گئی۔ تلاشی کے دوران جیبوں سے ڈیجیٹل ڈائریکٹری‘ پاکٹ سائز قرآن مجید کا نسخہ اور نقدی نکال کر گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد ہیلی کاپٹر کی آواز سنی۔ اب میں امریکیوں کے حوالے اور ان کی لاتوں ‘ گھونسوں اور مُکوں کی زد میں تھا۔ کبھی اوندھے منہ لٹادیا جاتا‘ کبھی کھڑا کرکے دھکا دیدیا جاتا۔ پھر اس عالم میں ہیلی کاپٹر میں دھکیل دیا گیا کہ میں بے لباس تھا‘ ہاتھ پائوں کس کے باندھ دیئے گئے اورچہرے کو سیاہ تھیلے سے ڈھانپ دیا گیا۔
اور اب آہنی دیواروں والے اس قید خانے کی روداد جو دومیٹر لمبا اور ایک میٹر چوڑا تھا ۔ بائیں جانب ایک بڑے کمرے میں کچھ اور طا لبان رہنما بھی تھے اور پھر انٹیروگیشن سیل ‘جہاں پہلی بار اسامہ بن لادن ‘ ملا عمر اور نائن الیون کے حوالے سے سوالات‘ جس پر ملا ضعیف کے سارے جوابات نفی میںتھے۔ یہ سلسلہ پانچ دن جاری رہا‘ یہاں مار پیٹ نہ تھی ۔اور پھر بگرام منتقلی ‘آٹھ زیر حراست ہمسفروں میں ایک عرب اور ایک امریکی مسلمان بھی تھا۔
بگرام میں بھی اسی شرمناک تشدد کا سامنا اور وہی اذیت دہ تفتیش ‘” بتائو‘ اسامہ کہاں ہے؟ ملا عمر کہاں چھپا ہوا ہے؟ تم نے نیو یارک اور واشنگٹن میں کیا کیا؟‘‘ دروازے پر ایک امریکی خاتون افسر کو دیکھا ‘ وہ قریب آئی اور نرم وملائم لہجے میں پوچھا‘ کیسے ہیں آپ؟ ملا ضعیف کے بقول: ”میں نے پہلی دفعہ کسی امریکی کو انسانیت کا مظاہرہ کرتے دیکھا ۔ خاتون نے پوچھا‘ انگریزی آتی ہے؟ بے پناہ نقاہت کے باعث ہونٹوں کو جنبش دینا بھی محال تھا۔ خاتون سمجھ گئی ‘ اور واپس کرسی پر جابیٹھی۔
میرا خیال تھا کہ یہ گوانتا ناموبے کا جزیرہ ہو گا‘ مگر کمرے کی دیواروں پر پشتو زبان میں طالبان کی تحریریں دیکھیں ‘ جن کے ساتھ تاریخیں بھی لکھی ہوئی تھیں‘تویقین آگیا کہ یہ گوانتانامو بے نہیں افغانستان کا ہی کوئی علاقہ ہے۔ میں دورانِ قید ایک بھی نماز نہ پڑھ سکا‘ کھانا نہ پینا‘ نیند بھی وہی جو بے ہوشی کی حالت میں ہوتی۔ چہرہ خون سے لتھڑا ہوا اور بدن سے درد کی ٹیسیں اٹھتی تھیں۔ شام کو حالت تھوڑی سنبھلی اور زبان کو حرکت ملنے لگی ‘اس دوران دوسرے فوجی آگئے جن سے میں نے انتہائی نحیف آواز میں پوچھا Can You help me? انہوں نے پوچھا: کس چیز کی ضرورت ہے؟
میں نے نماز پڑھنے کی اجازت چاہی جو انہوں نے دے دی۔ میں نے بندھے ہاتھوں سے تیمم کیا اور بیٹھ کر نماز پڑھنا شروع کی۔ اس دوران دوفوجی میرے قریب بیٹھ گئے ‘ مجھے ڈر تھا کہ وہ نماز مکمل نہیں کرنے دیں گے‘ مگر اللہ نے رحم کیا اور میں نے پوری نماز پڑھ لی۔
سلام پھیر نے کے بعد ایک فوجی نے ‘فارسی میں کھانے کاپوچھااوریہ بھی کہ سردی تو نہیں لگی؟ میرا جواب الحمدللہ ہوتا ۔ شکایت کرتا نہ کچھ مانگتا تھا۔ انہوں نے اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے بارے میں پوچھنا شروع کیا اور ہر سوال کا جواب نفی میں پا کران کا رویہ مزید سخت ہوجاتا۔یہاں چھ دنوں میں میں نے کھانا نہیں کھایا‘ کیونکہ جو خوراک وہ دیتے اس بارے میں مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ حرام ہے یہ حلال؟چھ دن بعد ایک گلاس چائے کے ساتھ آدھی افغانی روٹی دی گئی جس کے بعد چائے کے ساتھ ایک روٹی روزانہ دی جانے لگی ۔
پورا ایک مہینہ اسی طرح گزرا۔ پہرے پر مامور فوجیوں کو ہدایت تھی کہ مجھے سونے نہ دیا جائے۔ میں بیس دن تک بے خوابی کا شکار رہا‘ نہ کھانا وقت پر ملتا اور نہ ہاتھ پائوں کھلے ۔وہی دوافراد آتے اور ایک ہی قسم کے سوالات پوچھتے رہتے۔
گوانتا نامو سے رہائی کے بعد عربی اخبار ”الحیاۃ‘‘میں ملا عبدالسلام ضعیف سے ایک سوال نائن الیون اور اسامہ بن لادن کے حوالے سے بھی تھا‘ جس پر ملا ضعیف کا جواب تھا: اسامہ بن لادن ہمارے مہمان تھے۔ امریکہ انہیں حوالے کرنا کا مطالبہ کررہاتھا۔ اسامہ کو امریکیوں کے حوالے کرنا شرعی قواعد کی رو سے درست نہیں تھا۔ طالبان حکومت نے اسامہ کا مقدمہ اسلامی شرعی عدالت میں چلانے کی پیش کش کی تھی‘ لیکن امریکی مغرور اور متکبر تھے۔ انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر افغانستان پر بمباری شروع کردی۔
اور اب گوانتا ناموکے روز وشب کی روداد: 8یا9فروری2002ء کا دن‘ جہاز سے تمام ”قیدیوں‘‘ کو اتارا گیا۔ ان میں قطر کے سالم‘یمن کے سلمان‘ کویت کے شیخ فیض‘ الجزائر کے سمیراورطارق اور افغانستان کے محمد قاسم حلیمی تھے… گوانتا نامو میں ایک خیمے میں بیس افراد سما سکتے تھے۔ یہ خیمے چاروں طرف نظر آتے تھے۔ نارنجی رنگ کی شلوار قمیص ‘اوڑھنے کے لیے چادر‘ ایک جوڑا جراب‘ بوٹ اور کپڑے کی ایک ٹوپی‘ ہر قیدی کی کل متاعِ زیست تھی۔ملا محمد صادق بھی اسی خیمے میں لائے گئے‘ ان کا تعلق صوبہ ارزگان سے تھا۔ یوں لگتا تھا‘ اس سردی میں ہم مرجائیں گے۔ کچھ دیر بعد ہر خیمے سے اذان کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ اتنی مسحور کن صدائیں کہ ہم سردی‘ درد اور بھوک پیاس سمیت ساری اذیتیں بھول گئے۔ ملا اخوندنے الحمد للہ کہا اور سجدے میں گر گئے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *