اس ڈور کا سرا کوئی نہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کیسا بے وقوف انسان تھا جو اپنے ہی اعضا سے جھگڑ رہا تھا! اپنے جسم کے اعضا سے!
ہاتھوں کو طعنے دے رہا تھا کہ میرے پائوں تم سے زیادہ اچھے ہیں۔ وہ میرے زیادہ خدمتگار ہیں، وہ مجھے چلا کر کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں۔ تم تو ایک قدم بھی نہیں چلا سکتے!
پھر وہ اپنی آنکھوں پر برس پڑا! ناک تم سے زیادہ مفید ہے! سونگھنے میں مددگار ہے! تم تو رات کو بند ہو جاتی ہو! تم تو نیند کے دوران دیکھ ہی نہیں سکتیں!
پھر وہ اپنے جگر کی برائیاں کرنے لگ گیا۔ دل تم سے زیادہ مفید ہے! خون سارے بدن کو سپلائی کرتا ہے۔
پھر اس نے گردوں کی تعریف کی اور اپنے پھیپھڑوں کی برائی کرنے لگ گیا۔ پنڈلی پر برس پڑا کہ تم سے تو گھٹنا اچھا جو ٹانگ کو موڑنے، فولڈ کرنے میں مدد دیتا ہے!
آپ کا کیا خیال ہے، کوئی ایسا احمق ہوگا جو اپنے ہی اعضا سے جھگڑے گا؟ ایک عضو کو دوسرے کے خلاف بھڑکائے گا؟ ایک کی تعریف کرے گا دوسرے کی تنقیص؟نہیں! یہ ممکن نہیں! احمق سے احمق، جاہل سے جاہل کو بھی معلوم ہے کہ اس کے جسم کا ہر حصّہ اس کی آرام دہ زندگی کے لیے ضروری ہے! ہر عضو کا اپنا کردار ہے! اندھے سے پوچھو، آنکھیں کتنی بڑی نعمت ہیں! جس کے ہاتھ نہیں، اس کی بدقسمتی کا اندازہ لگائو! دل، جگر، پھیپھڑے، گردے سب مل کر ہی جسم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں! کوئی ایک عضو بھی کام کرنا بند کردے تو باقی اعضا بیکار ہوجاتے ہیں! پھیپھڑوں کا اپنادائرہ کار ہے! گردے خون کی صفائی کرتے ہیں۔ نہ کریں تو انسان قبرمیں جا لیٹتا ہے۔ جگرکی پیوندکاری کے لیے انسان کروڑوں خرچ کرنے پر تیار ہے! تمام اعضا مل جائیں تب بھی دل کا نعم البدل نہیں ہوسکتے!
تو پھر یہ عورت مرد کا جھگڑا کیوں کھڑا کیا جارہا ہے؟ خاندان ایک جسم ہے! مرد عورت اس جسم کے اعضا ہیں! وہ بچی جو چیخ چیخ کر بے حال ہورہی تھی کہ ”باپ سے لیں گے آزادی‘‘ باپ نہ ہوتا تو عالمِ ارواح سے عالمِ وجود میں کیسے منتقل ہوتی؟ کیا کوئی بچہ ماں کے بغیردنیا میں آ سکتا ہے؟ اورکیا کوئی بچہ بن باپ کے زندگی کا چہرہ دیکھ سکتا ہے؟ عیسیٰؑ ابنِ مریم تو ایک ہی تھے!
ماں مرجائے تو بچے کی زندگی آزمائش بن جاتی ہے! تو کیا باپ مرجائے تو کچھ فرق نہیں پڑتا؟ ان سے پوچھو جن کے سرسے باپ کا سایہ چلا جاتا ہے! سعدی نے کہا تھا؎
مرا باشد از دردِ طفلان خبر/ کہ درطفلی از سر برفتم پدر
کہ یتیموں کے درد کا مجھے احساس ہے اس لیے کہ بچپن میں باپ کا سایہ میرے سر سے اٹھ گیا تھا۔
پھر نصیحت کرتے ہیں کہ یتیم کے سامنے اپنے بچے کے چہرے کو نہ چومو کہ اسے محرومی کا احساس ہوگا۔ یتیم کے آنسو پونچھو، اس کے چہرے سے گرد صاف کرو۔ یتیم کے پائوں سے کانٹا نکالنے والے کو بہشت میں اس کانٹے کے بدلے میں پھول ملتے ہیں! ان بچیوں کے دل پرکیا گزرتی ہے، جن کے باپ دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ یہ باپ اور بھائی ہیں جو لڑکی کو سرخ جوڑا پہنا کر، شادی ہال میں، اس کے دائیں بائیں، اس کے بازوئوں کو سہارا دے کر، لاتے ہیں۔ بیٹی اور باپ کا رشتہ دنیاکا شیریں ترین میوہ ہے۔ یہ بیٹی ہے جو باپ کی خدمت میں اکثروبیشتر بھائیوں سے بہت آگے ہوتی ہے۔ سب کچھ باپ پر قربان کردیتی ہے۔ کتنے ہی ضعیف، بے بس، بوڑھے ہیں جن کا سہارا صرف اور صرف ان کی بیٹیاں ہیں۔ پھر یہ باپ ہے جسے بیٹی کے دکھ یا المیے کا پتہ چلتا ہے تو اس پردل کا دورہ پڑتا ہے۔ کتنے باپ ایسی خبر سن کردنیا ہی سے کوچ کر جاتے ہیں۔ افتخار عارف نے کہا ہے؎
بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چُھپے خواب کو پہچانتی ہیں
اور کوئی دوسرا اس خواب کو دیکھے تو برا مانتی ہیں
کتنے ہی بھائی ہیں جو اپنی جوانی تج دیتے ہیں کہ پہلے بہنوں کے ہاتھ پیلے کریں، ان کا جہیز بنائیں، یہاں تک کہ ادھیڑ عمر کو پہنچ کراپنی شادی کر پاتے ہیں!بیٹی کی پیدائش پر یہ ساس ہے جو واویلا کرتی ہے، بہو کو طعنے دیتی ہے۔ پھر بیٹے کو مجبورکرتی ہے کہ طلاق دو، دوسری شادی کرو۔ یہ سسر ہوتا ہے جو اپنی بیوی کو روکتاہے کہ ایسا نہ کرو! پھر یہ ماں ہے جو بیٹے کو دھمکی دیتی ہے کہ طلاق نہیں دو گے تو دودھ نہیں بخشوں گی!
اس میں کیا شک ہے کہ کئی بدبخت مرد ایسے ہیں جو بیٹی کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس کی پیدائش پر عورت کو زدوکوب کرتے ہیں، گھر سے نکال دیتے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ سیاہ بختو! تمہاری ماں بھی تو کسی کی بیٹی ہی تھی۔ عورت تھی! یہ ایک عورت تھی جس نے نوماہ تمہیں اپنے پیٹ میں رکھا۔ بے پناہ تکلیف کے ساتھ تمہیں جنم دیا۔ تم غلاظت میں لپٹے رہتے اگروہ تمہیں صاف نہ کرتی۔ راتوں کو جاگ جاگ کر تمہیں پالا۔ آج بیٹی کی پیدائش کا سن کر تمہارا چہرہ سیاہ پڑرہا ہے!!
یہ ایک نرس تھی جس نے اس کالم نگار کو بتایاکہ ہم بیٹی کی پیدائش کی خبردیتے ہوئے ڈرتی ہیں کیونکہ کچھ لوگ ہمیں ڈانٹتے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں کہ کیسی بُری خبر دے رہی ہو! اورعام طور پر یہ نوزائیدہ بچی کی دادی ہوتی ہے، جسے زیادہ صدمہ پہنچتا ہے!
کوئی اندھا ہی یہ کہے گا کہ مرد بے قصور ہیں اور کوئی پاگل ہی دعویٰ کرے گا کہ عورت کاکوئی قصور نہیں! گھر بچتاہے تو مرد عورت دونوں کے صبر سے، دونوں کی برداشت سے، گھر رونق پکڑتا ہے تو دونوں کی توجہ سے! یہ مرد ہے جوخاندان کو چھت مہیا کرتا ہے۔ صبح اٹھ کرمشقت شروع کرتا ہے۔ شام ڈھلے آتا ہے۔ بچوں کے منہ میں چوگ ڈالتا ہے۔ تن ڈھانپنے کے لیے کپڑے خرید کردیتا ہے۔ اپنے آپ کو پسِ پشت ڈال کربیوی اور بچوں کے لیے خریداریاں کرتا ہے۔ خود پرانے لیڑے، پرانی چپل پہنتا ہے۔ اہلِ خانہ کے لیے عید پر نئے ملبوسات، نئے جوتے لاتا ہے۔ بیوی بیمار ہوتو ہسپتال لے کر جاتا ہے۔ اخراجات برداشت کرتاہے!
یہ عجیب تماشا ہے کہ نیکی کاکام بھی مرد اور عورت مل کر کرتے ہیں اوربرائی میں بھی دونوں شامل ہوتے ہیں! دوسری شادی، پہلی کی موجودگی میں، ناپسندیدہ ہے تو سوکن بن کر آنے والی عورت ہی تو ہے! ساس ظلم کرتی ہے تواس کے ہاتھوں میں کھیلنے والااس کا بیٹا، مرد ہی تو ہے! کتنے ہی کارہائے خیر مرد عورت ملکر کررہے ہیں۔ خیراتی ہسپتال چلا رہے ہیں۔ یتیموں کوپال رہے ہیں۔ مردغریب پرور ہے تو اس غریب پروری میں اس کی بیوی برابرکی شریک ہے! یہ عورت ہے جو مردکی پشت پر پہاڑکی طرح کھڑی ہے۔ یہ عورت ہے جس کے اعصاب قدرت نے زیادہ مضبوط بنائے ہیں۔ بڑھاپے میں عورت مرجائے تو مردٹوٹ جاتا ہے اور دنوں یا ہفتوں میں پگھلنا شروع ہو جاتا ہے۔ بوڑھی بیوہ زندگی کو کھینچ جاتی ہے، مگر بوڑھا بیوی کے بعد مرنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتا۔ جتنے دن رہتا ہے، بیوی ہی کو یاد کرتارہتا ہے۔ خاموشی کا قفل منہ پرلگا دیتا ہے اور آہیں بھرتا ہے۔ یہ شعر ایک مرد ہی کا ہے؎
یہ تنہا زندگی پیری میں نصف الموت ہوتی ہے
نہ کوئی ہم سخن اپنا، نہ کوئی رازداں اپنا
یہ کہنا غلط ہے کہ عورت پر ظلم نہیں ہورہا۔ عورت پر ظلم ہو رہاہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت پرہونے والے اکثر مظالم جاگیرداری اور سرداری کاشاخسانہ ہیں۔ یہ جاگیردار ہیں جو بیٹیوں کی شادیاں قرآن سے کر رہے ہیں۔ بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر رہے ہیں۔ کاروکاری، سوارہ اور ونی انہی علاقوں میں رائج ہیں جہاں جہالت اورجاگیرداری کاگٹھ جوڑ ہے۔ رہا پنچایتی نظام تو تمام حکومتیں اس کی بقاکی ذمہ دار ہیں۔ عدلیہ کے متوازی یہ نظام بیک جنبشِ قلم ختم کردینا چاہئے!
بدقسمتی سے اہل مذہب، بہت سے معاملات میں انصاف نہیں کر رہے! کبھی کسی مولوی صاحب کوکاروکاری کے خلاف آواز اٹھاتے نہیں سنا۔ ہاں! یہ ایک مرد ہی ہے طارق جمیل جو وراثت میں بہنوں کوحصّہ نہ دینے والے مردوں کوخدا کے عذاب کی وعید سنا رہا ہے۔ اور کہہ رہا ہے کہ بہن کو حصّہ نہ دینے والا حرام خوری کا ارتکاب کرے گا!
سارا جھگڑا مصنوعی ہے۔ عورتیں اچھی ہیں! بُری بھی! مرد بھی سارے کے سارے پارسا ہیں نہ ولی! سارے شیطان بھی نہیں! چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے والے بزرجمہر آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں! ایسے مرد، ایسی عورتیں قوم کو افتراق میں ڈالنا چاہتی ہیں۔ خدا کے بندو! اللہ سے ہوشیار رہو! یہ ایک لاحاصل لڑائی ہے۔ لاحاصل بحث! اس ڈور کا سرا کوئی نہیں!
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *