ڈوب مرنے کا مقام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹی پارٹی سے کم و بیش ہر شخص واقف ہے۔ دوست احباب‘ اعزہ و اقارب مل بیٹھتے ہیں۔ چائے پیتے ہیں۔ آج کل ”ہائی ٹی‘‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ یعنی چائے کے ساتھ کیک‘ مٹھائیاں‘ سموسے‘ کباب وغیرہ! ایسی ہی کسی پارٹی کے اختتام پر ظفرؔ اقبال نے کہا؎
گھر والی کے واسطے‘ بچی نہ پیالی چائے کی
کتے بلّے آن کر کھا گئے کیک مٹھائیاں
جو بادہ نوشی کرتے ہیں‘ وہ اپنے لحاظ سے ڈرنکنگ پارٹیاں مناتے ہیں۔ غالبؔ اپنی مے گساری پر کبھی پردہ نہیں ڈالتے تھے۔
تبھی کہا؎
یہ مسائلِ تصوّف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
اور کبھی اپنی توبہ شکنی کا تذکرہ کیا؎
غالبؔ چھُٹی شراب پر اب بھی کبھی بھی
پتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہ تاب میں
برِّ صغیر میں مینگو پارٹیاں بھی شروع سے چلی آ رہی ہیں۔ تب سے جب آم کو مینگو کہنے والے انگریز ابھی وارد نہیں ہوئے تھے۔ مغل عہد میں انبہ یعنی آم کی تعریف میں قصیدے لکھے گئے۔ علامہ اقبالؒ کے دوست احباب بھی مینگو پارٹیاں منعقد کرتے تھے۔ علامہ ان میں باقاعدہ شریک ہوا کرتے۔ بیمار ہوئے تو ڈاکٹروں نے زیادہ سے زیادہ ایک آم کھانے کی اجازت دی۔ کوشش فرماتے کہ وہ ایک آم کلو بھر کا ہو! اکبر الہ آبادی سے علامہ کا دلی تعلق تھا۔ انہوں نے علامہ کے لیے لنگڑا آم بھیجا۔ یاد نہیں آ رہا کہ اس حوالے سے‘ یہ مشہور شعر اکبرؔ کا ہے یا علامہ کا؎
اثر یہ تیرے انفاسِ مسیحائی کا ہے اکبرؔ
الہ آباد سے لنگڑا چلا‘ لاہور تک پہنچا
ایک زمانہ تھا کہ ہر آئٹم کی الگ الگ پارٹی ہوتی تھی۔ کبھی صرف حلیم کی! کبھی پارٹی اس لیے منعقد ہوتی کہ پائے کھائے جائیں۔ یا صرف نہاری پارٹی۔ جب تک کھانے میں ایک ایک آئٹم رہا‘ مزہ تھا اور برکت بھی! کثرت سے قدر بھی گئی اور مزہ بھی! بیک وقت کئی کئی پکوان سامنے ہونے سے لطف و انبساط کا وہ عالم نہ رہا جو ایک ہی شے دل بھر کر کھانے سے ہوتا تھا۔ سامنے نہاری ہو‘ پائے بھی‘ حلیم بھی‘ مولی بھرے پراٹھے بھی‘ بکرے کے گوشت کا قورمہ بھی‘ تو کیا کھائیں گے اور کیا چھوڑیں گے! ہاں حلیم سے یاد آیا کہ حلیم مذکر تھا۔ پنجاب پہنچا تو جنس بدل گئی اور مونث ہو گئی۔
یوں بھی اہلِ پنجاب سے یہ شکوہ کیا جاتا ہے کہ گندم کو گندم کے ساتھ کھاتے ہیں یعنی حلیم کے ساتھ روٹی‘ جبکہ گندم حلیم میں پہلے سے موجود ہے! حلیم تو حلیم ہے‘ ہم اہلِ پنجاب آم کے ساتھ بھی روٹی کھاتے ہیں‘ خربوزے کے ساتھ بھی اور حلوے اور کھیر کے ساتھ بھی۔ اسے فقیری ہی کہیے کہ لازم نہیں‘ روٹی کھانے کے لیے قورمہ ہی ہو!
انتظار حسین نے اپنی خود نوشت میں بتایا کہ نہاری لاہور میں کیسے وارد ہوئی! ہمارے دوست‘ حضرت شائق الخیری کہ سول سروس میں تھے‘ کھانے کے دوران‘ نہاری دو تین بار گرم کراتے۔ ان کے دادا‘ علامہ راشد الخیری اردو ادب کا ایک قد آور نام ہے! اردو ناول نگاری کے سرخیل تھے۔ نوّے سے زیادہ تصانیف ہیں! صبحِ زندگی‘ شامِ زندگی‘ شبِ زندگی‘ گدڑی کا لال اور بنت الوقت کے علاوہ کئی تصانیف آج کل کے محاورے کی رُو سے ہِٹ ہوئیں۔ ان کا جاری کردہ جریدہ ”عصمت‘‘ بھی اپنے دور میں مقبول رہا۔ ”الزہرا‘‘ کے عنوان سے حضرت بی بی فاطمہ ؓکی سوانح لکھی اور با وضو ہو کر لکھی۔ سُنّی اور شیعہ دونوں طبقوں میں بے حد مقبول ہوئی۔ علامہ راشد الخیری کی زندگی ہی میں آٹھ ایڈیشن شائع ہوئے۔
بات نہاری پارٹی سے چلی تھی۔ علامہ راشد الخیری کی سوانح پڑھ کر شائق الخیری صاحب کی ”نہاری پسندی‘‘ کا راز بھی کھُلا۔ نہاری کی دعوتوں کا شوق راشد الخیری کو بہت تھا۔ جاڑوں میں ایک بار احباب کو ضرور کھلاتے۔ ایک ایسی ہی دعوت میں مولانا محمد علی جوہر‘ اپنے بڑے بھائی مولانا شوکت علی کے ساتھ شریک تھے۔ آگے کا ذکر سوانح نگار یوں لکھتے ہیں :
”دونوں بھائیوں اور ان کے ساتھیوں نے دلی کی نہاری خوب مزے لے لے کر کھائی۔ مولانا محمد علی نے اپنے ہاتھ سے تین نلیوں کا گودا نکالا۔ تیسری نلی ختم کر رہے تھے کہ مولانا شوکت علی نے کہا ”محمد علی ذرا روٹی اٹھانا‘‘ ان کا ہاتھ روٹی کی طرف بڑھا اور ادھر مولانا شوکت علی نے ہاتھ بڑھا کر گودا جو مولانا محمد علی نے نلی سے جھاڑا تھا‘ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا۔ مولانا محمد علی نے مسکرا کر کہا: سگ باش‘ برادرِ خورد مباش!‘‘
لیکن یہ سب کچھ تمہید تھی۔
اصل بات جو کرنی مقصود ہے‘ اور ہے! ٹی پارٹی‘ مینگو پارٹی‘ نہاری پارٹی‘ تو آپ نے دیکھی اور سنی ہیں۔ دو دن پہلے اُسی دِلّی میں جہاں نہاری کھائی جاتی تھی‘ ایک اور پارٹی منعقد ہوئی۔ یہ کس شے کی پارٹی تھی؟ دل تھام کر سنیے۔ یہ ”گئو موتر‘‘ پارٹی تھی۔ یعنی گائے کا پیشاب پینے کی۔ اس میں دو سو کے قریب انتہا پسند‘ بی جے پی کے پیروکار شامل تھے۔ مرد بھی‘ عورتیں بھی! نئے ملبوسات پہنے‘ گلوں میں ہار ڈالے‘ عورتیں زیورات سے لدی‘ ”گئو موتر‘‘ کے جام کے جام لنڈھائے گئے۔ کہا یہ گیا کہ کورونا وائرس کا علاج ہے۔ اس سے پہلے آر ایس ایس کے ”محقق‘‘ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ گائے کا گوبر اور پیشاب کینسر کا تیر بہدف علاج ہے۔ نہاتے وقت یہ انتہا پسند‘ صابن کی جگہ گوبر استعمال کرتے ہیں!
انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ بھارت کے سائنسدان‘ ڈاکٹر‘ پروفیسر خاموش ہیں! یا ان کی سنتا کوئی نہیں! کون سی ریسرچ کا نتیجہ ہے یہ؟ مغربی محقق جب کوئی نتیجہ نکالتے ہیں تو سالہا سال نہیں‘ عشروں پر تحقیق محیط ہوتی ہے۔ جو لوگ دوسروں کو معاف کر دیتے ہیں اور دلوں میں جذبۂ انتقام نہیں پالتے‘ ان پر ریسرچ کی گئی تو ستّر اسّی سال لگے۔ لوگوں کا ایک بڑا گروپ چُنا گیا۔ انہیں سالہا سال نگرانی میں رکھا گیا۔ تب جا کر ثابت ہوا کہ معاف کرنے والوں کو دل کی بیماریاں کم اور منتقم مزاج مردوں‘ عورتوں کو زیادہ لاحق ہوئیں۔
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ مقصود ہندو مذہب کی تنقیص یا تضحیک نہیں! اگر یہ ہندو مذہب کا حصّہ ہوتا تو ہمارے بزرگ بتاتے کہ تقسیم سے پہلے انہوں نے ہندوئوں کو یہ ”مشروب‘‘ پیتے دیکھا۔ ہندو پاکستان میں بھی رہتے ہیں۔ وہ یہاں کے با عزت شہری ہیں اور اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے باقی سب ہیں! بی جے پی والے ہندو ایسے ہی ہیں‘ جیسے یہودیوں میں صیہونی! کئی یہودی صیہونیت کے خلاف ہیں۔ یقینا بھارت میں سمجھدار اور ذی شعور عناصر موجود ہیں‘ مگر حکومت ادتیاناتھ‘ امیت شاہ اور مودی جیسے متعصّب‘ تنگ نظر اور جنونی ہندوئوں کے ہاتھ میں ہے۔ غلاظت پینے اور غلاظت جسم پر ملنے والے ان انسان نما جانوروں سے خیر کی توقع عبث ہے! عقل کے اندھوں کو یہ سمجھانا نا ممکن ہے کہ جو ہندو نہیں‘ وہ بھی انسان ہیں۔ انہیں بھی بھارت میں جینے کا حق حاصل ہے!
حیرت ہے کہ مغرب کا میڈیا‘ جو مسلمانوں کا مذاق اڑانے میں دیر نہیں لگاتا‘ اس غلاظت نوشی کی مذمت کر رہا ہے نہ تضحیک کر رہا ہے۔ کیا عجب‘ بی جے پی کے پیروکار‘ امریکہ‘ کینیڈا اور یورپ میں بھی ایسی پارٹیاں منعقد کریں! کیا مغربی حکومتیں اس وحشیانہ عمل کی اجازت دیں گی؟
انسان ذلّت کے گہرے گڑھوں میں پہلے بھی گرتا رہا ہے۔
کبھی آگ کی پرستش کرتا رہا‘ کبھی انسانی خون بہا کر دیوتائوں کو راضی کرتا رہا۔ کبھی اپنے جیسے انسانوں کو خدا کا درجہ دیتا رہا‘ مگر انسانیت اس سطح پر کبھی نہیں اتری تھی جس سطح پر مودی‘ بھارتیوں کو لے آیا ہے! یہ پست ترین سطح ہے! ذلیل ترین! دیکھیے یہ درندے‘ غلاظت نوشی کے بعد‘ اگلا ایسا قدم کیا اٹھائیں گے‘ جو انسانیت کے لیے مزید ڈوب مرنے کا مقام ہو!
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *