کچھ پڑھیے، کچھ درخت لگائیے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آفت آئی ہے تو کیا ہوا۔ میل جول کے اجتناب کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ اور اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ گھر پہ رہیے اور فضول کی آمدورفت سے پرہیز کریں تو اِس کو موقع جانتے ہوئے کچھ اچھے کام کر لینے چاہئیں۔ جو کتابیں نہیں پڑھی ہوئیں انہیں اُٹھانے کا وقت ہے۔ جس کسی کو بھی پڑھنے لکھنے کا شوق ہو اُس کے ارد گرد کتابیں پڑی رہتی ہیں، جن کا پڑھنے کا ارادہ تو ہوتا ہے لیکن کاہلی آڑے آ جاتی ہے۔ کورونا وائرس کے اس موسم میں اُن کتابوں کی طرف جانا چاہیے۔ ایک ہاتھ میں کتاب ہو دوسرے میں سامانِ باغبانی۔ موسم بھی بہار کا ہے۔ کسی نرسری جائیے اور کوئی پودا اُٹھا لائیے۔ تھوڑا سا بھی ٹکڑا زمین کا ہو تو اُس میں اچھے درخت لگانے کا یہ سنہری موقع ہے۔
میرے ایک مہربان ہیں جن سے ذاتی ملاقات کبھی نہیں ہوئی لیکن فون پہ بات ہوتی رہتی ہے۔ عابد گوندل صاحب راولپنڈی میں کنزرویٹر آف فاریسٹس (Conservator of Forests) لگے ہوئے ہیں۔ درختوں کے بارے میں اُن سے کبھی فون پہ بات ہوتی ہے تو وہ بھرپور معلومات مہیا کرتے ہیں۔ پچھلے سال اُن کی طرف سے دس چیڑ کے پودوں کا تحفہ ملا۔ باغبانی کی غرض سے میں کبھی کبھار لاہور سے اصغر کو بلا لاتا ہوں جو اُس سرائے میں ہیڈ باغبان ہیں جہاں میرا سفرِ لاہور میں قیام ہوتا ہے۔ ان دس پودوں کو لگانے کیلئے اصغر سے درخواست کی کہ وہ لاہور سے تشریف لائیں۔ اپنے تجربہ کار ہاتھوں سے انہوں نے یہ چیڑ کے پودے لگائے اور آج الحمدللہ سارے پودے مکمل صحت میں ہیں۔
ان کو دیکھ کے گوندل صاحب سے پھر درخواست کی اور انہوں نے کچھ اور چیڑ کے پودے عنایت کر دئیے۔ اگلے چند دنوں میں یہ پودے بھی زمین میں لگا دئیے جائیں گے۔ بارشوں کی وجہ سے زمین میں نمی یا جسے ہم وَتر کہتے ہیں خاطر خواہ ہے۔ پودوں کو لگانے کا اس سے بہتر موسم نہیں ہو سکتا۔ درخت لگانے کو ہی عبادت سمجھنا چاہیے۔ موسمِ بہار میں اب بھی بہت دن باقی ہیں۔ اگر کورونا وائرس کی وجہ سے بہت سی مصروفیات بجا طور پہ محدود ہو گئی ہیں تو اِس تعطل کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دھیان کتابوں اور درختوں کی طرف جانا چاہیے۔
رونا دھونا چھوڑیے۔ احتیاط تو لازم ہے لیکن بے جا فکر کو سینے سے لگانا بے وقوفی ہے۔ صبح سویرے کچھ چہل قدمی ہونی چاہیے اور ممکن ہو تو دن میں ایک پودا تو لگ جانا چاہیے۔ اُس کے بعد ہاتھ دھو کے کتاب اُٹھانی چاہیے۔ کوئی بھی کتاب ہو، ناول، کسی کی سوانح حیات حتیٰ کہ فضول سے فضول تحریر ہی کیوں نہ ہو۔ دن کے کچھ لمحات کتب بینی پہ صرف ہونے چاہئیں۔ اِس سے بڑی عبادت نہیں ہو سکتی۔ اور ساتھ ہی کچھ باغبانی پہ بھی وقت صرف ہو جائے تو یوں سمجھیے کہ راحت اور نجات کی چابی آپ کے ہاتھ آ گئی۔
کتنی اچھی چیز ہے کہ بیکار کی مصروفیات سے اجتناب کا کہا جا رہا ہے۔ اس تلقین سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے کہیں کسی کی غمی ہو تو ٹیلی فون کال پر اکتفا کرنا کافی سمجھنا چاہیے۔ فون اُٹھائیے اور تعزیت کر لیجیے۔ رہے خوشی کے مواقع تو اول‘ وہ منسوخ ہونے چاہئیں اور کسی بے وقوف نے ضد کرنی ہی ہے تو مبارکباد بھی ٹیلی فون کال کے ذریعے ارسال کر دینا عین عقلمندی کا تقاضا ہے۔ گھر میں بیٹھیے اور کچھ نیک کام کی طرف توجہ دیجیے۔
ایک نسخے پہ تو میں ضرور اصرار کروں گا۔ دن کے کسی بھی وقت اگر طبیعت موسیقی کی طرف مائل ہو تو ریڈیو سیلون کا پروگرام پرانی فلموں کا سنگیت سُننا نہ بھولیے۔ وقت کی پابندی اس میں کوئی نہیں۔ کسی بھی وقت اپنے سمارٹ فون پہ پروگرام انٹرنیٹ کے ذریعے سُنا جا سکتا ہے۔ اس پروگرام کے حوالے سے ریڈیو سیلون کی تمام اناؤنسرز کمال کی ہیں‘ بہرحال جوتی پرمار کا اپنا ہی انداز ہے اور آواز بھی کیا خوبصورت پائی ہے۔ گزرے زمانے کی موسیقی اور گانے سُنے جائیں تو دل کی آدھی بے قراری ختم ہو جاتی ہے۔ آج کل کی انسانی زندگی زیادہ ہی تیز ہو گئی ہے۔ اس میں تھوڑی سی رکاوٹ آئے تو اچھی چیز ہے۔ اِدھر اُدھر کی بھاگ دوڑ سے چند لمحات فرصت اور آرام کے مل جائیں تو اور کیا چاہیے۔
ٹی وی کے پروگرام تو ہر وقت اچھے ہونے چاہئیں لیکن اس موقع پہ اچھے پروگراموں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر لوگوں نے بھیڑ کی جگہوں پہ نہیں جانا، اور جانا بھی نہیں چاہیے، تو جب شام کو گھر بیٹھیں تو تفریح کا سامان کچھ تو ہو۔ اگر کتابوں کا مطالعہ بھی ہو‘ پھر بھی شام کو دل چاہتا ہے کہ کوئی اچھی چیز دیکھنے اور سُننے کو ملے۔ لیکن یہ کوئی اتنی مجبوری نہیں کیونکہ انٹرنیٹ اور اُس کے ذرائع یہ کمی پوری کر دیتے ہیں۔ پرانی فلمیں آپ دیکھ سکتے ہیں، اچھی سے اچھی موسیقی سُنی جا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں جو ذخائر انٹرنیٹ مہیا کرتا ہے اُن کو دیکھ کے انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ موسیقی کا کون سا طلسم ہے جو یوٹیوب پہ میسر نہیں۔ بھلے آپ کا ذوق جیسا بھی ہو۔ اپنے ہاں کی کلاسیکی موسیقی سننی ہو یا مغربی دنیا کی، ڈھونڈے سے ہر چیز مل جاتی ہے۔ اگر موسیقی کی جانکاری زیادہ نہ بھی ہو کورونا وائرس کے اس موسم میں انسان اس کمی کو تھوڑا بہت پورا کر سکتا ہے۔ سننا کیا چاہیے یہ تو اپنے اپنے ذوق پہ منحصر ہے لیکن شام کو آپ کہیں جا نہ سکیں اور کسی بڑے شہر میں رہتے ہوں اور ہر مصروفیت محدود ہو چکی ہو تو اِس سے کیا اچھا ہو سکتا ہے کہ گھر بیٹھے اچھی موسیقی سُن لی جائے۔
ہاں، ایک بات ضرور ہے کہ سائے گہر ے ہو چکے ہوں اور آپ گھر میں لتا منگیشکر یا نور جہاں کے پرانے گانے سُن رہے ہوں تو جی میں عجیب سی خلش پیدا ہوتی ہے۔ پھر دل چاہتا ہے کہ موسیقی کے ساتھ کچھ اور بھی ہو۔ یہ ہمارے ہاں ایک پرابلم ہے یا یوں کہیے کہ پرابلم بنا دیا گیا ہے۔ دہلی پہ مسلمان حکمرانوں کا راج تھا تو تب یہ پرابلم نہ تھا۔ مغلوں نے آ کے اپنی شاہانہ سلطنت قائم کی لیکن جن قباحتوں کی نشوونما مملکتِ خداداد میں ہم نے کی ہے وہ تب نہ تھیں۔ وہ روشن خیال حکمران تھے۔ ہم اپنے آپ کو اُن کے جانشین سمجھتے ہیں لیکن معلوم نہیں ہم اتنے تنگ نظر کیوں ہیں۔
بات بہرحال درختوں سے شروع ہوئی تھی۔ ایک بات سمجھ نہیں آتی، انگریز کتنی دور سے یہاں آئے۔ انہوں نے یہاں درخت لگائے تو یہاں کے حالات دیکھ کے۔ اسی دھرتی اور اسی ماحول کی مناسبت سے درختوں کا انتخاب کیا۔ ریلوے لائنیں بچھانے کیلئے اُنہیں شیشم کی ضرورت تھی لہٰذا وسیع پیمانے پہ شیشم کے درخت لگائے گئے۔ جو سڑکیں انہوں نے بنائیں ان کے ارد گرد شیشم کے پودے لگائے۔ لاہور مال پہ انگلستان سے پودے نہ منگوائے گئے بلکہ دیسی درخت پیپل لگایا گیا۔ مال کی آدھی خوبصورتی آج بھی اُن پیپل کے درختوں کی وجہ سے ہے۔ ہم نے پرانے درختوں کا قتلِ عام کیا۔
کسی سڑ ک کی توسیع یا اسے چوڑا کرنے کا منصوبہ بنا تو سب سے پہلے پرانے درختوں پہ آرا چلایا گیا۔ ایسا ظلم صرف یہیں سرزد ہوسکتاتھا۔ چوہدری پرویز الہٰی کے زمانے میں چکوال تلہ گنگ روڈ کی توسیع کا منصوبہ منظور ہوا تو آناً فاناً سوا چار ہزار پرانے درختوں‘ جن میں بیشتر شیشم کے درخت تھے‘ کا قتلِ عام ہوا۔ کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ چکوال کی تمام سڑکوں پر شیشم کے درخت ہوا کرتے تھے۔ ان سب کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ اب چکوال کی سڑکیں چوڑی ہو چکی ہیں لیکن دونوں اطراف سے بالکل ننگی دکھائی دیتی ہیں۔
دوسری بات یہ کہ پرانے درختوں کی جگہ ہم عجیب درخت لگائے پھرتے ہیں۔ کچھ سال پہلے غیر ملکی ماہرین نے ہمیں تلقین کی کہ یوکلپٹس کا درخت ہونا چاہیے۔ آنکھیں بند کرکے اور عقلوں پہ تالے لگا کے ہمارے سرکاری اہلکار ہر جگہ یوکلپٹس لگانے لگے۔ حتیٰ کہ زرخیز زمینوں پہ بھی یہ نامراد درخت لگا اور زمینوں کی تباہی ہونے لگی۔ موٹروے کو دیکھ لیجیے۔ اس کے ارد گرد اتنی خوبصورت فاریسٹری (forestry) ہو سکتی تھی لیکن ہمارے محکمے والوں نے یوکلپٹس کے فضول درخت لگا دئیے۔ آج کل ایک نیا جنون طاری ہے۔ کونوکارپس (Conocarpus) کے درخت لگائے جاتے ہیں صرف اس لئے کہ اُن کی بڑھوتی جلدی ہوتی ہے حالانکہ یہ درخت کراچی کے ساحل کا ہے اور یہاں اُس کا کوئی کام نہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *