’بہت سے پکوان جنھیں انڈین سمجھا جاتا ہے وہ اصل میں انڈین نہیں‘

یشسونی سمپت کمار - شیف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں انڈیا کے مصروف اور جدید ترین شہر ممبئی کے ایک ریستوران کے باورچی خانے میں تھی۔ مٹی کے برتن میں باورچی کھانا تیار کر رہا تھا۔ کیلے کے پتے، لکڑی اور کچھ دھات کے برتن باروچی خانے میں اِدھر اُدھر پڑے تھے۔

اس پکوان کی تیاری میں صرف انڈیا کے مقامی مصالحوں کا استعمال ہو رہا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ میکسیکو میں استعمال ہونے والی تیز مرچ اور جنوبی امریکہ کے آلو کی خوشبو جیسا اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔

باورچیوں میں سے ایک کستوری رنگن رامانوجم نے بتایا کہ اس دن بننے والے کھانے میں ’بند گوبھی، پھول گوبھی، مٹر یا گاجر میں سے بھی کچھ موجود نہیں ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘ وہ جو پکوان تیار کر رہے تھے اس میں چاول، ساترمنڈو، کوزمبو کا سالن اور کچھ سبزیاں استعمال ہونی تھیں۔

اسے وہ ’شردھا بھوج‘ کہتے ہیں۔ جنوبی انڈیا میں کئی ہندو خاندان کسی قریبی رشتہ دار کی برسی پر یہ سب ساتھ مل کر کھاتے ہیں۔ اس دن میرے سسر کی برسی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ادرک کے 100 گن

بھوپال کی تہذیب میں چٹوری گلی

کھچڑی کے چار یار، قیمہ، پاپڑ، گھی، اچار

ہیروں والے ٹفن کا خریدار نھیں ملا تو کھانا رکھ دیا

اس تقریب کا یہ مقصد ہوتا ہے دنیا سے چلے جانے والے بزرگوں کی ارواح کو سکون پہنچایا جائے۔ اس ’شردھا بھوج‘ سے مقامی کھانے کی تاریخ کے بارے میں بھی بہت کچھ جاننے کو ملتا ہے۔

اس موقع کے لیے تیار ہونے والے پکوانوں میں صرف انڈیا کے مقامی اجزا ہی شامل ہو سکتے ہیں جو کم از کم ایک ہزار سال سے اس خطے میں استعمال ہو رہے ہیں۔

دنیا بھر میں انڈین خوراک کو ٹماٹر سے بھرپور سالن اور نرم نان کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ حالانکہ ٹماٹر اصل میں پرتگال اور نان کا تعلق وسط ایشیا سے ہے۔ یعنی بہت سے پکوان جنھیں انڈین نژاد سمجھا جاتا ہے وہ اصل میں انڈین نہیں، یا ان میں شامل بہت کچھ انڈین نہیں ہوتا ہے۔

آلو، ٹماٹر، بند گوبھی، گاجر اور مٹر جنھیں دنیا بھر میں انڈین کھانے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، ان کی خطے میں آمد زیادہ پرانی نہیں ہے۔

اٹھارہویں صدی کی آخری دہائیوں میں ڈچ افراد کے ذریعہ آلو انڈیا پہنچا۔ حالانکہ آج یہ حیران کن بات لگتی ہے کہ آلو انڈیا میں باہر سے آیا ہے کیوں کہ اب آلو انڈین پکوانوں میں ابلے، بھنے، تلے، یا کسی چیز کے اندر بھرے جانے جیسی تمام شکلوں میں ہر روز نظر آتا ہے۔

انڈین پکوانوں کے تاریخ دان مرحوم کے ٹی اچاریہ کو یقین تھا کہ انڈیا میں مرچ کی آمد میکسیکو سے ہوئی اور اسے پرتگالی سیاح واسکوڈے گاما یہاں لے کر آئے تھے۔

ان کے مطابق پرچ نے اس ملک میں تیز ذائقے والے مصالحے کی ضرورت کو پورا کیا جس کے لیے زیادہ بارش کی ضرورت نہیں ہوتی اور جسے پورے ملک میں اگایا جا سکتا ہے۔

انڈین ٹیلیویژن کی پروڈیوسر رچی شریواستو کا کہنا ہے کہ ’اب اںڈیا کے تقریباً سبھی پکوانوں میں ٹماٹر استعمال ہوتا ہے۔ ٹماٹر نے انڈیا پہنچنے تک ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ جنوبی امریکہ سے جنوبی یورپ، پھر برطانیہ سے ہوتا ہوا 16ویں صدی میں ٹماٹر انڈیا پہنچا جس کے لیے برطانیہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔‘

رچی نے کہا کہ گذشتہ سو برسوں میں دنیا بھر میں انڈین ریستورانوں نے سُرخ کری کو انڈین کری کے طور پر مقبول بنا دیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’اس وجہ سے لوگوں کی انڈین ذائقوں کے ساتھ شناسائی بھی تبدیل ہوئی ہے۔ کوئی بھی شخص جو انڈین ذائقوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا اسے لگتا ہے کہ پیاز اور ٹماٹر سے تیار سالن ہی انڈین سالن ہوتا ہے۔’

حالانکہ ’شردھا بھوج‘ میں شامل پکوان انڈیا کی خوراک کی عکاسی کرتے ہیں۔ کچے آم، کچے کیلے، شکرقندی، کیلے کے پیڑ کے تنے اور ایک خاص طرح کے انگور جیسی چیز جنھیں انڈین خوراک کا اہم حصہ تصور بھی نہیں کیا جاتا، اصل میں اس انڈین کھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس میں ذائقے کے لیے زیرا، کالی مرچ، بغیر چھلکے کی مونگ کی دال کا استعمال ہوتا ہے۔

جنوبی انڈیا میں منعقد کیے جانے والے شردھا بھوج میں عام طور پر صرف قریبی رشتہ دار ہی شامل ہوتے ہیں۔ کھانے سے قبل ایک محفل ہوتی ہے جس میں مرنے والے کے لیے دعا کی جاتی ہے۔

اس موقع کے لیے تیار کی جانے والی چند ڈشز، مثال کے طور پر تلا ہوا کیلا، ساترمنڈو یا کزمبو گھر پر ہی تیار کیا جاتا ہے۔ کچھ گھرانوں میں کھانا پکانے کے لیے باہر سے باورچی بلایا جاتا ہے۔

اپنے سسر کی برسی میں خانساموں کو کام کرتے ہوئے دیکھ کر میں یہی سوچ رہی تھی کہ گدشتہ ایک ہزار برسوں میں اتنی ساری اشیا انڈیا آ کر یہیں کی ہو چکی ہیں اور معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان میں سے کیا انڈین ہے اور کیا باہر سے لایا گیا ہے۔

آج کل انڈین گھروں میں عام طور پر پکنے والے کھانے میں یہ سبھی چیزیں ایک ساتھ استعمال کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی انڈیا میں سامبھر اور چاول۔ سامبھر پتلا سوپ جیسا سالن ہوتا ہے جس میں زیرا، کالی مرچ اور دھنیا کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کٹا ہوا آلو بھی تل کر ڈالا جاتا ہے۔

شردھا بھوج جیسی محفلیں بہت نجی محفلیں ہوتی ہیں اس لیے سیاح ان میں شامل نہیں ہو سکتے۔ انھیں ایسی محفلوں کے لیے تیار ہونے والا کھانا دیکھنے کو اور نہ ہی چکھنے کو ملتا ہے۔

رچی نے بتایا کہ ’گھر صرف ایک ایسی واحد جگہ ہوتا ہے جہاں کھانے پینے کی تہذیب محفوظ ہوتی ہے۔ انڈین ریستورانوں میں بہت کچھ ملتا ہے لیکن وہ اس تہذیب اور ذائقے کی عکاسی بالکل نہیں کر سکتا جو گھروں میں محفوظ ہے۔

رامانوجن کہتے ہیں کہ چھوٹی محفلوں میں تو اس طرح کے پکوان تیار کر لیے جاتے ہیں لیکن شادی بیاہ جیسے مواقع پر جب زیادہ مہمان بلائے جاتے ہیں تو ایسا کھانا تیار کیا جاتا ہے جو سب کو خوش کر سکے، اس لیے ان میں بہت کچھ ایسا بھی ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ باہر سے آیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15952 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp