کورونا وائرس: پشاور میں ایمرجنسی یا لاک ڈاؤن کتنی موثر، قرنطینہ میں لڈو اور کرکٹ

عزیز اللہ خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس سے متاثرہ یا اس وائرس کے شبہ میں قرنطینہ میں زندگی مشکل نظر آتی ہے۔ ایک قرنطینہ مرکز میں مریض لڈو اور کرکٹ کھیلتے دیکھے جا سکتے ہیں تو کہیں مریضوں نے بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کی شکایات کی ہیں۔

قرنطینہ کیا ہے

قرنطینہ ایسی تنہائی ہے یا سماجی دوری ہے جس میں آپ اپنی سرگرمی محدود کر دیتے ہیں یا حکومت آپ کے لیے ایسی جگہ فراہم کرتی ہے جہاں آپ کو دوسرے لوگوں سے میل ملاپ کی اجازت نہیں ہوتی۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاکستان میں متعدد افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

ایسے افراد جن میں وائرس موجود ہو اور انھیں قرنطینہ میں نہ رکھا جائے تو وہ وائرس کے پھیلنے کا سبب بنتے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں سرکاری سطح پر قائم تین ایسے قرنطینہ مراکز سے رابطہ ہوا اور وہاں سے کچھ معلومات ویڈیو اور تصاور کی شکل میں موصول ہوئی ہیں جن کا خلاصہ یوں ہے کہ کہیں بنیادی ضروریات کی کمی اور گندگی کی شکایات سامنے آئیں تو کہیں ایسے مریضوں کو کھیل کود کے لیے بھی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

کورونا بینر

BBC

غریب کورونا، امیر کورونا

آخر کورونا وائرس شروع کہاں سے ہوا؟

کورونا وائرس انسانی جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے

کورونا وائرس: آپ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟


لڈو کھیلتے کورونا کے مشتبہ مریض

تفتان سے پہلا قافلہ پندرہ مارچ کو ڈیرہ اسماعیل خان پہنچا تھا جس میں انیس افراد تھے ان میں پندرہ افراد میں وائرس کی تصدیق ہوگئی تھی۔

ان افراد کو ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے تقریباً 60 کلومیٹر دور درازندہ کے مقام پر ایک ٹائپ ڈی ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔

ان مریضوں کے ساتھ وقت گزارنے والے مقامی ڈاکٹر حافظ فاروق گل نے بتایا کہ یہ ایک خوش آئند بات تھی کہ مریضوں میں کوئی کھانسی، بخار یا دیگر ایسی کوئی علامات نہیں تھیں بلکہ بیشتر مریض بظاہر زیادہ بیمار بھی نظر نہیں آ رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان افراد کو مقامی سطح پر وقت گزارنے کے لیے لڈو اور کرکٹ کے لیے بیٹ اور بال دیے گئے ہیں تاکہ ان کا یہ وقت اچھا گزر سکے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں کھانا اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

اسی طرح اس مرکز سے ایک مریض نے بتایا کہ شروع میں جن لوگوں کے ٹیسٹ مثبت آئے اور جن کے ٹیسٹ منفی آئے سب کو ایک جگہ پر رکھا گیا تھا جس سے باقی سب کو بھی خطرہ تھا لیکن اس کے بعد ایسی اطلاعات ہیں کہ کچھ کو آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا تھا۔ کچھ مریضوں نے شکایت کی کہ انھیں کھانا نہیں مل رہا اور کسی نے کہا کہ یہاں کوئی دکان نہیں ہے جس سے وہ کچھ خرید سکتے۔

سہولیات سے آراستہ قرنطینہ

اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں گومل میڈیکل کالج اور اس کے ہاسٹل میں 200 سے زیادہ ایسے افراد کو لایا گیا ہے جنھوں نے ایران کا سفر کیا تھا اور واپسی پر بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان میں پھنس گئے تھے۔

یہاں پہنچتے ہی ان افراد کو ناشتہ کرایا گیا اور ان کی آمد سے پہلے تمام انتظامات مکمل تھے جن میں سٹاف کے لیے ذاتی حفاظت کا سامان بھی شامل تھا۔ ہاسٹل میں 60 کمرے اور ہر کمرے میں ایک بیڈ، زمین پر بیٹھنے کے لیے شیٹ، جائے نماز سب کچھ موجود تھا۔ یہاں ہر کمرے میں ایک ایک شخص کو ٹھہرانے کا بندوبست تھا۔

قرنطینہ یا بیماریوں کا گڑھ

اس کے برعکس صوبائی دارالحکومت پشاور میں قائم ذوالفقار علی بھٹو پوسٹ گریجویٹ پیرا میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی جو صورتحال بیان کی گئی وہ انتہائی مختلف تھی۔

اس قرنطینہ مرکز میں رہنے والوں کے مطابق پینے کا صاف پانی موجود نہیں ہے جبکہ کمروں میں غلاظت اور بد بو تھی جہاں تفتان سے آنے والے کوئی ڈیڑھ سو افراد کے لیے انتظام کیا گیا تھا۔ یہ افراد تین بسوں میں دو روز پہلے پہنچے لیکن انھوں نے کہا کہ یہاں رہنا بیماریوں میں رہنما ہے۔

وہاں سے جو تصویریں اور ویڈیو موصول ہوئی ہیں ان میں وہ لوگ بتا رہے ہیں کہ باتھ رومز میں گندگی ہے جیسے کافی عرصے سے کسی صاف نہیں کیا ہو اور اس کے علاوہ کمروں میں نمی اتنی زیادہ تھی کہ بدبو آ رہی تھی۔ اس کے علاوہ ہر کمرے میں مچھر زیادہ تھے جس وجہ سے انھیں زیادہ بیماریوں کا خطرہ ہے۔

خیبر پختونخوا میں کورونا صورتحال

صوبے میں گزشتہ روز تک کورونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 121 تک پہنچ گئی ہے۔ صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے ٹویٹر پیغام اور ایک ویڈیو میں بتایا ہے کہ آج صرف مردان کی یونین کونسل منگاہ میں مزید 39 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ وہی یونین کونسل ہے جہاں ایک شخص عمرہ کی ادائیگی کے بعد پہنچا تھا اور وہاں دعوت تھی۔ یہ شخص بعد میں انتقال کرگیا تھا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ تین صوبوں میں لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

کرونا وائرس سے مقابلے کے لیے خیبر پختونخوا میں سرکاری اور نجی دفاتر کی چھٹیوں کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ صوبے میں ہیلتھ ایمر جنسی نافذ ہے۔ مقامی سطح پر اسے جزوی لاک ڈاؤن کہا جا رہا ہے۔

اب تک صوبے میں مکمل لاک ڈاؤن نظر نہیں آرہا۔ صوبائی حکومت نے نجی اور سرکاری دفاتر میں 24 مارچ سے 28 مارچ تک عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ اس کےعلاوہ اضلاع کے اندر اور اضلاع کے درمیان چلنے والی ٹرانسپورٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔

پشاور میں عملی طور پر لوگ اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر آزادی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں لیکن شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ مکمل بند ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، روز مرہ استعمال کی اشیاء، ادویات اور پھلوں کی دکانوں کے ساتھ بیکریاں کھلی ہیں لیکن دیگر تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔

صوبائی حکومت کا موقف

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کے مطابق سرکاری سطح پر دفاتر 28 مارچ تک بند رہیں گے جبکہ اضلاع کے مابین چلنے والی ٹرانپسورٹ بند کر دی گئی ہیں اسی طرح شہروں کے اندر چلنے والی ٹرانسپورٹ جیسے بسیں، ویگنیں، ٹیکسیاں اور آٹو رکشوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان تعطیلات کا مقصد سماجی دوری اختیار کرنا ہے تاکہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

ان سے جب پوچھا کہ دیگر تمام صوبوں میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جا چکا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں اب تک ایسا کچھ نہیں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں جو بھی فیصلے اعلیٰ سطح پر ہوں گے ان کے بارے میں بعد میں بتا دیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے شاہزیب خانزادہ کے ٹویٹ کو ریٹویٹ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے خیبر پختونخوا کو مکمل شٹ ڈاؤن کر دیا ہے آج شٹ ڈاؤن نہ کرتے تو کل پچھتاتے۔

تیمور سلیم جھگڑا کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ٹویٹر پر یہ پیغامات جاری ہوتے رہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سماجی دوری ضروری ہے اس کے علاوہ یہ پیغام بھی جاری کیا گیا ہے کہ گھروں میں رہیں۔

پشاور میں عملی طور پر مکمل شٹ ڈاؤن نظر نہیں آ رہا لوگ اب بھی بازاروں اور مارکیٹوں میں موجود ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوگوں کی یہ تعداد معمول سے کافی حد تک کم ہے۔

اس بارے میں تیمور سلیم جھگڑا سے رابطے کی کوششیں کی گئیں لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

صوبے میں اضلاع کی سطح پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس میں کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ کی بندش شامل ہے اور لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں۔ اس کے لیے مختلف روائتی طریقوں سے اعلانات بھی کیے جا رہے ہیں۔

باقی صوبوں کی صورتحال

صوبہ سندھ نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا تھا اور اس پر عمل درآمد دو روز پہلے شروع کر دیا گیا ہے۔ صوبہ سندھ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار لوگوں کو پابند کر رہے ہیں کہ وہ غیر ضروری کام کے لیے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے مطابق مکمل لاک ڈاؤن نہیں ہے لیکن پنجاب سے آمدہ اطلاعات کے مطابق اقدامات مکمل لاک ڈاؤن والے ہیں اور یہ لاک ڈاؤن 14 روز کے لیے اعلان کیا گیا ہے۔ اس لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

بلوچستان میں بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے جس پر آج سے عمل درآمد کا کہا گیا ہے اور یہ لاک ڈاؤن سات اپریل تک جاری رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12820 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp