پاکستان میں وبا کے دنوں میں کون گھر سے کام کر سکتا ہے؟

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھر سے کام

Getty Images
بین الاقوامی اداروں کے لیے کام کرنے والے ملازمین کو بین الاقوامی قواعد کے تحت گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہونے کی صورت میں بہت سے لوگ اب گھر سے کام کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں جبکہ کئی اداروں نے اس بارے میں باقاعدہ طور پر اجازت بھی دے دی ہے۔

اس وقت کئی ایسے پیشے ہیں جن میں ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنا ممکن ہے۔ وہ افراد جن کا تعلق آن لائن خرید و فروخت، آن لائن بینکنگ یا اکاؤنٹنگ سے ہے وہ با آسانی گھر سے کام کرسکتے ہیں۔

کون سے ادارے گھر سے کام کرنے کی اجازت دے رہے ہیں؟

اس وقت صرف وہ افراد جو بین الاقوامی اداروں کے لیے کام کرتے ہیں ان میں ملازمین کو بین الاقوامی قواعد کے تحت گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔

ان اداروں میں اینگرو پاکستان نے مارچ کے مہینے میں اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت تب دی جب ان کی کمپنی میں کام کرنے والے ایک ملازم میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ماسک آپ کو کورونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟

پہلے سے بیمار افراد کورونا وائرس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟

کورونا وائرس انسانی جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے

اینگرو کے ترجمان امان الحق نے بتایا کہ ان کے پاس کام کرنے والا شخص حال ہی میں بیرونِ ملک سفر کرکے ملک واپس پہنچا تھا۔

اینگرو کے ترجمان نے بتایا کہ ’ہمیں جلد ہی سمجھ آگیا تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے اس وقت دور کر دینا بہتر ہے کیونکہ اس سے باقی لوگوں کی زندگیوں کو نقصان ہوسکتا ہے۔‘

اس وقت اینگرو کے دفاتر میں صرف 20 فیصد افراد کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور زیادہ تر میٹنگ واٹس ایپ اور ویڈیو کال ایپ زوُم کے ذریعے کی جارہی ہیں۔

’اس سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ بسوں اور ٹیکسی کے ذریعے پہنچنے والے افراد کا وقت بچ جاتا ہے۔ ہم نے اندازہ لگایا ہے کہ تقریباً 90 منٹ روز کے بچ جاتے ہیں جو دیگر صورتوں میں ٹرانسپورٹ کے ذریعے پہنچنے میں لگ جاتے ہیں۔ گھر سے کام بروقت ہو رہا ہے۔‘

اس کے علاوہ اینگرو میں کام کرنے والے چینی ملازمین کو چینی حکومت کورونا وائرس کے لیے ٹیسٹ اور سکریننگ کرکے پاکستان بھیج رہی ہے جبکہ واپس اپنے ملک جانے پر اُن کو سیلف آئسولیشن اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ان چینی ملازمین میں پلانٹ پر کام کرنے والوں کی ایک کم تعداد جبکہ گھر سے کام کرنے والوں کو بھی کمپنی کی 20 فیصد پالیسی کے تحت کام کرایا جارہا ہے۔ یعنی بغیر ضرورت ملازمین کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو روز پلانٹ پر ہونا ضروری ہے۔

امان الحق خود بھی پچھلے ایک ہفتے سے گھر سے کام کررہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب تک دو بار ضرورت کے تحت دفتر جانے کے بجائے اُنھوں نے تقریباً تمام کام گھر سے ہی کیے ہیں۔

اس وقت بڑے اداروں میں چینی ویڈیو ایپ زوُم کے علاوہ منڈے بھی استعمال کی جارہی ہے۔ جس کے تحت ویڈیو کال میں تقریباً چھ سے سات افراد ایک بیک وقت بات کرسکتے ہیں۔

گھر سے کام

Getty Images
ملک بھر میں کورونا وائرس کے تقریباً 237 متاثرین سامنے آنے کے باوجود اب بھی بہت سے مالکان ملازمین کی دفاتر میں حاضری کو ترجیح دے رہے ہیں

گھر بیٹھ کر ملک بھر کا نظام سنبھالنا

انھیں میں سے ایک ادارہ اوُبر ہے۔ اوبر میں کام کرنے والے اسلام آباد کے رہائشی حیدر بلگرامی اوُبر میں ہیڈ آف کمیونیکیشن ہیں اور پچھلے ڈیڑھ سال سے اوُبر سے منسلک ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’میرا کام ویسے بھی زیادہ تر گھر سے ہی ہوسکتا تھا۔ کیونکہ میں اوُبر کے لیے ملک بھر کے کمیونیکیشن کا خیال کرتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ چونکہ اب صورتحال مختلف ہے تو مارچ کے مہینے میں اُن کے ادارے نے ارادہ کیا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے نتیجے میں پہلے سے ہی ادارے میں موجود لوگوں کو گھر سے کام کرنے کا کہہ دیا جائے۔

حیدر نے کہا کہ ان کے روز کے معمول میں صبح نو بجے سے پہلے اٹھ کر فون کال کے ساتھ ساتھ ای میل پر روز کا شیڈول دیکھنا شامل ہے۔ جس کے بعد ملک بھر میں صارفین کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کے بارے میں اقدام کرنا یا اگر کہیں جلدی سے ڈرائیوروں کی نفری بھیجنی پڑجائے یہ بھی شامل ہے۔

’اب تک تو مجھے بجلی جانے سے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے لیکن زیادہ تر یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کام آسان ہو جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ اپنے بیوی بچوں اور والدین کے ساتھ کسی دوسرے شہر نہیں جاسکتے تھے اس لیے انھوں نے گھر سے کام کرنے کو ترجیح دی ہے۔

اوُبر کی طرف سے گھر سے کام کرنے والے افراد کے لیے قانون وضح کیے گئے ہیں جن کے تحت سخت ضرورت کے نتیجے میں ہی دفتر آنے کی ضرورت ہے ورنہ گھر سے کام کرنا بہتر ہے۔

دفتر میں ہی کام کرنا پڑے گا

لیکن مقامی اداروں میں گھر سے کام کرنے پر اب بھی غور و فکر جاری ہے۔ ملک بھر میں کورونا وائرس کے تقریباً 237 متاثرین سامنے آنے کے باوجود اب بھی بہت سے مالکان ملازمین کی دفاتر میں حاضری کو ترجیح دے رہے ہیں۔

کراچی کے سرکاری بینک میں کام کرنے والی ایک بینکر نے بی بی سی سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پچھلے ایک ہفتے سے نزلہ اور زکام ہونے کے باوجود مجھے بینک آنے کا کہا جا رہا ہے۔ حالانکہ میرا کام گھر سے بھی ہوسکتا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے بارے میں خبریں نشر ہونے کے باوجود آگاہی کا بہت فقدان ہے۔

’مجھے کہا گیا کہ آپ کو دفتر آنا پڑے گا حالانکہ میں جو کام کرتی ہوں وہ گھر سے ہوسکتا ہے۔ میرے بتانے کے باوجود کہ میرے گھر میں دو بچے اور بوڑھے لوگ موجود ہیں مجھے چھٹی نہیں دی جارہی۔ بلکہ ساتھ ساتھ تنخواہ بھی کاٹ چکے ہیں۔`

گھر سے کام

Getty Images
پاکستان میں گھر سے کام کرنے والوں کے لیے قانون صرف صوبہ سندھ میں ہے

کیا پاکستان میں گھر سے کام کرنے والوں کے لیے قانون موجود ہے؟

گھر سے کام کرنے والوں کے لیے قانون موجود ہے لیکن صرف پاکستان کے صوبہ سندھ میں۔

2018 میں سندھ ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ پاکستان میں گھر سے کام کرنے والے افراد کے لیے پاس ہونے والا پہلا قانون ہے جس میں ان افراد کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے۔

لیکن ہوم بیسڈ ورکرز اور اس وقت کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے باعث گھر سے کام کرنے والے افراد دو مختلف دائرے میں آتے ہیں اور اُن کے اوپر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔

ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ 2018 کے تحت گھر بیٹھے افراد کو کم سے کم اجرت دی جائے گی جو قانوناً ان کا حق ہے۔ اس وقت ملک بھر میں بنیادی اجرت 17500 روپے مختص ہے۔ لیکن اس قانون پر ہر صوبے میں عمل نہیں کیا جاتا۔

ہوم بیسڈ وکررز میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو گھروں میں بیٹھ کر فیکٹریوں کے لیے فی کپڑا، جوتا، سلائی کرنے اور کھلونوں کو رنگنے کا کام کرتے ہیں۔ جس کے تحت قانون میں واضح کی گئی رقم کے بجائے فیکٹری مالکان مردوں کو فی پیس 500 سے 1000 جبکہ خواتین کو 50 سے 100 روپے دیتے ہیں۔

لیکن اس وقت جو لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے گھر سے کام کررہے ہیں اُن کے لیے مختلف فنڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اُن کے لیے موجودہ ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ میں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان میں مزدور یونین اور لیبر پر کام کرنے والے اداروں کے تحت ملک میں گھروں سے کام کرنے والے افراد کی تعداد میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے واضح فرق پڑسکتا ہے۔ جس کے لیے سرکار اور ادارے تیار نہیں ہیں۔

کراچی میں قائم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسیرچ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر کرامت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہوم بیسڈ ورکرز کے قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ کورونا وائرس یا کسی بھی وبا کے پھیلنے کی صورت میں سرکار کی طرف سے آپ کو کیا مل سکتا ہے۔ کیونکہ کوئی فنڈ کبھی بنایا ہی نہیں گیا۔ تو اگر آپ گھر بیٹھے ہیں تو خالی ہاتھ بیٹھے رہیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ حال ہی میں سندھ حکومت کی طرف سے کورونا وائرس کے نتیجے میں آئسولیشن میں رہنے والے افراد کے لیے ماہانہ راشن گھر پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ’جو کہ ایک نادر اقدام ہے، لیکن اس کے ساتھ لوگوں کے لیے سوشل سکیورٹی فنڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ جو افراد گھر بیٹھنے پر بے روزگار ہوجائیں ان کے لیے کچھ آمدنی آسکے۔‘

مزدور

Getty Images
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں مزدور پیشہ افراد کی تعداد تقریباً چھ کروڑ ہے

دیہاڑی پر کام کرنے والے افراد کیا کریں گے؟

اس وقت کورونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ دیہاڑی پر کام کرنے والے افراد ہیں۔ جن کے لیے ملک کے ایک صوبے کے علاوہ قانون واضح نہیں ہے۔اور نہ ہی وہ کام چھوڑ کر گھر بیٹھ سکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں مزدور پیشہ افراد کی تعداد تقریباً چھ کروڑ ہے جبکہ ان میں گھر سے کام کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ ہے۔

ملک بھر میں مزدوروں کی اس تعداد میں صرف چھ لاکھ افراد ایسے ہیں جو صرف صوبہ سندھ میں سندھ امپلائیز سوشل سکیورٹی انسٹیٹیوشن میں رجسٹرڈ ہیں۔ یعنی اُن کے حقوق کا تحفظ صرف یہاں تک محفوظ ہے کہ اُن کو کام کی کم سے کم اجرت ملتی رہے گی اور نکالے جانے کی صورت میں ان کو معاوضہ دیا جائے گا۔ لیکن اس شِق کا اطلاق ہر ادارے اور فیکٹری میں نہیں ہوتا۔

لاہور میں قائم لیبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر خالد محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت جو لوگ ملک میں وبا کے باعث گھر سے کام کرنے پر مجبور ہیں ’اُن کے لیے اُن کے اداروں کی طرف سے اور سرکار کی طرف سے فنڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ اُن فیکٹری میں کام کرنے والے افراد کا بھی سوچنا چاہیے جو فیکٹری بند ہونے کے بعد بے روزگار ہوجائیں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12796 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp