کرونا سے نمٹنے کا جاپانی وکیاما ماڈل اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وکیاما جاپان کے علاقہ کنسائی کا ایک صوبہ ہے۔ یہ جاپان کے مرکزی جزیرے ہونشو کی مغربی طرف واقع ہے۔ وکیاما جاپان کے سینتالیس صوبوں میں سے ایک ہے۔ جاپان میں صوبے کو پریفیکچر کہا جاتا ہے۔ وکیاما جاپان کے روحانی مرکز کے طور پر مشہور ہے۔ دنیا بھر سے بدھ مت روحانی تسکین کے لئے یہاں آتے ہیں۔ 31 جنوری کو وکیاما کے ایک چھوٹے قصبے یواسا میں ایک ڈاکٹر کو بخار اور نزلہ زکام ہوا۔ اس نے تین دن تک بخار کے خاتمے کی دوا استمعال کی، تاکہ بخار کی شدت کم ہو۔

اس دوران وہ معمول کے مطابق یواسا ہسپتال نوکری کے لئے جاتا رہا۔ وہاں ڈاکٹر نے مریضوں کی ایک بڑی تعداد کا معائنہ کیا۔ لیکن جلد ہی ڈاکٹر کو احساس ہوا کہ اسے عام قسم کا نزلہ زکام نہیں ہے۔ اس وقت تک کرونا وائرس صرف ان لوگوں تک محدود تھا جو کبھی چین گئے تھے یا کسی مریض سے ان میں وائرس منتقل ہوا تھا۔ جلد ہی یواسا میں مزید چار مریض سامنے آگئے۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر تھا اور باقی تین پہلے سے ہی یواسا ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ طبی ماہرین سوچنے پر مجبور ہوئے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ وائرس کا ممکنہ پھیلاؤ ہو سکتا ہے؟

اس وقت تک جاپانی حکومت ٹیسٹنگ صرف ان لوگوں کی کر رہی تھی جو چین سے واپس آئے تھے یا پھر وہ لوگ جن میں وائرس کسی دوسرے کی وجہ سے منتقل ہوا تھا۔ وکیاما میں کوئی بھی مریض اس انتخاب پر پورا نہیں اترتا تھا۔ صورتحال دن بہ دن تشویشناک ہو رہی تھی۔ ماہرین اندیشہ ظاہر کر رہے تھے کہ چونکہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ نہیں ہو رہی تھی اس لئے مریضوں کی تعداد میں کسی بھی وقت ہوشربا اضافہ ہو سکتا تھا۔ جاپانی حکومت جس نا اہلی اور سست روی کا مظاہرہ کر رہی تھی، اس بات کا اندازہ ڈائمنڈ کروز جہاز سے لگا لیجیے۔

ڈائمنڈ کروز کو 3 فروری کو یوکوہاما میں قرنطینہ کیا گیا۔ 4 فروری کو جہاز میں کرونا وائرس کے دس مریض سامنے آئے۔ لیکن بروقت ٹیسٹنگ اور آئسولیشن کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اگلے دو ہفتوں میں مریضوں کی تعداد 700 تک جا پہنچی۔ اس دوران جاپانی وزیراعظم شنزو ابے نے کسی قسم کے لاک ڈاؤن کا اعلان نہ کیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ چلتی رہی۔ لوگ بڑے بڑے اجتماعات میں شریک ہوتے رہے۔ پڑوس میں جنوبی کوریا نے بڑے پیمانے پر اپنے ہزاروں لوگوں کی ٹیسٹنگ کی تاکہ وبا کے مریضوں کی واضح تعداد کا پتا لگ سکے۔ وہاں 2000 مریض سامنے آگئے۔

لیکن جاپانی حکومت نے روایتی سست روی کا مظاہرہ جاری رکھا۔ 13 فروری کو اپنی حکومت کی سست روی سے تنگ آکر وکیاما کے گورنر نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔

یہاں یہ بات میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جاپانی بیوروکریسی اپنی حکومت کی بہت وفادار ہے، لیکن کنسائی کا جنوب مغربی علاقہ نسبتاً خود مختار ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی خود مختاری پہ بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ وکیاما کے گورنر یوشینوبونساکا نے 13 فروری کو پریس کانفرنس میں حکومت کی پالیسی کے مطابق نہ چلنے اور ”بنیادی لائحہ عمل“ اپنانے کا اعلان کیا۔ گورنر نے حکم دیا کہ جو کوئی بھی یواسا ہسپتال کے بیمار ڈاکٹر کے ساتھ براہ راست رابطے میں آیا ہے، ان سب کو ڈھونڈا جائے اور ان کی ٹیسٹنگ کی جائے۔

جونہی یہ خبر ٹوکیو پہنچی، لوگ سکتے میں آگئے۔ کیونکہ کرونا وائرس کے اس مریض نے چین کا سفر کبھی نہیں کیا تھا۔ اور نہ ہی یواسا میں کسی رہائشی کی کوئی چین کی ٹریول ہسٹری تھی۔ وبائی بیماریوں کے ماہرین نے اسے ”پوشیدہ سلسلۂ منتقلی“ کا نام دیا۔ گورنر نساکا کے اہلکاروں نے ہر اس بندے کو ڈھونڈا جس پہ بیمار ڈاکٹروں کے ساتھ براہ راست ملنے کا شک تھا۔ ا ان میں نرسیں، مریض، خاندان کے لوگ، یہاں تک کے وہ چھوٹے کاروباری لوگ بھی شامل تھے جو ہسپتال کو مختلف اشیاء فراہم کرتے تھے۔

پبلک ہیلتھ سینٹرز نے وائرس کی منتقلی کا پتہ لگانے کے لئے لوگوں کے باقاعدہ انٹرویوز کیے۔ 11 دن بعد 470 لوگ سامنے آئے جن پر براہ راست وائرس منتقلی کا شبہ تھا۔ گورنر نساکا نے خود ٹوکیو جا کر حکومتی نمائندوں کو اس بات پہ قائل کیا کہ روزانہ سینکڑوں لوگوں کی ٹیسٹنگ کے لئے ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وکیاما کے طبی سٹاف نے دن رات ایک کر کے ٹیسٹنگ کے نتائج کا تجزیہ کیا۔ 25 فروری تک تمام لوگوں کی ٹیسٹنگ کی گئی اور کرونا کے 10 نئے مریض سامنے آگئے۔

یواسا ہسپتال کو وائرس سے پاک کیا گیا اور 4 مارچ کو دوبارہ مریضوں کے لئے کھول دیا گیا۔ پچھلے 3 ہفتوں میں وکیاما میں کرونا وائرس کا صرف ایک نیا کیس سامنے آیا ہے۔ پوری دنیا اور جاپان وکیاما کو تعریفی نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ وکیاما سے کون سے سبق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان بھی وکیاما ماڈل کو سامنے رکھ کر اس سے بہت سے سبق حاصل کر سکتی ہے۔

سب سے پہلا سبق جو ہم وکیاما سے حاصل کر سکتے ہیں وہ بر وقت فیصلوں اور حکمت عملی کا نفاذ ہے۔ جس میں ہماری حکومت نے جاپان کی طرح روایتی سست روی کا مظاہرہ کیا۔ یہ لاک ڈاؤن 15 دن پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن پھر بھی دیر آید درست آید۔ دوسرا اور سب سے اہم سبق وائرس کو آئسولیٹ کرنا ہے۔ وکیاما نے چن چن کر مشتبہ لوگوں کو ڈھونڈا اور وائرس کو آئسولیٹ کر دیا۔

وائرس کو آئسولیٹ کرنے میں فی لحال ہم لوگ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پا رہے۔ لیکن اس میں ناکامی کی وجہ حکومت سے زیادہ عوامی رویہ ہے۔ لوگ وائرس کے مریضوں کا پتا ہونے کے باوجود حکام کو آگاہ نہیں کر رہے اور انھیں چھپا رہے ہیں۔ لہذا میری آپ سے اپیل ہے کہ مریضوں کی نشاندہی کیجئے تا کہ ان کو بروقت طبی امداد دی جا سکے اور دوسروں کو بھی وائرس کی منتقلی سے بچایا جا سکے۔ آخری سبق بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کرنا ہے۔ ہمارے ہاں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی صحیح تعداد سامنے نہیں آ رہی جو کسی بھی وقت خوفناک شکل میں سامنے آ سکتی ہے۔

کچھ ماہرین اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ پاکستان میں مریضوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ لہذا میری حکومت سے بھی درخواست ہے کہ ہر شہر میں ٹیسٹنگ کو یقینی بنایا جائے۔ تا کہ وائرس کو بروقت آئسولیٹ کیا جا سکے۔ اور جلد از جلد اس وبا سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
انیق نواز کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *