کورونا کے موسم میں جینے کے انداز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی کالج میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ لارنس کالج (جو صحیح معنوں میں ایک سکول ہے کالج نہیں ) کے بعد کچھ عرصہ بیکار رہے اور پھر فوج میں چلے گئے۔ وہاں جو پانچ چھ سال گزارے وہ بھی بیکار کے تھے۔ خود سے پڑھائی کی عادت تو تھی لیکن جو باقاعدگی سے پڑھائی ہوتی ہے اس کا وقت نہ ملتا تھا۔ 1981 ء میں کسی ناکردہ گناہ کی بنا پہ گرفتار ہوئے تو پانچ ماہ راولپنڈی کی پرانی جیل میں رہنا پڑا، وہ جیل جہاں بھٹو صاحب کو پھانسی لگی تھی۔ اب وہاں پارک وغیرہ بن چکا ہے۔ جیل کے ماحول سے مانوس ہونے کے لئے کچھ دن لگے۔ اس کے بعد کتابیں منگوائیں اور پڑھائی کا ماحول شروع ہو گیا۔

اُن پانچ ماہ میں ایسی پڑھائی کی جو کہ پڑھاکو طالب علم کالج یا یونیورسٹی میں کرتا ہے۔ دوپہر کچھ وقت آرام کا ہوتا اور اس کے بعد کرسی پہ بیٹھ کر دو تین گھنٹے انہماک سے مطالعہ ہوتا۔ ساتھ ایک نوٹ بک رہتی جس میں پسند آنے والے جملے یا پیراگراف تحریرکر لیے جاتے۔ وہ نوٹ بک آج بھی میرے پاس ہے۔ یہ تقریباً چالیس سال پہلے کی بات ہے، اس کے بعد جو طالب علموں کی طرح پڑھنا شروع کیا ہے وہ اب اس کورونا کے موسم میں ہے۔

دو ہفتوں سے بھگوال بیٹھا ہوں، کہیں اور جانے کا جی نہیں چاہتا۔ صبح اُٹھتے ہی کافی کے ساتھ مطالعہ شروع ہو جاتا ہے۔ نیو یارک ریویو آف بُکس (New York Review of Books) کے کئی شمارے جو پڑھ نہ سکا وہ پڑھے جا رہے ہیں۔ ایک آدھ ہفتے میں جب یہ کام مکمل ہو جائے گا تو پھر کتابوں کی طرف دھیان جائے گا۔ اب کی بار تو ارادہ پکا ہے کہ گبن کی ڈیکلائن اینڈ فال آف دی رومن ایمپائر (Decline and Fall of the Roman Empire) کو مکمل طور پہ پڑھ ہی لیا جائے۔ بہت عرصہ ہوا پہلے دو والیم پڑھے تھے اور باقیوں کی ویسے چھان بین کی تھی۔ اب ارادہ ہے کہ موقع اچھا ہے، ساری جلدیں کھنگال ہی لی جائیں۔

اس کے ساتھ بہت سی مغربی کلاسیکی موسیقی جو نہیں سُنی ہوئی اُس طرف بھی دھیان جا رہا ہے۔ یہ سطور جو لکھی جا رہی ہیں اِس صبح خوب بارش ہوئی۔ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ سامنے والی گھاس بیری کے پتوں سے بھری پڑی ہے۔ منظر اتنا بھلا تھا کہ ہماری جو ہاؤس کیپر شہزاداں ہے، اُس سے کہا کہ پتے رہنے دینا انہیں ہٹانا نہیں۔ دھوپ نکلے گی اور جب یہ سوکھیں گے تب صفائی ہو جائے گی۔ موسیقی ڈھونڈنے لگا تو اچانک جوہانز براہمز (Johannes Brahms) کی سمفنی نمبر 1 پہ نظر پڑی۔

وہ چلا دی اور یو ں سمجھیے کہ مدہوشی طاری ہو گئی۔ سلطنتِ موسیقی میں یہ بہت مشہور میوزک ہے۔ لیکن ستم ظریفی کا اندازہ لگائیے کہ پہلی بار سن رہا تھا۔ مزہ تو بہت آیا لیکن ساتھ ہی شرمساری بھی ہوئی کہ ستر سال کیا جھک ماری ہے کہ اب تک براہمز کی یہ سمفنی نہیں سُنی۔ میں تو اب یہاں تک کہوں گا کہ جو کوئی اس سمفنی کو سُننے سے محروم ہے اُس نے اپنی زندگی ضائع کی۔ اس میں قصور لوگوں کا نہیں ہماری تعلیم کا ہے۔ جن چیزوں کے بارے میں جانکاری ہونی چاہیے وہ ہماری تعلیم کا حصہ ہی نہیں۔ مغربی کلاسیکی موسیقی کو تو چھوڑئیے، یہاں پہ اپنی بر صغیر کی موسیقی کا تھوڑا سا بھی ذکر ہمارے نصابوں میں نہیں۔ خیر اس کے بارے میں زیادہ کیا رونا، ہمار ے حالات ہی ایسے ہیں ؛ البتہ یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ حالات ہم پہ کسی نے ٹھونسے نہیں، ہم نے خود ہی انہیں پیدا کیا ہے۔

گاؤں تو پہلے بھی آتے تھے لیکن اتنا زیادہ یہاں ٹھہرنا نہیں ہوتا تھا۔ شام کو آئے، کچھ ہلہ گلہ کیا پھر واپس چلے گئے۔ رات رہنا ہوتا تو صبح جیسے معمول ہے کچھ پڑھائی ہو جاتی لیکن باقاعدگی کی بات نہ بنتی۔ کورونا نے وہ باقاعدگی کا ماحول بنا دیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کسی دور کی خانقاہ پہ بیٹھے ہیں جہاں کسی کا آنا جانا نہیں۔ ہم ہیں اور ہماری تنہائی۔ ساتھ ہی کچھ کتب بینی، کچھ موسیقی کا سننا۔ دوپہر میں تھوڑا آرام۔

دھوپ ہو تو برآمدے میں چارپائی پہ لیٹنے کا موقع بنا لیتے ہیں۔ کچھ اُونگھ لیا، پھر ایک کپ کافی پی، کچھ چہل قدمی ہوئی اور دوبارہ سے پڑھائی میں لگ گئے۔ کچھ وقفے کے بعد موسیقی۔ شام کے ایک مخصوص وقت تسکین کے اور پہلوؤں کی طرف دل مائل ہوتا ہے۔ اس کے بعد رات کا کھانا اور سونے کی تیاری۔ یہ سب ہوتے ہوئے اور کسی چیز کی کیا تمنا رہ جاتی ہے؟

کورونا نے البتہ کچھ پرابلم کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک تو ہمارے سب زلف تراش غائب ہیں۔ اسلام آباد والا کلب بھی بند ہے اور لاہور فون کیا تو پتہ چلا کہ وہاں بھی سب چیزیں مقفل ہو چکی ہیں۔ داڑھی پہ قینچی خود چلانی پڑتی ہے لیکن بالوں کا کیا کریں وہ تو خود سے سنورتے نہیں۔ اس سے زیادہ سنگین مسئلہ تسکینِ جان کا ہے۔ ضروری اشیا کی سپلائی کم پڑتی جا رہی ہے۔ دکانیں بند ہیں، ہوٹل بند ہیں۔ لاہور کے جس سرائے میں قیام رہتا ہے وہاں فون کیا لیکن کوئی امید کی کرن وہاں سے بھی نظر نہ آئی۔ ابھی تک گزارہ چل رہا ہے لیکن کچھ دنوں بعد حالات زیادہ خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ پھر کیا کریں گے؟ اسلام آباد سے پتہ چلا کہ تنگیِ حالات کا حل ممکن ہے لیکن جو قیمتیں بتائی گئیں، خدا کی پناہ۔

بہرحال ایک لحاظ سے موجودہ وقت کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ بہت سے لوگ یار دوستوں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہم غریبوں کی طبیعت زیادہ میل جول سے گھبراتی ہے۔ سیاست میں تھے تو یہی بات بھاری لگتی تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی بہت سے لوگوں سے ملنا پڑتا۔ وہ مجبوری رہی نہیں اور رہی سہی کسر کورونا نے پوری کر دی ہے۔ جہاں خلوت اور تنہائی کی باقاعدہ تلقین ہو وہاں ہم جیسے اور کیا چاہیں گے۔ یقینا یہ بڑا خود غرضانہ رویہ ہے لیکن حقیقت بیان ہو رہی ہے۔ یہ تنہائی طبیعت کے مطابق محسوس ہو رہی ہے۔ پچھلے دو روز سے اخبارات بھی نہیں آئے۔ اس سے دل اور خوش ہوا۔

ٹی وی ہم ویسے نہیں دیکھتے۔ خبروں کا پتہ کرنا ہو تو فون پہ تھوڑی دیر کے لئے بی بی سی یا سی این این کو سن لیا۔ جتنی معلومات چاہئیں ہوں مل جاتی ہیں۔

ہماری خود غرضی ایک طرف رہی، ظاہر ہے بیشتر عوام کے لئے یہ وقت بھاری ہے۔ کاروبار بند ہیں، روزمرّہ کی زندگی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکومت بھی فکر مند ہے اسی لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہر مستحق کو ریلیف پہنچے گا نہیں اور ویسے بھی اعلان کردہ رقم بہت قلیل ہے۔ البتہ انسانوں کو چھوڑ کر موجودہ صورتحال کرۂ ارض اور اس کے ماحول کے لئے بہت بہترین ہے۔ ہم انسانوں نے قدرت اور کرۂ ارض کا میزان بُری طرح متاثر کر دیا ہے۔

کلائمیٹ چینج اسی وجہ سے ہوا ہے۔ یہ انسانی مصروفیت کی وجہ سے ہے۔ جب سے ہر چیز رُکی ہے یہ بات مشاہدے میں آئی ہو گی کہ شہروں کے آسمان آلودگی سے پاک ہو گئے ہیں۔ پچھلے دو ہفتے لاہور جانے کا اتفاق نہیں ہوا، لیکن یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہاں کی فضا بہت بہتر ہو گئی ہو گی۔ زمین اور سمندروں کی بہت تباہی ہو چکی ہے۔ نا گہانی طور پہ کورونا کی وجہ سے زمین اور سمندروں کو کچھ آرام مل رہا ہے۔ انہیں سانس لینے کا یہ موقع ہے۔

کچھ سبق ہمیں اس سے لینا چاہیے۔ جس قسم کی بے دریغ اور بغیر سوچے ترقی کے نام پہ انسانی مصروفیات رہی ہیں اس کا متحمل کرۂ ارض ہمیشہ کے لئے نہیں ہو سکتا۔ ویسے تو ہم رک نہیں رہے تھے اس بیماری نے انسانی کارگزاری میں مجبوری کی رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔ حالات نارمل پہ بھی آ جائیں پھر بھی ہمیں سوچنا چاہیے کہ انسانی ایکٹیوٹی کہاں تک ہونی چاہیے۔ زمین اور سمندروں پہ کتنا دباؤ ڈالنا مناسب ہے۔

ہم کہتے نہیں کہ رمضان کے مہینے کی قناعت انسانی جسم کے لئے اچھی ہے؟ زراعت میں بھی زمین کو سانس لینے کا موقع دینا پڑتا ہے۔ اس بیماری نے پوری دنیا کو وہ مہلت دی ہے جو ویسے نہیں مل رہی تھی۔
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *