کورونا مشترکہ اعلامیہ میں چھپا خفیہ پیغام کیا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے ہمیں سکھایا گیا ہے کہ مقدس متن اور شاعری سیاق وسباق اور تشریح کے بغیر سمجھنا ناممکن ہے۔ پانچوں مکاتب فکر کے اکابر علماء اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کا متفقہ اعلامیہ بعنوان کورونا وائرس بھی اپنی جگہ ایسا ہی ایک متن ہے۔ یوں تو ہمارے عوام بہت سیانے ہیں اور اس اعلامیہ کے خفیہ پیغام کو انہوں نے کامیابی سے ڈی کوڈ کر لیا ہے۔ اس کا ثبوت جمعہ کے روح پرور اجتماعات ہیں جو حکومت کی تمام رکاوٹوں کے باوجود پورے ملک میں منعقد ہوئے اور یہ ثابت ہوا کہ یہ بہادر قوم ایک حقیر جرثومے سے بالکل خوفزدہ نہیں ہے بلکہ شہادت پر تلی ہوئی ہے۔ پھر بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس اعلامیہ کو لے کر شش وپنج کا شکار ہیں کہ اس کا مفہوم درحقیقت ہے کیا۔ کچھ ناہنجار تو باقاعدہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس لیے ہم اعلامیہ کے بین السطور لکھے معنی سب کی نذر کر رہے ہیں۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف

1۔ وبائیں درحقیقت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہماری اصلاح کے لیے ایک تازیانہ ہیں۔ اس موقع پر پوری قوم توبہ استغفار اور رجوع الی اللہ کی طرف متوجہ ہو، نیز حکومت اپنے اداروں کے ذریعے لوگوں کو توبہ استغفار اور رجوع الی اللہ کی طرف متوجہ کرے اور میڈیا سے فحاشی اور بے حیائی کے پروگرام بند کیے جائیں.

تمام وبائیں صرف کافروں کے لیے عذاب ہوتی ہے کیونکہ کافر ہمارے والے اللہ کو نہیں مانتے، چمگاڈریں اور سور وغیرہ کھاتے ہیں اور دبا کر شراب پیتے ہیں۔ ہم زیادہ سے زیادہ مرغیاں اور بکرے کھا کر سرور کے لیے پیڑے والی لسی پی سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ اور عذاب کیا ہوگا۔ پھر ہم اللہ کی مقرب امت ہیں، اگر ہم پر عذاب آئے گا تو کافر ہمارا مذاق اڑائیں گے اور ظاہر ہے اللہ ایسا نہیں چاہتا اس لیے وبا ہمارے لیے محض آزمائش ہے۔ آزمائش والا وائرس عذاب والے وائرس کی میوٹیٹڈ شکل ہوتی ہے اور اس کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔ اس آزمائش میں وہی پورا اتریں گے جو چھینک مارتے ہوئے الحمدللہ پڑھیں گے، ق اور خ صحیح مخرج سے ادا کریں گے اور مولویوں کے میم نہیں بنائیں گے۔

پوری قوم کو چاہیے کہ فوراً اپنے قریبی مولوی، پیر، گدی نشین یا عالم دین سے رجوع کرے۔ جہاں، جتنا ممکن ہو انہیں نذرانہ اور ہدیہ بھی دیں تاکہ وہ یک سوئی سے قوم کو توبہ اور رجوع الی اللہ کے نئے فارمولے عنایت کر سکیں۔ اس میں فرقے اور مسلک کی تمیز بہرحال روا رکھی جائے گی یوں بھی آخر میں بچنا ہمارے والے مسلک نے ہی ہے، باقی سارے تو چمگاڈریں کھانے والے کافروں سے بھی بدتر ہیں۔ ان کا جنازہ پڑھنے والے کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ ان کی مسجد میں نماز پڑھنے والے کا دین فسخ ہو جاتا ہے اور ان کی بات پر کان دھرنے والے کا ایمان فسخ ہو جاتا ہے۔ یہ کافر۔ اوہو، ہم غصے میں ذرا ادھر ادھر نکل جاتے ہیں۔ ہاں، تو کہنا یہ تھا کہ اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت ہے۔ استغفار اور اجتماعی توبہ کے لیے اپنے اپنے لوکل خطیب سے درخواست کیجیے تاکہ وہ اچھی سی رونے والی شکل بنا کر دعا کا اہتمام کر سکے۔ اس سلسلے میں رہنمائی کے لیے مولانا طارق جمیل کی حالیہ تقریر سے مدد لی جا سکتی ہے لیکن کوشش کیجیے کہ اتنی اوور ایکٹنگ نہ ہو نہیں تو حاسدین مذاق بنا لیتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ اپنے سارے اداروں میں بھی ہمارے مقرر کردہ مولویوں کا ایک پینل تشکیل دے جو ہفتہ وار توبہ اور استغفار کے سیشن کرائیں۔ اس سلسلے میں بینکوں کے شریعہ بورڈ کی طرز پر توبہ استغفار بورڈ تشکیل دیے جائیں اور اس پر کی گئی تقرریوں کا مناسب ہدیہ مقرر کیا جائے تاکہ قوم کو یکسوئی سے توبہ اور استغفار کی طرف راغب کیا جا سکے۔

میڈیا سے فحاشی اور بے حیائی کے خاتمے کے لیے مستقبل کے سارے فلم اور ڈرامہ سکرپٹ خلیل الرحمٰن قمر سے تحریر کروائے جائیں۔ ہر چینل سے مارننگ شو کی جگہ عالم آن لائن کا اجرا کیا جائے۔ تمام خواتین اینکرز کو برطرف کر دیا جائے اور اگر کہیں خاتون کے بغیر بالکل گزارا نہ ہو تو صرف وینا ملک اور رابی پیرزادہ کو ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ تمام ٹاک شوز میں کم ازکم ایک عالم دین کا لازمی بلایا جائے کیونکہ موضوع کوئی بھی ہو اس پر ہمارے پاس فتویٰ موجود ہوتا ہے۔ ماروی سرمد، پرویز ہود بھائی، جاوید احمد غامدی، جبران ناصر اور فواد چوہدری کو فوری طور پر بین کر دیا جائے اور ان کی جگہ مولانا طاہر اشرفی، خادم حسین رضوی، جسٹس نذیر غازی، زید حامد اور انصار عباسی سے رائے لی جائے۔ اوریا مقبول جان کو پیمرا کا سربراہ تعینات کر دیا جائے۔

2۔ مساجد کھلی رکھی جائیں گی۔ پنج وقتہ اذان و اقامت اور باجماعت نماز جاری رہے گی

کسی کا باپ بھی مسجد بند نہیں کر سکتا۔ جو مسجد بند کی جائے وہاں ہلہ بول کر پولیس کی جذبہ ایمانی سے پھینٹی لگائیے اور مسجد کھول دیجیے۔ غضب خدا، وبا میں یہودیوں کے بنک کھلے ہوں، وہاں کاروبار ہوتا رہے اور مسلمانوں کی مساجد پر تالے لگ جائیں، وہاں ہمارا کاروبار۔ ۔ ۔ہماری مراد ہے کہ وہاں مذہبی شعائر ادا نہ ہوں تو یہ کیسی بدبختی ہے۔

پنج وقتہ جماعت جاری رہے گی تاکہ لوگوں کو اللہ کی نازل کردہ کسوٹی پر پرکھا جا سکے۔ ورنہ آزمائش کا فائدہ کیا۔ پرچہ دو گے نہیں تو امتحان میں پاس کیسے ہو گے۔

3۔ تمام لوگ وضو گھر سے کر کے آئیں اور ہر قدم پر نیکی پائیں

گھر سے وضو کرنے سے مسجد کے پانی کے بل کی بچت ہو گی۔ وضو نہ کر کے آنے والے کو ہر قدم پر صرف آدھی نیکی ملے گی۔

4۔ سنتیں بھی گھر پر پڑھ کر آئیں، بعد کی سنتیں بھی واپس جا کر پڑھیں کیونکہ طبی طور پر زیادہ دیر اختلاط سے اس بیماری کے زیادہ پھیلاؤ کا اندیشہ ہے

دارالعلوم کراچی، جامعہ بنوریہ اور جامعہ اشرفیہ میں کی گئی سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ کورونا پر فرض نماز کے وقت نیند طاری ہو جاتی ہے تاکہ وہ خدا کے نیک بندوں پر حملہ نہ کر سکے۔ لیکن سنتوں کا کورونا پر اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے مسجد میں سنتیں پڑھنا معطل ہے۔ نفل نماز چونکہ ہمارے تحقیقی پرچے کے سکوپ میں شامل نہیں تھی اس لیے اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا رہی۔ دل کرے تو نفل گھر میں پڑھیں، دل کرے تو مسجد میں، اگر کورونا ہونا ہے تو ہو جائے گا، نہیں ہونا تو نہیں ہو گا۔ اس میں زیادہ تفکر کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنا ایمان مضبوط رکھیے، زیادہ سوچنا یوں بھی شیطان کا کام ہے۔

طبی طور پر بھی ہمارے حکماء نے یہ ثابت کردیا ہے کہ فرض نماز کا اختلاط دراصل اختلاط نہیں ہوتا۔ ہم اس کے لیے جلد ہی ایک نیا لفظ ایجاد کر کے مقتدرہ قومی زبان سے رجسٹرڈ کرا لیں گے۔ رہی یہ بات کہ زیادہ دیر اور کم دیر میں کتنے منٹ کا فرق ہوتا ہے تو ابھی ہم نے آپ کو کیا بتایا ہے کہ زیادہ سوچنا کس کا کام ہوتا ہے؟ یاد آیا؟ فضول سوال کرنے سے پرہیز کریں نہیں تو شیطان کی طرح آپ کو بھی اللہ کی بے پایاں رحمت سے محروم ہونا پڑے گا۔

5۔ اگر طبی وجوہات کی بناء پر حکومت نمازیوں کی تعداد پر کوئی پابندی عائد کرے یا کسی خاص عمر کے مسلمان کو مسجد میں جانے سے منع کرے تو شرعاً وہ معذور سمجھے جائیں گے

ہمیں شک ہے کہ حکومت ایسی پابندیاں طبی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ سیاسی وجوہات کی بنا پر لگاتی ہے اور اس سے یہود و نصاری اور یہود و ہنود کے ایجنڈے کی تکمیل کی جاتی ہے۔ یہود دو دفعہ اس لیے لکھا ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ الگ سے سازشیں کرتے ہیں اور امریکا کے ساتھ الگ سے۔

بتانا یہ ہے کہ ہم ایسی کسی طبی وجہ کے قائل نہیں جس کی بنیاد پر ایسی کوئی پابندی لگائی جا سکے تو ایسی ہر پابندی کا گناہ بہرحال حکومت وقت کے سر ہو گا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 156 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *