کورونا کے دورمیں تادم مرگ بھوک ہڑتال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کے شورشرابے میں کئی بڑی خبریں دب کررہ گئی ہیں۔ خوف اور اندیشے کے ماحول میں لوگ ان خبروں پربھی توجہ نہیں دے رہے ہیں، جن کوعام حالات میں نظرانداز کرنا شاید ممکن نہ ہوتا۔

کورونا بحران کے دوران جن بڑی خبروں کو نظراندازکیا گیا، ان میں ایک خبرکشمیری رہنما یاسین ملک کی دلی کی تہاڑ جیل میں بھوک ہڑتال کی خبرہے۔ یاسین ملک کی طرف سے تاحیات بھوک ہڑتال کے اس اعلان کا پس منظرکافی طویل اور پچیدہ ہے۔ لیکن اس کا فوری سبب جموں کی انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت میں ان کے خلاف دہشت گردی کے تحت قائم مقدمات پرہونے والی سماعت ہے۔ اس سماعت کے از سرنوآغاز اور اس کے طریقہ کار پرانہوں نے شدید تحفظات اور اعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

مقدمہ یہ ہے کہ پچیس جنوری سن انیس سونوے میں سرینگر کے مضافاتی قصبے راول پورہ میں انڈین ائیرفورس کے ملازمین کے ایک گروپ پرکچھ عسکریت پسندوں نے ایک چلتی ہوئی کارسے گولیاں چلائیں۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں سکواڈرن لیڈرروی کھنا سمیت چارلوگ مارے گئے، اور چالیس زخمی ہوئے۔ یہ اہم واقعہ تھا، جس میں تمام انٹلیجنس ایجنسیوں اور قانون نافذکرنے والے اداروں نے غیرمعمولی دلچسبی لی۔ انیس سونوے کے موسم خزاں میں سی بی آئی نے اپنی تحقیقات مکمل کی۔

سی بی آئی کی رپورٹ کے مطابق یاسین ملک اور اس کے ساتھیوں کو اس واقعے کا ذمہ دارقرار دے دیا گیا۔ اور ان کے خلاف جموں میں ٹاڈا یعنی ایک طرح کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ پیش کردی گئی۔ یہ مقدمہ بڑی تیزر رفتاری سے شروع ہوا، مگربعد ازاں کچھ ایسے واقعات پیش آئے کہ مقدمہ مسلسل تعطل کا شکار ہوتا رہا۔ ایک بڑا واقعہ تویہ تھا اگست انیس سو نوے کے موسم گرما میں یاسین ملک کوایک جھڑپ کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

یاسین ملک کی گرفتاری کے وقت کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف مخبری اور غداری کے الزمات کا تبادلہ اور خون خرابہ ہو رہا تھا۔ ان حالات میں یاسین ملک چارسال جیل میں رہنے کے بعد مئی انیس سوچورانویں میں ضمانت پر رہا ہوئے۔ رہائی کے بعدیاسین ملک نے عسکریت پسندی ترک کرکہ پرامن جہدو جہد اور بھارت کے ساتھ مذاکر ات کا راستہ اختیار کرنے کا دھماکہ خیزاعلان کر دیا۔ بھارتی حکام نے یاسین ملک کے ساتھ مذاکر ات کے دوران جووعدے کیے، ان میں ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کے خلاف عسکریت پسندی کی وجہ سے جومقدمات قائم ہوئے ہیں، ان پر مزید کارروائی نہیں کی جائے گی، اور امن کی طرف لوٹنے والے کسی عسکریت پسند کے خلاف اس کے ماضی کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

سن انیس سوپچانویں میں جموں کشمیر ہائی کورٹ کے ایک رکنی بنچ نے ٹاڈا کورٹ میں چلنے والے اس مقدمے کے خلاف حکم امتناعی جاری دیا، جس کی وجہ سے یہ مقدمہ طویل التوا کا شکار ہو گیا۔ آگے چل کرسن دو ہزارآٹھ میں یاسین ملک نے یہ مقدمہ جموں سے سری نگرمنتقل کرنے کی درخواست دی۔ اس درخواست کے حق میں یاسین ملک کی دلیل یہ تھی کہ جموں میں ان کی جان کو شدید خطرات ہیں، اور ان کو سیکورٹی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

اس کی وجہ انہوں نے اس سال امرناتھ یاترا اور غیرکشمیریوں کو وادی میں لیز پرزمین دینے کے دوران رونما ہونے والے حالات وواقعات قرار دیے، جنہوں نے کشمیریوں کو مذہبی بنیادوں پرتقسیم کردیاتھا۔ گزشتہ سال اپریل میں جمو ں کشمیر ہائی کورٹ نے اس مقدمے کو سری نگرمنتقل کرنے کا سن دوہزار آٹھ کا حکم ختم کر دیا۔ جسٹس سنجے کمار گپتا نے ستائیس صحفات پرمشتمل فیصلے میں انیس سو پچانویں کا حکم امتناعی بھی ختم کر دیا۔ نتیجتا تقریبا تین دہائیوں بعد جموں کی ٹاڈا کی عدالت نے یہ کیس دوبارہ سماعت کے لیے کھول دیا۔

مقدے کی اس کارروائی میں یاسین ملک بنفس نفیس شریک نہیں ہو سکے۔ بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ان کے خلاف عسکریت پسندوں کی مالی امداد کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا ہوا ہے۔ اس مقدمے کی وجہ سے وہ اس وقت تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ جموں کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے حکم کے خلاف دلی کی تہاڑ جیل کی انتظامیہ نے یاسین ملک کو پیش کرنے سے معذرت کردی۔ انہوں نے کہا کہ ہوم منسٹری نے جیل حکام کو یاسین ملک کو کسی عدالت میں پیش کرنے سے منع کر دیا ہے۔

البتہ انہوں نے یاسین ملک کو وڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنے کا بندوبست کیا۔ وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہونے کے بعد یاسین ملک نے تہاڑ جیل سے ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے وڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں ان خامیوں کی نشاندہی کی، جو انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وڈیولنک کے ذریعے ان کو پوری طرح اپنی بات کرنے کا موقع نہیں دیاگیا۔ انہوں نے عدالت میں پیش ہو کراپنا مقدمہ لڑنے کا مطالبہ کیا، اور اس حق کے دفاع کے لیے تاحیات بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

یاسین ملک کی صحت کی انتہائی مخدوش حالت کے پیش نطران کے اس اعلان پران کے ہمدرد حلقوں نے سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے ہمدرد حلقوں کا خیال ہے کہ ایسے حالات میں جب دنیا کی پوری توجہ کورونا وائرس کی طرف مبذول ہے، تاحیات بھوک ہڑتال کا خیال اچھا نہیں ہے۔ دنیا کی توجہ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں پرمرتکز ہے۔ ان کی بھوک ہڑتال کا کوئی نوٹس نہیں لے گا۔ اور نہ ہی ان حالات میں ان کی حمایت میں کسی قسم کا احتجاج کے کوئی امکانات ہیں۔

ان حالات میں ان کی بھوک ہڑتال کی کوشش رائیگاں جا سکتی ہے، اور ان کی صحت اور زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اس سارے قصے کو لیکراس وقت مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ بھارت کی موجودہ حکومت میں ایک مضبوط لابی کا خیال ہے کہ نوے کی دہائی میں بھارتی حکام نے کشمیری عسکریت پسندوں سے مذاکر ات کر کے اور ان کی ماضی کی کارروائیوں سے چشم پوشی کرکہ سنگین غلطی کی تھی۔ اور اس غلطی کا زالہ ان لوگوں کو سخت سزائیں دے کرہی کیا جا سکتا ہے۔

اس لابی کے دباو اور اثرونفوزکی وجہ سے تیس سال بعد اس مقدمے کی ازسرنو کارروائی شروع ہوئی۔ دوسری طرف کشمیر میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے، جویاسین ملک کے عسکریت پسندی ترک کر کے امن کی طرف بڑھنے کے عمل کو کشمیریوں سے غداری کے مترادف قراردیتے ہیں۔ یاسین ملک کا بیانیہ یہ ہے کہ بھارت کی انتہائی اہم اور ممتاز شخصیات نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اگروہ مسلح جنگ کا راستہ ترک کر دیتے ہیں، توان کے خلاف ماضی میں دہشت گردی کے تحت قائم مقدمات ختم کر دیے جائیں گے، اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی طرف پیش قدمی کی جائے گی؛ چنانچہ یہ مقدمہ دوبارہ کھول کراس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے، اور ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مقدمہ دوبارہ چلانے کی وجہ یہ ہے کہ یاسین ملک نے دوہزارتیرہ میں دورہ پاکستان کے دوران حافظ سعید اور دوسرے اسلامی بنیاد پرست عسکریت پسندوں سے ملاقاتیں کیں، اور ان کے ساتھ سٹیج شیئرکیا۔ اور وہ اس بات کو بار باردہراتے رہے کہ اگر مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نہ نکل سکا، تووہ دوبارہ عسکریت پسندی کی طرف جا سکتے ہیں، اور بندوق اٹھانے پر مجبورہوسکتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نظریاتی طور پرعدم تشدد کے قائل نہیں، بلکہ انہوں نے اس نظریے کو محض ایک ہتھیار کے طور پراستعمال کرنے کی کوشش کی۔

اس مقدمے کے دوبارہ آغازکی جو بھی وجہ ہو لیکن اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ یاسین ملک نے ایسے حالات میں جب عسکریت پسندی اپنے عروج پرتھی پرامن جہدو جہد کا راستہ اختیار کیا۔ یہ ایک مشکل اور دلیرانہ فیصلہ تھا۔ چاروں طرف سے عسکریت پسندوں میں گھرے ہوئے ایک عسکریت پسند کے لیے بندوق پھینک کرعدم تشدد کے راستے پرچلنا ایک مشکل کام ہے، جس کی حوصلہ افزائی ضروری ہے تاکہ سماج میں تشدد پسندی کے رحجانات کو روکا جا سکے۔

یاسین ملک کے خلاف مقدمہ چلاتے وقت اہل حکم پرلازم ہے کہ وہ ان کے تمام بنیادی انسانی حقوق کا احترام کریں۔ بھارتی آئین کے تحت وڈیو لنک ہو یاعدالت میں بنفس نفیس پیش ہوکر پوری آزادی سے اپنا دفاع کرنا ان کا آہینی اور قانونی حق ہے۔ کسی بھی ملزم کویہ حق دیے بغیرقدرتی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ اور ملزم کے دفاع کا قانونی حق اس کے ماضی یانظریات سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *