ایک طبیب کی حکایت: کیمیا گر سے مسیحائی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کے ہر طرف چرچے سن کے کہیں آپ اوبھ تو نہیں گئے ؟ ہمارا تو کچھ ایسا ہی عالم ہے۔

مریض دیکھتے دیکھتے بے اختیار سوچے جاتے ہیں کہ آفت کی گھڑی میں دل بہلنے کا کچھ تو سامان ہونا چاہئے، امید کا الاؤ روشن رہنا چاہیے۔ بالکل اسی طرح جیسے تاریک راتوں میں بھٹکے ہوئے مسافر کو دور کہیں سے ٹمٹماتی لو زندگی کی نوید سنا دے۔ فیض صاحب کا قلم بھی تو یہی کہتا تھا کہ ویرانے میں بہار اور صحرا میں باد نسیم کا تعلق کسی اداس تنہا رات میں دل پہ اترنے والی یاد سے جڑا ہوتا ہے۔

انہی سوچوں میں گھر کے من کی نم مٹی سے خیال کی کونپل سر اٹھاتی ہے، کیوں نہ الف لیلہ کی شہر زاد کی طرح کہانی کہی جائے اور سنی جائے۔ ایسی کہانی جس کا آپ کو روز انتظار رہے۔ دیکھیے، ہزار راتیں تو کہیں نہیں گئیں!

ہمیں کہانیاں سننے، کہنے اور پڑھنے کا شوق بہت بچپن میں ہوا۔ ہمارا کنبہ کتاب دوست تھا، پڑھتے زیادہ تھے پر بولتے کم کم۔ ہمیں نہ معلوم کیسے مگر بات کہنے کا بھی بہت شوق تھا۔ جو پڑھتے وہ بولنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔ اکثر رات کو ابا کے بستر پہ جا دھمکتے اور ابا سے سننے کی بجائے انہیں کہانی سناتے۔ اسی طرح ایک دن اہلے گہلے لفظ گوندھتے ہوئے ایک جملہ کہا

“ جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں “

یہ کہنا تھا کہ ابا اچھل کے اٹھ بیٹھے اور حیرت زدہ لہجے میں بولے “یہ تم نے کہاں سے سیکھا؟ “

“ ابا ! وہ کہانی میں وزیر، بادشاہ کو یوں ہی مخاطب کرتا ہے نا”

ابا مسکرا اٹھے اور کہنے لگے “پھر سناؤ” اس رات انہوں نے ہم سے وہ جملہ کم و بیش دس مرتبہ سنا۔

ہمارے ابا

ہماری بلا جھجک، بلا تھکان اور بلا امتیاز باتوں کا شکار کبھی ابا کے دوست ہوتے، اماں کی سہلیاں، آپا کی ہم جماعت یا ہمسائے، ہم کسی کو بخشنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ کسی کو نظم سناتے، کسی کو لطیفہ، کسی کو تازہ ترین تقریر اور کسی کو کوئی تازہ احوال۔ مزے کی بات کہ ہمیں کوئی نہ روکتا، نہ ٹوکتا، بس سب سنتے چلے جاتے۔

بیچ بیچ میں کبھی ایک سوال آجاتا ” بیٹا! آپ بڑی ہو کے کیا بنو گی”

جواب گھڑا گھڑایا “مجھے ڈاکٹر بننا ہے “

ابا سنتے ، مسکراتے اور حقے کی نے گڑگڑانے لگتے اور فضا میں تمباکو کی کڑوی مہک، گڑ کی مٹھاس میں بھیگ کے پھیلنے لگتی۔

وہ وقت گزرے زمانہ بیت گیا۔ خواہش بھی پوری ہوئی اور تمنا کے راستے میں آنے والی تمام کھٹنائیاں بھی سہیں۔ اب بھی کبھی کبھی سوال پوچھا جاتا ہے، نوعیت مگر مختلف ہوتی ہے کہ زندگی بہت سے پہلووں کو بے نقاب کر چکی ہے۔

” اگر زندگی واپس انہی راستوں پہ لے جائے، جب آتش جوان تھا تو کیا بننا پسند کریں گی؟”

بلا توقف ہمارے منہ سے جملہ نکلتا ہے ” یہی جو ہم ہیں، یعنی ڈاکٹر “

اس سال ڈاکٹر بنے تیس برس بیت گئے۔ اگر ابھی بھی ہر مریض سے بات کرنا اچھا لگے، اس کی پریشانی اپنی محسوس ہو اور تیوری چڑھا کے گھڑی کی سوئی سے بندھ کے محض ایک نسخہ نہ لکھا جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں اسی منزل پہ پہنچنا تھا، اسی راستے کے سنگ سمیٹنا تھے۔

 اگرچہ بے شمار مقاماتِ آہ و فغاں آئے جن پہ چلتے ہوئے پاؤں بھی زخمی ہوئے اور دل فگار بھی ہوئے لیکن ہم ایک بات جان چکے تھے، مریض کی آنکھوں میں پائی جانے والی جوت ہمارے دل کے تار چھیڑتی ہے۔

ہمدردی و احساس، کسی انجان کی تکلیف کو اپنے پہ طاری کرنا، سدباب کے لئے اپنی ذات کے دائرے سے باہر نکلنا، مالی منفعت کو نظر انداز کر دینا ایک طبیب کا وہ سرمایہ ہے جو اسے کسی بھی اور پیشے سے ممتاز کرتا ہے۔

اگر پیسہ کمانا ہی مقصود ہوتا تو رنگوں کے تال میل سے کپڑے ہی ڈیزائن کر کے بیچ رہے ہوتے یا پھر ٹی وی اینکر ہی بن جاتے کہ جملہ خصوصیات بدرجہ اتم موجود تھیں۔ کیا ہی مزا تھا شہرت اور دولت کی دیوی گھر کی دہلیز پہ سجدہ ریز ہوتی اور شاید ہم بھی انہی میں سے ایک ہوتے جو گھر کے ملازم کو مشکل وقت میں نکال باہر کرتے ہیں۔

کرونا کے محاذ پہ دنیا بھر میں ایک ہی قوم اس موذی کے سامنے سینہ سپر ہے۔ اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارا تعلق اسی قبیلے سے ہے جو زندگی کا قرض مع سود چکانے میں پیش پیش ہے۔ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ان دیکھا دشمن بے نشان ہے، اگلا شکار شاید ہم میں سے ہی کوئی ہو، ہمیں ایک لحظه بھی خیال نہیں آتا کہ ہم ڈاکٹر کیوں بنے۔ گھر آنے پہ بچوں کی اداس اور پریشان نظریں پیچھا کرتی ہیں، احباب روزانہ کی خبر جاننا چاہتے ہیں کہ ایک اور دن خیریت سے گزر گیا۔ دنیا کے لئے دروازہ بند کرنا عافیت ہے لیکن ہمارے لئے نہیں۔

محمد مجیب

ہم جیسوں کی کتھا ادب کی دنیا میں کئی کہانیوں میں پروئی جا چکی ہے۔ اگر سننا چاہتے ہوں تو محمد مجیب کی لکھی کہانی “کیمیا گر” سے بہتر افسانہ کیا ہو گا۔ یہ کہانی انیس سو بتیس میں شائع ہوئی اور وبائی پس منظر میں حسب حال معلوم ہوتی ہے۔ حکیم مسیح کہانی کے بنیادی کردار جو خاندان کے اصرار پہ وبائی علاقے میں بسنے والے مریضوں کو چھوڑ کے کہیں اور جا رہے ہیں۔

“رات کو مسلمان قافلہ بستی سے نکلا تو حکیم مسیح اس کے ساتھ تھے۔

ان کو امید تھی کہ اپنے ضمیر کو وہ کسی طرح سے سمجھا بجھا کر منا لیں گے، لیکن بدقسمتی سے ان کی کوئی تدبیر نہ چلی۔ انہوں نے ہزار کوشش کی کہ گذشتہ زندگی کو بالکل بھول جائیں مگر ان کا تخیل قابو سے نکل گیا اور ہر لمحہ ایک نیا صدمہ پہنچانے لگا۔ ذرا کہیں کھٹ کھٹ کی آواز آئی اور انہیں خیال آیا کہ اس وقت معلوم نہیں کتنے لوگ جن کو ابھی اس کی خبر نہیں ملی ہے کہ حکیم مسیح انہیں مصیبت میں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ان کے دروازے کو کھڑے کھٹکھٹا رہے ہوں گے۔ کہیں کوئی بچہ رویا اور انہیں یاد آیا کہ ناگہانی موت کیسی بلا ہوتی ہے، خالد پور میں کتنے بچوں کی مائیں اس وقت ہاتھ مل مل کر کہہ رہی ہوں گی کہ اگر حکیم مسیح نہ چلے گئے ہوتے تو ان کے بچوں کی جان بچا لیتے۔ حکیم مسیح کی آنکھوں میں بارہا آنسو بھر آئے، سر چکرانے لگا، لیکن واپس جانے کی ہمت انہیں پھر بھی نہ ہوئی۔

قافلے نے خالدپور سے کوئی دس کوس پر جا کر منزل کی۔ حکیم مسیح تھک کر چور ہو گئے تھے، لیکن انہیں یقین تھا کہ نیند کسی طرح نصیب نہ ہوگی اور ہوا بھی یہی۔ کچھ دیر کے لیے تو ان پر غفلت سی طاری ہو گئی جس سے ان کا تکان جاتا رہا، لیکن پھروہ پریشان خواب دیکھنے لگے۔ کبھی وہ پہاڑ کی چوٹی پرسے پھسل کر نیچے گرتے تھے، کبھی گھوڑے پر سوار ایک غار میں پھاند پڑتے تھے جس کی تہ میں ایک خوفناک تاریکی کے سوا کچھ نہ تھا”

خواب میں ہی ان کا ایک اجنبی سے مکالمہ ہوا؛

“اے آہنی جسم کے مسافر تو کہاں جارہا ہے؟‘‘

مسافر نے پہلے سر جھکا لیا، پھر ان سے آنکھ لڑا کر مایوسی کے لہجے میں کہا،

’’خالدپور!‘‘

’’مگر وہاں تو ہیضہ ہے۔‘‘

’’ہاں، میں اسی لیے جارہا ہوں۔‘‘

حکیم مسیح کو اس قدر حیرت ہوئی کہ وہ تھوڑی دیر تک کچھ نہ کہہ سکے، انہوں نے بڑی حسرت سے مسافر کی طرف دیکھا اور پوچھا،

’’اے مسافر! کیا تجھے اپنی جان عزیز نہیں؟‘‘

مسافرنے ٹھہر ٹھہر کر کہا ’’مجھے اپنی جان بہت عزیز ہے اور ہمیشہ رہے گی جتنی وہ مجھے عزیز ہے اتنی ہی وہ خدا کو زیادہ عزیز ہوگی ، اگر میں نے اس کی راہ میں جان دی۔‘‘

حکیم مسیح پھر چپ ہو گئے۔ مسافر کی صورت سے ظاہر تھا کہ اس کا قول پکا ہے۔ انہیں اپنی کمزوری یاد آئی اور اس بلند ہمت اور پختہ ارادے پر رشک آیا۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ شاید یہ شخص دنیا میں اکیلا ہو اور انتہائی ایثار سے روکنے کے لیے کوئی دنیاوی تعلقات نہ ہوں۔ کچھ وہ اپنا بچاؤ بھی کرنا چاہتے تھے۔

’’اے مسافر! کیا دنیا میں تجھ سے محبت کرنے والا نہیں؟‘‘

’’محبت کا جواب محبت ہے جہاں جاتا ہوں مجھ سے محبت کرنے والے پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر محبت مجھے کبھی بھلائی سے نہیں روکتی۔‘‘

آخری جملہ حکیم مسیح کے سینے میں تیر کی طرح لگا اور وہ بے تاب ہو گئے۔

’’مگر مسافر، ہیضے کا علاج محبت سے کیونکر ہو سکتا ہے؟‘‘ حکیم مسیح نے مسافر کو ٹوک کر کہا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے پر تیار تھے۔ بدن پسینے سے شل ہو گیا تھا۔

’’محبت ہر بیماری کا علاج ہے، ہر زخم کا مرہم ہے، محبت زندگی اور موت کا فرق مٹا دیتی ہے، ہر مشکل کو آسان کر دیتی ہے، انسان کی محبت میں خدا کی رحمت کی تاثیر ہوتی ہے تجھے یقین نہ آئے تو تجربہ کر کے دیکھ لے۔‘‘

‎مسیح کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اس قدر روئے ‎تھے کہ تکیے بھیگ گئے تھے۔ لیکن ان کو اب نہ اپنی سرخ آنکھوں کی پروا تھی نہ تھکے ماندے جسم کی، انہوں نے ’’یارسول اللہ‘‘ کا نعرہ مارا، پلنگ پر سے اچک کر دوڑتے ہوئے اصطبل گئے اور ایک گھوڑے پر بغیر زین کے سوار ہو کرخالدپور کی طرف چل دئیے۔

اگلا منظر کچھ یوں ہے؛

“حکیم صاحب سویرے سے دوا خانے کے سامنے بیٹھے ہیں نہ پانی پیا ہے نہ کھانا کھایا ہے۔ بال پریشان ہیں، آنکھیں سرخ۔ لیکن مریضوں کا تانتا بندھا ہے اور برابر نبض دیکھ رہے ہیں اور دوائیں دے رہے ہیں بستی میں دو مہینے ہیضے کا دورہ رہا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بیماروں کا علاج کیا جاتا تھا لیکن بیماری کو روکنے کی کوئی تدبیر نہ تھی۔ لیکن حکیم مسیح نہ ہوتے تو غالباً ساری بستی تباہ ہو جاتی۔ ان کی موجودگی سے وہم اور خوف جو اکثر بیماری سے زیادہ مہلک ثابت ہوتے ہیں لوگوں کے دلوں میں جڑ نہ پکڑ سکے۔ کوئی مریض ایسا نہیں تھا جسے وہ دیکھ نہ سکے ہوں یا جس کی ہمت ان کے اخلاق اور ہمدردی نے دوگونہ نہ کی ہو۔ وہ دن رات مریضوں کو دیکھنے میں اور ان کے لیے دوائیں تیار کرنے میں مشغول رہتے تھے”

کہانی میں بیان کی گئی خواب سی بے اختیاری ہمارے آنگن میں اس طرح سے تو نہیں اتری لیکن ایک احساس مزید قوی ہو جاتا ہے کہ ہم اہل درد اور اہل جنوں کے اس قافلے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے جانے کے بعد ان کی دھندلی سی یاد یا تو کسی کتاب کے صفحوں میں پنہاں ہو گی یا شاید کسی پرانی البم کی مٹیالی سی تصویر اور ہاں ایک امکان اور بھی تو ہے، کسی شفا پانے والے کے دل میں دکھ کی دوا کرنے والی آنکھ کی ایک جھلک، ہمدرد آواز کا ایک سُر جو کہیں ہوا میں اٹک جاتا ہے۔

آکر کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر

تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ایک طبیب کی حکایت: کیمیا گر سے مسیحائی تک

  • 30/03/2020 at 11:22 am
    Permalink

    Bhot khoob likha ha

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *