قدرت کا انتقام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسے اورکیا کہیں گے ؟ہم بنی آدم نے دھرتی کا کیا حشر کررکھا تھا ۔ کس چیز کو انسانوں نے بخشا؟ماحولیات تباہ ‘ آسمانوں کارنگ دھندلا ‘ شہروں میں راتوں کاایسا منظر کہ تارے صحیح طورپہ دیکھے نہ جاسکیں‘ دریاؤں اورسمندروں کو گندگی کا گہوارہ بنادینا۔ہر قدرتی چیز کی تباہی ‘ قدرتی نظاروں کی بربادی ‘ جنگلات کاقتلِ عام ۔ انسانوں کو ہوش کب آنی تھی ؟کلائمیٹ چینج کی دُہائیاں ہوا میں گونج رہی تھیں‘لیکن کسی کو کیا پروا۔
لیکن چند ہفتوں میں ہی انسانوں کو کیسا سبق ملاہے ۔ دنیا کو سبق نہیں ملا ۔ کرہ ٔارض نے تو آرام کا سانس لیا ہوگا۔ یہ آفت سبق ہے تو فقط انسانوں کیلئے ۔ نہ پرندوں کیلئے نہ جانوروں کیلئے ‘ اس آفت کا ٹارگٹ انسان ہی ہیں۔ کبھی ہمیں خیال نہ آیا کہ کرہ ٔارض کے ساتھ ہم کرکیا رہے ہیں؟اس زمین کی کتنی بربادی ہوسکتی ہے ‘ کوئی حد تو ہونی چاہیے ۔لیکن ہمارے ترقی کے ماڈل اس تکبرانہ مفروضے پہ مبنی رہے کہ ترقی کی کوئی انتہا نہیں۔
جتنامرضی معدنیات کاہم استعمال کریں ۔ جتنا مرضی ہم دھواں اورآلودگی آسمانوں کی طرف پھینکیں۔ جتنی چاہیں سمندروں کی بربادی کریں۔ کبھی کسی نے خیال بھی کیا کہ موٹرکار بڑی اچھی ایجاد ہے لیکن کتنی موٹرکاروںکی دھرتی متحمل ہوسکتی ہے ؟ ہر ملک کے ہر شہر میں ترقی کا یہی معیار رہاہے کہ سڑکوں پہ ٹریفک منجمد رہے ‘ انڈر پاسیں اوراوورہیڈ بنتے رہیں ۔ کنسٹرکشن کا لامتناعی سلسلہ جاری رہے ۔ زرخیز زمین برباد ہوتی رہے بس اونچی عمارتیں بنتی رہیں۔ ہاؤسنگ کالونیاں پھیلتی رہیں ۔ برداشت سے زیادہ کام انسان سے لیں تو بیمارپڑجاتاہے ۔ پھر اُسے آرام کرنا پڑتا ہے۔ ہم کرہ ٔارض کی پیداوار ہیں ۔ جنم ہم نے یہاں لیاہے ۔ کبھی یہ نہ سوچا کہ دھرتی کتنا بوجھ برداشت کرسکتی ہے ؟
جب معلوم ہو بھی گیا کہ ماحولیاتِ دنیا متاثر ہوچکا ہے اوریہ سلسلہ اتنا آگے جاچکا کہ جلد علاج ناممکن ہے ‘ہم پھر بھی باز نہ آئے۔ پٹرول ‘ ڈیزل ‘ قدرتی گیس اورکوئلہ استعمال ہوتارہا ۔ ہوا میں یہ سب چیزیں جاتی رہیں ۔ ان زمینی وسائل کااستعمال کم کیا ہونا تھا‘ زیادہ ہی ہوتا گیا۔ ترقی کا راز یہی سمجھا گیا کہ زیادہ سے زیادہ فوسل فیول استعمال ہوتے رہیں۔
دریاؤں کا پانی ایک حد تک ہی ذخیرہ کرکے استعمال کیا جانا چاہیے ۔ ایک حد سے زیادہ ڈیم بنیں تو یہ نقصان دہ عمل ہو جاتاہے ۔لیکن دنیا میں بڑے سے بڑے ڈیم بنتے جارہے ہیں ۔ برصغیر کے تمام ممالک اس روش کے مجرم ہیں کہ ہمالیہ کے پہاڑوں سے نکلنے والے تمام دریا ؤں کا ستیا ناس کررہے ہیں۔ اس لحاظ سے ہم جو پنجاب کے لوگ ہیں ہماری تو عجیب ہی سوچ ہے کہ دریاؤں کا پانی جو سمندر میں گیا وہ ضائع ہوگیا ۔ کون افلاطون ہمیں آکے سمجھائے کہ یہ ایک ضرور ی امر ہے کہ دریاؤں کے پانی سمندر میں جائیں ۔ ساحل کی صحت کیلئے یہ ناگزیر ہے ‘ لیکن ہماری رٹ رہی ہے کہ دریائے انڈس پہ ڈیم بنتے ہی جائیں ۔
یہ تو جملۂ معترضہ تھا ۔ بنیادی بات تو دنیا کی تباہی اورانسانوں کی لاپرواہی کی ہے ۔ لیکن اب کیسا سبق مل رہاہے ؟زندگی مفلوج ہوکے رہ گئی ہے ۔شہر کے شہر بند پڑے ہیں۔ ہم کہتے نہ تھے کہ موٹرکاروں کے بغیر زندگی کارواں دواں رہنا ناممکن ہے ؟اب کیا ہوگیاہے ۔ کاریں ساری گھروں میں بند ہیں ۔ موٹرویز تقریباً سنسان ہیں۔
انسانوں کی زندگی متاثر ہوئی ہے‘ لیکن قدرت کا کاروبار تو چل رہاہے ۔ سورج اب بھی طلوع ہوتاہے اوروقت ِ مقررہ پہ زمین کی دوسری جانب ڈوب جاتاہے ۔ تارے نکلتے ہیں ‘ ماہتاب کی روشنی آتی ہے ۔بادِ صبا اب بھی چلتی ہے ۔ پرندے چہچہاتے ہیں البتہ ایک فرق ضرور پڑاہے کہ دنیا کے جن بڑے شہروں میں چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں سنائی نہیں دیتی تھیں ‘اب دیتی ہیں کیونکہ شوروغل ختم ہوچکاہے ۔ سمندروں کی مچھلیوں اورزمین کے جانوروں نے سکھ کاسانس لیاہوگا۔
یہ انسانی بھوک کی بات نہیں کہ ہم دنیا کی تباہی کررہے تھے ۔کرہ ٔارض دنیا کی آبادی کو سسٹین (sustain) کرنے کی صلاحیت رکھتاہے ‘ لیکن ماڈرن زمانے میں ہم نے جو ترقی کے ماڈل اپنائے اُن کا بوجھ اٹھانا کرہ ٔارض کیلئے مشکل ہورہاتھا۔ یہ ماڈل کیا تھے ‘ بس نام نہاد ترقی یا بڑھوتی ہر قیمت پہ ہوتی رہے ۔ فیکٹریاں چلتی رہیں ‘ سپر مارکیٹیں بنتی جائیں اورانسان خریداری کی نہ ختم ہونے والی دوڑ میں جُتا رہے۔یہ ہمارا ترقی کا ماڈل ہے ۔
کوئی پوچھے کہ ان سُپر مارکیٹوں سے پہلے دنیا میں خریداری نہیں ہوتی تھی ؟پاکستان جیسے ملک میں تو برانڈڈ کپڑے بس اب ہی آئے ہیں‘ کچھ سال ہی ہوئے ۔ پہلے تو جو سوٹڈ بوٹڈکہلاتے تھے وہ بھی ٹیلرماسٹروں کے پاس جایا کرتے تھے ۔ جوتے بھی یہیں بنتے تھے ۔ باہر کے جنک فوڈ کی فرنچائزیں نہیں آئی تھیں ۔ لیکن گزارا چل رہاتھا۔ یہ خوا مخواہ کی فضولیات اورفضول خرچی ترقی کی نشانیاں سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن آناًفاناًکیسی ٹھنڈپڑگئی ہے ؟
یہ خوش ہونے کی بات نہیں انسان تکلیف سہہ رہے ہیں ‘ اموات ہورہی ہیں اورجو ماڈل یا چارٹ بنائے جا رہے ہیں وہ تو خوفناک قسم کے ہیںکہ بیماری پہ کنٹرول کرلیاجائے پھر بھی لاکھوں اموات کا ہونا یقینی ہے ‘ لیکن یہ آفت سوچنے پہ مجبور کرے گی کہ ہم کن راستوں پہ چل رہے تھے ۔
دنیا کے موسم ہم نے بدل ڈالے ہیں ۔آجکل کی بارشیں یہ کوئی نارمل چیزہے ؟ ان مہینوں میں ایسی بارشیں کبھی ہوتی تھیں؟گندم کی کٹائی آنے کو ہے اوربادل چھٹنے کانام نہیں لے رہے ۔ ہم وہمی لوگ ہیں ‘ تعویز دھاگوں پہ تکیہ کیا کرتے تھے ۔ اس آفت میں یہ مشاہدہ ہوا ہوگا کہ تعویز دھاگوں پہ زیادہ انحصار نہیں کیاجارہا۔ کیونکہ سمجھ آچکی ہے کہ معاملہ عام دنوں کے ٹوٹکوں سے زیادہ ہو چکاہے ۔
کچھ لوگ سمجھانے کی کوشش کرتے تھے کہ آئندہ کے مسائل پانی اورماحولیات کے ہوں گے ۔ پاکستان کی زندگی کا آثار دریاؤں کے پانیوں پہ ہے اوریہ دریا ہمالیہ کے گلیشیئر سے آتے ہیں۔ کلائمیٹ چینج کی وجہ سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں۔ اگلے پچاس سالوں میں ان کی صحت خراب ہوچکی ہوگی ۔ لیکن آپ خود بتائیے کہ ہمارے ملک میں ایسے موضوعات پہ کتنا دھیان دیا جاتاہے؟
اس آفت نے البتہ ہر چیز اُلٹی کردی ہے ۔ سوچ کے پیمانے بدل ڈالے ہیں۔ وبا گئی بھی تو سوچ اورانسانی جذبات پہ اس کے اثرات رہیں گے۔ انسان کی شریانوں میں سٹنٹ لگیں یا اُسے دل کا دورہ پڑے تواس کی زندگی وہ نہیں رہتی جو پہلے تھی ۔ اس بیماری کے بعد دنیا کی حالت بھی ایسے تبدیل ہوگی ۔ ہم سوچنے پہ مجبور ہوںگے کہ کیا پرانی راہوں پہ ایسے ہی چلتے رہناہے ؟
دنیا کو چھوڑئیے ‘ ہماری معیشت اُلٹ پُلٹ ہوچکی ہے ۔ کاروبار بند ہیں اورپتہ نہیں معیشت کے پہیے کب پرانی رفتار پہ واپس آسکیں گے؟ پیسہ ہے نہیں ‘لیکن جس دلیرانہ سوچ کی ضرورت ہے وہ کہیں نظر نہیں آرہی ۔ پاکستان قرضے واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ہم سود کی اقساط نہیں دے سکتے ۔
یہ جو وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف وغیرہ کو ہمارے قرضے معاف کرنے چاہئیں‘ فضول کی باتیں ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ پہل ہمیں کرنی چاہیے کہ اس وقت قرضے واپس کرنے کے متحمل نہیں ہیں ۔ جیسے بینک خراب قرضوں کو ری شیڈول کرتے ہیں ہمیں بھی پرزور انداز سے کہنا چاہیے کہ ہمارے قرضہ جات ری شیڈول ہوں۔ آفت کی زد میں تو ہم پہلے سے ہیں اور ہمارے ساتھ کیا ہوسکتاہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور اقدام کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ جو انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر ز(IPPs)ہیں ‘انہوں نے ہماری معیشت کو گلے سے پکڑرکھا ہے۔ ان کے ساتھ پرانے معاہدے منسوخ ہوں اور نئی شرائط پہ ان سے بات چیت ہونی چاہیے۔ ان لوگوں نے اپنی ابتدائی انویسٹمنٹ کم از کم دس بار پوری کرلی ہوگی ۔ اب یہ قوم پہ رحم کھائیں ۔
مزید قرضے پاکستان نہ لے ۔ بس پرانے قرضوں کو ری شیڈول کرنے کا یکطرفہ اعلان کریں اور IPPsکے پھندے کو توڑ پھینکیں ۔ ان دواقدام سے کچھ گنجائش ریاست ِ پاکستان کو مل جائے گی۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *