فرقہ پرستی کا وائرس – خصوصی تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ وائرس کورونا سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ کورونا نے بہت سوں کو خدا یاد دلا دیا۔ یہ وائرس مگرخدا کی یاد نہ دلا سکے۔ ایسا ہی ایک وائرس فرقہ پرستی ہے۔ عام مسلمان خدا کے حضور میں سربسجود ہے۔ گریہ کر رہا ہے۔ مگرکچھ کو ان لمحوں میں بھی فرقہ وارانہ شناخت کی فکر ہے۔

ایک گروہ ایران سے لوٹنے والے زائرین کو بنیاد بناکر اپنے فرقے کا علم لہرا رہا ہے اور دوسرا تبلیغی جماعت کے مسافروں کوتختہ مشق بنائے ہوئے ہے۔ اس معاملے میں مذہب سب کچھ ہے۔ تجارت ہے، عصبیت ہے، شہرت ہے، دولت ہے۔ سیاست ہے۔ اگر نہیں ہے توخدا خوفی نہیں ہے۔ لوگوں کو اپنے اپنے فرقے کی فکر ہے، اپنے اخلاق کی نہیں۔

یہ تجارت کیسے ہے؟ مقدس مقامات کاسفر اب ایک کاروبار ہے۔ مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سے لے کر نجف و کر بلا تک، سارا سال قافلے رواں دواں رہتے ہیں۔ ان اسفار کو منظم کرنے کے لیے کاروباری ادارے ہیں۔ حج میں ان کا حصہ ہے۔ حکومت ساٹھ فیصد حجاج کا انتظام کرتی ہے۔ چالیس فیصد نجی منتظمین کے لیے ہے۔ یہاں بھی اہلِ مذہب اور اہلِ تجارت کا گٹھ ہے۔ اگر عام حج چھ لاکھ کا ہے تو ایک مقدس مذہبی شخصیت کے ساتھ وہی حج کم و بیش دس لاکھ کا ہوتا ہے۔ کیا اس میں زیادہ ثواب ملتا ہے؟ ایک سادہ مسلمان یہی سمجھتا ہے اور یہ کاروباری اور مذہبی گروہ مل کر اس کا استحصال کرتے ہیں۔

صرف اسی پر بس نہیں۔ یہ مذہبی شخصیات خود بھی عمرے منظم کرتی ہیں اور چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے اپنے معتقدین کو سعودی عرب لے جاتی ہیں۔ یہی کچھ کربلا و نجف کے لیے ہوتا ہے۔ یہ کوئی خفیہ کاروبار نہیں، اعلانیہ ہے۔ اس کے لیے اخبارات میں اشتہار چھپتے ہیں۔ مذہبی شخصیات اپنانام اور اثررسوخ استعمال کرتے ہیں۔ یہ خواتین و حضرات سعودی عرب اور ایران کے حکومتوں کے ساتھ اپنے تعلقات سے کاروباری فوائد حاصل کرتے ہیں۔ بادشاہوں اور مراجع تقلید کے ساتھ اپنی تصویریں اخبارات میں یوں ہی تو نہیں چھپوائی جاتیں۔ یہ اربوں روپے کا کاروبار ہے۔ اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ مذہب تجارت کیسے ہے؟

یہ سیاست بھی ہے۔ فرقہ پرست مذہبی شخصیات ’برادراسلامی ممالک‘ کے غیر رسمی سفیر کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ خواتین و حضرات ان کے لیے پاکستان کے سیاسی و مذہبی حلقوں میں لابنگ کرتے ہیں۔ ان کے سفرا کے لیے تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں اور پاکستانی عوام کے دلوں میں ان کے لیے نرم گوشہ پیدا کرتے کی مہم اٹھاتے ہیں۔ کچھ سال پہلے ایک معروف خطیبہ ہماری ایک خاتون وزیر اطلاعات کو بطور خاص ایک برادر اسلامی ملک لے گئیں۔ وہاں کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی شخصیات سے متعارف کرایا۔ اس کی تصاویر میڈیا میں مشتہر ہوئیں۔

جس کو یہ بات سمجھنے میں کوئی تردد ہو، وہ حالیہ بحران کے دوران میں مذہبی شخصیات کے بیانات پڑھ اور سن لے۔ صاف معلوم ہو جائے گا کہ کون کس ملک کا غیر رسمی سفیر ہے۔ ایک دوسرے ملک کے دفاع میں، ان پاکستانیوں کی حمیت جس طرح جوش میں آتی ہے، وہ ان کی شناخت بتا دیتی ہے۔ پیمانے اور بھی ہیں۔ جیسے سعودی عرب پر یمن سے میزائل آتا ہے تو کون مذمت کرتا ہے اور سعودی طیارے یمن کا رخ کرتے ہیں تو کہاں سے مذمت کے اعلانات جاری ہوتے ہیں۔

یہ ہے وہ پس منظر جس میں کورونا کے پھیلاؤ کے ذمہ داروں کا تعین ہو رہا ہے۔ جب ایران سے آنے والے زائرین کو وائرس کا ماخذ قرار دیا گیا تو دونوں اطراف کے فرقہ پرستوں نے اسے اپنے اپنے مقاصد اور اہداف کے تحت دیکھا۔ رائے ونڈ سے جب تبلیغی قافلے نکلے اور اس کے نتیجے میں کورونا کے پھیلنے کی خبریں سامنے آئیں تو لوگوں کو جوابی وار کے لیے جگہ مل گئی۔ اب چل سو چل۔ میدانِ کارزارآباد ہے اور دونوں اطراف سے گولے داغے جا رہے ہیں۔

اس سارے قضیے کو ایک دوسرے زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔ زائرین کی آمد ورفت اور تبلیغی قافلوں کا نکلنا معمول کی سرگرمیاں ہیں جو سارا سال جاری رہتی ہیں۔ کورونا پھیلنے لگا تو یہ سرگرمیاں جاری تھیں۔ بدقسمتی سے ایران اس کے ابتدائی مراکز میں شامل تھا۔ ایران کی حکومت بروقت اس کی شدت کا اندازہ نہ کر سکی جس سے صورتِ حال پیچیدہ ہوگئی۔ پاکستان سے گئے زائرین بھی اس کی زد میں آگئے۔

ان زائرین کو اپنے ملک ہی لوٹنا تھا۔ یہ پاکستان کی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان کی محفوظ واپسی کا اہتمام کرتی اور ساتھ ہی اس بات کا بھی کہ کوئی آدمی ضروری مراحل سے گزرے بغیر، عام لوگوں میں گھل مل نہ جائے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔ یہ تساہل کیوں ہوا؟ اس کے ذمہ داروں کا تعین ہو نا چاہیے اور اگر قانون کا تقاضا ہو تو سزا بھی ملنی چاہیے۔ یہ سادہ انتظامی معاملہ ہے جسے فرقہ واریت کے شعلوں کے لیے ہوا نہیں بنا نا چاہیے۔

یہی معاملہ تبلیغی جماعت کا ہے۔ مارچ کے وسط میں جب رائے ونڈ میں اجتماع ہو رہا تھا تواس وقت منتظمین کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اس کومنسوخ کردیں۔ ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کی ذمہ داری حکومت اور اکابرینِ جماعت دونوں پر ہے۔ حکومت سختی سے روک نہیں پائی اور تبلیغی جماعت کے بڑے اس کی سنگینی کا ادراک نہ کر سکے۔ یہی نہیں، اجتماع کے بعد قافلے ترتیب دیے گئے اور سارے ملک کے لیے جماعتوں کو نکالا گیا۔ یہ کوئی حکیمانہ حرکت نہیں تھی۔ تاہم، یہ بھی سو فی صد انتظامی معاملہ ہے۔ اس سے یہ نتیجہ کیسے نکالا جا سکتا ہے کہ تبلیغی جماعت ہی پر پابندی لگادینی چاہیے؟

ایک انتظامی معاملے کو ہم نے کامیابی کے ساتھ فرقہ وارانہ بنا دیا۔ اس کی بنیادہ وجہ وہی ہے جس کی طرف میں بارہا توجہ دلاتا رہا ہے۔ مذہب اب ہمارے لیے سیاست، عصبیت، دولت اور شہرت کا ایک ذریعہ ہے۔ ان میں سے کوئی ایک شے ایسی نہیں، مذہب جس کے لیے اتارا گیا۔ اس کا مقصد میرا اخلاقی تزکیہ ہے۔ یہ اس لیے آیا ہے کہ میں اپنے اخلاقی وجود کی تطہیر کروں۔ قرآن مجید نے بتایا کہ کامیاب وہی ہوا جس نے اپنا تزکیہ کیا۔ یہ کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔

آج مذہب اور اخلاق کا رشتہ ختم ہو چکا۔ اہلِ مذہب نے اخلاق کو طلاق دے دی، الا ماشا اللہ۔ اگر مذہب اور اس کا اصل پیغام سب کے پیشِ نظر ہوتا تو کورونا سب کو اکٹھا کر دیتا۔ ہر مذہبی حلقے سے ایک ہی پکار ہوتی:رجوع الی اللہ۔ لوگ فرقہ وارانہ تعصبات سے بلند ہوتے اور پوری انسانیت کو اللہ کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے۔ افسوس کہ تعصبات غالب رہے۔ فرقہ پہلی ترجیح بنا۔ کاروباری مفادات نے کسی اور طرف دیکھنے نہ دیا۔

آج تجدید و احیائے دین کا مطالبہ یہ ہے کہ مذہب اور اخلاق کے اس ٹوٹے ہوئے رشتے کو پھر سے جوڑا جائے۔ پہلے مرحلے پر خود مسلمانوں کو یہ بتا یا جائے کہ اسلام کوئی عصبیت نہیں، یہ اللہ کی ہدایت ہے۔ یہ پیغام ہے کہ آدمی کو ہر صورت میں انصاف پہ کھڑا رہنا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ کسی گروہ کو اقتدار تک پہنچایا جائے۔ یہ اس لیے ہے کہ انسان اپنے رب کے حضور میں سرخرو ہوسکے۔

یہ کوئی آسان کام نہیں۔ جب کورونا جیسا وائرس ہمیں فرقہ وارانہ تعصبات سے نہیں نکال سکا تو پھر اس سے بڑھ کر کیا چیز ہے جو انذار کا کام کر سکے۔ مذہبی لوگ ایسے واقعات کی نسبت خدا کی طرف کرتے ہیں۔ کوئی عذاب کہتا ہے اور کوئی تنبیہ۔ عملی رویے بتاتے ہیں کہ سب اسے دوسروں کے لیے عذاب اور تنبیہ سمجھتے ہیں، اپنے لیے نہیں۔ یہ امریکہ کے لیے عذاب ہے یا اٹلی کے لیے جو نفس پرست ہو گئے ہیں۔ یہ ہمارے لیے عذاب نہیں جو فرقہ وایت جیسے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

کورونا وائرس سے انشا اللہ ہمیں نجات ملے گی۔ لیکن اس کا کوئی امکان نہیں کہ فرقہ واریت سے ہماری جان چھوڑ سکے۔ جب تک مذہب ہمارے لیے تجارت ہے، عصبیت ہے، شہرت ہے، دولت ہے، سیاست ہے، یہ نہیں ہو سکتا۔ اس کی جڑیں تاریخ اور ہماری نفسیات میں اتنی گہری ہو چکیں کہ مجھے اس سے نجات کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ یہ امتِ مسلمہ کے وجود کو لاحق ایسا وائرس ہے جس کی ویکسین کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ اس وائرس کے پھیلانے والے (carriers) البتہ گلی گلی پھر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *