بھٹو عدالت ِ عالیہ میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چار اپریل 2020 ء بھٹو صاحب کی 41 ویں برسی، کورونا کے باعث روایتی تزک و احتشام سے نہیں منائی جا رہی۔ جنابِ بھٹو، پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اس لحاظ سے بھی غیر معمولی کردار تھے کہ چاہنے والوں نے انہیں ٹوٹ کے چاہا اور نفرت کرنے والوں نے بے پناہ نفرت کی۔

المناک انجام کی کہانی کا آغاز 10 نومبر 1974 ء کی شب ہوا ؛ جب ان کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا۔ ان کے سیاسی مخالف احمد رضا قصوری، اپنی فیملی کے ساتھ شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے۔ ان کے ساتھ اگلی نشست پر ان کے والد نواب محمد احمد خان قصوری اور پچھلی نشست پر والدہ اور خالہ تھیں۔ کار، شادمان اور شاہ جمال کے درمیانی چوک پر ٹرن لیتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آ گئی۔ احمد رضا نے حواس برقرار رکھے اور اپنے شدید زخمی والد کو یو سی ایچ لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹروں نے ان کی موت کا اعلان کر دیا۔ ایف آئی آر میں احمد رضا نے وزیراعظم بھٹو کو قتل کی اس واردات کا اصل ذمہ دار قرار دے دیا۔

تین ستمبر 1977 ء کی پَو پھٹ رہی تھی، جب بھٹو کو ان کی رہائش گاہ ( 70 کلفٹن کراچی) سے گرفتار کر کے خصوصی پرواز کے ذریعے لاہور پہنچا دیا گیا، جہاں ان کے خلاف قتل کے اس مقدمے کی عدالتی کارروائی ہونا تھی۔ مقدمے کا آغاز ہوا تو لاہور ہائی کورٹ ایک دنیا کی نظروں کا مرکز بن گئی۔ عالمی میڈیا بھی لاہور پہنچ گیا تھا۔ قریشی برادران (ڈاکٹر اعجاز حسن اور جناب الطاف حسن) کوٹ لکھپت جیل سے اور وزیراعظم بھٹو پرائم منسٹر ہاؤس سے تقریباً ایک ہی وقت میں نکلے۔

قریشی برادران نے ہفت روزہ ”زندگی“ دوبارہ نکال لیا۔ (شامی صاحب اپنا ہفت روزہ ”بادبان“ نکال رہے تھے ) ۔ ”زندگی“ نے بھٹو صاحب کے خلاف اس عدالتی کارروائی کی خصوصی کوریج کا اہتمام کیا۔ ”بھٹو عدالت ِعالیہ میں“ اس کا عنوان تھا۔ عدالتِ عالیہ کے اندر اور باہر کا ماحول کارروائی کے دوران بھٹو صاحب کے موڈ اور مزاج کی مختلف کیفیات، ان کا لباس اور چال ڈھال، اس رپورٹ کا دلچسپ ترین حصہ ہوتے۔ ”زندگی“ میں ہمارے رفیق کار ممتاز عامر بڑی توجہ سے اسے قلمبند کرتے، تمام تر جزئیات کے ساتھ ساتھ ایک ایک منظر کی ”عکس بندی“۔ ممتاز عامر بعد میں صحافت سے وکالت کی طرف جا نکلے۔ آج کل وکالت کرتے ہیں اور بہاولپور کے نمایاں وکلا میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ رپورٹس ڈھونڈ نکالیں اور ”بھٹو عدالت ِعالیہ میں“ کے نام سے انہیں کتابی صورت دے دی۔ اس دلچسپ روداد کے کچھ مناظر:

13 ستمبر 1977 ء صبح 9 بج کر 5 منٹ پر مسٹر بھٹو حفاظتی عملے کے ساتھ کمرہ ٔعدالت کے عقبی دروازے سے داخل ہوئے۔ ان کے دائیں شیخ رشید (بابائے سوشلزم، پیپلز پارٹی کے وائس چیئر مین) اور بائیں جانب بیرسٹر یحییٰ بختیار اور ڈی ایم اعوان بیٹھ گئے۔ بھٹو کے چہرے پر تناؤ اور اضمحلال کی کیفیت جھلک رہی تھی۔ شیخ رشید کے ساتھ کچھ کھسر پھسر کے بعد وہ کمرۂ عدالت کا جائزہ لینے لگے۔ کچھ لوگوں نے چودھری ظہور الٰہی کو ان کے سامنے کی نشست پر لا بٹھایا۔

بھٹو کو یہ ناگوار گزرا اور نگاہ دوسری طرف پھیر لی۔ 9 بجکر دس منٹ پر فاضل جج کمرۂ عدالت میں تشریف لائے۔ بھٹو سمیت حاضرین ان کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ یوں پاکستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوتا ہے۔ ایک سابق سربراہِ مملکت کی عدالت میں ملزم کی حیثیت سے پیشی۔ ایک مرحلے پر بھٹو کہہ رہے ہیں : ”میں ملک کا صدر اور وزیراعظم رہ چکا ہوں۔ مجھ پر بہت کیچڑ اچھالا جا چکا۔ میری بہت کردار کشی ہوئی۔ اب باہر عوام کو فیصلہ کرنا ہے۔ عوام ہی اعلیٰ تر عدالت ہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ ملک کی قیادت کو تباہ کرنے کی اس طرح کوشش کی گئی ہو۔ میں ان میں سے کسی جرم میں ملوث نہیں ہوں۔ “ بھٹو نے ڈائس پر ہاتھ مارا اور بیٹھ گئے۔ اب ان کے تیور ذرا تیکھے تھے۔

ایک اور دن چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین نے بی بی سی کے نمائندے سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ غیر ملکی نمائندے اپنے اخبارات میں اس مقدمے سے متعلق رپورٹس تفصیل کے ساتھ شائع کریں، تا کہ دنیا کو علم ہو سکے کہ کارروائی مسلمہ قانونی روایات کے مطابق ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی بتایا کہ تمام تر کارروائی ٹیپ ریکارڈ پر محفوظ ہوتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنا نمائندہ بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، لیکن وہ ابھی تک نہیں پہنچا۔

بعض غیر ملکی صحافی کمرۂ عدالت میں وقفے کے دوران بھٹو سے انٹرویو لینے میں کامیاب ہو گئے، جس پر ایس پی اور ڈی ایس پی معطل کر دیے گئے۔ اس کے بعد بھٹو کے لیے کٹہرا بنوا دیا گیا۔ صحافیوں کے لیے ان سے دور نشستیں مخصوص ہوئیں۔ بارہ ملکی اور چھ غیر ملکی صحافیوں کو کارروائی سننے کی اجازت دی گئی۔

25 ستمبر کو عدالت میں تیسری پیشی پر صورت ِحال مختلف تھی۔ پولیس والوں کی تعداد کم اور حفاظتی انتظامات بھی نسبتاً نرم تھے۔ شاہراہِ قائداعظم پر ٹریفک حسب ِ معمول رواں دواں تھی۔ برآمدوں میں بیٹھی لیڈی کانسٹیبلز بھی ”بارہ ٹہنی“ کھیلتی رہیں۔ بھٹو صاحب کو نیلے رنگ کی بڑی کار میں لایا گیا۔ ان کے ہمراہ پولیس کی صرف ایک گاڑی تھی۔ انہیں ایک گھنٹے تک ممبر انسپکشن ٹیم کے کمرے میں بٹھایا گیا۔ سلیٹی رنگ کے سوٹ میں ملبوس، ماضی کا وزیراعظم افسردہ اور مایوس نظر آ رہا تھا۔

بیگم نصرت بھٹو کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔ بھٹو کے اشارے پر وہ ان کے قریب آ گئیں، جہاں ریحانہ سرور نے انہیں نشست پیش کی اور خود اپنی بہن (طلعت یعقوب) کی نشست پر ہی بیٹھ گئی۔ بیگم بھٹو نے بھٹو صاحب کو اخبارات اور ایک کتاب پیش کی، جو انہوں نے یہ کہہ کر لوٹا دی کہ میں یہ کتاب پڑھ چکا ہوں۔ انہوں نے جیل میں اخبارات نہ ملنے کی شکایت کی۔ میاں بیوی چند منٹ سرگوشیاں کرتے رہے۔ فل بنچ کے ارکان تشریف لائے تو بھٹو سمیت تمام حاضرین احتراماً کھڑے ہو گئے۔

25 ستمبر کی سماعت کے دوران ایک مرحلے پر بھٹو غم و غصے کے عالم میں مائیک پر آئے اور کہا ”پاکستان ٹائمز“ میں ایک خبر چھپی ہے کہ میں نے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ خبر توڑ مروڑ کر شائع کی گئی، جبکہ میں نے وہ بات مختلف پس منظر میں کہی تھی۔ صحافی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اس قسم کی خبریں اس لئے شائع کر رہے ہیں کہ میں عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کر دوں، میں مارشل لاء کے خلاف بھی بولوں، لیکن میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔

”تین اکتوبر کی صبح مسٹر بھٹو دھاری دار سوٹ میں ٹائی لگائے مسکراتے ہوئے کمرئہ عدالت میں آئے۔ حفیظ پیرزادہ اور ان کی بیٹی شازیہ پیرزادہ بھی موجود تھیں۔ کارروائی کے دوران وہ سابق وزیراعظم سے سرگوشیاں کرتے رہے، بھٹو کا موڈ خوشگوار، جبکہ پیر زادہ کے چہرے پر گہرا کرب تھا۔ پولیس حکام پیرزادہ کو وہاں سے لے گئے، بھٹو نے ان کے شانے تھپکتے ہوئے کہا:“ جاؤ تمہارا میرے پاس اتنی دیر بیٹھنا بھی انہیں گوارا نہیں ”۔

غیر ملکی صحافی بھٹو کی جانب لپکے، سوالات کا تانتا بندھ گیا کہ ان کے نگران ایس پی نے کہا ”سر، آپ ان سے بات نہیں کر سکتے“۔ بھٹو نے جواب دیا ”یہ لوگ آ گئے ہیں تو کیا میں انہیں منع کر دوں؟ کچھ دوستوں کو تو میرے پاس رہنے دو“۔

5اکتوبر کو بھٹو کمرئہ عدالت میں آئے تو کٹہرے پر روغن ہو چکا تھا۔ بھٹو کی بش شرٹ اور پتلون کا رنگ کٹہرے کی پالش سے ملتا جلتا تھا۔ بسکٹی رنگ کے لباس میں، سماعت کے دوران وہ مسلسل چیونگم چباتے رہے۔ بے نظیر بھٹو حاضرین کے درمیان بیٹھی تھیں۔ انہیں والد سے گفتگو کی اجازت نہ تھی (البتہ وقفے کے دوران، ملاقات ہو گئی)

گیارہ اکتوبر کا دن بھٹو صاحب پر خاصا دشوار گزرا۔ اس روز انہیں اور ایف ایس ایف کے چار سابق افسروں (اور اہل کاروں ) کو فردِ جرم سنائی گئی۔ جسٹس قریشی کے توجہ دلانے پر بھٹو کٹہرے میں کھڑے ہو گئے، ٹکٹکی باندھے جج صاحبان کو دیر تک دیکھتے رہے، ان کے چہرے شدید اضطراب اور مایوسی تھی۔ I am not guilty کہتے ہوئے، وہ اپنی نشست پر براجمان ہو گئے۔ اس روز نواب محمد احمد خان کے خون آلود کپڑے، پتلون کوٹ، واسکٹ اور جناح کیپ دکھائی گئی۔

یہ اندوہ ناک منظر تھا۔ بھٹو صاحب کے خلاف اٹک سازش کیس میں سزا پانے والے فوجی افسروں کی بیگمات، بیگم کرنل علیم آفریدی اور بیگم بریگیڈیئر ایف بی علی بھی کمرئہ عدالت میں موجود تھیں۔ عدالت کی کارروائی شروع ہو چکی تھی کہ بے نظیر کمرئہ عدالت میں آئیں اور صحافیوں کے درمیان بیٹھ گئیں، پھر وہ اپنے پاپا کے قریب پہنچ گئیں۔ بھٹو صاحب نے آگے کی طرف جھک کر بیٹی سے سرگوشیاں کیں اور پھر کارروائی سننے لگے۔ چند لمحوں بعد خیال کی کوئی نئی لہر آئی تو انہوں نے بیٹی سے دوبارہ گفتگو کی۔ جانے کیا بات تھی کہ دونوں ہنسے اور دیر تک مسکراہٹ ان کے چہرے پر رقصاں رہی۔

ہر نیا دن بھٹو صاحب کے اضطراب میں اضافہ کر رہا ہے، غصے اور برہمی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ 6 نومبر کو غلام مصطفی کھر پہلی مرتبہ کمرئہ عدالت میں آئے۔ دور سے سیلوٹ مارا، مگر جواب موصول نہ ہوا۔

ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ 10 مارچ کی شب اس فل بنچ کے تین ججوں ؛ جسٹس ذکی الدین پال، جسٹس آفتاب حسین اور جسٹس گلباز خان کے گھروں کے باہر بعض کار سوار افراد نے فائرنگ کی۔
25 جنوری سے بند کمرے میں ہونے والی سماعت 3 مارچ کو مکمل ہوئی۔ 17 مارچ 1978 ء کی صبح فیصلے کا اعلان کر دیا گیا۔ سزائے موت۔
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *