کورونا کے بعد کیا ہونے والا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کی چوٹ نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ معاشی مشکلات کا شکار تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک کے لیے یہ ایک تباہ کن افتاد ہے۔ غریب ممالک کے ساتھ ساتھ اس بحران نے ترقی یافتہ، خوشحال اور معاشی اعتبار سے مضبوط ترین ممالک کی معیشت کو بھی ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس سے نکلنے میں ان کو کئی برس لگ سکتے ہیں۔ کورونا کے جھٹکے سے دنیا کی معیشت کا جو حال اس وقت ہو گیا ہے، اور آنے والے دنوں میں جو شکل یہ اختیار کرنے والی ہے، وہ بہت ڈراؤنی ہے۔

دانشور اور ماہرین معاشیات تو یہ جانتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہو گا؟ اگلے چند مہینوں اور سالوں میں یہ بحران کس شکل میں سامنے آئے گا؟ مگر عام آدمی بھی اجتماعی دانش کی روشنی میں اس کا ادراک رکھتا ہے۔ عام آدمی کا فکر اور اندیشہ خواص سے بہت زیادہ ہے، کیونکہ تاریخی اعتبار سے اس طرح کے حالات کا پہلا شکار عموماً عام آدمی ہی ہوتا رہا ہے۔ اس طرح کے بحرانوں میں اس کا روزگار ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بچوں کی تعلیم و صحت کی سہولیات کم ہو جاتی ہیں۔ اسے شدید جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک خوفناک صورت حال ہے، جس سے عام آدمی ڈرتا رہتا ہے۔

کورونا وائرس کی طرح کے بحرانوں میں فیکٹریاں، کارخانے اور بینک بند ہوتے ہیں تو سرمایہ دار بھی دیوالیہ ہو جاتا ہے۔ مگر وہ دیوالیہ بھی ایک شان سے ہوتا ہے۔ امیروغریب ملکوں میں اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے ایک قانون موجود ہے، جسے ہم دیوالیہ پن کا قانون کہتے ہیں۔ یہ قانون دنیا کے ہر لاء سکول میں پڑھایا جاتا ہے۔ ہر ملک میں پوری جزئیات سمیت اس پر عمل کیا جاتا ہے۔ مہذب زبان میں اسے ”بینک ریپسی پروٹیکشن“ بھی کہا جاتا ہے، جس کے تحت دیوالیہ ہونے والے امیر شخص کو قرض خواہوں سے بچا کر قانونی تحفظ دیا جاتا ہے۔

اس قانون کے اندر خوش نصیب اور دولت مند لوگوں کے ذاتی گھربار اور ضروریات زندگی کے تحفظ کا کافی سامان ہے ؛ چنانچہ دیوالیہ ہونے کے باوجود نہ ان کے خاندان کے سر سے چھت چھنتی ہے، اور نہ ہی ان کے پُرتعیش طرز زندگی پر اثر پڑتا ہے۔ خوشحالی اور بے فکری کے دور میں آسودہ حال اور زندگی کی بنیادی ضروریات کی تگ و دو میں شب و روز گزارنے والے عام لوگوں کی طرز زندگی میں جو فرق ہوتا ہے، وہ معاشی بحرانوں کے دوران بھی باقی رہتا ہے۔ بحران اور اس کے بعد کے دنوں میں کئی عام لوگ گھروں سے بے دخل ہو کر فٹ پاتھ پر آ جاتے ہیں، کیونکہ پہلے ہی ان کے گھر اور سڑک کے درمیان فاصلہ ایک ”پے چیک“ کا ہی ہوتا ہے اور بد قسمتی سے غریب لوگوں کے لیے دنیا میں بینک ریپسی یا کوئی ”غریب پروٹیکشن ایکٹ“ نہیں ہے۔

کورونا وائرس کے شدید جھٹکے سے حیرت زدہ دانشوروں اور معاشیات دانوں کے درمیان بحث یہ ہے کہ اس بحران کے بعد کیا ہو گا؟ اس بحث میں کسی قسم کی رجائیت پسندی یا خوش امیدی نہیں ہے۔ یہ بحث بدتر اور بدترین میں سے کسی ایک کے انتخاب کی ہے۔ اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ اس بحران کے بعد ہمیں کتنے بدترین قسم کے ریسیشن یا ڈپریشن کا سامنا ہو گا؟ عوام کو مکمل مایوسی سے بچانے کے لیے کہیں کہیں یہ خوشخبری بھی دی جاتی ہے کہ خواہ ڈپریشن ہو یا ریسیشن، ہم دونوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

انسان میں اس کی ہمت ہے، اور تجربہ ہے۔ تاریخ میں ہم نے ایسا کئی بار کیا ہے۔ یہ نیوکنزرویٹوزاور نیولبرل ازم کا منترہ ہے۔ وہ عام لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جو کچھ ہوا یہ ہمارا مقدر تھا۔ اس میں ہماری کوئی غلطی یا کوتاہی نہیں۔ اس لیے جو کچھ ہم ماضی میں کرتے رہے ہیں، وہ دہراتے رہیں گے۔ اس کے سوا کیا چارہ ہے۔ سرمایہ داری نظام کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ سوشلزم پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔ مگر وہ عوام کو یہ نہیں بتانا چاہتے کہ سوشلزم کے نام پر قائم ایک بندوبست تو صرف ایک بار ناکام ہوا، مگر سرمایہ دارانہ نظام کئی بار منہ کے بل گر چکا ہے۔

جب سے سرمایہ داری بطور ایک معاشی نظام چل رہی ہے، یعنی تقریباً اٹھارہ سو پچاس سے اب تک، دنیا میں تقریباً پینتیس بڑے ریسیشن آئے ہیں۔ آزاد سرمایہ داری کے نظریہ ساز اس بات پر بھی متفق ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ دو سو سالوں میں سرمایہ داری نظام ایک بار پوری طرح ناکام اور زمین بوس بھی ہوا، مگر ہم اسے ناکامی کے بجائے ”گریٹ ڈپریشن“ کہتے ہیں۔ یہ 1929 میں آیا اور 1938 تک جاری رہا۔

نیوکنزرویٹوز یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ریسیشن ہو یا ڈپریشن یہ دراصل سرمایہ داری نظام کی ہی ناکامی کا واضح اظہار ہوتا ہے۔ اس میں سٹاک مارکیٹ کریش ہو جاتی ہے۔ لوگوں کی ذاتی جائیدادوں کی قیمت مٹی میں مل جاتی ہے۔ فیکٹریاں کارخانے بند ہو جاتے ہیں۔ لوگ وسیع پیمانے پر بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ سماج بطور مجموعی ایک نفسیاتی ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔ ہم اسے ایک وقتی بدقسمتی قرار دے کر دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر پھر اسی راستے پر چل پڑتے ہیں، جس پر ہمیں ایک بار پھر منہ کے بل گرنا ہوتا ہے۔

لیکن ہم اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک وائرس کے حملے کا شکار ہو کر اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتے، اور اگلے حملے سے بچاؤ کی کوئی فکر نہیں کرتے۔ اس طرح ہم سپینش وائرس سے لے کر کورونا وائرس تک درجنوں بار خاک چاٹتے ہیں، اور یہ فرض کرکے زندہ رہتے ہیں کہ اب کوئی نیا وائرس نہیں آئے گا۔ یہی رویہ معاشی نظام کے بارے میں ہے۔ ہم کہتے ہیں، جو آدم سمتھ نے لکھ دیا تھا، وہ مقدس اور حرف آخر ہے، خواہ یہ پینتیس بار غلط ثابت ہو چکا ہو۔ کارل مارکس نے جو کہا تھا وہ سچ محض اس لیے سچ نہیں ہو سکتا کہ یہ کارل مارکس نے کہا تھا۔ اپنے سیاسی اور معاشی نظام کے ہم ہروقت قصیدے پڑھتے رہتے ہیں، لیکن وقت آنے پر یہ صرف ایک وائرس کی مار ہوتا ہے۔

معاشی انصاف پر مبنی متبادل نظام کے مطالبے کے جواب میں ہم کہتے ہیں : ہم جمہوری دور میں زندہ ہیں، جمہوریت میں فیصلے عوام کرتے ہیں، ان کی مرضی کے بغیر ہم کوئی متبادل یا منصفانہ معاشی نظام کیسے لا سکتے ہیں؟ اور جمہوریت کا کوئی متبادل نہیں۔ یہ بات درست ہے کہ دنیا میں جمہوریت کا متبادل کوئی معلوم نظام نہیں ہے، مگر شرط یہ ہے کہ یہ واقعی جمہوریت ہی ہو، جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں۔ ابراہام لنکن کے خیال میں جمہوریت وہ طرز حکومت ہے، جس میں عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہوتی ہے۔

مگر ہم جمہوریت کے نام پر جو انتظام آج چلا رہے ہیں یہ ایسا طرز حکومت ہے جس میں امیر کی حکومت، امیر کے لیے، اور امیر کے ذریعے ہے۔ ہماری جمہوریتوں میں معدودے چند استثناؤں کے ساتھ، دنیا بھر میں حکمران طبقات اپنے ملک کے دولت مند، خوشحال، اور با اثر طبقات کے مفادات کے مطابق پالیسیاں بناتے ہیں۔ سیاسی نظام کی طرح ہی معاشی نظام میں بھی مساوات اور مساوی مواقع کا فقدان ہے۔ گزشتہ پچاس سالوں میں یہ دنیا ماضی کی نسبت کئی ہزار گنا غیر مساوی ہوئی ہے۔

مثال کے طور پر صرف امریکہ کو لے لیتے ہیں۔ چالیس سال پہلے امریکہ میں ایک فیصد امیر ترین لوگ کل دولت کے آٹھ فیصد کے مالک تھے۔ نیولبرل ازم کی پالیسیوں کے نتیجے میں آج یہ ایک فیصد لوگ کل دولت کے بیس فیصد سے زائد کے مالک ہیں۔ دوسری طرف عام آدمی کی تنخواہ تقریباً وہی ہے، جو بیس سال پہلے تھی۔ امریکہ میں گزشتہ تیس سالوں میں آمدنی میں جو اضافہ ہوا، اس کے سو فیصد کے مالک صرف دس فیصد لوگ ہیں، دوسری طرف نوے فیصد کی آمدنی میں واضح کمی ہوئی ہے۔

نیولبرل ازم کا سب سے بڑا ایجنڈا یہ تھا کہ یہ مارکیٹ سے اجارہ داری کا خاتمہ کرکے آزاد مقابلے کو فروغ دے گا مگر خود لبرل ازم نے زندگی کے ہر شعبے میں جس قدر اجارہ داریوں کو فروغ دیا، اس کا تصور تو ریاستی اجارہ داریوں میں بھی نہیں تھا۔ دانشمندی کا تقاضا یہ ہے موجودہ معاشی و سیاسی نظام کے اگلے کسی بحران کے ہاتھوں تباہ و برباد ہونے اور پھر اٹھ کر اسی راستے پر چلنے کے بجائے ایک نئے منصفانہ معاشی و سیاسی نظام کی طرف بڑھا جائے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *