مبارک ہو جناب وزیراعلیٰ، مبارک ہو!!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب سے پہلا فون جو وزیراعلیٰ کو آیا وہ صدر ٹر مپ کا تھا!احساسِ کمتری کا یہ عالم تھا کہ صدر ٹرمپ سے بات نہیں ہو پا رہی تھی۔ ہکلا ہکلا کر بول رہے تھے۔ مبارک باد دی۔ وزیراعلیٰ کی قسمت پر رشک کیا۔ ان کے خیال میں یہ واقعہ اپنی مثال آپ تھا۔ دوسرے ملکوں کے متعلق تو بقول صدر ٹرمپ، انہیں زیادہ معلومات نہ تھیں مگر کم از کم امریکہ کی اڑھائی سو سالہ تاریخ میں ایسا ایک بار بھی نہیں ہوا تھا۔
اس کے بعد ٹیلی فون کالوں کی قطار لگ گئی۔ ہر بادشاہ، ہر صدر، ہر وزیر اعظم، ہر وزیر خارجہ مبارکباد دے رہا تھا۔ وزیراعلیٰ کے مجوزہ سرکاری اجلاس‘ کانفرنسیں، ملاقاتیں سب منسوخ کرنا پڑیں۔ بین الاقوامی سفارت کاری کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ وفاقی حکومت سے رابطہ کیا گیا اور وزارت خارجہ کا ایک سینئر افسر مع عملہ وزیر اعلیٰ کے دفتر میں تعینات کرانا پڑا۔
تاریخ میں ایسے قابلِ فخر واقعات کم ہوئے ہیں۔ سلطنت عثمانیہ کی اور بات ہے۔ عروج کے عہد میں دنیا بھر سے سفیر قسطنطنیہ میں واقع ”بابِ عالی‘‘ میں حاضر ہوتے تھے۔ خورجینوں میں قیمتی تحائف اور زربفت میں لپٹے مودبانہ خطوط! وہ زمانہ لد چکا۔ اب نیا زمانہ تھا۔ یہ قابلِ رشک مقام تاریخ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو عطا کیا تھا۔ قدرت کے کھیل نیارے ہیں۔ کہاں پاکستانی پنجاب! کہاں اس کے حکمران کو، عالمی طاقتوں سمیت، دنیا بھر سے تہنیتی پیغامات! جاپان کے وزیر اعظم سے لے کر سعودی شاہ تک! مراکش کے بادشاہ سے لے کر انڈونیشیا کے صدر تک۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے لے کر کینیڈا کے وزیر اعظم تک! رشک تھا اور حیرت تھی! مبارکبادیں تھیں اور نیک تمنائیں تھیں! حسرتیں تھیں اور اپنی اپنی قوم، اپنے اپنے ملک پر سب افسوس کناں تھے!
موٹروے پر اس دن جھنڈوں والی کاروں کی لائنیں لگی تھیں! قطار اندر قطار! یہ سفیر تھے دوسرے ملکوں کے جو وفاقی دارالحکومت سے لاہور کی جانب رواں تھے! انہیں اپنی اپنی حکومتوں کی طرف سے فوری احکام موصول ہوئے تھے کہ بنفسِ نفیس جائیں اور وزیراعلیٰ کو مبارکباد پیش کریں! لاہور شہر کی شاہراہوں پر پروٹوکول کا غلغلہ تھا۔ خوبصورت ، کلف لگی کھڑکھڑاتی، اجلی وردیوں میں ملبوس ٹریفک کے سپاہی، جھنڈے والی کاروں کو سلیوٹ کرتے تھے اور رہنمائی کرتے تھے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ارد گرد، عام ٹریفک روکنا پڑی کہ مہمانانِ گرامی کو دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ بھیڑ ذرا کم ہوئی تو ملک کے اندر سے ملاقاتوں اور تبریک کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سب سے پہلے آئے۔ گلے ملے، پیشانی پر بوسہ دیا اور برملا اعتراف کیا کہ لاہور اس معاملے میں کراچی کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ اور پیچھے بھی کوئی ایسا ویسا نہیں چھوڑا۔ کوسوں پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ فرسنگ در فرسنگ ۔ منزل بہ منزل! پھر کوئٹہ، پشاور، گلگت اور مظفر آباد سے حکمرانوں کی سواریاں آئیں۔
وفاقی حکومت نے اپنے سب سے سینئر وزیر کو پورے پروٹوکول، ڈھیر سارے لوازمات اور شاہانہ تکلفات کے ساتھ بھیجا۔ سچ پوچھیے تو شادی کا سماں تھا! لگتا تھا ستاروں نے سالگرہ کی کوئی تقریب اس سرکاری عمارت میں رکھ دی ہے! وزیراعلیٰ، بار بار، دل میں پروردگارِ عالم کا شکر ادا کرتے تھے۔ احساس تشکّر سے ان کا سر جھکا جاتا تھا۔ یہی اہلِ دل کی نشانی ہوتی ہے۔ پھلوں سے لدی ٹہنی، نیچے کی طرف جھکتی ہے۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو نا ممکن کو ممکن بناتا ہے۔ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ‘ وہاں سے عطا کرتا ہے جہاں سے وہم و گمان بھی نہیں ہوتا!؎
شکر نعمت ہائے تو چنداں کہ نعمت ہائے تو
عذر تقصیراتِ ما چنداں کہ تقصیراتِ ما
ملاقاتوں، فون کالوں، مبارکبادوں، تہنیتوں اور پروٹوکول کا طوفان تھما تو اصل مسئلہ خم ٹھونک کر سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس رقم کو خرچ کیسے کیا جائے گا؟ کہاں کہاں خرچ کیا جائے گا؟ کتنے محکموں کی ضروریات پوری ہوں گی؟ ترجیحات کے مسائل کیسے طے ہوں گے؟ ظاہر ہے رقم معمولی نہیں تھی، غیر متوقع طور پر خطیر تھی! جیسے صوبائی حکومت کی لاٹری نکل آئی ہو، جیسے طلسمی داستانوں کا کوئی ورق سامنے کھل گیا ہو۔ اس سے کئی برسوں کے ترقیاتی بجٹ بن سکتے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا۔ کابینہ کے ارکان، تمام محکموں کے سربراہ، صوبائی اسمبلی کے ممبر، اپوزیشن کے رہنما، سب کو دعوت دی گئی۔ کل کوئی یہ نہ کہے گا‘ ہُن برسا تو اپنے آپ میں نہ رہے۔ حالات کا تقاضا تھا کہ حزبِ اختلاف کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ فیصلے باہمی مشاورت اور رضا مندی سے ہوں! سب سے پہلے صوبے بھر میں ان تمام لوگوں کے گھروں میں راشن پہنچانے کی منظوری ہوئی جو دیہاڑی دار تھے اور لاک ڈائون کی وجہ سے روزانہ کی مزدوری نہیں کر پا رہے تھے۔ اس کے بعد محکمۂ تعلیم کو ٹاپ کی ترجیح دی گئی۔ صوبے کے ہزاروں سکولوں کو جو چھتوں، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم چلے آ رہے تھے‘ رقوم فراہم کی گئیں اور کھلے دل کے ساتھ فراہم کی گئیں۔
اساتذہ کی تنخواہیں دو گنا کر دی گئیں۔ صوبے بھر کی نہروں کی صفائی کا پروگرام منظور کیا گیا۔ پانچ سو نئے کارخانے لگانے کے لیے صنعت کاروں کو گرانٹ دی گئی۔ پانچ لاکھ کسانوں کو مفت ٹریکٹر، تھریشر، ٹیوب ویل اور کھاد اور بیج کی ایک ایک ہزار بوری مفت دینے کا منصوبہ فائنل کیا گیا۔ تحصیل کی سطح پر موٹر وے جال بچھانے کا پروجیکٹ طے کیا گیا۔ آئی جی پنجاب کی تجویز پر پولیس کی تنخواہیں تین گنا بڑھا دی گئیں۔ دس لاکھ، پانچ پانچ مرلے کے گھروں کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔ اور امریکہ جیسا ملک رشک کر رہا تھا تو بلا وجہ نہیں کر رہا تھا۔ ان سارے منصوبوں کے بعد بھی بھاری رقم بچ رہی تھی۔
اجلاس جاری تھا کہ وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کا پی اے اندر آیا اور پرنسپل سیکرٹری کے کان میں کچھ کہا۔ پرنسپل سیکرٹری فوراً اٹھے اور وزیر اعلیٰ کے کان میں سرگوشی کی! وزیر اعلیٰ نے اجلاس آدھ گھنٹے کیلئے ملتوی کیا۔ حاضرینِ اجلاس اٹھ کر باہر جا رہے تھے تو وزیر اعلیٰ نے پرنسپل سیکرٹری، وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ کو روک لیا۔ دروازہ کھلا تو سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے سیکرٹری خزانہ اندر آ رہے تھے۔
وزیراعلیٰ نے اٹھ کر سب سے ہاتھ ملائے۔ یہ ایک غیر متوقع اجلاس تھا‘ ایجنڈے پر نہ تھا مگر یہ صوبوں کے فنانس کے سربراہ تھے۔ اہم اور عالی مرتبت منصب دار۔ بات شروع ہوئی تو سندھ کے سیکرٹری خزانہ نے باقیوں کی بھی نمائندگی کی اور حرف مطلب ادا کیا۔ اس غیر معمولی خطیر رقم میں سے یہ بھائی، یہ صوبے، محبت اور تعلق کی بنیاد پر اپنا اپنا حصہ مانگ رہے تھے۔ تحدیثِ نعمت کے طور پر وزیر اعلیٰ نے چاروں صوبوں کیلئے فیاضانہ گرانٹس منظور کیں۔ ان کے وزیر خزانہ نے بخوشی تائید کی! کچھ رقم خیر سگالی کے طور پر، صوبے کی طرف سے، وفاق کو بھی پیش کی گئی!
یہ رقم یہ گنجِ گراں مایہ، کہاں سے آیا تھا؟ رقم تھی کتنی؟ قارئین سے معذرت! یہ اطلاع کالم کے شروع ہی میں دے دینا چاہیے تھی مگر فرطِ مسرت نے اور کمالِ حیرت نے بدحواس کر رکھا تھا۔ تاریخ کا یہ انوکھا قابلِ رشک واقعہ تین اپریل بروز جمعۃ المبارک پیش آیا۔ ایک ادارے کے دو معزز ممبران وزیر اعلیٰ پنجاب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ادارے کی جانب سے ایک کروڑ روپے کا چیک کورونا فنڈ کے لیے عطیہ کیا! پورے ایک کروڑ روپے کا!
اس ادارے کے کم از کم اس وقت پندرہ ہزار ارکان ہوں گے۔ یہ ایک انتہائی محتاط دقیانوسی اندازہ ہے کیونکہ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق تیرہ سال پہلے ممبران کی تعداد دس ہزار تھی۔ ان ممبران میں بڑے بڑے مال، کمرشل کارپوریشنیں، بلڈرز، گلاس انڈسٹری، عظیم الجثہ کاروبار، شاہ عالمی کے ہول سیلرز، غلّے کے آڑھتی، پراپرٹی ٹائیکون، کپڑے کے تاجر، دوا ساز، بجلی کی مارکیٹوں کے کرتا دھرتا، گاڑیوں، ٹرکوں اور بسوں کے ڈیلر اور دیگر سینکڑوں ہزاروں اقسام کے کاروبار کے مالکان شامل ہیں۔ ارکان یقینا پندرہ ہزار سے زیادہ ہوں گے مگر فرض کیجیے، پندرہ ہزار ہی ہیں تو ایک کروڑ روپے کورونا فنڈ میں دینے کا مطلب ہے چھ سو چھیاسٹھ روپے چھیاسٹھ پیسے فی ممبر!!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *