پنجاب یونیورسٹی میں کالم نگاروں کی کہکشاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔ سب کچھ نارمل تھا۔ زندگی کے معمولات اپنی ڈگر پر چل رہے تھے۔ پھر کورونا آیا جس نے ہرچیز بدل کر رکھ دی۔ اب تو گزرا ہوا کل ایک خواب سا لگتا ہے۔ یقین ہی نہیں آتا ہمارے معمولات کے رنگ اور ہماری زندگی کی رفتار کبھی مختلف بھی تھی۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر چیز جیسے ساکت ہو گئی ہے۔ لاک ڈاؤن کا تجربہ ایسا ہی ہے جس طرح پرندے کو پنجرے میں بند کر دیا جائے۔ کہتے ہیں آزادی کی قیمت اس کی عدم موجودگی میں ہوتی ہے۔ لیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب گلی کوچوں میں چہل پہل تھی دفتروں اور یونیورسٹیوں میں زندگی دھڑک رہی تھی۔ اُنہی دنوں میں سے ایک روشن دن تھا جب پنجاب یونیورسٹی میں میرے اردو کالموں کی کتاب ”زیرِآسماں“ کی تقریبِ رونمائی میں ملک کے اہم کالم نگارشریک تھے۔

یہ تقریب جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر کی ڈاکٹر نیاز احمد کی زیرِصدارت الرازی ہال میں منعقد ہوئی۔ تقریب کا انعقاد جامعہ پنجاب کی تقریبات کمیٹی کے زیرِاہتمام کیا گیا تھا جب کہ نظامت کے فرائض شعبہ انگریزی کے اسسٹنٹ پروفیسر شاہ زیب خان نے سر انجام دیے تھے۔ تقریب میں جناب مجیب الرحمٰن شامی ،جناب سجاد میر، جناب ارشاد احمد عارف ،جناب وجاہت مسعود ،جناب رؤف طاہر اور محترمہ ڈاکٹر صغریٰ صدف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سامعین میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلباءوطالبات اور شہر کے اصحابِ ادب وصحافت شریک تھے۔

تقریب کی پہلی مقرر معروف کالم نگار ڈاکٹر صغریٰ صدف نے زیرِ آسماں کو سنجیدہ سماجی موضوعات کے حوالے سے ایک اہم کتاب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک منفرد کتاب ہے۔ جس میں ہمارے ارد گرد کے موضوعات کے علاوہ پنجاب کے اُن بہادروں کا تذکرہ ہے جو آزاد معاشرے کی خاطر استحصالی قوتوں کے سامنے ڈٹ گئے تھے۔ اُنھوں نے جبر جھیلا مگر سرِتسلیم خم نہ کیا حتیٰ کہ وہ تاریخ میں زندہ و جاوید ہو گئے۔ معروف کالم نگار وجاہت مسعود نے “زیرِ آسماں” سے کئی اقتباسات پڑھ کر سنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے انہوں نے آنسوؤں کی اوٹ سے پڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ”زیر ِآسماں“ کو شیخ منظورالٰہی صاحب کی ”درِدل کُشا“، مختار مسعود صاحب کی آوازِدوست اورداؤد رہبرکی کتابوں کے ساتھ شمار کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے انسان اپنے پاس سنبھال کررکھتا ہے کیونکہ اس کا ایک دفعہ پڑھنا کافی نہیں ہوتا۔

نام ورصحافی اور روزنامہ دنیا کے کالم نگار جناب رؤف طاہر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیرِآسماں کتاب کی خاص بات اس کی موضوعاتی اعتبار سے تقسیم ہے۔ کتاب کو مختلف سیکشنز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب کا ایک سیکشن مزاحمت کی کہانیوں پر مبنی ہے۔ ان کالمز میں خاص طور پر پنجاب میں مزاحمت اور مزاحمت کاروں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت کے یہ کالم اس لیے بھی اہم ہیں کہ پنجاب کے حوالے سے اس غلط العام تصور کی نفی کرتے ہیں کہ پنجاب اطاعت گزاروں کی سرزمین ہے۔

روزنامہ 92 نیوز کے ایڈیٹر جناب ا رشاد عارف نے اپنی گفتگو میں کہا کہ آج کے دور میں آپ جتنے بھی کالم دیکھیں وہ سیاسی موضوعات پر ہوتے ہیں۔ سوشل موضوعات، جو ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں، پر لکھنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔ یہ اہلِ صحافت اور اہلِ علم وادب کی خوش قسمتی ہے کہ اردو صحافت کو شاہد صدیقی جیسا کالم نگار دستیاب ہے۔ ان کا وسیع مطالعہ شخص ان کے کالمز میں بولتا ہے۔

معروف کالم نگار جناب سجاد میر نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ انگریزی میں جب ایڈیسن (Addison) اور سٹیل (Steele ) کے اخبارات میں چھنے والے کالمز کو کتابی شکل میں چھاپا گیا تو انھیں Essays کہا گیا۔ میں ہمیشہ ان کالموں کی تلاش میں رہتا ہوں جو انگریزی کے Essay کے اس معیار پر پورے اترتے ہوں۔ فرانس کے مصنف مونٹین (Montaigne) کا ایک لائٹ انداز ہے جسے اردو میں انشا نگاری اور شگفتگی اور بہت خوبصورتی اور آسانی سے بات کرنا کہا گیا۔ جب میں نے’زیرِ آسماں’ کے کالمز دیکھے تو مجھے نظر آیا کہ وہ اسلوب، وہ شگفتگی، وہ خوبصورتی اور وہ آسانی- یہ سارے کام اُنھوں نے کر دکھا ئے ہیں۔ موضوع بھی  متنوع ، اسلوب بھی آسان اور شگفتہ جو سب کو اچھا لگے۔

 تقریب کے مہمانِ خصوصی روزنامہ پاکستان کے ایڈیٹر اور روزنامہ دنیا کے کالم نگار جناب مجیب الرحمٰن شامی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے دنیا اخبار میں شاہد صدیقی کا پہلا کالم پڑھا تو ان کو ٹیلی فون کر کے کالم نگاروں کی صف میں شامل ہونے پر مبارکباد دی۔ ان کا پہلا کالم ہی ایسا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ بس اس نے دل کھینچ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے کالمز سے ہماری صحافت بڑی حد تک ناآشنا ہے۔ ہم لوگ وقتی موضوعات میں اُلجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہمارا گریبان بھی سیاست کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور دامن بھی۔ لیکن شاہد صدیقی کے کالمز مختلف نوعیت کے ہیں۔ حقیقت یہ ہے میں ان کالموں کی وجہ سے بہت سے معاملات سے آشنا ہوا۔ ہمارے اردگرد کتنے لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان کو اس طرح سے دیکھا ہے اور سمجھا ہے۔ اپنے شہروں کو اس طرح سے دیکھا ہے۔ ان کالموں کی بدولت ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے کون سے بہادر سپوت کہاں رہتے تھے کس حال میں انھوں نے زندگی گزاری۔ یہ کالم پڑھ کر ہمیں بہت کچھ سوچنے کا موقع ملتا ہے۔ بہت کچھ اپنے دل پہ بھی گزرتی ہے کہ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ہم بعض اوقات کس طرح سے اُن لوگوں کے ساتھ بے رحمی سے پیش آتے ہیں جنھوں نے کچھ نہ کچھ ہمارے لیے Contribute کیا ہوتا ہے۔ اور جو لوگ ہمارے لیے اپنی زندگی گزار گئے ان کو ہم کس طرح آسانی سے بھول جاتے ہیں۔ ایسے بہت سے وہ لوگ ہمیں یاد بھی نہیں ہیں ان کے کردار یاد نہیں ہیں۔ اُنھوں نے جو کچھ Contribute کیا وہ یاد نہیں ہے۔ میں شاہد صدیقی صاحب کا شکر گزار ہوں۔ اور مجھے امید ہے کہ جو شخص ان کی تحریر کو پڑھے گا ، اور کتاب کو پڑھے گا وہ ضرور اپنے شہر کے بارے میں، اپنی تاریخ کے بارے میں اور اپنے معروف ہیروز کے بارے میں کچھ معلوم کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور کچھ خود بھی Contribute کرے گا۔ یہ کتاب ہمارے اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ بلکہ ہماری صحافت اُن کی شکرگزار ہے کہ اِس طرح کے کالمز اُس کا نصیب ہوئے۔ انشاءاللہ ان کے کالمز ہمیشہ پڑھے جائیں گے اور یاد رکھے جائیں گے۔

مقررین کے بعد میں نے کتاب کے پس منظر کے حوالے سے مختصر گفتگو کی۔ میں نے بتایا کہ یہ کتاب میرے ان اردو کالموں کا مجموعہ ہے جو روزنامہ دنیا میں’زیرِ آسماں‘ کے عنوان سے شائع ہوتے رہے۔ اس سے پہلے تقریباً پندرہ برس تک میں موقر انگریزی اخبارات ڈان اور دی نیوز کے ادارتی صفحات کے لیے لکھتا رہا۔ اس دوران میں اکثر سوچتا قارئین کی کثیر تعداد تک اپنے خیالات پہنچانے کا بہترین ذریعہ اردو زبان ہے اور مجھے اردو میں لکھنا چاہیے لیکن پھر یہ خواہش خود ہی دم توڑ دیتی۔ میں سوچتا کیا میں اردو میں لکھ پاﺅں گا؟ کیا اتنے بڑے کالم نگاروں کی موجودگی میں میری کوئی جگہ بنتی ہے؟ کیا لوگ غیر سیاسی کالم کو پڑھنا پسند کریں گے؟ میں اسی ادھیڑبن میں رہتا کہ ایک دن کسی تقریب میں میاں عامر محمود صاحب سے ملاقات ہوئی جنھوں نے حتمی انداز میں کہا کہ اگلے ہفتے سے آپ کا کالم آنا چاہیے۔ ان کالموں میں آپ کو زبان، ادب، تاریخ، ماضی اور حال ساتھ ساتھ چلتے نظر آئیں گے۔ بہت سے کالموں میں آپ کو اپنے تجربوں کا عکس نظر آئے گا۔

تقریب کے آخر میں جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر نے تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے زیرِ آسماں کی اشاعت پر مبارک باد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ کتاب طلبا و طالبات کو اپنی تاریخ کے روشن گوشوں سے متعارف کرائے گی۔ انہوں نے تقریب کے تمام مقررین کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ان کی دعوت پر تشریف لائے اور کتاب کے بارے میں اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔ اس تقریب کو گزرے کئی ہفتے بیت گئے ہیں لیکن ایسے لگتا ہے ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔ سب کچھ نارمل تھا۔ زندگی کے معمولات اپنی ڈگر پر چل رہے تھے۔ پھر کورونا آیا جس نے ہرچیز بدل کر رکھ دی۔ اب تو گزرا ہوا کل ایک خواب سا لگتا ہے۔ یقین ہی نہیں آتا کہ  ہمارے معمولات کے رنگ اور ہماری زندگی کی رفتار کبھی مختلف بھی تھی۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 197 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *