چینی ، یہ دھندہ ہے کچھ گندہ نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ہزار پانچ کے پہلے تین مہینوں میں کراچی سٹاک ایکسچینج جس تیزی سے اوپر نیچے ہوئی، اس نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا لیکن وہ لوگ تو بالکل تباہ ہو گئے جو لالچ میں آکر اپنے اثاثے بیچ کر شیئرز کے دھندے میں آگئے تھے۔ اس کاروبار کے اپنے اصول ہیں اس لیے جو اس میں پیسہ لگاتا ہے اسے اندازہ ہوتا ہے کہ تیزی سے بنایا ہوا منافع اس سے بھی زیادہ تیزی سے گھاٹے میں بدل سکتا ہے۔ لیکن جب کی میں بات کررہا ہوں، یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ چھوٹا سرمایہ کار تو سب کچھ گنوا بیٹھا۔

اس وقت پہلی بار ایسا ہوا کہ چھوٹے سرمایہ کاروں نے کراچی سٹاک ایکسچینج کے اندر گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش کی اورباہر ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔ اسی احتجاج میں کسی دل جلے نے سٹاک ایکسچینج کے ایک بروکر کا نام لے کر اسے وزیر اعظم کا دوست قرار دے کر اس، بحران، کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

شوکت عزیز اس وقت ملک کے وزیراعظم تھے اور کاروبار کے بارے میں اپنے حوصلہ افزا رویے کی وجہ سے کاروباری برادری کے درجنو ں لوگ ان کے دوست کہلاتے تھے۔ جس بروکر کا نام وزیراعظم کے نام کے ساتھ جوڑا گیا وہ بھی اس فہرست میں شامل تھے۔ اگلے دن اخبارات میں اس احتجاج کی روداد چھپی تو اس میں وزیراعظم اور بروکر کے تعلق والا فقرہ بھی شامل تھا۔ جب یہ بات چھپ گئی تو کہانی نے ایک نیا موڑ لیا اور نیا موڑ دینے والے سب کے سب آج تحریک انصاف کا حصہ ہیں کیونکہ اس وقت وہ شوکت عزیز کو ہٹا کر خود وزیراعظم بننا چاہتے تھے۔ حکومت کے اندر چپقلش کا فائدہ اس وقت کی اپوزیشن نے بھی اٹھایا اور یہ معاملہ اسمبلی تک پہنچ گیا۔ سیاسی دباؤ آیا تو حکومت نے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنایا کہ اس معاملے کی تحقیق کرے۔

تحقیقاتی کمیشن بنا تو میں بھی خبر کی تلاش میں اس کے اردگرد پھرنے لگا۔ ایک روز ان ریٹائرڈ جج صاحب سے ملاقات ہوئی تو ان کی باتوں سے لگا کہ انہیں سٹاک ایکسچینج یا اس کے کاروبار کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں ؛ البتہ وہ اپنا ذہن بنا چکے ہیں کہ ایکسچینج میں فراڈ ہوا ہے۔ کچھ عرصے بعد ان کی رپورٹ آئی تو توقع کے عین مطابق انہوں نے یہی لکھا کہ گیارہ بروکرز نے مل کر مارکیٹ کو اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے لیے، فرانزک آڈٹ، کی ضرورت ہے۔

اس وقت بھی میری معلومات یہی تھیں کہ سٹاک ایکسچینج میں ایسا کچھ نہیں ہوا جسے غیر قانونی کہا جا سکے اور جو کچھ ہورہا ہے دراصل اس کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں۔ سیاست میں حقیقت نہیں تاثر اہم ہوتا ہے۔ سو، دباؤ بڑھا کر فرانزک آڈٹ کرانے کا فیصلہ ہوگیا۔ ایک امریکی کمپنی کو دس لاکھ ڈالر کے عوض فرانزک کا ٹھیکا دیا گیا تو اس نے سٹاک ایکسچینج کے قواعد کی روشنی میں کروڑوں سودوں کا تجزیہ کرکے بتایا کہ سٹاک ایکسچینج میں جو کچھ ہوا قاعدے کے مطابق ہوا۔ اس رپورٹ نے شوکت عزیز کے خلاف ہونے والی سازش ناکام بنا دی اور وہ اسی وقت گئے جب انہیں جانا تھا۔ اس کہانی کو چودہ سال گزر چکے لیکن آج بھی میرے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ ہمایوں اختر خان اور جہانگیر ترین جو اس وقت شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیر تھے، آخر اتنے مشکل وقت میں اپنے وزیراعظم کے دفاع کو کیوں نہ آئے؟

زمانہ کس تیزی سے بدلتا ہے، اگر کسی کو یقین نہ ہو تو وہ ایف آئی اے کی وہ رپورٹ پڑھ لے جو چینی کے، بحران، پر بنائی گئی ہے لیکن اس کا ہدف صرف جہانگیر ترین ہیں۔ دوہزار پانچ کے سٹاک ایکسچینج کے نام نہاد بحران کی طرح اس رپورٹ کے بنانے والوں کو بھی یہ نہیں پتا کہ پاکستان میں شوگر ملیں کس طرح کاروبار کرتی ہیں۔ گنے سے چینی بننے اور مل سے چینی چائے کے کپ تک آنے میں کیا کچھ ہوتا ہے۔

رپورٹ لکھنے والوں کی لاعلمی اس درجے کی ہے کہ اپنی طرف سے انہوں نے ملک کے ہر بازار میں رائج فارورڈ ٹریڈنگ (ایسی تجارت جس میں سودا طے ہوچکا ہو لیکن مال کی فراہمی باقی ہو) کو مشکوک عنصر بنا کر پیش کیا ہے۔ ایک طرف یہ رپورٹ چینی کی برآمد کو غیر موزوں قرار دینے کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف خود تسلیم کررہی ہے کہ برآمد کے باوجود پاکستان میں چینی کا سٹاک موجود ہے جو آئندہ سال کی پیداوار ملا کر ملکی ضروریات کے لیے کافی ہے۔ جہاں تک کسی متعین الزام کی بات ہے تو یہ سمجھ لیجیے کہ پاکستان میں لکھی جانے والی اکثر تحقیقاتی رپورٹوں کی طرح اس رپورٹ میں بھی، فائنڈنگ، کے نام پر رائے کا اظہار ہی فرمایا گیا ہے۔ ایک تحقیقاتی کمیشن متعین بات کرنے کی بجائے اپنی، رائے، کا اظہار کررہا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ اصلِ معاملہ امرِ واقعہ نہیں کچھ اور ہے۔

اب آجائیے شوگر ملوں کو سبسڈی دینے کے معاملے پر۔ دنیا بھر میں حکومتیں زراعت اور اس سے منسلک صنعتوں کوبرآمد کے لیے کسی نہ کسی طرح سبسڈی دیتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ ملکی پیداوار کو عالمی منڈی میں بھیجنے کے لیے سبسڈی مقامی کرنسی میں دینا ہوتی ہے لیکن اس کے نتیجے میں ملک کو زرِمبادلہ مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کاشتکار کو پیداوار کی بہتر قیمت ملتی رہے تو وہ ملک کو خوراک میں بھی خود کفیل رکھتا ہے۔

جس سبسڈی کو ہم نے گزشتہ چند دنوں سے جرم بنا رکھا ہے، اس جرم کی حقیقت یہ ہے کہ جب ہم پاکستان میں چینی کی برآمد کے لیے سبسڈی دے رہے تھے تو اس وقت بھارت میں اس سے دوگنا سبسڈی اسی مقصد کے لیے دی جارہی تھی۔ ہم نے تو، مجرم، پکڑ کر سرخرو ہولیا لیکن بھارت جو دنیا میں چینی پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، آج بھی چینی کی ایکسپورٹ کے لیے پاکستانی کرنسی میں بیس روپے فی کلو سبسڈی دے رہا ہے۔ ایک بھارت ہی کیوں امریکا اور برازیل جیسے ملک بھی اپنے کاشتکاروں کے لیے شوگر ملوں کو سبسڈی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر بھی حکومت سے پیکیجوں پر پیکیج اسی لیے لیتا ہے کہ کپاس کے کاشتکاروں کے مفادات کو محفوظ رکھا جاسکے۔

اسی طرح گندم کا معاملہ ہے۔ حکومت ایک متعین قیمت پر کاشتکار سے گندم خریدتی ہے پھر اسے محفوظ کرنے کے اخراجات برداشت کرتی ہے اور ضرورت کے تحت سال بھر اس کی ترسیل کرتی رہتی ہے۔ اس معاملے میں حکومت کوئی پیسہ نہیں کماتی بلکہ اربوں روپے ہر سال خرچ کرکے ملک میں گندم کی قیمت مناسب سطح پر رکھتی ہے۔

اس خرچ کو بھی سبسڈی کہتے ہیں جو شہروں میں رہنے والوں کو دی جاتی ہے۔ اس سبسڈی کی وسعت کا اندازہ یوں لگائیے کہ ہمارے صدرِ مملکت اور وزیر اعظم بھی جو گندم اپنے گھر میں استعمال کرتے ہیں وہ سبسڈی زدہ ہوتی ہے۔ کھاد کے کارخانے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، ایک خاص حد سے کم بجلی استعمال کرنے والے، سبھی کسی نہ کسی شکل میں سبسڈی لیتے ہیں۔ سبسڈی کے معاملے کو اتنا اچھالنے اور سکینڈل بنانے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آئندہ تو شاید ہی کوئی افسر یا وزیر سبسڈی کی فائل پر دستخط کرے، لیکن اس کے نتیجے میں جو بحران کبھی چینی کی کمی اور کبھی کاشتکار کے نقصان کی صورت میں ہوگا اس کی ذمہ داری اب پتا نہیں کون لے گا؟

سبسڈی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ مخصوص صورتحال میں تیزی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ حکومتیں عام طور پر اس طرح کے فیصلے کرنے کے لیے کئی قسم کی کونسلوں اور کابینہ کو استعمال کرتی ہیں تاکہ یہ فیصلے طاقتوروں کے مفادات کے تابع نہیں معیشت اور عوام کے لیے ہوں۔ چینی کی برآمد اور اس پر سبسڈی کا فیصلہ بھی قانون کے مطابق ادارہ جاتی سطح پرمخصوص حالات کی روشنی میں کیا گیا۔

سوا سال بعد اگر حکومت اپنے ہی فیصلوں کو کسی کے مفادات کے تابع قرار دے گی تو انگلیاں کسی اور کی طرف نہیں خود وزیراعظم کی طرف اُٹھیں گی اور ساتھ ہی حکومت کے کام کرنے کی صلاحیت پر بھروسا بھی ختم ہوجائے گا۔ اور ہاں یاد آیا کہ شوکت عزیز پر وقت پڑا تھا تو بہت کچھ جاننے کے باوجود جہانگیر ترین خاموش رہے تھے، آج ان پر وقت پڑا ہے تو اسد عمر سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش ہیں، حالانکہ سبسڈی کا فیصلہ انہی کی سربراہی میں تواکنامک کوآرڈی نیشن کمیٹی نے کیا تھا۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *