کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کے باوجود کئی ملکوں کا پابندیوں میں نرمی پر غور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد اور ہلاکتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، کئی ممالک غور کر رہے ہیں کہ اس وبا کی روک تھام کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے۔

چین میں کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد وبا کے مرکز بننے والے شہر ووہان کو بھی مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ ووہان گزشتہ 76 روز سے لاک ڈاؤن میں تھا۔ تاہم اب شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اٹلی اور اسپین میں کرونا وائرس کی شدت میں کمی آ رہی ہے۔ تاہم ماہرین صحت تنبیہ کر رہے ہیں کہ یہ بحران ابھی خاتمے سے بہت دور ہے۔ لہٰذا اگر ملکوں نے احتیاطی تدابیر میں کمی کی تو وائرس کی دوسری لہر مزید تباہی پھیلا سکتی ہے۔

لیکن اس کے باوجود امریکہ سمیت کئی ممالک پابندیوں میں نرمی کر رہے ہیں یا نرمی پر غور کر رہے ہیں۔

امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام سے متعلق ادارے ’سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن‘ کے مطابق وہ لوگوں کو ہدایات جاری کر رہے ہیں کہ جن افراد میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں وہ اپنے کاموں پر جا سکتے ہیں۔ یہ گائیڈ لائنز فی الحال اہم ضروریات زندگی سے متعلق شعبہ جات میں کام کرنے والوں کے لیے جاری کی گئی ہیں۔

علاوہ ازیں امریکہ کے نامور ماہر وبائیات ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ جلد از جلد پابندیاں ختم کی جائیں اور ملک کو کھولا جائے۔ ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا تھا کہ ابھی یہ وقت نہیں ہے کہ ان اقدامات سے پیچھے ہٹا جائے بلکہ انہیں مزید نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

ادھر یورپی ممالک میں اٹلی کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ اٹلی کے وزیرِ اعظم گوسیپی کونتے سے متعلق یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ آئندہ چند دنوں میں لاک ڈاؤن کے برقرار رہنے کی مدت سے متعلق اعلان کر دیں گے۔

اٹلی میں اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ پابندیوں میں نرمی کے جائے انڈسٹریوں کو کھولا جائے تاکہ معیشت کو سہارا مل سکے۔ خیال رہے کہ اٹلی میں اب تک 18 ہزار افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسپین میں بھی کرونا وائرس سے 14 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ تاہم اب اسپین کے وزیرِ بجٹ ماریا جیزز مونتیرو نے کہا ہے کہ ہسپانوی قوم 26 اپریل سے معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹے گی۔ انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ لاک ڈاؤن اور پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جائے گی تاکہ اس وبا کا دوبارہ پھیلاؤ ممکن نہ ہو سکے۔

فرانس میں بھی لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی کرنے پر بحث جاری ہے۔ فرانس میں جاری لاک ڈاؤن کی مدت 15 اپریل کو ختم ہو رہی ہے لیکن فرانسیسی صدر کے دفتر کے مطابق اس میں توسیع کر دی جائے گی۔ البتہ کچھ حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ پابندیوں میں نرمی کی جائے۔

اس سے قبل رواں ہفتے کے آغاز میں آسٹریا اور چیک ری پبلک کرونا وائرس کے سبب عائد کردہ پابندیوں میں نرمی کا اعلان کر چکے ہیں۔

چیک ری پبلک میں جمعرات سے پابندیوں میں نرمی کا اطلاق ہو گا۔ جس کے تحت تعمیراتی صنعت سے وابستہ تمام کاروبار کھول دے جائیں گے جب کہ سائیکل پر سفر کرنے والوں کو باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔ ملک میں اشیائے خور و نوش کے اسٹورز، فارمیسیز اور دیگر اہم ضروریات زندگی کی دکانیں پہلے ہی کھلی ہیں۔

آسٹریا میں چھوٹی دکانیں، ہارڈ ویئر اسٹور اور گارڈن سینٹرز منگل سے کھول دیے گئے ہیں۔ شاپنگ مالز اور ہیئر سیلون وغیرہ آئندہ دو ہفتوں میں کھول دیے جائیں گے۔ البتہ لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ماسک پہن کر باہر نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

برطانوی حکام نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ملک گیر لاک ڈاؤن کی حالیہ مدت کے اختتام پر پابندیوں میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ برطانیہ میں لاک ڈاؤن کی مدت آئندہ ہفتے ختم ہو رہی ہے۔
بشکریہ وائس آف امریکہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *