کورونا وائرس: برطانیہ کے وہ معمر افراد جن کی موت کوئی شمار نہیں کر رہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

An elderly woman's hand holds a walking stick

Getty Images
برطانیہ میں کیئر ہوم میں رہنے والے زیادہ تر معمر افراد کا کورونا ٹیسٹ نہیں کیا گیا ہے

برطانیہ میں حکومت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ کورونا کی وبا سے ہونے والی تمام ہلاکتوں کو شمار نہیں کر رہی۔

اب تک برطانوی حکومت نے کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار میں صرف ان اموات کو شامل کیا ہے جو ہسپتالوں میں ہوئی ہیں جبکہ کیئر ہومز میں مرنے والوں کو اس میں گنا نہیں جا رہا۔

پانچ مارچ کو پہلی ہلاکت کی سرکاری تصدیق کے بعد سے پانچ ہفتوں سے زائد عرصے میں یہ تعداد 10000 کا ہندسہ عبور کر چکی ہے۔

تاہم معمر افراد کے لیے کام کرنے والے فلاحی اداروں نے عوام کو ایک پریشان کن پیغام دیا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار سے برطانیہ میں کورونا وائرس کی اصل شدت کا اندازہ نہیں ہو رہا۔

برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے سرکاری ریکارڈ کے لیے ان افراد کا کورونا ٹیسٹ ہونا ضروری ہے لیکن برطانیہ میں زیادہ تر صرف انہی مریضوں کے ٹیسٹ ہوئے جنہیں ہسپتال لے جایا گیا۔

کیئر ہومز میں مرنے والے بیشتر معمر افراد کی گنتی نہیں کی گئی۔

An elderly woman's funeral takes place in France under coronavirus restrictions.

Getty Images

ملازمتوں اور پینشن سے متعلق سیکرٹری ٹریسے کوفی کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت کے اعداد ہسپتال میں ہونے والی ہلاکتوں پر اس لیے مبنی ہیں کیونکہ یہ زیادہ مستند اور تیز تر ہیں۔

برطانیہ میں ٹیسٹ کٹس کی کمی ہے اور فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ کیئر ہومز میں ایسے آلات نہیں ہیں ہے کہ وہ معمر افراد کا علاج کر سکیں یا خود سے ٹیسٹ کر سکیں۔

کورونا بینر

BBC

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

کورونا وائرس: چہرے کو نہ چھونا اتنا مشکل کیوں؟


ٹریسے کوفی کا کہنا تھا کیئر ہومز میں ٹیسٹ کی سہولت موجود ہے اور حکومت حفاظتی کٹس بھی مہیا کر رہی ہے۔

تو ان کیئر ہومز میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی صورت حال کیا ہے؟ اور کم از کم وہاں کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتوں کا کوئی اندازہ تو ہوگا؟

حکومت نے تصدیق کی ہے کہ انگلینڈ کے 2000 کیئر ہومز میں کورونا کی وبا پھیل چکی ہے۔ تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان مقامات پر کتنے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک فلاحی ادارے ’ایج یو کے‘ نے خبردار کیا کہ برطانیہ میں معمر افراد کے لیے قائم کیئر ہومز میں ’کورونا وائرس وحشی‘ ہو رہا ہے۔

ادارے کے ڈائریکٹر کیرولائن ابراہم کا کہنا تھا کے ’حکومتی اعداد سے لگتا ہے کہ معمر افراد کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘۔

برطانیہ کے 11 ہزار 300 کیئر ہومز میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار معمر افراد رہتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں کووڈ 19 کے باعث ہسپتالوں سے باہر ہونے والی ہلاکتوں کو شامل کرنے سے ہلاکوں کی تعداد 11 فیصد تک بڑھ جائے گی۔

برطانیہ میں اعداد و شمار باقی یورپی یونین کے اعداد کے نسبت کافی کم ہیں۔

مثال کے طور پر فرانس میں جہاں کیئر ہومز میں ہونے والی ہلاکتیں بھی سرکاری اعداد و شمار کا حصہ ہیں، وہاں ان نرسنگ ہومز میں ہونے والی ہلاکتیں کووڈ 19 سے مرنے والوں کی کل تعداد کا ایک تہائی ہیں۔

ایک مطالعے کے مطابق اٹلی میں ہونے والی ہلاکتوں کا تقریباً نصف معمر افراد کی قیام گاہوں میں مرنے والے تھے۔

آئرلینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 54 فیصد ہلاکتیں معمر افراد کے کیئر ہومز میں ہوئیں۔

جبکہ سپین میں مقامی سطح کا لیک شدہ ڈیٹا بتاتا ہے کہ گذشتہ ایک ماہ میں ملک میں 57 فیصد اموات کیئر ہومز میں ہوئیں۔

ان اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ یورپی یونین میں تقریباً نصف اموات نرسنگ ہومز یا لوگوں کے گھروں میں ہوئیں۔

بی بی سی نامہ نگار لوئس گوڈال کہتے ہیں ‘اگر ہمارے ہاں کیئر ہومز میں اموات کی شرح ان جیسی ہوئی تو ہماری کل اموات کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔’

کورونا وائرس سے بڑی عمر کے لوگوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے اور متعدد کیسز میں ڈاکٹروں کو یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا ہے کہ انھیں ہسپتال میں داخل نہ کیا جائے۔

یہ یورپ سمیت دنیا بھر میں ایک عام مسئلہ بن گیا ہے جہاں ہسپتالوں کے بیڈز کی تعداد کم اور کورونا وائرس کے مریصوں کی تعداد زیادہ ہے۔

A view of a care home in the UK from outside

Getty Images

4 اپریل کو ایک 94 سالہ ہسپانوی خاتون کے ہسپتال سے صحتیاب ہو کر نکلنے کے مناظر بہت خوش آئند ہیں، مگر یہاں معمر افراد کے اس مرض سے لڑنے کے مناظر اتنے ہی افسوس ناک بھی ہیں۔

بی بی سی کو جنوبی لندن میں ڈاکٹروں کو دی گئی ایک مجوزہ سکریپٹ ملی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ معمر افراد کے رشتے داروں کو اس فیصلے کے بارے میں کیسے بتایا جائے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ‘کمزور معمر افراد کے لیے کورونا وائرس سے متعلق پھیپھڑوں کا علاج اتنا مفید نہیں اور ہسپتال میں داخل کرنے سے ہو سکتا ہے کہ ان کی تکلیف اور مسائل میں اضافہ ہو جائے۔‘

اس میں مزید لکھا ہے کہ ‘اسی لیے ہم تجویز کرتے ہیں کہ کورونا وائرس کی صورت میں ہسپتال میں داخل نہ کروایا جائے۔‘

اس کے علاوہ سماجی دوری کے قوائد کے مطابق رشتے داروں کو ہسپتال میں اپنے پیاروں کو ملنے نہیں دیا جاتا۔

گارڈین اخبار کی کالم نگار فرانسز رائن کہتی ہیں کہ وہ نہ صرف اکیلے مرتے ہیں بلکہ انھیں سرکاری اعداد و شمار میں شامل بھی نہیں کیا جاتا۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ‘نہ تو ایمبولینس منگوائی جاتی ہے، بی بی امی کی کمی ہے۔ ان ہلاکتوں کو سرکاری اعداد و شمار میں شامل بھی نہیں کیا جا رہا۔ اگر آپ کسی کو انسان ہی نہ سمجھیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17683 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp