آپ نے کبھی فرعون دیکھا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دن انہی لاتعداد بچوں میں سے ایک نے کھیلتے کھیلتے ابا کے پردادا والی تختی پر کند چاقو سے الٹی سیدھی لکیریں کھینچ دی اگلی صبح ابا اپنے پرکھوں کی سمادھی کا بگڑا چہرہ دیکھ کر ہتھے سے اکھڑ گیا۔ ادھر ادھر سے سن گن لی تو سب نے خادم میراثی کے بیٹے کا نام لیا۔ وہ فوراً گھر آیا اپنی بارہ بور کی بندوق نکالی اور جا کے اس کے گھر کے سامنے دو فائر کھول دئیے۔ دوسروں کے در پر ڈھول بجانے والا خادم اپنے دروازے پر بندوق بجتی سن کر اوسان خطا کر بیٹھا اور چارپائی کے نیچے چھپ کر یا علی مشکل کشا، مدد کو آ کا ورد کرنے لگا۔ اس کے گھر کی عورتیں روتی پیٹتی باہر نکلیں اور اپنے دوپٹے ابا کے قدموں میں ڈال دئیے۔ ننگے سر دیکھ کر راجپوت تھر تھر کانپنے لگا۔ بندوق پر گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ اس نے اپنے سر سے پگڑی اتاری، اسے خادم کی بیوی کے سر کا آنچل بنا کے یہ کہتا، واپس اپنے گھر میں گھس گیا ”اپنے لونڈوں کو سمجھاﺅ، ہمیں ایسی حرمزدگی اچھی معلوم نہیں ہوتی “ میراثیوں کا کنبہ راجپوت کے جلال کی تاب نہ لاسکا اور گاﺅں چھوڑ کر چلا گیا ۔

انہی چھوٹی بڑی حرمزدگیوں میں وقت پرلگا کر اڑ گیا اور ایک دن ہمارے گاﺅں میں بھی ترقیاتی کام شروع ہو گئے۔ بجلی کے کھمبے زمین میں گڑنے لگے۔ نالیاں اور گلیاں پختہ ہونے لگیں۔ لیکن جب یہ پختگی ہمارے دروازے تک پہنچی تو درمیان میں امین العزت والا چپوترہ سینہ تانے کھڑا تھا۔ میونسلپٹی والے بسم اللہ پڑھ کر اس کی جڑوں پر کدال چلانے ہی والے تھے کہ ایک بار پھر وہی ہنگامہ شروع ہو گیا جو خادم میراثی کے ساتھ ہوا تھا۔ لحافوں والے صندوق سے ابا کی دو نالی بندوق نکلی اور اس نے مزدوروں پر اسے تانتے ہوئے کہا میونسپلٹی نے جو حرمزدگی کرنی ہے، شہر میں جا کے کرے۔ کسی نے اس چبوترے کو ہاتھ لگایا تو بدن چھلنی کر دوں گا۔ مزدوروں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ بھیا گلی پکی کر کے دوبارہ اسی جگہ چبوترہ بنا دیں گے لیکن ابا نے کہا جو ایک بار کہیں سے اکھڑتا ہے دوبارہ نہیں جڑتا، میں یہ چبوترہ نہیں اکھڑنے دوں گا۔ کام بند ہو گیا اور اگلے دن شہر سے میونسپلٹی کے کلرک صاحب اس قضیئے کے حل کے لئے بلائے گئے

کلرک بہادر دو ڈنڈا بردار سپاہیوں کے ساتھ ہماری گلی میں وارد ہوئے اور چبوترے کی بغل میں کھڑے ہو کر یہ اعلان فرمایا کہ کار سرکار میں جو بھی مداخلت کرے گا، سرکاری مہمان بنے گا۔ اس کے ساتھ آئے سپاہیوں میں سے ایک اپنے ڈنڈے سے پیتل کی تختی کو ٹھکورے دیکر کلرک بہادر کی بات پر تصدیق لگانے لگا۔ اس وقت شاید ابا کو محسوس ہوا کہ وہ سپاہی تختی کو نہیں اس کے پردادا کی پسلیوں کو ٹھکورے دے رہا ہے اس لئے اس نے بغیر سوچے سمجھے دو ہوائی فائر کھول کے سرکار کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا۔ درختوں پر بیٹھے کوے کائیں کائیں کرتے گاﺅں کے آسمان میں پھیل گئے۔ جب یہ کائیں کائیں تھمی تو کلرک بہادرآہستہ آہستہ ابا کے قریب آئے اور اگلے لمحے گلی میں موجود سارے مجمعے نے ایک زناٹے دار تھپڑ کی آواز سنی۔ ابا کے سر کی پگڑی گرنے سے پہلے ہی مزدوروں کے کدالوں نے اپنا کام شروع کر دیا مجھے یوں لگا جیسے وقت رک سا گیا ہو۔ ابا اپنے گال پر ہاتھ رکھے باولوں کی طرح کبھی اپنی خالی بندوق کو دیکھتا کبھی مجمعے کو۔ کلرک نے چبوترے کے ملبے سے وہ تختی اٹھائی اور ابا کے برف ہاتھوں میں تھماتے ہوئے بولا ”رانا مدد علی یہ گلی سرکار کی ہے، تمہارے باپ کی جاگیر نہیں۔ چاہوں تو سرکاری اہلکاروں کو اسلحے کے زور سے دھمکانے پرگرفتار بھی کرا سکتا ہوں۔ لیکن معاف کر رہا ہوں۔ جاﺅ عیاشی کرو “

وقت اور مجمع اپنے اپنے راستے پر چل پڑا۔ میں خوش ہو رہا تھا کہ جس نے ساری زندگی مجھے رلایا ہے، آج وہ روئے گا۔ میں اس انتظار میں تھا کہ کب اس کی آنکھیں چھلکیں اور میں اسے روتا دیکھ کر تالی بجاﺅں۔ لیکن وہ نہ رویا اس نے اپنی پگڑی اٹھائی اور سر جھکا کے گلی سے باہر نکل گیا۔ میں بھی اس کے تعاقب میں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ ابا کا رخ دریا کی طرف تھا۔ وہاں پہنچ کروہ کنارے پر بیٹھ گیا اور میں اس کی پشت پیچھے جھاڑیوں میں چھپ گیا۔ وہ کافی دیر تک گود میں رکھی اس تختی کو دیکھتا رہا، پھر اس نے اسے اپنی پگڑی کا کفن پہنا کے دریا برد کر دیا اور ایسی چیخ ماری جو اس کی بندوق کے فائر سے زیادہ مہیب تھی۔ میں خوش ہو گیا کہ اس چیخ کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کے روئے گا اور میں جھٹ باہر نکل کے اسے کہوں گا ”رانا مدد علی، اب رونے کی حرمزدگی تم بھی نہ کرنا“۔ چند لمحے کے انتظار کے بعد بھی اس کے رونے کی آواز میرے کانوں تک نہیں آئی تو میں دبے پاﺅں جھاڑیوں سے نکلا تاکہ سامنے سے اس کے بہتے آنسو دیکھ سکوں۔ میں اس کے قریب پہنچنے ہی والا تھا کہ وہ اچانک اٹھا اور مڑا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ایک لمحے کے لئے چونکے۔ میری آنکھیں اس کی پتھر آنکھوں پر تھیں جن میں ایک آنسو بھی نہیں تھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا میری آنکھیں جھکیں اور میں نے دیکھا کہ ابا کے آنسو آنکھ کی بجائے شلوار کے راستے سے نکل رہے ہیں۔ پتھر آنکھوں والے ابا نے میرے سر پر اپنا برف ہاتھ رکھا، کرب میں لتھڑی ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آئی اور اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی

غوطہ خوروں نے سارا دریا چھان مارا لیکن کسی کو اس فرعون کی لاش نہیں ملی۔ جو ملی تو وہی امین العزت والی تختی۔ اس دن مجھے یوں لگا جیسے میرا فرعون نہیں ڈوبا، میری ولایت ہی ڈوب گئی ہے ۔

جاتے جاتے آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ابا کو تھپڑمارنے والا کوئی اور نہیں، خادم میراثی کا وہی بیٹا تھا جس کی ماں کے سر پر ابا نے اپنی پگڑی کا آنچل ڈالا تھا اور میں نے جسے اپنا خاص حواری بنانے کا سوچ رکھا تھا۔۔۔ وہی شنو جھولا ۔۔۔

آپ نے کبھی فرعون دیکھا ہے؟

یقینا نہیں دیکھا ہو گا۔ لیکن یہ تو بتا سکتے ہیں کہ ہم میں سے فرعون ہے کون؟

ابا …. شنو جھولا…. یا پھر میں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

مصطفیٰ آفریدی

ناپا میں ایک سال پڑھنے کے بعد ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے جو آج تک لکھ رہا ہوں جس سے مجھے پیسے ملتے ہیں۔ اور کبھی کبھی افسانے لکھتا ہوں، جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔

mustafa-afridi has 17 posts and counting.See all posts by mustafa-afridi

Leave a Reply