صنفی تفریق میں ہمارا مقام اعلیٰ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"saleemوہ تمام لوگ جو عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے اور اس کا یہ مقام برقرار رکھنے کے لئے ہمہ وقت جدوجہد کرتے ہیں، آج بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہماری شاندار کامیابیوں کا سلسلہ کبھی رکا نہیں۔ ایک بار پھر دنیا کے اہم فورم نے پاکستان میں عورتوں کے مقام کے سلسلے میں ہماری کامیابی کا اعتراف کیا ہے۔

ابھی ابھی ورلڈ اکنامک فورم نے ایک رپورٹ نکالی ہے۔ اس رپورٹ میں 144 ملکوں کے متعلق ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے کہ عورتیں مردوں سے کتنی پیچھے یا پست رکھی گئی ہیں۔ ہم بجا طور پر فخر سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ 144 ملکوں میں عورتوں کی حالت زار میں ہمارا نمبر دوسرا ہے۔ پہلے نمبر پر یمن ہے۔ ہمیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اگر اسی طرح سے محنت جاری رکھی تو ایک دن ضرور میدان مار لیں گے اور عورتوں اور مردوں کے سٹیٹس میں فرق مزید واضح اور بڑا کر پائیں گے۔ ہم ایک غیرت مند قوم ہیں اور اپنا یہ مقام قائم رکھنے میں کامیابی پر ہمیں فخر ہے۔

میں پریشان ہوں کہ یہ رپورٹ ہمارے مایہ ناز تجزیہ کار جناب انصار عباسی اور اوریا مقبول جان صاحبان کی نظر سے نہیں گزری۔ اس کامیابی پر ایک دو جاندار کالم اور ٹی وی پروگرام تو بنتے تھے۔ ہمارا اعزاز اور فخر قائم رکھنے میں ہمارے غیرت بریگیڈ کی دن رات کی محنت اور فکر شامل ہے۔ یہ انہی کی حساس طبیعت کا شاخسانہ ہے کہ کرکٹ کھیلتی لڑکی کے باؤلنگ ایکشن سے سیکس اپیل کا ڈنک برآمد کر کے اسے برداشت کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور باقی تمام مردوں اور معاشرے کو اس ڈنک کے زہر سے بچانے کے لئے تحریک چلاتے ہیں۔ دشمنوں اور غداروں کی سازشوں کے شکار میڈیا، نواز شریف کی لبرل حکومت اور مٹھی بھر مغرب زدہ این جی اوز کے ارادوں سے خبردار کرتے ہیں۔ تاکہ ہمارا مسلمان پاکستانی نوجوان غیرت کھا کر آگے بڑھے اور اس برائی کو ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے۔ ورنہ ہم اپنی قوم کے اسلامی تشخص اور روائیتی خاندانی نظام کا تحفظ نہ کر سکیں گے۔

اس رپورٹ کے مطابق ہمارے قریبی ممالک میں بنگلہ دیش سب سے بڑھ کر بے غیرت نکلا ہے۔ 144 ممالک میں وہ 72 نمبر پر ہیں۔ انڈیا ہمارا مقابلہ تو نہیں کر سکتا مگر بنگلہ دیش سے زیادہ غیرت مند نکلا ہے۔ اس کا نمبر 87 ہے۔ جنوبی ایشیا میں ہمارا قریب ترین حریف بھوٹان، 121 نمبر پر ہیں۔ لہذا بھوٹان کے مردوں کو کسی حد تک اپنی غیرت مندی پر فخر کرنے کا حق ہے۔

سب سے بے غیرت اور بیچارے مردوں والے ممالک میں آئس لینڈ، فن لینڈ اور ناروے ہیں جو بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ ان ملکوں کی حالت نہایت غیر ہے اور وہاں کے مردوں میں غیرت نام کی کوئی چیز نہیں۔ ظلم یہ کہ ان ممالک کی حکومتیں بھی عورتوں کے ساتھ ملی ہوئی ہیں اور مردوں کو معمولی سی ترجیح بھی نہیں ملتی۔ عورتیں اہم ترین ذاتی، خاندانی یا قومی فیصلوں میں برابر کی شریک ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے وہ سارے فیصلے ہوتے تو غلط ہی ہوں گے کیونکہ ہمیں تو پتا ہے کہ عورت کی عقل ناقص ہوتی ہے اور اسے اہم فیصلوں میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ عورت چونکہ راز بھی نہیں رکھ سکتی اس لئے ان کی ساری اہم خبریں لیک ہو کر سرل المیڈا کے پاس پہنچ جاتی ہوں گی اور ملکی سالمیت اور عزت داؤ پر لگ جاتی ہو گی۔ توبہ توبہ بیچاروں پر ترس آتا ہے۔

ہم نے ان ممالک کی اخلاق باختگی کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے وہاں پر عورتوں کی صحت کی سہولتوں کو جاننے کی کوشش کی تو ان کے حالات ہم سے بہت مختلف نکلے۔ صرف ایک جھلک سے زیادہ کچھ پیش کرنے کی گنجائش نہیں کیونکہ یہ مضمون تو محض ہماری کامیابی کا شادیانہ بجانے کے لئے ہے۔

ہم نے زچگی کی وجہ سے مرنے والی عوتوں کی تعداد والی بات چنی ہے۔ تو عرض ہے کہ آئس لیںڈ اور فن لیںڈ میں ایک لاکھ زچگیوں کے دوران تین عورتیں مر جاتی ہیں۔ پاکستان میں دوران زچگی 178 اور یمن میں 385 عورتیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

آپ خدانخواستہ اس سے کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم کوئی آئس لیںڈ یا فن لینڈ جیسے اخلاق باختہ ملکوں کے کارنامے بیان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں تو علم ہے کہ یہ سب قدرتی امر ہے اور اس میں کسی انسانی کوشش یا عورتوں کے ان معاشروں میں مقام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہم تو بہرحال اس بات پر قائم ہیں کہ عورتوں اور مردوں کے مقام میں فرق بہت ضروری ہے ورنہ معاشرہ بگڑ جاتا ہے۔ جیسا کہ کچھ اپنے تئیں ترقی یافتہ ملکوں میں ہو رہا ہے۔ عورتوں کے انسانی حقوق وغیرہ کے چکر میں پڑنے کی وجہ سے اخلاقیات کا دیوالیہ نکل چکا ہے۔ ان کا معاشرہ شدید زوال کا شکار ہے اور جیسا کہ مشہور مبلغانِ دین بھی ہمیں بتاتے رہتے ہیں، وہ معاشرے پچھتا رہے ہیں مگر انہیں واپسی کا راستہ نہیں مل رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 268 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *