عبدل کی جلد بازیاں اور بہانے سازیاں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکایت کچھ یوں ہے کہ حجاز کی ایک مہربان خاتون کے پاس عبدل نام کا غلام تھا۔ انتہائی کام چور ’بہانہ ساز اور کھانے پینے کا شوقین یہ غلام اپنی مالکن کی نرمی کا پورا فائدہ اٹھاتا۔ جب بھی اسے کوئی کام کہا جاتا تو قصداً اتنے پھوہڑ پن سے کرتا کہ دوبارہ اسے کوئی کام نہ کہا جائے۔ اس طرزِ عمل پر اسے کوئی ندامت ہونے کی بجائے یہ شکوہ بھی تھا کہ اس کی صلاحیتوں کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگا کر اس کا استحصال کیا جارہا ہے۔

اسے گلہ یہ بھی تھا کہ مالکن اس کے کھانے کا خیال بھی نہیں رکھتی۔ ایک روز مالکن نے اسے قبیلے کے کسی دوسرے گھر سے آگ لینے کے لیے بھیجا۔ جیسے ہی وہ گھر سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ شہر میں جو قافلہ دو دن پہلے کہیں سے آکر رکا تھا اب جانے کی تیاری کررہا ہے۔ قافلے والوں کی منزل کی خبر لی تو پتا چلا کہ یہ سب لوگ قاہرہ جارہے ہیں۔ عبدل نے سوچا اچھا موقع ہے سو قافلے میں شامل ہوکر قاہر ہ پہنچ گیا کہ اپنی خداداد صلاحیتوں کو آزمائے۔

اپنے زمانے کے اس بہت بڑے شہر میں پہنچ کر اس نے تجارت شروع کردی۔ چند ہی دنوں میں اسے علم ہو گیا کہ یہ کام اس کی صلاحیتوں سے بڑھ کر ہے۔ ناکام ہوکر کسی کی بکریاں چرانے لگا۔ ذمہ داری سے کام کرنے کی عادت تو تھی نہیں‘ اس لیے کبھی بکری چوری ہو جاتی ’کبھی کوئی جنگلی جانور اٹھا کر لے جاتا۔ یہاں سے نکالا گیا تو کسی سرائے میں کام کرنے لگا۔ یہاں بھی اس کا پھوہڑ پن کھلا تو نکال دیا گیا۔ اب حالت یہ ہوئی کہ عبدل کے پاس کھانے کو کچھ تھا نہ پہننے کے لیے۔

اس حالت کو پہنچا تو گھر کی یاد ستائی۔ حجاز جانے والے ایک قافلے کے امیرکی خدمت کے عوض اسے سفر کی اجازت مل گئی۔ دو سال بعد جب وہ گھر پہنچا تو اتفاق سے وہی وقت تھا جب اس کی مالکن نے اسے آگ لینے کے لیے بھیجا تھا۔ اس نے مالکن کے حکم کی تعمیل میں ایک برتن میں انگارے ڈالے اور گھر کی طرف دوڑ لگادی۔ گھر میں داخل ہونے لگا تھا کہ ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گرا اور سارے انگارے بکھر گئے۔ مالکن نے اس کی طرف غصے سے دیکھا تو بولا ”اطمینان سے کام کریں تو سلامتی ہے‘ عجلت میں ہلاکت ہے۔ دیکھ لیجیے آپ کے کہنے پر جلدبازی کی اور گر گیا“۔ صرف دو سال کی تاخیر سے پہنچنے پر عبدل کا بہانہ سنا تو مالکن ہنس پڑی اور اسے معاف کر دیا۔

عبدل ایسا آفاقی کردار ہے جو دنیا میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس طرح کے کرداروں کی آماجگاہ عام طور پر حکومت ہوتی ہے۔ یقین نہ آئے تو اپنی تحریک انصاف کو ہی لے لیں۔ ہر کام میں غیر معمولی تاخیر اور پھر جب کام کرنا ہے تو اتنے برے طریقے سے کہ بے نتیجہ ہوکر رہ جائے۔ اس پر کمال یہ کہ اپنی ناکامی کودوسروں کے سر پر منڈھ کر آرام سے بیٹھ جاتی ہے۔ اس رویے کی کلاسیکی مثال ملک میں لاک ڈاؤن پر حکومتی طرز عمل ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پہلے دن صورتحال کا جو تجزیہ کیا وہی درست تھا‘ یعنی ملک میں طویل لاک ڈاؤن کورونا وائرس سے بڑا خطر ہ بن جائے گا۔ وہ بالکل ٹھیک کہتے تھے کہ مزدور طبقہ اور چھوٹا کاروباری اس لاک ڈاؤں میں تباہ ہوکر رہ جائے گا۔ اس تجزیے کے باوجود انہیں لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑا کیونکہ ہمارے پاس کورونا وائرس کا کوئی علاج تھا نہ اس سے بچنے کا کوئی دوسرا راستہ۔ حکومتی ایوانوں میں خوف تھا اور بجا تھا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جائے گی۔

ابتدائی دنوں میں وزیراعظم کو ایسی بریفنگ بھی دی گئی جس کے مطابق پاکستان میں کروڑوں لوگ اس بیماری کا شکار ہوسکتے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ کوئی بھی خدشہ حقیقت نہیں بنا۔ جب لاک ڈاؤن کو ایک مہینہ ہو گیا تو ہمیں اس کے بارے میں بہت سے ایسی چیزوں کا علم ہوگیا جو ہم نہیں جانتے تھے۔ کچھ دوائیوں کے بارے پتا چلا جو استعمال کی جاسکتی ہیں ’شروع شروع میں ماسک پہننے کو غیر ضروری قراردیا گیا‘ لیکن بعد میں پتا چلا کہ اگر لوگوں نے ماسک اور دستانے پہن رکھے ہوں تو وائرس کے پھیلاؤ کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔

یہ بھی علم ہوا کہ وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ اجتماعات ہیں۔ گویا اجتماعات پر پابندی لگا کر اس مرض کو روکا جاسکتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک ماہ بعد جب وہ کچھ نہیں ہوا جس کا خطرہ تھا اور ہم اتنے لاعلم بھی نہیں رہے جتنے ابتدا میں تھے ’تو لاک ڈاؤن اگرمکمل طور پر نہ بھی ختم کیا جاتا تو بامعنی انداز میں کچھ پابندیوں کے ساتھ لوگوں کو کاروبار کرنے کی اجازت دے دی جاتی۔ لیکن نہیں۔ یہ تحریک انصاف ہے‘ اس کا کام کرنے کا انداز ہی الگ ہے۔

وزیراعظم کے تجزیے کو پالیسی کی شکل دینے کی بجائے پہلے اسے ایک سیاسی مؤقف بنایا گیا۔ پھر اسے پیپلزپارٹی کے مقابلے میں پیش کیا گیا ’جو سندھ میں لاک ڈاؤن جاری رکھنا چاہتی ہے۔ ایک خالصتاًانتظامی معاملے کو سیاسی بنا کر وفاقی حکومت نے اپنی کم عقلی کا ثبوت دیا سو دیا‘ اس چکر میں ملک میں اندھا دھند لاک ڈاؤن کی غیر ضروری طور پر توسیع بھی کردی۔ ایک سادہ معاملے کو متنازعہ بنا دینے والوں کو کوئی عبدل کہے یا نہ کہے؟

چلئے مان لیا کہ کورونا ایک ہنگامی معاملہ تھا اس لیے اس سے نمٹنے میں کمی رہ سکتی ہے لیکن جب سے یہ جماعت برسر اقتدار آئی ہے ’اسی وقت سے اس کا رویہ یہ ہے کہ سب سے پہلے درپیش مسئلے کو سیاسی بناؤ‘ پھر کسی کو ملزم قرار دو اور جب خود ناکام ہوجاؤتو پچھلے ستر سالوں پر ڈال دو۔ حالت یہ ہے کہ انہیں وفاق اور تین صوبوں میں دو سالہ حکومت کے بعد یاد آیا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے وفاق کی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

اس وقت آپ کو ٹی وی پر حکومت کے جو اصحاب اٹھارہویں ترمیم کی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں انہیں بہت کچھ پتا ہوگا لیکن اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بارے میں کچھ پتا نہیں۔ انہیں یہ بھی نہیں پتا کہ گزشتہ نو سال کے دوران اس ترمیم کی کئی تشریحات سپریم کورٹ بھی کر چکی ہے اور جہاں کہیں صوبوں اور وفاق کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا معاملہ ہے تو عدالت میں یہ معاملہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔ انہیں کسی نے بس یہ بتا دیا ہے کہ ملک بھر میں اکٹھے ہونے والے ٹیکسوں میں سے اٹھاون فیصد صوبے لے جاتے ہیں اور وفاق کے پاس کوئی پیسہ نہیں بچتا۔

بالکل ایسا ہی ہوتا ہے لیکن تحریک انصاف تو آئی ہی یہ نعرہ لے کر تھی کہ ملک سے چار ہزار ارب روپے کی بجائے آٹھ ہزار ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوگا۔ اگر واقعی ملک میں ان لوگوں سے ٹیکس لینے کی سنجیدہ کوشش ہوتی جو ٹیکس نہیں دے رہے تو اتنے پیسے ضرور مل جاتے وفاق کو پیسے کی کمی لاحق نہ ہوتی۔ ٹیکس کے دعوے تو ہوا ہوگئے اور حالت یہ ہوگئی کہ ملک کا وزیر اعظم ٹی وی پر بیٹھ کر لوگوں کو خیرات و صدقات کی تلقین کر رہا ہے۔

حکومت ایک نمبر بتاتی ہے کہ مالی مدد لینے کے لیے ایس ایم ایس کریں تو دوسرا نمبر مالی مدد دینے کے لیے بتاتی ہے۔ ٹیکس تو ان بے چاروں سے کیا اکٹھا ہونا ہے حالت یہ ہے کہ خیرات مانگنے کے لیے چار سو کے اشتہار چلاتے ہیں اور سو روپے کے وعدے پر خوش ہوجاتے ہیں۔ ماشاء اللہ ٹیکس اکٹھا کرنے والوں کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ خیرات ’صدقات اور قربانی کی کھالیں اکٹھی کرنے کی ”بے پناہ صلاحیت“ پر ہی اب ملک کا چلنا منحصر ہے۔

سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہماری اس پیاری حکومت کو کورونا کی آڑ ایسی میسر آئی تھی کہ جس کے پیچھے اپنی بہت سے کمزوریوں کو درست کیا جا سکتا تھا لیکن نہیں ’ہر گز نہیں۔ اگر واقعی اصلاح احوال مطلوب ہوتی تو اس کی کوشش اکیس مہینے پہلے نظر آجاتی جب اس جماعت نے حکومت سنبھالی تھی۔ کورونا جیسے حساس معاملے پر بالکل درست اندازے لگا کر بھی اگر حکومت اپنے خیالات کو پالیسی اور فیصلوں میں نہیں ڈھال پا رہی تو مان لیجیے کہ ہمارا واسطہ ایک عبدل سے ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کے بہانے سن کر ہنسی تو آتی ہے لیکن معاف کرنے کو دل نہیں چاہتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *