کورونا وائرس: کیا مجھے حمل کے دوران خطرہ ہے؟

فیلیپا روکسبی - ہیلتھ رپورٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا، حمل

Getty Images

حاملہ خواتین کو کہا گیا ہے کہ وہ سختی سے سماجی رابطوں سے گریز کریں تاکہ وہ کورونا وائرس لگنے سے بچ سکیں۔

لیکن ہم اس کے حمل پر اٽرات کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

کیا کورونا وائرس میرے حمل کے دوران مشکلات پیدا کرسکتا ہے؟

گو کہ اس وقت ڈاکٹروں کو اس بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں کہ کورونا وائرس حمل کے دوران کس قسم کے اٽرات ڈال سکتا ہے، مگر بظاہر حاملہ خواتین دوسرے صحتمند افراد کی نسبت زیادہ بیمار نہیں ہوتیں۔

امپیریل کالج لندن میں بچوں کی پیدائش کے ماہر کرسٹوف لیز کا کہنا ہے کہ اگر اس سے سخت خطرات ہوتے تو اب تک ہمارے سامنے آ چکے ہوتے۔

باقی آبادی کی طرح اگر وہ بھی متاثر ہوں تو زیادہ تر حاملہ خواتین میں معمولی یا درمیانی علامات ہوں گی اور وہ صحتیاب ہو جائیں گی۔ ان علامات میں کھانسی، بخار، سانس لینے میں مشکل، سر درد اور سونگھنے کی قوت چلی جانا شامل ہیں۔

کورونا بینر

BBC

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

مدافعتی نظام بہتر بنا کر کیا آپ کووِڈ 19 سے بچ سکتے ہیں؟

’امیونیٹی پاسپورٹ‘ کورونا کی وبا کو پھیلا سکتے ہیں: ڈبلیو ایچ او

کیا کورونا کے شدید علیل مریضوں کا علاج صحت یاب مریضوں کے خون سے ممکن ہے؟

کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟

کورونا وائرس: ایبوپروفن اور پیراسیٹامول خطرناک یا کارآمد؟


کورونا وائرس حمل کے دوران اُس وقت مشکل کا باعث بن سکتا ہے جب عورت میں کووڈ 19 کی بیماری شدت اختیار کر جائے مگر ایسا کم ہی ہوتا ہے۔

حاملہ خواتین جنھیں امراض قلب کی سنگین تکالیف ہوں ان کا شمار اُس گروہ میں ہوتا ہے جنہیں سخت خطرہ لاحق ہے اور انھیں اپنا تمام تر وقت گھر کے اندر گزارنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے اور کسی کے ساتھ بھی رو برو ہونے سے گریز کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔ انھیں اپنے علاج کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ لینے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

کچھ وائرس حاملہ خواتین میں زیادہ شدت اختیار کرتے ہیں مگر کورونا وائرس کے بارے میں ایسے شواہد نہیں ملے ہیں۔

برطانیہ میں محققین کووڈ 19 سے متاٽرہ حاملہ خواتین کے بیماری کے دوران تجربات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اور اس کے لیے وہ پین کووِڈ پریگننسی اینڈ نیو نیٹل رجسٹری اور یوکے آبسٹیٹرک سرویلینس سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں۔

خواتین وباء کے دوران حمل کے بارے میں اپنی آراء یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے جائزوں میں دے سکتی ہیں۔

کیا میرے بچے کی قبل از وقت پیدائش کا خطرہ ہے؟

کچھ ایسی خواتین کے بارے میں رپورٹس سامنے آئی ہیں جو کورونا وائرس کی وجہ سے شدید بیمار ہوئیں اور ان کے بچے کی ولادت قبل از وقت ہوئی مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ جلدی ولادت کی وجہ کیا بنی۔

لندن کے کوئین شارلٹ اور چیلسی ہسپتال کے ڈاکٹر ایڈ مولنز کہتے ہیں کہ اگر کوئی وجہ دی گئی ہے تو شاید وہ بچے کی بچہ دانی میں گھبراہٹ کی حالت یا عورت میں آکسیجن کی کمی کے علاج کے لیے ہو۔

حمل کے دوران پیٹ میں بچے کی افزائش کے عمل کی وجہ سے ماں کے پھیپھڑوں اور حرکت قلب پر دباؤ بڑھتا ہے۔ کووڈ 19 کی وجہ سے شدید بیماری کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے اور اس سے سانس لینے میں دشواری بڑھ سکتی ہے۔

ایسی کسی بھی عورت پر ہسپتال میں گہری نظر رکھی جاتی ہے۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں ماں اور بچوں کی آبادی کی صحت کی پروفیسر ماریئن نائیٹ کہتی ہیں کہ شدید بیماری جس میں بخار ہو اُس سے قبل از وقت وضع حمل اور بچے کی پیدائش ہو جاتی ہے۔

تاہم اُن کا کہنا ہے کہ قبل از وقت پیدائش کے زیادہ تر معاملات اُن خواتین میں سامنے آئے ہیں جن کا جلدی آپریشن کر کے بچے کی پیدائش کروائی گئی ہو کیونکہ ماں کو کووڈ کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری تھی بجائے اس کے کہ اُن میں قبل از وقت وضع حمل واقع ہوا ہو۔

متاثرہ خواتین میں اسقاط حمل کا خطرہ بڑھ جانے کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔

کورونا، حمل

Getty Images

کیا حمل کے دوران مجھ سے بچے کو وائرس لگ سکتا ہے؟

یہ ممکن ہے۔ ایسے چند معاملات سامنے آئے ہیں لیکن ایسے نوزائیدہ بچے ہسپتال سے فارغ ہوئے ہیں اور اب ٹھیک ہیں۔

چین میں ایک تحقیق کے مطابق 33 میں سے 3 بچے ایسے تھے جن کی ماؤں کو کووڈ 19 تھا اور یہ اُن میں منتقل ہوا۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ بچوں کو یہ بیماری ماں کے پیٹ میں لگی، وضع حمل کے دوران یا پیدائش کے فوراً بعد جب بچہ ماں کے قریب ہوتا ہے۔

برطانیہ میں رائل کالج آف آبسٹیٹریشنز اینڈ گائناکولوجسٹس آر سی او جی کے مطابق اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ وائرس کی وجہ سے بچے کی افزائش میں کوئی مشکلات پیش آتی ہوں۔

اگر میں حاملہ ہوں اور مجھے شک ہو کہ وائرس لگ گیا ہے تو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ میں فلو یا زکام کی علامات ہیں تو آپ سات دن تک گھر پر رہیں۔

اگر اس دوران آپ کی کوئی اپائنٹمنٹس ہوں تو اپنی دائی یا زچگی کے مرکز کو اپنی علامات کے بارے میں آگاہ کریں۔

زیادہ تر خواتین میں معمولی علامات ہوں گی جو چند دن میں ٹھیک ہوجائیں گی۔

لیکن اگر آپ کی طبعیت زیادہ خراب ہوجائے تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر یا ہسپتال کے ایمرجنسی کے شعبے سے رابطہ کریں۔

اگر آپ برطانیہ میں ہیں تو آپ 111 کے ذریعے نیشنل ہیلتھ سروس (سکاٹ لینڈ میں این ایچ ایس 24) سے رابطہ کر سکتی ہیں یا پھر ہنگامی صورتحال میں 999 ڈائل کر سکتی ہیں۔

آر سی او جی کی ویب سائٹ پر حاملہ خواتین اور ان کے خاندانوں کے حوالے سے اور بھی معلومات دستیاب ہیں۔

کورونا، حمل

Getty Images

اگر میں حاملہ ہوں تو کیا مجھے کام پر جانا چاہیے؟

اگر آپ حاملہ ہیں اور گھر سے کام کر سکتی ہیں تو ایسا ہی کریں۔

اگر حمل کو 28 ہفتے سے زیادہ ہوچکے ہیں اور آپ کو کوئی دوسرے طبی مسائل بھی ہیں تو پھر یہ بہت اہم ہے کہ آپ سماجی رابطوں سے گریز کریں۔

اگر آپ کے حمل کو 28 ہفتے پورے نہیں ہوئے تو آپ دفتر میں کام جاری رکھ سکتی ہیں بشرطیکہ آپ ساری حفاظتی تدابیر پر عمل کریں اور دوسروں سے کم از کم 2 میٹر کے فاصلہ پر رہیں۔

طبی شعبے سے منسلک حاملہ خواتین کو ایسے مریضوں کی دیکھ بھال نہیں کرنی چاہیے جنھیں وائرس لگنے کا شک ہو یا وائرس لگنے کی تصدیق ہو چکی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16607 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp