کیا پاکستان انڈیا کے ساتھ اپنی سرحد پر کبھی باڑ لگائے گا؟

جوگل آر پروہت - نامہ نگار بی بی سی، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان حقیقی سرحد (ایل او سی) پر جھڑپوں کی خبریں ان دنوں انڈین میڈیا میں چھائی ہوئی ہیں لیکن یہاں ایک سرحد ایسی بھی ہے جس کی سرگرمیوں کا کسی نے نوٹس نہیں لیا ہے۔

رواں ماہ ایران کے ساتھ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی سرحد کے قریب چھ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایک ریموٹ کنٹرول دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجیوں میں میجر کے عہدے پر فائض ایک افسر بھی شامل تھے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر (ڈی جی آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ ٹیم پاک-ایران سرحد پر 14 کلومیٹر کے علاقے میں معمول کی گشت پر تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ایل او سی: وہ واحد راستہ جو اب بھی کھلا ہے

ایل او سی کشیدگی: ’ڈی جی ملٹری آپریشنز رابطے میں ہیں‘

ایل او سی پر انڈیا کی گولہ باری، چار پاکستانی شہری زخمی

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ ٹیم انتہائی مشکل اور پہاڑی علاقے میں انتہا پسندوں کے ممکنہ راستوں کی جانچ کر رہی تھی۔

چار دن بعد 12 مئی کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل باغیری کو فون کیا۔

اس کال میں جنرل باجوہ نے ’پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حالیہ شدت پسندوں کے حملے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جس میں پاک ایران سرحد کے ساتھ تقریباً چھ سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔‘

انھوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کو یہ بھی بتایا کہ ’پاکستان نے سرحدی باڑ لگانے کا کام شروع کیا ہے لیکن اس کے لیے دو طرفہ تعاون کی ضرورت ہو گی۔‘

اگلے ہی روز جنرل باجوہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ پہنچے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق انھیں ’سکیورٹی کی صورتحال، آپریشنل تیاریوں اور پاک-افغان اور پاک-ایران سرحدوں پر باڑ لگانے سمیت بارڈر مینجمنٹ کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔‘

لیکن پاکستان کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کی فکر انڈیا کو کیوں کرنی چاہیے؟

اس کا جواب جاننے کے لیے پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کو سمجھنا ضروری ہے۔

پاکستان کتنے ممالک سے گھرا ہوا ہے؟

پاکستان کی سرحدیں چار ممالک سے لگتی ہیں۔ پاکستان کی سرحد کا سب سے چھوٹا حصہ چین سے متصل ہے اور یہ سرحد 599 کلومیٹر لمبی ہے۔

اس کے بعد ایران آتا ہے جس کی سرحد پاکستان کے مغرب میں 909 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ پورا علاقہ صوبہ بلوچستان میں آتا ہے۔

پاکستان کی 2611 کلومیٹر طویل سرحد افغانستان کے ساتھ ہے۔ صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا افغان سرحد سے متصل ہیں۔

پاکستان کی سرحد کا سب سے بڑا حصہ انڈیا کے ساتھ ملتا ہے۔ انڈیا کے ساتھ اپنی سرحد کو پاکستان مشترکہ طور پر بین الاقوامی سرحد، ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے طور پر تقسیم کرتا ہے۔ انڈیا کے ساتھ اس کی یہ سرحد تین ہزار 163 کلومیٹر لمبی ہے۔

ایسے میں یہ سوال ضرور جنم لیتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرحد کے کچھ حصوں پر ہی باڑ کیوں لگا رہا ہے؟ اور اپنے چار پڑوسیوں میں سے صرف دو پڑوسیوں کے ساتھ ہی وہ اپنی سرحدوں پر باڑ کیوں لگا رہا ہے؟

پاک و ہند سرحد

Reuters
اعلامیے کے مطابق ایران اور پاکستان دونوں نے اس بیریکیڈنگ پر اتفاق کیا ہے اور اس سے دونوں فریقوں کو غیر قانونی نقل و حرکت اور سرگرمیاں روکنے میں مدد ملے گی

پابندی سے کس کو فائدہ ہو گا؟

سلمان زیدی اسلام آباد کے جناح انسٹیٹیوٹ میں بطور پروگرام ڈائریکٹر کام کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے کبھی اس حوالے سے منصوبہ بندی نہیں کی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ایران کے ساتھ سرحد کی دونوں اطراف کم ترقی یافتہ علاقے ہیں۔ ان جگہوں پر حکومت کا کنٹرول بہت کم ہے اسی وجہ سے یہ علاقے کالعدم گروہوں، سمگلروں اور غیر قانونی سرگرمیوں کا اڈہ بن چکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اور ایران کے مابین پچھلے کئی سالوں سے بات چیت جاری ہے۔ اس کی وجہ سرحد کے دونوں اطراف حکومت مخالف عناصر کے حکومت پر حملے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان نے مزید سخت اقدامات اور یکطرفہ طور پر باڑ لگانے کا اعلان کیا ہے۔‘

صرف دس دن پہلے پاکستان میں ایوان بالا یعنی سینیٹ نے اس 950 کلومیٹر سرحد پر باڑ لگانے کے لیے تین ارب روپے کی تجویز کا اعلان کیا۔

اعلامیے کے مطابق ایران اور پاکستان دونوں نے اس بیریکیڈنگ پر اتفاق کیا ہے اور اس سے دونوں فریقوں کو غیر قانونی نقل و حرکت اور سرگرمیاں روکنے میں مدد ملے گی۔

سلمان زیدی نے بتایا کہ ’جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے امریکہ، افغانستان اور پاکستان کے مابین ہونے والی بات چیت سے پاک-افغانستان سرحد پر کوئی مضبوط سکیورٹی انتظامات کرنے میں ناکامی ہی ہاتھ لگی ہے۔ اس علاقے میں شدت پسند آسانی سے نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔‘

انڈیا سرحد

AFP
’افغان حکومت سرحد کی حد بندی کرنے پر تیار نہیں تھی کیونکہ وہ تاریخی طور پر ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ ’افغان حکومت سرحد کی حد بندی کرنے پر تیار نہیں تھی کیونکہ وہ تاریخی طور پر ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

’اس لیے پاکستان کو یک طرفہ باڑ لگانے کا فیصلہ کرنا پڑا کیونکہ افغان حکومت شدت پسندوں کو سرحد عبور کرنے اور پاکستان میں حملے کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے جبکہ خار دار تار لگانے کا کام رواں سال مکمل ہوجائے گا۔‘

پاکستان چین کے ساتھ سرحد پر باڑ کیوں نہیں لگاتا؟

سلمان زیدی کہتے ہیں کہ ’چین کے ساتھ پاکستان کی سرحد دشمنانہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد تعینات ہے۔ یہاں مشترکہ پٹرولنگ ہوتی ہے، لیکن یہاں باڑ لگانے کا کوئی سوال نہیں ہے۔

’پاک-چین سرحد پر دراندازی بھی آسان نہیں ہے۔ یہاں روزانہ مزدوری کرنے والے مزدوروں سمیت دوسرے مسائل بھی نہیں ہیں۔‘

انڈیا کے ساتھ پاکستان اپنی سرحد پر خاردار تار کیوں نہیں لگاتا؟

سرحد کے معاملے پر پاکستان اور انڈیا کے مابین کئی معرکے ہوئے ہیں۔

دونوں ممالک کے مابین بہت سے امور پر تنازعات ہیں اور پاکستان اس کے ساتھ ہی انڈیا پر داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے دراندازی کرانے کا الزام عائد کرتا ہے۔

تاہم جب ہم نے پاکستان کے آئی ایس پی آر سے یہ سوالات پوچھے تو ہمیں جوابات فراہم نہیں کیے گئے۔

زیدی اس معاملے میں پاکستان کے نظریہ کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’باڑ لگانے کے پیچھے سکیورٹی کے مسائل ہیں۔ انڈیا نے باڑ لگائی ہے تاکہ جسے وہ دراندازی کہتا ہے اسے روکا جا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب انڈیا نے خاردار تار لگانے کا فیصلہ کیا تو پاکستان نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن اب علاقے اور آبادی کے تحفظ کی ذمہ داری انڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ وہ سرحد کے پار سے دراندازی کا سوال نہیں اٹھا سکتا کیونکہ اس نے خود ہی تاربندی کی ہے۔‘

دوسری طرف انڈیا میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مؤقف میں ایک پیغام چھپا ہوا ہے۔

انڈیا کے سابق آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’یہ واضح ہے کہ پاکستان ایران اور افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کے خطرے کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان سرحدوں پر دراندازی میں آسانی کی وجہ سے شدت پسندوں کے حملے ہوتے رہے ہیں۔‘

انڈیا پاک سرحد

AFP
‘اگر پاکستان کو تاربندی کرنی ہوتی تو جن دراندازوں کو وہ سرحد پار بھیجتا ہے اسے انڈیا کے لیے پکڑنا آسان ہو جاتا۔’

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان، انڈیا کے ساتھ باڑ لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کیونکہ انڈیا ایک ذمہ دار جمہوری ملک ہے اور انتہا پسندوں کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ترغیب نہیں دیتا ہے۔‘

بارڈر سیکیورٹی فورس آف انڈیا (بی ایس ایف) کے سابق ایڈیشنل ڈی جی سنجیو کرشنن سود کا کہنا ہے کہ ’تار نہیں لگانے کے ذریعے پاکستان یہ تسلیم کرتا ہے کہ انڈیا کی جانب سے کسی بھی قسم کی دراندازی یا غلط نقل و حرکت نہیں ہوتی ہے۔

’اگر پاکستان کو تاربندی کرنی ہوتی تو جن دراندازوں کو وہ سرحد پار بھیجتا ہے اسے انڈیا کے لیے پکڑنا آسان ہو جاتا۔‘

دسمبر سنہ 2018 میں انڈیا کی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ حکومت نے صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدوں پر تار لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

انڈیا کی سرحدیں میانمار، چین، نیپال اور بھوٹان کے ساتھ بھی ہیں۔

وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے ساتھ انڈیا کی دو ہزار 289 کلومیٹر طویل بین الاقوامی سرحد میں سے دو ہزار چار کلومیٹر باڑ لگانے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔

سابق ایڈیشنل ڈی جی سنجیو کرشنن سود کے مطابق ’انڈیا نے باڑ لگائی ہے اور اس سے پاکستان کو ہمارے گشت کی نقل و حرکت دیکھنے میں مدد ملی ہے کیونکہ رات کے وقت علاقے پر دبدبہ قائم کرنے کے لیے دروازے کھول کر بیریکیڈ سے آگے جانا پڑتا ہے۔

’دراندازی روکنے کے لیے ہمیں یہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔‘

انڈین فوج نے پاکستان کے ساتھ تقریباً 740 کلومیٹر لمبی لائن آف کنٹرول کے قریب انسداد دراندازی کا نظام (اے آئی او ایس) لگایا ہے۔

سنجیو کرشنن کا کہنا ہے کہ انڈیا میں سرحد پر باڑ لگانے کا خیال سنہ 1980 کی دہائی میں پہلی بار سامنے آیا تھا۔

انھوں نے کہا: ’اس وقت یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ شدت پسندوں کی دراندازی کو روکنے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے اور اپنی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے بی ایس اے ایف دراندازی کو نہیں روک سکے گی۔‘

ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کبھی بھی انڈیا کے ساتھ اپنی سرحد پر تاربندی کرے گا؟ ہمیں اس کا جواب پتا نہیں۔

اگرچہ پاکستان فوج اس سوال کا جواب نہیں دیتی لیکن زیدی کے مطابق انھوں نے ابھی تک ایسی کسی تجویز کے بارے میں کچھ نہیں سنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 13566 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp