حجاز: مع نادر تصاویر کے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حجاز کی خشک اور پہاڑی زمینی ماحول زندگی کے لئے زیادہ سازگار نہیں۔ جزیرہ نما عرب کے مغربی حصے پر واقع، اس زمین کو محض دو الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے : خشک اور گرم۔ گرمیوں میں معمولی بارش کے چند قطروں کے علاوہ ہر روز درجہ حرارت سو درجہ فارن ہائیٹ سے تجاوز کر لیتا ہے۔ مشرق بعید کی طرف موجود ریت کے ٹیلے سبزے اور مستقل رہائش پذیر ہونے سے روکتی ہے۔ اتنی سخت زمینی ہیئت لئے، یہاں سے 1441 سال پہلے (ساتویں صدی کے ابتدائی سال) ایک تحریک اٹھتی ہے جو جزیرہ نما عرب اور اس کے گرد و نواح کی تاریخ کو یکسر بدل کے رکھ دیتی ہے۔

تہذیبیں جس ماحول میں پروان چڑھتی ہیں اس کے مطابق خود کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ عربوں کی زندگی کی ہر چیز اور ہر پہلو کی بنیاد اس سخت ماحول پر تھا جس میں وہ رہتے تھے۔ صحرا کی ایک آباد تہذیب کو سہارا نہ دینے کی سکت کی وجہ سے عرب مستقل طور پر اپنے مال مویشیوں کے لئے ایک سرسبز و شاداب زمین کی کی تلاش میں تھے۔ اسی مناسبت سے لفظ ”عرب“ کا مطلب بھی ”آوارہ“ یا ”خانہ بدوش“ گردانا جاتا ہے۔ گرمیوں کے مہینے وہ اکثر ایک سبزہ زار یا ایک کنویں کو تلاش کرنے کے بعد وہاں سالوں ڈیرہ ڈال لیتے۔

مہینوں گرمیوں کی تیز دھوپ برداشت کرتے ہوئے وہ جنوب کی طرف یمن کے نزدیک ہجرت کرتے جہاں موسم خزاں میں بارش برستی اور ان کے مویشیوں کے لئے چارہ اور سبزہ مل جاتا۔ یہاں ان کے اونٹوں اور بکریوں اور بھیڑوں کے لئے سردیاں گزارنے کے لئے مناسب چارہ مل جاتا لہذا عرب یہاں عارضی طور پر خیمے گاڑ لیتے۔ بہار میں بارش بند ہونے کے بعد عرب دوبارہ یہاں سے واپس کنویں اور سبزہ کی طرف گرمیاں گزارنے کے لئے کوچ کر لیتے۔ یہ سخت جان چکر خانہ بدوش عربوں کے لئے عرصہ دراز سے معمول کا حصہ تھا جو کہ اب تک بدوؤں عرب (جو اب تک صحرا میں قیام پذیر ہیں ) کی زندگیوں کا ایک حصہ ہے۔

|| قبل از اسلام عربوں کا یہ شیوہ تھا کہ تین دن تک مہمان کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے اور خوب خاطر مدارات کرتے یہاں تک کہ تین دن تک ان سے آنے کی وجہ تک نہ پوچھتے۔ اس رواج کو پیغمبر ﷺ نے مزید دوام بخشتے ہوئے فرمایا کہ مہمان کی تین دن تک مہمان نوازی مہمان کا تم پر حق ہے (مفہوم)۔

صحرا اکیلے رہنے کی جگہ نہ تھی۔ عربوں کی جان کے لئے بہت سارے خطرات کے پیش نظر سماجی تعاؤن ناگزیر تھی۔ رشتہ داروں پر اکتفا قحط اور تیز دھوپ جو مسلسل وبال جان تھی، کے خلاف دفاع کی پہلی لکیر تھی۔ خاندان ایک دوسرے کے ساتھ تعاؤن کرنے کے پابند تھے اور مکمل انفرادیت کو نہایت ناپسند کرتے۔ لہذا خاندان یا قبیلہ عرب سماج کی ایک بنیادی اکائی ہوا کرتی۔ خاندانوں کے گروہ ایک ساتھ سفر کرتے، کئی خاندان مل کر ایک قبیلہ کہلاتے جن کا ایک سربراہ ہوا کرتا جو ”شیخ“ کہلاتا تھا۔

اسلام سے پہلے قبیلہ عربوں کا شناخت ہوا کرتا۔ قبیلے سے تعلق تحفظ، حمایت اور معاشی مواقع فراہم کرتا۔ قبیلے اپنی دفاع کی خاطر میدان میں لڑنے کے لئے اترتے اور مختلف قبائل کی آپس میں لڑائی اسلام سے پہلے عام تھی۔ مال مویشیوں کی چارہ گاہ پر پہنچنے کی دوڑ عمومی طور پر قبائل کو خون ریز جنگوں پر مجبور کرتے جو سالوں جاری رہتے اور دونوں طرف سے بھاری انسانی جانوں کی ضیا کا باعث بنتے۔ عربوں کے لئے دونوں انسان اور قدرت کے خلاف جدوجہد لازمی جز تھی۔

اسی طرح کے خانہ بدوش قبائلی سماج میں فنکارانہ اظہار کٹھن تھا۔ قدیم یونانیوں اور مصریوں کی طرح مجسمہ سازی اور مصوری کے عظیم کارنامے سرانجام دینے کے لئے ضروری وسائل اور درکار وقت ناپید تھا۔ پھر بھی خوبصورتی ڈھونڈنے کی انسانی فطرتی خواہش ریتلی صحرا بجا نہ سکی۔ باوجود اس کے اس خواہش نے ایک نیا روپ دھارا: مطلب زبان۔ شاید دنیا کی کسی بھی دوسرے زبان سے زیادہ ”عربی زبان“ بذات خود فن کی اظہار ہے۔ لفظ اور جملے کی ساخت میں روانی ایک شخص کے لئے ایک ہی مدعا کو بیان کرنے کے لئے مختلف راستے تخلیق کرتی ہے۔

شاعری قدرتی طور پر عربوں کی ایک یقینی فن بن گئی؛ طویل رزمی نظمیں جو جنگوں میں قبائل کی بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی مداح خوانی پر مشتمل تھی، ان کے بڑے فن پارے ہوا کرتے۔ عمدہ شعراء ہر طرح سے کافی مقبول ہوتے تھے۔ ان کے اشعار بڑی تعداد میں لوگ حفظ کر لیتے اور نسل در نسل دہرائے جاتے۔ قبل از اسلام سات بہترین نظمیں ”معلقات“ یعنی وہ جو آویزاں ہوئے، کے نام سے مشہور تھے۔ ان کو معلقات اس لئے کہتے کیونکہ ان کو مکہ میں کعبہ کی دیواروں پر ازراہ احترام لٹکا دیے جاتے جو کہ عربوں کے دلوں میں بھی آویزاں ہوتے۔

اس کے باوجود عربوں میں لکھائی کا رجحان نہ تھا، اگرچہ عربی زبان لکھنے کا طریقہ 500 عیسوی میں موجود تھا۔ عرب لکھنے پر حفظ کرنے کو ترجیح دیتے اور شروع میں زبانی یاد کر لینے کو کافی سمجھ لیتے تھے، عرب ہزاروں اشعار پر مشتمل نظموں کو آسانی سے یاد کر لیتے اور اپنی نئی نسلوں کو دہراتے۔ 600 عیسوی میں جب اسلام کا ظہور ہوا تو زبانی یاد کرنے کا فن کافی کام آیا۔

اسلام سے پہلے جہاں تک عربوں کی مذہب کا تعلق ہے تو عرب خصوصی طور پر ایک سے زیادہ خداؤں کو ماننے والے تقریباً سارے مشرک تھے۔ اسلامی روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے وادی مکہ میں بہت عرصۂ پہلے کعبہ کی بنیاد رکھی تاکہ ایک اللہ‎ کی عبادت کی جائے۔ کعبہ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام کی رکھی گئی بنیاد پر سادہ مستطیلی عمارت کی طرز پر کی گئی تھی۔ اس مقدس مقام سے اسماعیل علیہ السلام (جو کہ عرب اپنوں ہی میں سے ایک سمجھتے ) ایک اللہ‎ کو ماننے اور صرف اس کی عبادت کرنے کے لئے تبلیغ کیا کرتے تھے۔

تاہم، صدیوں بعد ان کی اولاد نے اس کی ایک اللہ‎ کو ماننے والے تعلیمات مسخ کر دیے۔ پتھر اور لکڑی کے بہت سارے مختلف بت بنا دیے گئے اور ان کو خدا پکارنے لگے۔ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ‎ علیہ و سلم کے وقت کعبہ میں 360 بت تھے۔ تاہم، حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اور ان کے تعلیمات کو عرب میں مکمل طور پر بھلا نہیں دیے گئے تھے اور عرب سماج میں کچھ حد تک موجود تھے اور وہ یقیناً ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام کے خدا کو مانتے تھے جسے عربی میں ”اللہ‎“ کہا جاتا تھا۔

لیکن ان کا ماننا تھا کہ یہ بھی ان خداؤں میں سے ایک ہے جن کے انہوں نے بت بنا رکھے تھے جو کہ ایک اللہ‎ کو ماننے والے عقیدے کے مکمل برخلاف تھا۔ جزیرہ نما عرب میں عیسائی اور یہودی بھی علیحدہ علیحدہ موجود تھی جو پیغمبروں کی احترام کیا کرتے جہاں کہیں ان کی مماثلت ختم ہوتی۔ ایک اللہ‎ کو ماننے والے عرب بہت سارے خداؤں کو ماننے والے عربوں سے مکمل دوری اختیار کرتے تھے پر ان کا اپنا ایک مخصوص علاقہ نہ تھا اور منتشر طور پر رہا کرتے۔

جزیرہ نما عرب صحرا کی گہرائیوں میں موجود ہونے کے باوجود اپنے ہمسایوں سے مکمل الگ نہ تھے۔ سن عیسوی کی ابتداء میں رومی جزیرہ نما کے شمالی سرحدوں تک سپر پاور بن چکی تھی۔ اس وقت کے شام کے صوبے فلسطین میں موجود یہودیوں کو کچلنے کے بعد رومیوں نے علاقہ پر قبضہ کرنے کی مہر ثبت کر لی تھی۔ بدوؤں عربوں کے لئے یہ شمال کی جانب ایک دولت مند اور مضبوط تجارتی حلیف کی موجودگی تھی۔ تاجر لگاتار جزیرے کے مغربی حصہ کو طے کر کے جنوب کی جانب یمن اور شمال کی طرف شام میں تجارت کی غرض سے داخل ہوتے اور اٹلی اور ہند جتنے دور علاقوں سے لائے گئے سامان کی تجارت کرتے۔ رومی چاہتے تھے کہ خانہ بدوش عرب اس زرخیز اور مہمان نواز زمین میں رہے اور دور افتادہ علاقوں کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کریں۔

عرب کے شمال مشرق کی جانب ایرانی سطح مرتفع پڑتا ہے۔ 200 سن عیسوی میں فارس کے ساسانی خاندان کے اٹھان نے رومیوں اور فارسیوں کے مابین صدیوں پر مشتمل جدوجہد کو دوام بخشا جس نے عربوں کو کافی متاثر کیا۔ قیصر و کسریٰ کے مابین سرحد میں کافی اتار چڑھاؤ آیا جو جزیرہ نما عرب کے شمالی حصہ شامی صحرا پر مشتمل تھی۔ قیصر و کسریٰ دونوں عرب قبائل خاص کر وہ جو عیسائیت قبول کر چکے تھے، کو استعمال کر کے اپنی برتری کی تگ و دو میں تھے اور عرب قبائل کو ایک دوسرے کے خلاف لڑائی کرنے پر اکساتے۔

اسی اثناء دو عرب قبائل متحد ہو کر ایک متحدہ ریاست کا قیام عمل میں لائے۔ الغسان نے ایک عرب سلطنت کی بنیاد رکھی جو موجودہ اردن، شام اور فلسطین پر مشتمل تھی، جنہوں نے رومیوں کو فارس کے خلاف تقویت بخشی۔ اسی طرح لخمی فارسیوں کی خدمت گزار رہی۔ دونوں عرب سلطنتیں کافی متاثر ہوئی، یہاں تک مسلسل جنگ و جدل کی وجہ سے چاروں بادشاہتیں کافی کمزور ہوئی۔

جنوب کی جانب ایبی سینا ( موجودہ ایتھوپیا) کی ایک طاقتور سلطنت واقع تھی، جو اکسوم کہلاتی تھی۔ اکسوم ایک مضبوط تجارتی ریاست تھی جو افریقہ، بحیرہ ہند اور جزیرہ نما عرب کے جنوبی حصہ کو آپس میں ملاتی تھی۔ اس تجارتی سنگم نے عرب تاجروں کو متاثر کر کے یمن میں اکسوم کے باشندوں سے تجارتی ملاقات کرنے پر مجبور کیا۔ رومیوں کی طرح اکسوم بھی عیسائی ریاست تھی جن کی فارسیوں کے ساتھ کئی مواقعوں پر جھڑپ ہوئی تھی۔ یمن سے گزرتی تجارتی شاہراہ ہر کسی کے لئے انتہائی خاص رہی جس کے لئے عرب قبائل کے سرداروں کو اپنا وفادار بنانے کی کوشش میں تھے۔

600 سن عیسوی کے ابتدائی سالوں میں دنیا ایک دوسرے کے قریب تر ہو رہی تھی، عربی عرب جزیرہ کے باہر ہمسایوں کے اثرات سے متاثر ہونے سے باخبر تھے۔ تین طاقتور ریاستوں کے سنگم پر واقع ہونے کا مطلب بین الاقوامی سیاست سے خود کو باخبر رکھ کر ان کی دشمنی کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے کا ہنر ناگزیر بن گیا۔ پھر بھی ان کے اس خطرناک محل وقوع کے باوجود، عرب صحرا کے گہرائیوں میں کافی محفوظ تھے۔ انہوں نے اپنے جزیرے کو ”جزیرہ العرب“ کا نام دیا اور خود کو باقی بادشاہتوں سے الگ کیا جو کافی فائدہ مند ثابت ہوا، اس کی سخت ماحول کی بدولت کوئی بھی ارد گرد موجود دوسری سلطنت اس کو زیر کرنے سے قاصر رہی۔ باہر کی تناؤ اور جنگ و جدل عربوں کی روایتی خانہ بدوشی کو متاثر نہ کر سکی۔

اسی اثناء ساتویں صدی کے ابتدائی سالوں میں ایک تحریک اٹھی جس نے ارد گرد موجود ریاستوں اور آخر کار پوری دنیا میں اپنی انمٹ اثرات چھوڑ کے رکھ دیے۔ اس تحریک نے عربوں کی تقدیر بدل ڈالی اور ان کو اپنی منفرد قابلیت استعمال کرنے پر مجبور کیا اور ان منفی ثقافتی خصلتوں کو چھوڑنے پر بھی مجبور کیا جس نے ان کو جانوروں کی طرح مار دھاڑ اور خانہ بدوشی کے سوا کچھ نہ دیا۔ جغرافیہ، آب و ہوا، ثقافت اور سیاست نے مل کر اسلام کو ایک مکمل ماحول فراہم کیا جس میں اسلام اتنی تیزی سے ایک عالمی طاقت بن گیا جتنا دنیا کی تاریخ میں کوئی بھی دوسری تحریک، مذہب یا سلطنت آج تک نہ بن سکا۔

جس نے بکھرے ہوئے لوگوں کو یکجا کیا اور ان سے قیصر و کسریٰ کے مضبوط بادشاہتوں کو تخت و تاراج کر کے اسپین سے ہند تک کو محض کچھ عشروں میں فتح کر لیا اور اپنے وقت کے سب سے عظیم سلطنت کی بنیاد رکھ دی۔ طاقت اور تہذیب و تمدن کے یہ بے پناہ بڑھوتری ان عربوں کے لیے ناقابل فہم تھی جو 600 سن عیسوی کے ابتدا میں اپنی بقا کی خاطر ادھر ادھر بے مقصد گھومتے پھرتے۔ یہ سب ایک آدمی کے آمد کی برکت تھی جو ایک انقلابی پیغام لے کر آئے اور عرب کی تقدیر کا وعدہ کر کے آئے : عرب کے صحرائی ریت سے پرے ”خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ‎ علیہ و آ لہ و سلم“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *