”جب ہسپانیہ پر ہماری حکومت تھی“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حمزہ یوسف 1958 ء میں واشنگٹن میں پیدا ہوا۔ شروع میں وہ ایک باعمل آرتھوڈکس عیسائی تھا۔ قرآن پاک کے مطالعہ کے بعد مسلمان ہو گیا۔ چار برس العین (متحدہ عرب امارات) میں شریعہ کی تعلیم حاصل کی۔ عربی میں مہارت حاصل کی۔ تجوید سیکھی۔ عربی شاعری، منطق، فقہ اور دیگر عوام کی تحصیل کی۔ الجزائر، مراکش اور ماریطانیہ میں بھی علما سے استفادہ کیا۔ 1996 ء میں اس نے برکلے (کیلی فورنیا) میں زیتونہ کالج قائم کیا۔ اس میں اسلامی اور عصری علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ متعلقہ امریکی اداروں نے اسے باقاعدہ منظور کیا ہوا ہے۔ روزنامہ گارڈین نے حمزہ یوسف کو ”مغرب کا با اثر ترین اسلامی سکالر“ قرار دیا ہے۔

یہ تعارف ایک ضمنی مسئلہ تھا۔ اصل میں جو بات ہم کرنا چاہتے ہیں وہ حمزہ یوسف کا ایک خاص نظریہ ہے۔ اس کے نزدیک آج کل جس اسلام کا زور ہے وہ جذباتی (ایموشنل) اسلام ہے۔ حمزہ نے جذباتی ا سلام کو ایک باقاعدہ اصطلاح کی شکل میں استعمال کیا ہے۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ وہ جو سنجیدہ اسلامی علم و فضل تھا وہ رخصت ہو چکا۔ اسلام کی حقانیت ثابت کرنے والے فلسفی، متکلمین اور سکالرخال خال نظر آتے ہیں، بلکہ نہ ہونے کے برابر!

حمزہ یوسف کے اس نظریے پر تنقید بھی بہت ہوئی۔ اسلامی علوم کے ماہرین نے اس پر کئی مضامین تحریر کیے۔ یہ ہمارا موضوع نہیں۔ نہ ہی کالم کی تنگ نائے اس ادق تفصیل کی متحمل ہو سکتی ہے۔ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ”جذباتی اسلام“ والا نظریہ اور کہیں ثابت ہو نہ ہو، پاکستان پر ضرور صادق آ رہا ہے۔ ترکی ڈرامہ اور تغرل اس کی ایک واضح مثال ہے۔ یہاں یہ وضاحت از حد ضروری ہے کہ ہم اس گروہ کے حامی قطعاً نہیں جو یہ ڈرامہ دکھانے کے خلاف واویلا کر رہا ہے۔

مقامی اور ”دساور“ کے ہیرو کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہماری تاریخ کے جو ہیرو ہیں، ان پر ڈرامے بننے چاہیں۔ بالکل بننے چاہیں۔ ضرور بنائیے! کسی نے نہیں روکا۔ بطور مسلمان، مسلمان ملکوں کی تاریخ سے شناسائی ضرور ہونی چاہیے اس سے قطع نظر، اس میں انسانی پہلو بھی در آتا ہے۔ پورے کرۂ ارض کی تاریخ، ہماری اپنی تاریخ ہے۔ مسلمان ہونے کے علاوہ ہم انسان بھی ہیں۔ انسانی تاریخ، جہاں بھی ہو، جس عہد کی بھی ہو، ہماری اپنی تاریخ ہے۔ یہ انسانیت کی مشترکہ میراث ہے!

مگر ہم ڈرامے کو صرف ڈرامہ نہیں رہنے دیتے۔ ہم تاریخ کو صرف تاریخ کے طور پر نہیں دیکھتے۔ اس کی مٹی میں ہم جذبات کو گوندھتے ہیں اور پھر اسے اپنے اوپر سوار کر لیتے ہیں۔ جذباتیت کا یہ عالم ہے کہ ڈرامے کی ہیروئن کو اصلی رنگ ڈھنگ میں دیکھا تو ہم پر قیامت گزر گئی، ہم اس ڈرامے کو آج کی زندگی میں متشکل دیکھنا چاہتے ہیں وہ بھی دوسروں کی مدد سے۔ خود ہم آج کے دور میں جینا چاہتے ہیں مگرساتھ ساتھ تڑپ رہے ہیں کہ ڈرامے کی ہیروئن سینکڑوں سال پہلے کا طرز زندگی اپنائے۔

تحریک خلافت ہماری جذباتیت کی ہی مثال تھی۔ یہ صرف قائداعظم تھے جو بھانپ گئے کہ گاندھی مسلمانوں کو جذباتی کر کے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے طوفان بن کر سامنے آنے والی جذباتیت کے سامنے اپنا منطقی موقف پیش کرنے کے لئے بہت زیادہ جرأت چاہیے اور یہ جرأت صرف قائداعظم میں تھی۔ ان کی نگاہ دوربیں اس تحریک کا انجام دیکھ رہی تھی۔ جذباتیت کی ایک اور مثال کہ مسلمانوں کو ہجرت کرنے کے لئے آمادہ کیا گیا۔

ہزاروں نے افغانستان ہجرت کی جہاں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ قابل رشک نہ تھا۔ کئی تو لوٹ لئے گئے۔ ارطغرل دیکھنے والے پاکستانی اسلامی نشاۃ ثانیہ کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایک نظر ذرا خوابوں کی دنیا سے ہٹ کر زمینی حقائق پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ عالم اسلام کے مقبول و مشہور رہنما طیب اردگان عملی طور پر 2003 ئسے تاحال ترکی کے حکمران ہیں۔ 2003 ء سے 2014 ء تک اردگان وزیراعظم رہے۔ اس کے بعد سے وہ صدر کے منصب پر فائز ہیں۔

اس عرصہ میں انہوں نے اسرائیل کے خلاف کئی سٹینڈ لئے۔ فلوٹلا والا واقعہ پیش آیا۔ پھر یروشلم کو اسرائیل نے دارالحکومت قرار دے دیا۔ ترکی نے شدید احتجاج کیا مگر اس سارے عرصہ میں ترکی اور اسرائیل کے تجارتی اور سیاحتی روابط نہ صرف قائم رہے بلکہ بڑھتے رہے۔ ترکی ائر لائن، اسرائیل کی اپنی ائر لائن کے بعد، اسرائیل میں دوسری مقبول ترین ائر لائن ہے۔ 2017 ء میں ترکش ائر لائن نے اسرائیل کے بن گوریاں تل ابیب ائر پورٹ سے دس لاکھ سے زیادہ مسافر اٹھائے۔

2019 ء میں اسرائیل آنے اور جانے کے لئے ترکش ائر لائن کی روزانہ کی دس پروازیں کام کرتی رہیں۔ آج بھی جہاز آ جا رہے ہیں۔ 2019 ء میں اسرائیل نے بحیرۂ روم کے ساحلی علاقے میں گیس کے بھاری ذخائر دریافت کیے۔ یہ اسرائیل کے اپنے علاقہ میں ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ذخائر ڈیڑھ سو برس کے لئے کافی ہوں گے۔ اسرائیل اس گیس کو یورپ لے جانا چاہتا ہے۔ وہ بڑی آسانی سے قبرص اور یونان والا راستہ اختیار کر سکتا تھا مگر اس کے لئے اسرائیل اور ترکی مل کر پائپ لائن کو ترکی سے گزارنے کے لئے مصروف عمل ہیں۔

ترکی کی برآمدات جو اردن جاتی تھیں، پہلے شام کے راستے جاتی تھیں مگر جب سے شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی، ترکی اس مقصد کے لئے اسرائیل کے حیفہ کے ہوائی اڈے کو استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ترکی کے تجارتی تعلقات بھرپور ہیں اور روز افزوں ہیں، ترکی اسرائیل کو آٹو موبیلز، آئرن، سٹیل، برقی آلات اور پلاسٹک کی مصنوعات برآمد کرتا ہے اور وہاں سے تیل درآمد کرتا ہے۔ 2018 ئی میں اسرائیل کو برآمدات تقریباً چار ارب ڈالرز کی تھیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار بھی دیکھ لیجیے فروری 2020 ء میں، یعنی سال رواں میں اسرائیل کو برآمدات 375.65 ملین ڈالر کی تھیں یعنی ساڑھے سینتیس کروڑ ڈالر کی! مارچ 2020 ئی میں برآمدات کی مالیت بڑھ کر 389.46 ڈالر ہو گئی یعنی چالیس کروڑ ڈالر سے ذرا سی کم! 2010 ء میں اسرائیل میں وسیع پیمانے پر آگ لگی۔ اسے ماؤنٹ کارمل فائر کہتے ہیں۔ ترکی مدد بھیجنے والا پہلا ملک تھا۔ اس نے آگ بجھانے والے دو ہوائی جہاز بھیجے۔ 2011 ء میں ترکی میں زلزلہ آیا تو اسرائیل نے بے گھر ترکوں کو ریسکیو کیا اور تیار شدہ مکانوں کی پیش کش کی!

ہمارا مشہور قومی نغمہ ہے۔ ہم زندہ قوم ہیں۔ پائندہ قوم ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہم حقیقت سے زیادہ جذبات میں زندہ رہتے ہیں۔ ہم نے یاسر عرفات کو ہیرو بنائے رکھا۔ اس نے زندگی بھر کشمیر کے حق میں کوئی بات نہ کی۔ کئی عرب ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم ہیں۔ کچھ کے خفیہ کچھ کے علی الاعلان! ہم ایران کے لئے جذباتی ہیں۔ ایران اپنے مفادات کی خاطر بھارت سے قریبی تعلقات میں یقین رکھتا ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ میں بھارتی سرمایہ کاری ایک حقیقت ہے۔

یہی صورت احوال یو اے ای کی ہے۔ اس کے بھارت کے ساتھ جو ثقافتی اور اقتصادی تعلقات ہیں پاکستان ان کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ دبئی میں ہر تیسرا باشندہ بھارتی ہے۔ یعنی تیس فی صد سے زیادہ! اس میں کیا شک ہے کہ مسلمانوں کا ماضی بہت حد تک مشترکہ تھا مگر آج کے حقائق مختلف ہیں۔ پانچ کروڑ سے زیادہ تارکین وطن مسلمان ملکوں سے نکل کر غیر مسلم ترقی یافتہ ملکوں میں آباد ہو گئے ہیں جہاں انہیں مذہبی، ثقافتی اور معاشی آزادیاں اپنے آبائی ملکوں سے کہیں زیادہ حاصل ہیں۔ آج مسلمان امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ اور کئی اور غیر مسلم ملکوں کی مسلح افواج میں افسر ہیں اور سپاہی بھی۔ وہ اپنی ہائی کمانڈ کے تابع فرمان ہیں۔ جذبات ان کے مسلم دنیا کے ساتھ ہیں، مگر عملی زندگی میں اپنے پیشے اپنی فوج اور اپنے نئے وطن کے ساتھ پرعزم ہیں۔

ڈرامے ہمیں ضرور دیکھنے چاہیں، مگر یہ ذہن نشین رہے کہ حقیقی زندگی کچھ اور ہوتی ہے۔ صدیوں پہلے کی معاشرت واپس آ سکتی ہے، نہ عسکری سیٹ اپ! اور ہاں! یہ واقعہ بھی یاد رکھا کیجئے۔ امریکہ میں کچھ عرب اور پاکستانی بیٹھ کر گپ شپ کر رہے تھے۔ تاریخ پر بات ہو رہی تھی۔ پاکستانی نے کہا ”جب ہسپانیہ پر ہماری حکومت تھی“ عرب نے فوراً اسے ٹوکا۔ ”تمہاری نہیں ہم عربوں کی حکومت تھی!“
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *